Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5266

4982 - حدثنا أحمد بن داود بن موسى قال ثنا مسدد بن مسرهد قال ثنا يزيد بن زريع قال ثنا سليمان التيمي عن أبي عثمان النهدي عن قبيصة بن مخارق وزهير بن عمرو قالا لما نزلت وأنذر عشيرتك الأقربين انطلق رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى رضفة من جبل فعلا أعلاها ثم قال يا بني عبد مناف إني نذير ففي هذا الحديث إدخاله بني عبد مناف مع من هو أقرب إليه منهم من قرابته

ابو عثمان نہدی نے قبیصہ بن مخارق اور زہیر بن عمرو سے روایت کی ہے دونوں کا بیان ہے کہ جب : وانذر عشیرتک الاقریبن الایۃ نازل ہوئی تو جناب رسول اللہ ﷺ پہاڑ کے گرم پتھر کی طرف گئے اور اس پر چڑھ کر آواز دی۔ اے بنی عبد مناف بیشک میں نذیرہوں۔

قَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ وَزُهَيْرِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ← سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← أحمد بن داود بن موسى

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5266

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5267

4983 - حدثنا ربيع بن سليمان قال ثنا أبو الأسود وحسان بن غالب قالا ثنا صمام بن إسماعيل عن بن وردان عن أبي هريرة رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه قال يا بني هاشم يا بني قصي يا بني عبد مناف أنا النذير والموت المغير والساعة الموعد ففي هذا الحديث أنه دعا بني قصي مع من هو أقرب إليه منهم

ابن وردان نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب رسول اللہ ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے اس طرح اعلان فرمایا۔ اے بنی ہاشم ، اے بنی قصی، اے بنی عبد مناف میں نذیر ہوں اور موت تم پر لوٹ ڈالنے والا دشمن ہے اور قیامت وعدے کی جگہ اور وقت ہے۔طحاوی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ اس روایت میں بنی قصی کو بھی بلایا حالانکہ ان سے قریب تر لوگ موجود تھے۔

يا بني هاشم يا بني قصي يا بني عبد مناف ← رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← بن وردان ← صمام بن إسماعيل ← أبو الأسود وحسان بن غالب ← رَبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5267

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5268

4984 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا أبو الوليد وعفان عن أبي عوانة عبد الملك بن عمير عن موسى بن طلحة عن أبي هريرة رضي الله عنه قال لما نزلت وأنذر عشيرتك الأقربين قام نبي الله صلى الله عليه و سلم فنادى يا بني كعب بن لؤي أنقذوا أنفسكم من النار يا بني عبد مناف أنقذوا أنفسكم من النار يا بني هاشم أنقذوا أنفسكم من النار يا بني عبد المطلب أنقذوا أنفسكم من النار يا فاطمة ابنة محمد أنقذي نفسك من النار فإني لا أملك لكم من الله شيئا غير أن لكم رحما سأبلها ببلاله ففي هذا الحديث أنه أنذر بني كعب بن لؤي مع من هو أقرب إليه منهم وفي الحديث أيضا أنه جعلهم جميعا ذوي أرحام

موسی بن طلحہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ آیت : وانذر عشیر تک الاقربین ۔۔۔۔ ناذل ہوئی تو اللہ تعالی کے نبی کھڑے ہوئے اور آواز دی اے نبی کعب بن لوی اپنے آپ کو آگ سے نکالو ۔ اے بنی عبد مناف تم اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ ۔ اے بنی عبدالمطلب اپنے آپ کو آگے سے چھڑاؤ ۔ اے بنی ہاشم تم اپنے آپ کو آگ سے رہائی دلاؤ ۔ اے بنی عبدالمطلب تم اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ ۔ اے فاطمہ بنت محمد ﷺ اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ ۔ میں تمہارے لئے اللہ تعالی کے ہاں کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا البتہ تمہارے میرے ساتھ رشتہ داری اس میں تماہرے رحم کا پاس کروں گا ۔ اس روایت میں آپ نے بنو کعب بن لوی کو ان لوگوں سے ساتھ رکھا جو ان کے مقابلہ میں بہت قریب تھے ۔ اس روایت میں یہ بتلا یا کہ تمہارے ساتھ میری رحم کی رشتہ داری ہے ۔ گویا سب کو ذوی الارحام فرمایا ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، ← أبي عوانة عبد الملك بن عمير ← أبو الوليد وعفان ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5268

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5269

4985 - حدثنا فهد بن سليمان قال ثنا عمر بن حفص بن غياث قال ثنا الأعمش عن عمرو بن مرة عن سعيد بن جبير عن بن عباس رضي الله عنهما قال لما نزلت وأنذر عشيرتك الأقربين صعد رسول الله صلى الله عليه و سلم على الصفا فجعل ينادي يا بني عدي يا بني فلان لبطون قريش حتى اجتمعوا فجعل الرجل إذا لم يستطع أن يخرج أرسل رسولا لينظر وجاء أبو لهب وقريش فاجتمعوا فقال أرأيتم لو أخبرتكم أن خيلا بالوادي تريد أن تغير عليكم أكنتم مصدقي قالوا نعم ما جربنا عليك إلا صدقا قال فإني نذير لكم بين يدي عذاب شديد ففي هذا الحديث أنه دعا بطون قريش كلها

سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جب آیت " وانذر عشیر تک الاقربین "(الشعراء) نازل ہوئی تو جناب رسول اللہ ﷺ صفا پہاڑی پر چڑھے اور اس طرح آواز دی اے نبی عدی اے بنی فلاں تمام بطون قریش کو آوا ز دی یہاں تک کہ وہ تمام جمع ہو گئے پس جو کوئی آدمی نہ آ سکتا تھا۔ اس نے اپنی طرف سے قاصد بھیجا تا کہ با ت کو معلوم کرے ۔ ابو لہب اور قریش آکر اکٹھے ہوئے ۔ تو آپ نے ان کو مخاطب کر کے فرمایا ۔ تمہاارا کیا خیال ہے اگر میں تمہیں اطلاع دوں کہ وادی میں گھڑ سوار دستہ تم پر لوٹ ڈالنا چاہتا ہے کیا تم میری بات کی تصدیق کرو گے ۔ انہوں نے کہا جی ہاں ۔ ہم نے تمہارے جھوٹ کا تجربہ نہیں کیا تم سچ بولتے ہو ۔ آپ نے فرمایا میں سخت عذاب سے ڈرانے کے لئے تمہارے پاس نذیر بن کر آیا ہوں ۔ اس روایت میں تمام بطون قریش کو دعوت دینا مذکور ہے۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← الْاَعْمَشِ ← عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، ← فَهْدُ بْنُ سