Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5278

4994 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا محمد بن عبد الله الأنصاري قال ثنا حميد الطويل عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال لما نزلت هذه الآية لن تنالوا البر حتى تنفقوا مما تحبون قال أو قال من ذا الذي يقرض الله قرضا حسنا جاء أبو طلحة فقال يا رسول الله حائطي الذي بمكان كذا وكذا لو استطعت أن أسره لم أعلنه قال أجعله في فقراء قرابتك وفقراء أهلك

حمید اطویل نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جب آیت " لن تنالو االبر حتی تفقو ا مما تحبون ۔۔۔۔ "(آل عمران -92) نازل ہوئی یا یہ کہا کہ آیت " من ذاالذی یقرض اللہ قرضا حسنا " ( البقر-245) نازل ہوئی تو ابو طلحہ آکر کہنےلگے یا رسول اللہﷺ ! میرا وہ باغ جو فلاں مقام پر واقع ہے ۔ اگر میں اس کو چھپا سکتا ہوتا تو میں اس کو ظاہر بھی نہ کرتا ۔ آُ نے فرمایا ۔ اس کو اپنے غریب قرابت داروں اور فقراء اہل پر خرچ کر دو ۔

من ذا الذي يقرض الله قرضا حسنا جاء أبو طلحة فقال ← أو ← لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّی تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5278

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5279

4995 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا محمد بن عبد الله الأنصاري قال ثنا أبي عن ثمامة قال قال أنس كانت لأبي طلحة أرض فجعلها لله عز و جل فجاء النبي صلى الله عليه و سلم فقال أجعلها في فقراء قرابتك فجعلها لحسان وأبي قال أبي عن ثمامة عن أنس رضي الله عنه وكانا أقرب إليه مني

ثمامہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ابو طلحہ کے پاس ایک زمین تھی جس کو انہوں نے اللہ تعالی کے لئے وقف کر دیا ۔ پھر جناب رسول اللہﷺ تشریف لائے اور جناب رسول اللہﷺ نے فرمایا تم اپنے قرابت دار وں میں تقسیم کر دو ترو انوں نے حضرت حسان و ابی رضی اللہ عنہ کو دے دی ۔ انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ دونوں ابو طلحہ کے مجھ سے زیادہ قریبی رشتہ دار تھے

ثُمَامَةَ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5279

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5280

4996 - حدثنا يونس بن عبد الأعلى قال أخبرنا عبد الله بن وهب أن مالكا حدثه عن إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة أنه سمع أنس بن مالك رضي الله عنه يقول كان أبو طلحة أكثر الأنصار بالمدينة مالا من نخل وكان أحب أمواله إليه حائطا حديلة وكانت مستقبلة المسجد وكان رسول الله صلى الله عليه و سلم يدخلها ويشرب من ماء فيها طيب قال أنس فلما نزلت هذه الآية لن تنالوا البر حتى تنفقوا مما تحبون قام أبو طلحة إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال يا رسول الله إن الله عز و جل يقول في كتابه لن تنالوا البر حتى تنفقوا مما تحبون وإن أحب الأموال إلي الحائط فإنها صدقة أرجو برها وذخرها عند الله فضعها يا رسول الله حيث شئت فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم بخ ذلك مال رابح بخ ذلك مال رابح وقد سمعت ما قلت فيه وأنا أرى أن تجعلها في الأقربين [ ص 290 ] فقال أبو طلحة أفعل يا رسول الله فقسمها أبو طلحة في أقاربه وبني عمه قال أبو جعفر فهذا أبو طلحة رضي الله عنه قد جعلها في أبي وحسان وإنما يلتقي هو وأبي عند أبيه السابع لأن أبا طلحة أسمه زيد بن سهل بن الأسود بن حرام بن عمرو بن زيد مناة بن عدي بن عمرو بن مالك بن النجار وحسان بن ثابت بن المنذر بن حرام بن عمرو بن زيد مناة بن عدي بن عمرو بن مالك بن النجار وكلاهما ليس بذي رحم محرم منه فدل ذلك على فساد قول من زعم أن القرابة ليست إلا من كانت رحمه رحما محرمة وأما ما ذهب إليه زفر بن الهذيل بما قد حكينا عنه في هذا الفصل ففاسد أيضا لأنا رأينا رسول الله صلى الله عليه و سلم لما أعطى بني هاشم وبني المطلب ما أعطاهم من سهم ذوي القربى قد سوى بين من قربت رحمه منه وبين من بعدت رحمه منهم منه وهم جميعا له ذوو قرابة فلو كان من قرب منه يحجب من بعد منه إذا لما أعطاء بعيدا مع قريب لأن الله عز و جل إنما أمره أن يعطى ذا قرابته ولم يكن ليخالف ما أمره به وهذا أبو طلحة فقد جمع في عطيته أبي بن كعب وحسان بن ثابت وأحدهما أقرب إليه من الآخر إن كانا من ذوي قرابته ولم يكن لما فعل من ذلك مخالفا لما أمره رسول الله صلى الله عليه و سلم كما لم يكن رسول الله صلى الله عليه و سلم في إعطائه بني المطلب مع بني هاشم مخالفا أمره الله في إعطائه من أمره بإعطائه من قرابته وأما ما ذهب إليه الذين قالوا قرابة الرجل كل من جمعه وإياه أبوه الرابع إلى من هو أسفل منه من آبائه ففاسد أيضا لأن أهله الذين ذهبوا إليه أيضا ولهم عليه فيما ذكروا إعطاء رسول الله صلى الله عليه و سلم من سهم ذوي القربى بني المطلب وهم بنو أبيه الرابع ولم يعط بني أبيه الخامس ولا بني أحد من آبائه الذين فوق ذلك وقد رأيناه صلى الله عليه و سلم حرم بني أمية وبني نوفل فلم يعطهم شيئا ليس لأنهم ليسوا من ذوي قرابته فكذلك يحتمل أيضا أن يكون إذ حرم من فوقهم أن يكون ذلك منه ليس لأنهم ليسوا من قرابته وهذأ أبو طلحة فقد أعطى ما أمره الله والنبي صلى الله عليه و سلم بإعطائه إياه ذا قرابته الفقراء بعض بني أبيه السابع فلم يكن بذلك أبو طلحة رضي الله عنه لما أمره به رسول الله صلى الله عليه و سلم مخالفا ولا أنكر رسول الله صلى الله عليه و سلم ما فعله من ذلك فأما ما ذهب إليه أن قرابة الرجل كل من جمعه وإياه أبوه الثالث إلى من هو أسفل من ذلك فإنهم قالوا لما قسم رسول الله صلى الله عليه و سلم سهم ذوي القربى أعطى بني هاشم جميعا وهم بنو أبيه الثالث فكانوا قرابتهم منه وأعطى بني المطلب ما أعطاهم لأنهم حلفاؤه ولو كان أعطاهم لأنهم قرابته لأعطى من هو في القرابة مثلهم من بني أمية وبني نوفل فهذا القول عندنا فاسد لأن رسول الله صلى الله عليه و سلم لو كان أعطى بني المطلب بالحلف لا بالقرابة لأعطى جميع حلفائه فقد كانت خزاعة حلفاؤه ولقد ناشده عمرو بن سالم الخزاعي بذلك الحلف

اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ کہتے ہین کہ میں انس رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ ابو طلحہ انصار میں سے زیادہ کھجوروں کے لحاظ سے مالدار تھے ۔ ان شب کو زیادہ حدیلہ نامی باغ پسند تھا ۔ عہ مسجد کے سامنے تھا ۔ جناب رسول اللہ ﷺ اس میں داخل ہوتے اور اس کا عمدہ پانی نوش فرماتے ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت" لن تنالو االبر حتی تنفقو مما تحبون " نازل ہوئی اور جناب ابو طلحہ جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہﷺ اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں فرمایا " لن تنالو االبر الایہ ۔۔۔۔۔، میرا سب سے زیادہ محبوب وہ باغ ہے ۔ وہ صدقہ ہے میں اس کی نیکی اور اللہ تعالی کے ہاں ذخیرہ ہونے کی امید ہے ۔ یا رسول اللہﷺ ! اس کو جہاں چاہیں اس کو صرف کر یں۔جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ بہت خوب بہت خوب ۔ یہ نفع بخش مال ہے ۔ جو تم کہا وہ میں نے سن لیا ۔ میرا خیال یہ ہے کہ تم اسے اقربین میں تقسیم کر دو ۔ ابو طلحہ کہنے لگے یا رسول اللہ ؐ! میں ایسا ہی کروں گا ۔ تو ابو طلحہ نے اپنے اقارب اور بنی عم چچا زاد میں تقسیم کر دیا ۔ امام طحاوی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ابو ظلحہ نے یہ باغ حضرت ابی بن کعب اور حسان بن ثابت رضی اللہ عنہم میں تقسیم کیا حالانکہ حضرت ابی کا سلسلہ نسب ساتویں پشت میں ان سے ملتا ہے کیونکہ ابو طلحہ کا نام زید بن سہل بن اسود بن حرام بن عمرو بن زید مناۃ بن عدی بن عمرو بن مالک بن النجاز ہے اور حسان کا سلسلہ نسب یہ ہے ۔ حسان بن ثابت بن منذر بن حرام بن عمرو بن زید مناۃ بن عدی بن عمرو بن مالک بن النجاز ۔ ان دونوں میں سے کوئی بھی ذی رحم محرم نہیں ہے ۔ پس اس سے ثابت ہوا کہ یہ قول غلط ہے کہ قرابت دار وہ ذی رحم محرم ہوتا ہے ۔ قول زفر رحمۃاللہ علیہ کا جواب یہ ہے کہ ہم نے اس فصل میں جو کچھ بیان کیا اس سے امام زفر کے قول کا فساد بھی ظاہر ہو گیا ۔ کیونکہ یہ بات ہمارے سامنے ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے جب بنی ہاشم و بنی مطلب کو دیا تو ان میں قریب و بعید رحم میں حصے کے لحاظ سے فرق نہیں کیا کیونکہ یہ سب آپ کے قرابت دار تھے ۔ اللہ تعالی نے آپ کو حکم دیا کہ قرابت والوں کو دو اگر قریب والا دور والے کے لئے رکاوٹ ہوتا تو قریب کے ہوتے ہوئے بعید کو عنایت نہ فرماتے حالانکہ سب کو دیا ۔ یہ ابو طلحہ انصاری ہیں جنہوں نے اپنے عطیہ میں ابی بن کعب اور حسان بن ثابت رضی اللہ عنہا کو جمع کیا حالانکہ ایک قریب تر اور دوسرا بعید تھا مگر قرابت والے ہونے کی وجہ سے دونوں کو دیا اور ابو طلحہ کا یہ فعل امر رسول اللہﷺ کے مخالف نہیں تھا جیسا جناب رسول اللہ ﷺ بنی مطلب کو بنی ہاشم کے ساتھ قرابت کی وجہ سے دینے میں اللہ تعالی کے حکم کی خلاف ورزی کرنے نہ تھے جو کہ اللہ تعالی نے قرابت والوں کو دینے کاحکم فرمایا تھا ۔ وہ لوگ جنہوں نے یہ کہا کہ قرابتدار وہ ہیں جو چوتھے یا تیسرے باپ میں موصی کے ساتھ شریک ہوں یہ قول بھی فاسد ہے کیونکہ انہوں نے بڑی دلیل یہ ذکت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے قربت داروں کا حصہ بنو مطلب کو دیا اور وہ چوتھی پشت میں آپ کے ساتھ شریک تھے اور آپ نے پانچویں پشت یا اس سے اوپر والے شرکاء کو حصہ عنایت نہیں فرمایا ۔ حالانکہ ہم دیکھتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ بنو امیہ اور بنو نوفل کو محروم کیا اور ان کو کچھ نہیں دیا ۔ کیونکہ وہ آپ کے قرابت داروں سے نہ تھے اس میں اس بات کا احتما ل ہے کہ جب آپ نے اوپر کے لوگوں کو محروم رکھا تو اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ وہ قرابت دار نہیں تھے ۔ دیکھئے یہ ابو طلحہ ہیں ۔ جنہوں نے جناب رسول اللہ ﷺ کے حکم سے اپنے بعض ایسے قرابت داروں کو عطا ء فرمایا جو ساتویں پشت میں آپ کے ساتھ جمع ہوئے تھے ۔ اس فعل میں حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے جناب رسول اللہ ﷺ کے حکم کی خلاف ورزی نہیں فرمائی اور نہ ہی جناب رسول اللہ ﷺ نے ان کے عمل پر کسی قسم کا اعتراض فرمایا۔ (اس سے اس قول کا فساد ظاہر ہو گیا ) بالکل اسی طرح جو لوگ کہتے ہیں کہ قرابت دار وہ ہیں جو تیسری پشت میں شریک ہوں ان کی اہم دلیل یہ ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے جب ذی القربی کا حصہ تقسیم فرمایا تو تمام بنو ہاشم کو دیا اس لئے کہ وہ آپ کے ساتھ تیسری پشت میں شریک تھے ۔ پس ان کو قرابت داری کی وجہ سے عاطاء فرماتے تو جو قرابت داری میں ان کے مماثل تھے جیسے بنو امیہ ار بنو نوفل تو ان کو بھی عطاء فرماتے ۔ اس دلیل کا جواب یہ ہے کہ اگر جناب رسول اللہ ﷺ بنو مطلب کو معاہدے اور حلف ہونے کی وجہ سے عطاء کرتے تو قرابت داری کی وجہ سے عطاء نہ فرماتے بلکہ دیگر حلفاء کو بھی عنایت فرماتے بنو خزاعہ آپ کے حلیف تھے ۔ عمرو بن سالم خزاعی آپ کی خدمت میں حلف کت متعلق یہ اشعار پڑھے ۔ روایت ملاحظہ ہو ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← اِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ اَبِیْ طَلْحَۃَ، اَنَّہٗ ← عبد الله بن وهب أن مالكا ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5280

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5281

4997 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا سليمان بن حرب قال ثنا حماد بن زيد عن أيوب عن عكرمة قال لما وادع رسول الله صلى الله عليه و سلم أهل مكة وكانت خزاعة حلفاء رسول الله صلى الله عليه و سلم في الجاهلية وكانت بنو بكر حلفاء قريش فدخلت خزاعة في صلح رسول الله صلى الله عليه و سلم ودخلت بنو بكر في صلح قريش فكانت بين خزاعة وبين بكر بعد قتال فأمدتهم قريش بسلاح وطعام وظللوا عليهم وظهرت بنو بكر على خزاعة فقتلوا فيهم فقدم وافد خزاعة على رسول الله صلى الله عليه و سلم فأخبر بما صنع القوم ودعاه إلى النصرة وأنشد في ذلك ... لا هم إني ناشد محمدا ... حلف أبينا وأبيه الأتلدا ... ... والدا كنا وكنت ولدا ... إن قريشا أخلفوك الموعدا ... ... وزعموا أن لست أدعو أحدا ... ونقضوا ميثاقك المؤكدا ... ... وجعلوا لي بكداء رصدا ... وهم أذل وأقل عددا ... ... وهم أتونا بالوتير هجدا ... وقتلونا ركعا وسجدا ... ... ثمت أسلمنا ولم ننزع يدا ... فانصر رسول الله نصرا أعتدا ... ... وابعث جنود الله تأتي مددا ... في فيلق كالبحر يأتي مزبدا ... ... فيهم رسول الله قد تجردا ... إن سيم خسفا وجهه تربدا ... قال حماد وهذا الشعر بعضه عن أيوب وبعضه عن يزيد بن حازم وأكثره عن محمد بن إسحاق

ایوب نے حضرت عکرمہ سے نقل کیا کہ جب جناب رسول اللہ ﷺ نے اہل مکہ سے صلح کا معاہدہ کر لیا ۔ بنو خزاعہ زمانہ جاہلیت سے آپ کے حلیف چلے آ رہے تھے ۔جبکہ بنو بکر قریش کے حلیف تھے ۔ تو بنو خزاعہ جناب رسول اللہ ﷺ کی صلح میں داخل ہوئے اور بنو بکر قریش کی صلح میں داخل ہوئے ۔ اس کے بعد بنو خزاعہ اور بنو بکر کے مابین لڑائی پیش آئی ۔ قریش نے ہتھیاروں اور رسد سے بنو بکر کی معاونت کی اور نا کی پشت پناہی کی بنو بکر کو بنو خزاعہ پر غلبہ ملا تو انہوں نے ان کے آدمیوں کو قتل کیا بنو خزاعہ کا وفد جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان لوگوں نے جو کچھ کیا تھا اس کی اطلاع دی اور جناب رسول اللہ ﷺ کو نصرت کی طرف بلایا اور یہ اشعار پڑھے جن کا ترجمہ یہ ہے ۔ نمبر 1: اے اللہ ! میں حضرت محمد ﷺ کو باپ اور دادا کے درمیان ہونے والا معاہدہ یاد دلاتا ہوں ۔ نمبر 2: آپ فرزند تھے اور ہم والد تھے ( عمر میں بڑے تھے ) بلا شبہ قریش نے معاہدے کی خالف ورزی کی ہے ۔ نمبر3: ان کا خیال یہ تھا کہ میں کسی کو نہ بلاؤں گا انہوں نے آپ سے کیا ہوا پختہ وعدہ توڑ دیا ۔ نمبر 4: اور کداء ( ایک مقام کا نام ہے جو مکہ کے بلند حصہ میں واقع ہے ) میں انہوں نے میرے لئے گھات بنا رکھی تھی وہ نہایت کمزور اور قلیل تعداد میں تھے ۔ نمبر 5: وہ مقام و تیر میں تہجدکے وقت آئے جبکہ ہم رکوع و سجدہ میں قرآن مجید کی تلاوت میں مصروف تھے ۔ نمبر6: اس جگہ ہم نے امن پسندی کا مظاہرہ کیا اور ہم نے ہاتھ نہیں کھینچا اے اللہ کے رسول ﷺ ہماری نہایت مضبوط مدد فرمائیں ۔ نمبر 7: آپ مدد کے لئے ایسا خدائی لشکر روانہ فرمائیں جو ایسے دستوں پر مشتمل ہو جو سمندر کی طرح جوش سے جھاگ نکال رہے ہوں ۔ نمبر 8 : ان دستوں میں اللہ کا رسول ﷺ بے ننیام تلوار کے ساتھ ہوں اور لڑائی کی پوری تیاری کرنے والے ہوں ۔ اگر آپ سے جھک جانے کا مطالبہ ہو اپ کا چہرہ ناراضگی سے بدل جائے ۔ بقول حماد بعض اشعار تو ایوب سے اور بعض یزید بن حازم سے نقل کئے اور اکثر محمد بن اسحاق سے لئے گئے ہیں ۔ مگر ابن ہشام نے ان اشعار کو زیادہ درست اور پختہ انداز سے لکھا ہے ۔ ملاحظہ ہو سیرۃ ابن ہشام ۔(مترجم )۔

عِكْرِمَةَ، ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5281

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5282

4998 - حدثنا فهد بن سليمان قال ثنا يوسف بن بهلول قال ثنا عبد الله بن إدريس عن محمد بن إسحاق عن الزهري وغيره نحوه غير أنه ذكر أن المناشد لرسول الله صلى الله عليه و سلم بهذا الشعر عمرو بن سالم فلما كان رسول الله صلى الله عليه و سلم لم يدخل خزاعة في سهم ذوي القربى للحلف الذي بينه وبينهم إستحال أن يكون إعطاء بني المطلب للحلف ولو كان إعطاءهم للحلف أيضا لأعطى موالي بني هاشم وهو فلم يعطهم شيئا وأما ما ذهب أبو يوسف ومحمد بن الحسن رحمة الله عليهما مما قد ذكرناه عنهما فهو أحسن هذه الأقوال كلها عندنا لأنا رأينا الناس في دهرنا هذا ينسبون إلى العباس وكذلك آل علي وآل جعفر وآل عقيل وآل الزبير وطلحة كل هؤلاء لا ينسب أولادهم إلا إلى أبيهم الأعلى فيقال بنو العباس وبنو علي وبنو من ذكرنا حتى قد صار ذلك يجمعهم وحتى قد صاروا بآبائهم متفرقين كأهل العشائر المختلفة فإن قال قائل رأينا رسول الله صلى الله عليه و سلم لما قسم سهم ذوي القربى إنما جعله فيمن يجمعه وإياه أب جاهلي فكان بنو ذلك الأب من ذوي قرابته وكذلك من أعطاه أبو طلحة ما أعطاه ممن ذكرنا فإنما يجمعهم وإياه أب جاهلي فلم قلتم إن قرابة الرجل هي من جمعه وإياه أقصى آبائه في الإسلام قيل له قد ذكرنا فيما تقدم منا في كتابنا هذا أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أعطى قرابة ومنع قرابة وقد كان كل من أعطاه وكل من حرمه ممن لم يعطه ممن موضعه منه وموضع الذي أعطاه يجمعه وإياهم عشيرة واحدة ينسبون إليها حتى يقال لهم جميعا هؤلاء القريشيون ولا ينسبون إلى ما بعد قريش فيقال هؤلاء الكنانيون فصار أهل العشيرة جميعا بني أب واحد وقرابة واحدة وبانوا ممن سواهم فلم ينسبوا إليه فكذلك أيضا كل أب حدث في الإسلام صار فخذا أو صار عشيرة ينسب ولده إليه في الإسلام فكان هو وولده ينسبون جميعا إلى عشيرة واحدة قد تقدمت الإسلام فهم جميعا من أهل تلك العشيرة هذا أحسن الأقوال في هذا الباب عندنا والله نسأله التوفيق ثم رجعنا إلى ما أعطى رسول الله صلى الله عليه و سلم ذوي قرباه فوجدنا الناس قد اختلفوا في ذلك فقال بعضهم أعطاه بحق قد وجب لهم بذكر الله عز و جل إياهم في آية الغنائم وفي آية الفيء ولم يكن لرسول الله صلى الله عليه و سلم منعهم من ذلك ولا التخطى به عنهم إلى غيرهم ولأنفسهم من خمس جميع الفيء ومن خمس خمس جميع الغنائم كما ليس له منه منع المقاتلة من أربعة أخماس الغنائم ولا التخطي به عنهم إلى غيرهم وقال آخرون لم يجب لذي قرابة رسول الله صلى الله عليه و سلم حق في الفيء ولا في خمس الغنائم بالآيتين اللتين ذكرتهما في أول كتابنا هذا وإنما وكد الله أمرهم بذكره إياهم في هاتين الآيتين ثم لا يجب بعد ذلك لهم في الفيء وخمس الغنائم إلا كما يجب لغيرهم من سائر فقراء المسلمين الذين لا قرابة بينهم وبين رسول الله صلى الله عليه و سلم وقد روي هذا القول عن عمر بن عبد العزيز

محمد بن اسحاق نے زہری وغیرہ سے اسی طرح بیان کی اپبتہ اس نے یہ بیان کیا کہ ان اشعار سے جناب رسول اللہ ﷺ کو یاد دلانے والا عمرو بن سالم خزاعی ہے ۔ جب آنحضرت ﷺ نے اپنے اور خزاعہ کے درمیان معاہدے کی وجہ سے ان کو قرابت داروں کے حصے میں شریک نہیں فرمایا تو یہ بات نا ممکن ہے کہ بنو مطلب کو معاہدے کی وجہ سے عطاء فرمایا ۔ اگر آپ معاہدے کی وجہ سے عطا ء فرماتے تو بنو ہاشم کے آزاد کردہ غلاموں کو بھی دیتے لیکن آپ نے ان کو کچھ نہیں دیا ۔ ابن تمام اقوال میں سب سے بہتر قول وہ ہے جس کو امام ابو یوسف رحمۃاللہ علیہ اور محمد رحمۃاللہ علیہ نے اختیار کیا ہے ۔ ان اقوال میں سب سے بہتر ہونے کی وجہ یہ ہے کہ جو لوگ ہمارے زمانے میں حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب ہو کر آل عباس اور آل علی ، آل جعفر ، آل عقیل ، آل زبیر ، آل طلحہ رضی اللہ عنہم وغیرہ کہلاتے ہیں ۔ تو ان تمام کی اولاد اپنے جد اعلی کی طرف منسوب ہوتی ہے گویا ان اولاد کو جد اعلی کا ایک ہونا جمع کرتا ہے اور وہ اپنے آباؤ اجداد کی وجہ سے الگ الگ ہوتے ہیں جیسے مختلف قبائل ہیں ۔ اگر کوئی یہ کہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے جب قرابت داروں کا حصہ تقسیم فرمایا تو ان لوگوں کو عنایت فرمایا جو آپ کے ساتھ دور جاہلیت کے باپ میں شریک تھے تو باپ کی اولاد آپ کے قرابتدار تھے ۔ اسی طرح ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے جن لوگوں کو عطاء فرمایا ان کی بھی یہی صورت تھی ۔ تو پھر یہ کہنا درست ہوا کہ قرابت میں وہ لوگ شریک ہیں جن کے ساتھ اسلام میں جد اولی کے ساتھ جمع ہوتے ہیں ۔ ہم جیسا کہ پہلے ذکر کر آئے کہ آپ ﷺ نے اپنے بعض قرابتداروں کو دیا اور بعض کو محروم کر دیا اور روک لیا ۔ تو آپ نے جن کو دیا اور جن کو نہ دیا وہ تمام آپ کے ساتھ ایک ہی قبیلہ میں جمع ہوتے ہیں اور اسی قبیلہ کی طرف منسوب ہوتے ہیں یہاں تک کہ ان کو قریش کہا جاتا ہے وہ قریش کے بعد کی طرف منسوب نہیں کئے جاتے کہ ان کو کنانی کہا جائے تو وہ تمام ایک قبیلے کے افراد ہوئے ایک باپ کی اولادہیں اور ایک ہی قرابت سے تعلق رکھتے ہیں اور اسی طرح وہ باقی لوگوں سے جدا ہو گئے نا کی طرف منسوب نہیں ہوتے اسی طرح جو باپ اسلام میں سامنے آیا وہ فخذ یا عشیرہ کہلایا ان کی اولاد اسلام میں اس کی طرف منسوب ہوتی ہے تو وہ اور اس کی اولاد سب کے سب ایک قبیلہ ( عشیرہ ) کی طرف منسوب ہوتے ہیں جو اسلام سے پہلے ہوا ور اوہ سب اس قبیلہ سے تعلق رکھتے ہیں ہمارے نزدیک یہ سب سے اچھا قول ہے ۔ اس مضمون کی طرف ہم پھر لوٹ آئے کہ آپ ﷺ نے اپنے قرابت داروں کو کس طرح عطاء فرمایا ۔ آپ ﷺ نے ان کو وہ حق عنایت فرمایا جو اللہ تعالی نے آیت غنیمت اور آیت فئی میں ذکر کر کے لاز، کیا ہے ۔ جناب رسول اللہ ﷺ کو یہ اختیار نہ تھاکہ آپ ان سے اس حق کو روکتے یا ان کو چھوڑ کر دوسروں کو عنایت فرماتے ۔ ان کو یہ تمام مال فئی کے خمس اور تمام غنائم کے خمس سے دیا جاتا جیسا کہ غنائم کے پانچ حصوں میں سے چار حصے مجاہدین سے روکنے یا ان کو چھوڑ کر دوسروں کو دینے کا آپ کو اختیار نہ تھا ۔جناب رسول اللہ ﷺ کے قرابتداروں کے لئے فئی اور غنائم کے خمس میں جو حق لازم ہوا وہ ان دو آیات کی وجہ نہیں جنہیں اس کتاب کے شروع میں ذکر کیا گیا ہے ۔ اللہ تعالی نے ان آیات میں اس حق کا ذکر تاکید فرمایا پھر ان کے لئے فئی اور غنیمت کے خمس میں اسی طرح لاذم ہوا جیسا کہ دیگر فقراء اسلام کے لئے واجب ہے جن کوجناب رسول اللہﷺسے قرابت کا حق حاصل نہ تھا ۔ یہ قول حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃاللہ علیہ کا ہے ۔

الزهري وغيره نحوه غير أنه ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، ← يُوسُفَ بْنِ بُهْلُولٍ، ← فَهْدُ بْنُ سُلَيْمَانَ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5282

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5283

4999 - حدثنا روح بن الفرج قال ثنا يحيى بن عبد الله بن بكير قال حدثني ثابت بن يعقوب عن داود بن سعيد بن أبي الزبير عن مالك بن أنس رحمة الله عليه عن عمه أبي سهيل بن مالك قال هذا كتاب عمر بن عبد العزيز في الفيء والمغنم أما بعد فإن الله عز و جل أنزل القرآن على محمد صلى الله عليه و سلم بصائر ورحمة لقوم يؤمنون فشرع فيه الدين وأبهج به السبيل وصرف به القول وبين ما يؤتى مما ينال به من رضوانه وما ينتهي عنه من مناهيه ومساخطه ثم أحل حلاله الذي وسع به وحرم حرامه فجعله مرغوبا عنه مسخوطا على أهله وجعل مما رحم به هذه الأمة ووسع به عليهم ما أحل من المغنم وبسط منه ولم يحظره عليهم كما ابتلى به أهل النبوة والكتاب ممن كان قبلهم فكان من ذلك ما نفل رسول الله صلى الله عليه و سلم لخاصة دون الناس مما غنمه من أموال بني قريظة والنضير إذ يقول الله حينئذ ما أفاء الله على رسوله منهم فما أوجفتم عليه من خيل ولا ركاب ولكن الله يسلط رسله على من يشاء والله على كل شيء قدير فكانت تلك الأموال خالصة لرسول الله صلى الله عليه و سلم لم يجب فيها خمس ولا مغنم ليولي الله ورسوله أمره وأختار أهل الحاجة بها السابقة على ما يلهمه من ذلك ويأذن له به فلم يضر بها رسول الله صلى الله عليه و سلم ولم يخترها [ ص 294 ] لنفسه ولا لأقاربه ولم يخصص بهذا منهم بفرض ولا سهمان ولكن آثر بأوسعها وأكثرها أهل الحق والقدمة من المهاجرين الذين أخرجوا من ديارهم وأموالهم يبتغون فضلا من الله ورضوانا وينصرون الله ورسوله أولئك هم الصادقون وقسم الله طوائف منها في أهل الحاجة من الأنصار وحبس رسول الله صلى الله عليه و سلم فريقا منها لنائبته وحقه وما يعروه أي يعرض له ويعتريه غير مفتقد شيئا منها ولا مستأثر به ولا مريد أن يؤتيه أحد بعده فجعله صدقة لا يورث لأحد فيه هادة في الدنيا ومحقرة لها وأثرة لما عند الله فهذا الذي لم يوجف فيه خيل ولا ركاب ومن الأنفال التي آثر الله بها رسوله ولم يجعل لأحد فيها مثل الذي جعل له من المغنم الذي فيه اختلاف من أختلف قول الله عز و جل ما أفاء الله على رسوله من أهل القرى فلله وللرسول ولذي القربى واليتامى والمساكين وابن السبيل كيلا يكون دولة بين الأغنياء منكم ثم قال وما أتاكم الرسول فخذوه وما نهاكم عنه فانتهوا واتقوا الله إن الله شديد العقاب فأما قوله فلله فإن الله تبارك وتعالى غني عن الدنيا وأهلها وكل ما فيها وله ذلك كله ولكنه يقول اجعلوه في سبيله التي أمر بها وقوله وللرسول فإن الرسول لم يكن له حظ في المغنم إلا كحظ العامة من المسلمين ولكنه يقول إلى الرسول قسمته والعمل به والحكومة فيه فأما قوله ولذي القربى فقد ظن جهلة من الناس أن لذي قربى محمد صلى الله عليه و سلم سهما مفروضا من المغنم قطع عنهم ولم يؤته إياهم ولو كان كذلك لبينه كما بين فرائض المواريث في النصف والرابع والسدس والثمن ولما نقص حظهم من ذلك عناء كان عند أحدهم أو فقر كما لا يقطع ذلك حظ الورثة من سهامهم ولكن رسول الله صلى الله عليه و سلم قد نفل لهم في ذلك شيئا من المغنم من العقار والسبي والمواشي والعروض والصامت ولكنه لم يكن في شيء من ذلك فرض يعلم ولا أثر يقتدى به حتى قبض الله نبيه صلى الله عليه و سلم إلا أنه قد قسم فيهم قسما يوم خيبر لم يعم بذلك يومئذ عامتهم ولم يخصص قريبا دون آخر أحوج منه لقد أعطى يومئذ من ليست له قرابة وذلك لما شكوا له من الحاجة وما كان منهم في جنبه من قومهم وما خلص إلى حلفائهم من ذلك فلم يفضلهم عليهم لقرابتهم ولو كان لذي القربى حق كما ظن أولئك لكان أخواله ذوي قربى وأخوال أبيه وجده وكل من ضربه برحم فإنها القربى كلها وكما لو كان ذلك كما ظنوا لأعطاهم إياه أبو بكر وعمر رضي الله عنهما بعدما وسع الفيء وكثر [ ص 295 ] وأبو الحسن رضي الله عنهما أي علي رضي الله عنه حين ملك ما ملك ولم يكن عليه فيه قائل أفلا علمهم من ذلك أمرا يعمل به فيهم ويعرف بعده ولو كان ذلك كما زعموا لما قال الله تعالى كيلا يكون دولة بين الأغنياء منكم فإن من ذوي قرابة رسول الله صلى الله عليه و سلم لمن كان غنيا وكان في سعة يوم ينزل القرآن وبعد ذلك فلو كان ذلك السهم جائزا له ولهم كانت تلك دولة بل كانت ميراثا لقرابته لا يحل لأحد قطعها ولا نقضها ولكنه يقول لذي قربى بحقهم وقرابتهم في الحاجة والحق اللازم كحق المسلمين في مسكنته وحاجته فإذا أستغنى فلا حق له واليتيم في يتمه وإن كان اليتيم ورث عن وارثه فلا حق له وابن السبيل في سفره وصيرورته إن كان كبير المال موسعا عليه فلا حق له فيه ورد ذلك الحق إلى أهل الحاجة وبعث الله الذين بعث وذكر اليتيم ذا المقربة والمسكين ذا المتربة كل هؤلاء هكذا لم يكن نبي الله صلى الله عليه و سلم ولا صالح من مضى ليدعوا حقا فرضه الله عز و جل لذي قرابة رسول الله صلى الله عليه و سلم ويقومون لهم بحق الله فيه كما قال أقيموا الصلاة وآتوا الزكاة وأحكام القرآن ولقد أمضوا على ذلك عطايا من عطايا وضعها في أفياء الناس وأن بعض من أعطى من تلك العطايا لمن هو على غير دين الإسلام فأمضوا ذلك لهم فمن زعم غير هذا كان مفتريا متقولا على الله عز و جل ورسوله وصالح المؤمنين من الذين اتبعوا غير الحق وأما قول من يقول في الخمس إن الله عز و جل فرضه فرائض معلومة فيها حق من سمى فإن الخمس في هذا الأمر بمنزلة المغنم وقد آتى نبيه صلى الله عليه و سلم سبيا فأخذ منه أناسا وترك ابنته وقد أرأته يديها من محل الرحى فوكلها إلى ذكر الله تعالى والتسبيح فهذه أدعت حقا لقرابته ولو كان هذا الخمس والفئ على ما أظن من يقول هذا القول كان ذلك حيفا على المسلمين واعتزاما لما أفاء الله عليهم ولما عطل قسم ذلك فيمن يدعى فيه بالقرابة والنسب والوراثة ولدخلت فيه سهمان العصبة والنساء أمهات الأولاد ويرى من تفقه في الدين أن ذلك غير موافق لقول الله عز و جل لنبيه صلى الله عليه و سلم قل ما سألتكم من أجر فهو لكم وما أسألكم عليه من أجر وما أنا من المتكلفين وقول الأنبياء لقومهم مثل ذلك وما كان رسول الله صلى الله عليه و سلم ليدعي ما ليس له ولا ليدع حظا ولا قسما لنفسه ولا لغيره واختاره الله لهم وامتن عليهم فيه ولا ليحرمهم إياه ولقد سأله نساء بني سعد بن بكر الفكاك وتخلية المسلمين من سباياهم بعد ما كانوا فيئا ففكهم وأطلقهم [ ص 296 ] وقال رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو يسأل من أنعامهم شجرة بردائه فظن أنهم نزعوه عنه لو كان عدد شجر تهامة نعما لقسمته بينكم وما أنا بأحق به منكم بقدر وبرة آخذها من كاهل البعير إلا الخمس فإنه مردود فيكم ففي هذا بيان مواضع الفيء التي وجهها رسول الله صلى الله عليه و سلم فيه بحكم الله تعالى وعدل قضائه فمن رغب عن هذا أو ألحد فيه وسمى رسول الله صلى الله عليه و سلم بغير ما سماه به ربه كان بذلك مفتريا مكذبا محرفا لقول الله عز و جل عن مواضعه مصبرا بذلك ومن تابعه عليه على التكذيب وإلى ما صار إليه ضلال أهل الكتابين الذين يدعون على أنبيائهم قال أبو جعفر وقال آخرون إنما جعل الله أمر الخمس إلى نبيه صلى الله عليه و سلم ليضعه فيمن رأى وضعه فيه من قرابته غنيا كان أو فقيرا مع من أمر أن يعطيه من الخمس سواهم ممن تبين في آية الخمس ولذلك أمره في آية الفيء أيضا فلما أختلفوا في هذا الاختلاف الذي وصفنا وجب أن ننظر في ذلك لنستخرج من أقوالهم هذه قولا صحيحا فاعتبرنا قول من قال إن رسول الله صلى الله عليه و سلم أعطى من قرابته من أعطى ما أعطاه بحق واجب لهم لم يذكر الله إياهم في آية الغنائم وفي آية الفيء فوجدنا هذا القول فاسدا لأنا رأيناه صلى الله عليه و سلم أعطى قرابة ومنع قرابة فلو كان ما أضافه الله عز و جل إليهم في آية الغنائم وفي آية الفيء على طريق الفرض منه لهم إذا لما حرم رسول الله صلى الله عليه و سلم منهم أحدا ولعمهم بما جعل الله لهم حتى لا يكون في شيء من ذلك خارجا عما أمره الله به فيهم ألا يرى أن رجلا لو أوصى لذي قرابة فلان بثلث ماله وهم يخصون ويعرفون أن القائم بوصيته ليس له وضع الثلث في بعض القرابة دون بقيتهم حتى يعمهم جميعا بالثلث الذي يوصى لهم به ويسوى بينهم فيه وإن فعل فيه ما سوى ذلك كان مخالفا لما أمر به وحاش لله أن يكون رسول الله صلى الله عليه و سلم في شيء من فعله لما أمره الله به مخالفا ولحكمه تاركا فلما كان ما أعطى مما صرفه في ذوي قرباه لم يعم به قرابته كلها إستحال بذلك أن يكون الله عز و جل لقرابته صلى الله عليه و سلم ما قد منعهم منه لأن قرابته لو كان جعل لهم شيء بعينه كانوا كذوي قرابة فلان الموصى لهم بثلث المال الذي ليس للوصي منع بعضهم ولا إيثار أحدهم دون أحد فبطل بذلك هذا القول ثم اعتبرنا قول الذين قالوا لم يجب لذي قرابة رسول الله صلى الله عليه و سلم حق في آية الفيء ولا في آية الغنائم وإنما وكد أمره بذكر الله إياهم أي فيعطون لقرابتهم ولفقرهم ولحاجتهم فوجدنا هذا القول فاسدا لأنه لو كان ذلك كما قالوا لما أعطى رسول الله صلى الله عليه و سلم أغنياء بني هاشم منهم العباس بن عبد المطلب رضي الله عنهم فقد أعطاه معهم وكان موسرا في الجاهلية والإسلام حتى لقد تعجل رسول الله صلى الله عليه و سلم ذي القربى ليس للفقر لكن لمعنى سواه ولو كان للفقر أعطاهم لكان ما أعطاهم ما سبيله سبيل الصدقة والصدقة محرمة عليهم

مالک بن انس رحمۃاللہ علیہ نے اپنت چچا ابو سہیل بن مالک رحمۃاللہ علیہ سے روایت کیا ہے وہ فرماتے ہیں کہ فئی اور غنیمت کے متعلق حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃاللہ علیہ کا یہ خط ہے ۔ حمد و صلوۃ کے بعد ! اللہ تعالی نے قرآن مجید کو حضرت محمد ﷺ پر اس طرح نازل فرمایا کہ وہ ایمان والوں کے لئے باعث بصیرت و رحمت و ہو ۔ اس میں دین ظاہر کیا اورراستے کو مقرر فرمایا اور بات کو پھیر پھیر کر بیان کیا اور رضاء الہی کے حصول والی چیزوں کو اس میں ذکر کیا اور ایسی چیزوں کو بیان کر دیا جن سے اس کی ناراضی اور غضب کے مقامات سے بچا جا تا ہے ۔ پھر بعض چیزوں کو حلال کر کے اس میں وسعت عنایت فرمائی اور کچھ چیزوں کو حرام کر کے ان سے نفرت کا حکم دیا اور ان کو حاصل کرنے والوں پر نارضگی کا اظہار فرمایا ۔ اس امت پر جن چیزوں کے ذریعہ وسیع رحمت فرمائی ان میں سے ایک یہ ہے کہ ان کے لئے مال غنیمت کو حلال کیا اور اس کے متعلق کشادگی عنایت فرمائی اور ان کو اس سے منع نہیں کیا جیسا کہ اس سے پہلے انبیاء اور اہل کتاب کو اس میں مبتلا کیا گیا اور اسی میں سے وہ مال ہے جو جناب نبی اکرم ﷺ کو بنو قریظہ اور بنو نضیر سے بطور فئی حاصل ہوا وہ امل آپ ﷺ کے ساتھ خاص تھا لوگوں کے لئے نہ تھا ۔ اس کے متعلق اللہ تعالی نے فرمایا " ما افاء اللہ علی رسولہ ۔۔۔۔ واللہ علی کل شی ءِِ قدیر "( الحشر 4) اور جو مال اللہ تعالی نے اپنے رسول ﷺ کو عنایت فرمایا ان پر تم نے گھوڑے اور اونٹ نہیں دوڑائے لیکن اللہ تعالی اپنے رسول ﷺ کو جس پر چاہے مسلط کرتا ہے اور اللہ تعالی کو ہر چیز پر قدرت حاصل ہے ۔ یہ مال جناب رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خاص تھے ان میں خمس واجب نہ تھا اور نہ یہ مال خمس غنیمت تھا کہ اللہ تعالی اپنے رسول ﷺ کو اس کا اختیار دیتااور آپ اللہ تعالی کے فرمانے سے ان میں سے پہلے حاجت مندوں کا انتخاب فرماتے ۔ پس جناب رسول اللہ ﷺ نے اس کو تقسیم نہ فرمایا اور اپنے یا اپنے رشتہ داروں کے لئے اسے اختیار بھی نہ کیا اور نہ ہی ان میں سے کسی کو مقرر کر کے یا حصہ دے کر خاص کیا بلکہ اس میں سے زیادہ اور وسیع مال کے ساتھ مستحق اور قدیم مہاجرین کو ترجیح دی جنہیں ان کے گھروں اور مالوں سے نکالا گیا وہ اللہ تعالی کا فضل اوراس کی رضا تلاش کرنے والے ہیں ۔ وہ اللہ تعالی کے دین کے مدد گار ہیں ۔ وہی لوگ سچے ہیں اللہ تعالی نے اس کا حصہ انصار میں سے ضرورت مند لوگوں میں تقسیم فرمایا ۔ جناب رسول اللہ ﷺ نے اس میں سے کچھ اپنی ضروریات اور حقوق کے لئے رکھا اور وہ مال جو آپ کے پاس اس طرح ہوتا کہ آپ اس میں سے کسی چیز کو گم نہ پاتے اور نہ اس میں کسی کو ترجیح دیتے اور نہ ہی اس کے بعد کسی کو دینے کا رادہ فرماتے اسے آپ صدقہ قرار دیتے اس میں سے کسی کو وراثت نہ ملتی ۔ وہ دنیا میں سخاوت کرتے ہوئے اور دنیا کو حقیر قرار دیتے ہوئے اور جو کچھ اللہ تعالی کے پاس ہے اس کو ترجیح دیتے ہوئے ایسا کرتے رہے ، یہ وہ امل ہے جس پر گھوڑے اور اونٹ نہیں دوڑائے گئے اور اس مال غنیمت سے ہے ۔ جس کے ساتھ اللہ تعال نے اپنے رسول ﷺ کو ترجیح دی اور اس میں کسی شخص کے لئے اس مال غنیمت کی طرح حصہ قرار نہیں دیا ۔ جس میں اختلاف کرنے والوں نے اللہ تعالی کے اس قول میں اختلاف کیا "ماافاء اللہ علی رسولہ من اھل القربی ۔۔۔۔بین الاغنیاء منکم " تک کہ جو کچھ اللہ تعالی بستیوں والوں کے مال سے اپنے رسول ﷺ کے قرابت داروں ، یتیموں ، مساکین اور مسافروں کے لئے ہے تاکہ وہ (مال ) تمہارے دولت مند لوگوں کے درمیان گردش نہ کرتا رہے ۔ پھر اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا " ما اتاکم الرسول فخذوہ وما نھا کم عنہ فانتھو ا واتقو االلہ ان اللہ شدید العقاب ۔۔۔۔" کہ جو کچھ تمہیں جناب رسول اللہ ﷺ دیں اس کو لے لو اور جس سے تم کو منع کریں اس سے باز رہو اور اللہ تالی کا تقوی اختیار کرو بے شک اللہ تعالی سخت بدلہ لینے والے ہیں ۔ رہا یہ کہ اللہ تعالی نے فرمایا : فللہ تو اللہ تعالی کائنات اور اس کے رہنے والوں اور جو کچھ اسمیں ہے ان سب سے بے پرواہ ہیں۔ یہ سب کچھ اس ملکیت ہے لیکن وہ فرماتے ہیں کہ اس کی راہ میں صرف کرو جس طرح اس نے حکم دیا ہے اور رہا یہ ارشاد خدا وندی للرسول تو جناب رسول اللہ ﷺ کا حصہ مال غنیمت میں عام مسلمانوں کے حصے کی طرح تھا تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ جناب رسول اللہ ﷺ کو اس کی تقسیم اور اس پر عمل کروانے اور فیصلے کا اختیار تھا اور ارشاد خداوندی : ولذی القربی کے متعلق جاہل لوگوں کا خیال ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کے قربت داروں کے حصے مقرر ہوئے ہیں۔ آپ نے وہ حصہ ان سے منقطع کر دیا اور ان کو نہ دیا ۔ حالانکہ اگر ایسی بات ہوئی تو اللہ تعالی بیان فرما دیتے جیسا کہ ورثا ء کے سلسلہ میں نصف ، چوتھائی ، چھٹا ، آٹھواں حصہ بیان فرما دیا اور ان کا حصہ اس سے کم نہیں کیا جا سکتا خواہ غناء ہو یا فقیر جیسا کہ ورثاء کا حصہ ان سے روکا نہیں جا تا ۔ بلکہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ان کو مال غنیمت سے کچھ مال ، زمین ، قیسی ، سامان اور سونا چاندی عنایت فرمایا ۔ لیکن جو کچھ عنایت فرمایا ان میں سے کچھ بھی فرض نہ تھا جو کہ معلوم کیا جائے اور نہ سنت تھا کہ جس کای پیروی اور اقتداءکی جائے ۔ یہاں تک کہ اللہ تعالی نے اپنے پیغمبر ﷺ کو قبض کیا ۔ البتہ آپ ﷺ نے ان کے مابین خیبر کے دن کچھ تقسیم فرمایا مگر عمومی طور پر ان کے عام لوگوں کو عنایت نہیں فرمایا اور نہ کسی قریبی کی تخصیص دوسرے کو چھوڑ کر فرائی جو اس سے زیادہ ضرورت مند ہو ۔ بلکہ اس دن ان کو بھی عنایت فرمایا ۔ جن کے ساتھ آپ کو قرابت حاصل نہیں تھی اور اس وقت عنایت فرمایا جب انہوں نے آپ کی خدمت میں حاجت کی شکایت کی اور جو ان میں سے ان کی قوم میں سے آپ کے پہلو میں تھے اور جو ان کے حلفاء تھے ان کو قرابت کی وجہ سے فضیلت نہیں دی ۔ اگر بالفرض زی القربی کا حق تھا جیسا کہ ان لوگوں کا گمان ہے تو وہ ( انصار ) آپ کے ماموں اور والد اور دادا کے ماموں زوی القربی میں ہوتے ۔ ہر وہ جس کا رحم سے تعلق ہو وہ تمام ذوی القربی تھے ۔ اگر یہ بات اسی طرح ہوتی جس طرح ان حضرات کا خیال ہے تو مال فئی کے زیادہ ہونے کے بعد حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر ۔ ان کو عطا ء کرتے اور حضرت ابو الحسن علی المرتضی رضی اللہ عنہ کو جب حکومت ملی اور اس وقت تو کوئی اعتراض کرنے والا بھی نہ تھا تو اس وقت ان رشتہ داروں نے ان کی وہ بات یاد نہ دلائی جس پر عمل کیا جائے اور ان کے بعد معمول بھی ہو ۔ اگر بقول ان کے یہ بات اسی طرح ہوتی تو پھر اللہ تعالی یہ نہ فرماتے " کیلا یکون دولۃ بین الاغنیا ء منکم "کیونکہ آیت کے اترنے کے وقت آپ کے قرابت والوں میں کچھ لوگ مالدار تھے اگر یہن حصہ ان کے لئے مقرر ہوتا تو یہ ان کے مابین گردش کرنے والی دولت بنتی بلکہ قرابت رسول ﷺ کی وجہ سے مال وراثت بن جاتا اور کسی کو اس کے منقطع کرنے کا حق نہ ہوتا ۔ لیکن وہ فرماتے ہیں کہ قرابت والوں کا حق ان کی قرابت کی وجہ سے حاجت و ضرورت کے وقت ہے اور حق لازم محتاجی اور حاجت کے وقت مسلمانوں کے حق کی طرح پے پس جب وہ ضرورت مند نہ رہے تو اس کا کوئی حق نہیں اور حق یتیم یتیمی کی حالت سے متعلق ہے اگر وہ اپنے وارث سے حصہ لے لیتا ہے تو اب اس کا کوئی حق نہیں ۔ابن السبیل کا حق سفر کی حالت میں ہے اور اگر وہ زیادہ مالدار ہے اور اس کے پاس وسیع مال ہے تو اس کا کوئی حق نہیں ۔ بلکہ یہ حق ضرورت مند لوگوں کی طرف لوٹایا جائے گا ۔ اللہ تعالی نے انبیا ء علیہم السلام کو مبعوث فرمایا اور قرابت دار یتیم کا تذکرہ فرمایا اور اس مسکین کا ذکر کیا جو محتاج ہے ۔ ان تمام کا ایہی حکم ہے ۔ جناب رسول اللہ ﷺ اور سلف صالحین میں سے کوئی بھی آپ کے قرابت داروں کے لئے اللہ تعالی کی طرف سے مقرر کردہ حق چھوڑنے والا نہ تھا ۔ بلکہ وہ سب ان کا حق ادا کرنے والے تھے جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے " اقیمو ا الصلاۃ واتواالزکوۃ " نماز قائم کرو اور زکوۃ ادا کرو وغیرہ احکام قرآن ( پر وہ عمل پیرا تھے ) بلا شبہ انہوں نے ان عطایا کو جاری رکھا جو ان عطیات سے تھے جن کو لوگوں کے مال غنیمت میں رکھا گیا تھا ۔ ان میں سے بعض عطیات ایسے لوگوں کے لئے بھی تھے جو دین اسلام پر نہ تھے مگر انہوں نے ان کو بھی جاری رکھا اور بند نہ کیا ۔ پس اس کے باوجود جو یہ خیال کرے ( کہ انہوں نے حق بنتا تھا اور اس کو روک لیا ) وہ مفتری اور اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ اور ایمان والے صالح بندے جو حق میں ان کو پیروی کرنے والے تھے ان پر جھوٹ باندھنے والا ہے ۔ رہا ان لوگوں کا قول جو خمس کے متعلق یہ کہتے ہیں کہ اس کو بھی اللہ تعالی نے مقررہ فرائض کی طرح مقرر کیا ہے اس میں ان کا حق لازم ہے جن کا نام لیا گیا ہے خمس اس سلسلہ میں غنیمت کے مال کی طرح ہے ۔ اللہ تعالی نے اپنے پیغمبر ﷺ کو کچھ قیدی عنایت فرمائے پس اس سے بعض لوگوں کو عنایت فرمائے اور اپنی بیٹی کو چھوڑ دیا حالانکہ بیٹی نے اپنے ہاتھوں پر چکی پیس کر پڑنے والے نشانات بتلائے آپ نے بیٹی کو ذکر اللہ اور تسبیح کے حوالے کیا حالانکہ انہوں نے اپنا حق قرابت مانگا ۔ اگر یہ خمس اور فئی اسی طرح ہوتا جیسا کہ اس قائل کا خیال ہے تو پھر یہ مسلمانوں پر زیادتی بنتی اور ان کے اس حصے کو دور کرنا جو اللہ تعالی نے فئی میں ان کے لئے مقرر کیا ہے اور اس کی تقسیم ان لوگوں میں معطل نہ ہوتی جو قرابت ، نسب اور وراثت کی وجہ سے دعویدار تھے اور اس میں دو حصے اور بھی داخل ہوتے ایک عصبات کا اور دوسرا مہات الاولاد کا ۔ مگر جس کو دین کی ذرا سی سمجھ ہے وہ کہے گا کہ یہ بات اللہ تعالی کے ارشاد کے خلاف ہے جو اس نے اپنے پیغمبر ﷺ کو فرمائی :قل ما اسئلکم علیہ من اجرو ما انا من المتکلفین اور سورہ ص: 86 میں ہپے کہ میں تم سے اس پر کوئی بدلہ طلب نہیں کرتا اور نہ تکلف کرنے والوں میں سے ہوں اور دیگر انبیاء علیہم السلام نے بھی اپنی اقوام کو اسی طرح کی بات فرمائی ۔ اور کسی رسول ؤ کے لئے مناسب نہیں کہ وہ ایسی چیز کا مدعی جو اس کے لئے مناسب نہیں اور نہ یہ مناسب ہے کہ کسی کے مقرر شدہ حصہ نہ چھوڑے اور نہ کسی حصہ کو اپنے لئے یا دوسرے کے لئے تقسیم کرے ، اللہ تعالی نے ان کو چنا اور مخلوق پر امین بنایا ہوتا ہے ان کے حصص سے محروم کرنے والا نہیں بنایا ہوتا ۔ آپ ﷺ سے بنو سعد بن بکر نے سوال کیا کہ ان کو آزاد کر دیا جائے اور ان کے مسلمان قیدیوں کو چھوڑ دیا جائے اور یہ مطالبہ مال فئی بن کے بعد کیا تو آپ نے ان کو آزاد کر دیا اور چھوڑ دیا اور جناب رسول اللہ ﷺ نے اس وقت ارشاد فرمایا جب قبیلہ بنو سعد آپ سے اپنے جانور مانگ رہے تھے جبکہ آپ کی چادر ایک درخت سے اٹک گئی اور آپ کو خیال ہوا کہ انہوں نے کھینچ لی ہے ۔ اگر تہامہ کے در ختوں کی تعداد میں میرے پاس چوپائے ہوتے تو میں ان کو تمہارے درمیان تقسیم کر دیتا اور اس میں سوائے خمس کے اونٹ کے کوہان سے لی گئی اون کے ایک بال کے برابر بھی حق نہیں رکھتا اور وہ بھی تمہاری طرف ہی لوٹا دیا جاتا ہے ۔ ( نسائی فی الھبہ باب:1) اس روایت میں صاف وضاحت ہے کہ فئی کے خرچ کے وہی مقامات ہیں جن پر اس کو جناب رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالی کے حکم سے خرچ کیا اور عادلانہ فیصلہ کے مطابق صرف کیا ۔ پس آدمی نے اس تقسیم سے اعراض کیا یا اس میں الحاد کی راہ اپنائی اور جناب رسول اللہ ﷺ کا نام اور رکھا جو اللہ تعالی نے نہیں رکھا تو اس سبب سے مفتری ، کمذب اور قرآن مجید کا محرف بنے گا اور وہ اور اس کے پہرو کار اس تکذیب میں اہل کتاب کے اس انجام کو پانے والے ہوں گے جنہوں نے اپنے انبیاء علہیم السلام پر چھوٹے دعوے کئے ۔ امام طحاوی رحمۃاللہ علیہ کہتے ہیں کہ اس سلسلہ میں ایک اور قول یہ ہے کہ اللہ تعالی نے خمس کا معاملہ اپنے پیغمبر ﷺ کے سپرد کیا کہ وہ جہاں چاہے لگائیں یعنی اپنے قرابت دار خواہ غنی ہوں یا فقیر ان پر صرف کریں اور اس کے ساتھ ساتھ ان پر بھی جن کو ان کے علاوہ خمس میں دینے کا حکم فرمایا ۔ جس کو آیت خمس میں واضح کیا گیا اور اسی لئے آیت فئی میں بھی اس کا حکم دیا گیا ۔ جب اس سلسلہ میں اس قدر اختلاف ہےتو لازم ہے کہ اس سلسلہ میں غور کر کے صیح قول کو نکالیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے اپنے قرابت داروں میں سے جن کو دیا جو کچھ دیاحق واجب کی وجہ سے دیا ۔ اللہ تعالی نے ان کا تذکرہ آیت غنیمت اور آیت فئی میں نہیں کیا۔ یہ قول اس لئے فاسد ہے کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے اپنے بعض قرابت والوں کو دیا اور بعض قرابت والوں کو نہیں دیا ۔ آیت غنیمت اور آیت فئی میں جن کی طرف اللہ تعالی نے نسبت کی ہے اگر اس سے فرضیت مراد ہو تو پھر جناب رسول اللہ ﷺ ان میں سے کسی کو بھی محروم نہ فرماتے اور جو اللہ تعالی نے ان کےلئے مقرر فرمایا ہے وہ سن کو عنایت فرماتے تا کہ کوئی چیز ان میں اللہ تعالی کے حکم سے نکلی ہوئی نہ ہوتی ۔ کیا ثابت نہیں کہ اگر کوئی آدمی اپنے قرابت والوں کے متعلق ثلث مال کی وصیت کرتا ہے وہ لوگ خصوصی طور پر جانتے ہیں کہ آدمی کی وصیت پر صیح عمل کرنے والا وہی کہلائے گا جو تمام قرابت داروں کو دے نہ کہ وہ جو بعض کو محروم اور بعض کو نوازے ۔ اگر اس نے اس طرح کر دیا تو یہ اس کے حکم کی خلاف ورزی کرنے والا ہو گا ۔ پناہ بخد ا! کہ اللہ تعالی کا رسول اللہ تعالی کے کسی حکم کو ذرہ بھی چھوڑنے اور ذرہ بھر اس کی مخالفت کرنے والا ہو ۔ جب کہ اللہ تعالی نے آپ کو وہ مال دیا جس کو آپ اپنے قرابت والوں پر صرف کر یں اور آپ نے وہ مال اپنے تمام قرابت داروں پر صرف نہیں کیا تو یہ بات ناممکن ہو گئی کہ اللہ تعالی نے آپ کے قرابتداروں کے لئے مقرر کیا اور آپ نے روک لیا ۔ کیونکہ اگر آپ کے قرابت والوں کے لئے کوئی معینہ چیز مقرر فرمائی گئی تو ان کی مثال اس وصیت والے کی ہو گئی جس نے قرابت والوں کے لئے ثلث مال کی وصیت کی ہو ۔ تو وصی کو یہ حق نہں بنتا کہ کسی قرابت دار کو دوسرے پر ترجیح دے یا بعض کو دے اور بعض کو محروم کرے ۔ پس اس سے یہ قول باطل ٹھہرا ۔ جناب رسول اللہ ﷺ کے قرابت والوں کے لئے فئی اور غنائم میں کوئی حق واجب نہیں کیا گیا ۔ اللہ تعالی نے ان کے نام کا تذکرہ کر کے حکم میں تاکید فرمائی ۔ مطلب یہ ہوا کہ ان کو قرابت ، فقر اور حاجت کے طور پر دیا جائے گا ۔ یہ قول بھی فاسد ہے کیونکہ اگر یہ بات درست ہوتی تو آپ بنی ہاشم کے مالداروں کو نہ دیتے جن میں عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ ہیں آپ نے ان کو ان کے ساتھ عنایت فرمایا حالانکہ یہ تو جاہلیت و اسلام میں خوشحال لوگوں میں سے تھے ۔جناب رسول اللہ ﷺ نے قرابت داروں کو جو فوری طوعر پر عنایت فرمایا وہ فقر کی وجہ سے نہیں بلکہ کسی اور وجہ سے عنایت فرمایا اگر فقر کی وجہ سے ہوتا تو ان کو جو کچھ دیا وہ بطور صدقہ ہو گا حالانکہ صدقہ تو ان پر حرام ہے ۔

هذا كتاب عمر بن عبد العزيز في الفيء ← عَمِّهِ أَبِي سُهَيْلِ بْنِ مَالِكٍ، ← مَالِك بْنُ أَنَس، عَلَيْهِ ← داود بن سعيد بن أبي الزبير ← ثابت بن يعقوب ← يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُكَيْرٍ، ← رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5283

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5284

5000 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا وهب بن جرير قال ثنا شعبة عن يزيد بن أبي مريم عن أبي الجوزاء السعدي قال قلت للحسن بن علي رضي الله عنهما ما تحفظ من رسول الله صلى الله عليه و سلم قال أذكر أني أخذت تمرة من تمر الصدقة فجعلتها في في فأخرجها رسول الله صلى الله عليه و سلم فألقاه في التمر فقال رجل يا رسول الله ما كان عليك في هذه التمرة لهذا الصبي فقال إنا آل محمد لا تحل لنا الصدقة

ابو الجوزا ء سعدی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ تمہیں جناب رسول اللہ ﷺ سے کای بات یاد ہے ؟ کہنے لگے مجھے یاد پڑتا ہے کہ میں صدقہ کی کھجوروں سے ایک کھجور اٹھا کر اپنے منہ میں ڈال لی تو جناب رسول اللہ ﷺ نے اس کو میرے منہ سے نکال کر صدقہ کی کجھور میں واپس ڈال دیا ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہؐ! اس بچے کے اس ایک کجھور کھانے سے آپ پر کیا الزام تھا تو آپ نے فرمایا : ہم آل محمد کے لئے صدقہ حلال نہیں ہے ۔

أبى الجوزاء السعدي ← يَزِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ← شُعْبَةُ، ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5284

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5285

5001 - حدثنا بكار بن قتيبة وإبراهيم بن مرزوق قالا ثنا أبو عاصم عن ثابت بن عمارة عن ربيعة بن سنان قال قلت للحسن فذكر نحوه إلا أنه قال في آخره ولا لأحد من أهله

ربیعہ بن سنان کہتے ہیں کہ میں نے حسن رضی اللہ عنہ کو کہا پھر اسی طرح روایت کی البتہ آخر میں یہ الفاظ ہیں ان کے اہل میں سے بھی کسی کے لئے جائز نہیں ۔

في آخره ولا لأحد من أهله ← قلت للحسن فذكر نحوه إلا أنه ← ربيعة بن سنان ← ثَابِتُ بْنُ عُمَارَةَ ← أَبُو عَاصِمٍ ← بكار بن قتيبة وإبراهيم بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5285

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5286

5002 - حدثنا الربيع بن سليمان المؤذن قال ثنا أسد بن موسى قال ثنا حماد وسعيد ابنا زيد عن أبي جهضم موسى بن سالم عن عبيد الله بن عبد الله بن عباس رضي الله عنهم قال دخلنا على بن عباس رضي الله عنهما فقال ما أختصنا رسول الله صلى الله عليه و سلم بشيء دون الناس إلا بثلاث إسباغ الوضوء وأن لا نأكل الصدقة وأن لا ننزي الحمر على الخيل

عبید اللہ بن عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے جناب رسول اللہ ﷺ نے ہمیں تینم چیزوں کے ساتھ خاص کیا ہےکامل وضو کریں ہم صدقہ نہ کھائیں گدھے کی گھوڑی سے جفتی نہ کرائیں ۔

دخلنا على بن عباس ← عبيد الله بن عبد الله بن عباس ← أَبِي جَهْضَمٍ مُوسَى بْنِ سَالِمٍ، ← حماد وسعيد ابنا زيد ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُؤَذِّنُ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5286

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5287

5003 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا أبو عمر الحوضي قال ثنا شبابة بن سوار وحدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا علي بن الجعد

محمد بن خزیمہ نے علی بن جعد رحمۃاللہ علیہ سے اسی طرح روایت کی ۔

عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ← شبابة بن سوار وحدثنا محمد بن خزيمة ← أَبُو عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5287

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5288

وحدثنا سليمان بن شعيب قال ثنا عبد الرحمن بن زياد قال أخذ الحسن بن علي رضي الله عنهما تمرة من تمر الصدقة فأدخلها في فيه فقال له النبي صلى الله عليه و سلم كخ كخ ألقها ألقها أما علمت أنا لا نأكل الصدقة

حضرت عبدالرحمن بن زیاد سے روایات ہے کہ حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے صدقہ کی ایک کجھور لے کر اسے اپنے منہ میں ڈال لیا ۔ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کخ ۔کخ۔اس کو پھینک دو پھینک دو ۔ کیا تم نہیں جانتے کہ ہم صدقہ نہیں کھاتے ۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5288

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5289

5004 - حدثنا بكار بن قتيبة وإبراهيم بن مرزوق قالا ثنا عبد الله بن بكر السهمي عن بهز بن حكيم عن أبيه عن جده قال سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول في إبل سائمة في كل أربعين ابنة لبون من أعطاها مؤتجرا فله أجرها ومن معها فأنا آخذها منه وشطر إبله عزمة من عزمات ربنا لا يحل لأحد منا منها شيء

بہنر بن حکیم نے اپنے والد انہوں نے اپنے دادا سے روایت کی ہے کہ میں نے جناب رسول ﷺ کو فرماتے سنا ۔ چرنے والے اونٹوں میں اس طرح زکوۃ ہے ۔ ہر چالیس میں بنت لبون ( اونٹ کا تین سالہ بچہ ) سج نے اجر کی خاطر دیا اسے اس کا ثواب ملے گا اور جس نے زکوۃ روک لی تو میں اس سے (زبردستی ) لے لوں گا اور اونٹوں کا یہ حصہ (زکوۃ ) یہ ہمارے رب کے فرائض سے ہے ۔ ہمارے (گھرانہ محمد ﷺ ) میں سے کسی کے لئے اس میں سے کوئی چیز جائز نہیں ۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَکْرٍ السَّهْمِيُّ ← بكار بن قتيبة وإبراهيم بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5289

chevron_left Previous
1…262728…33
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter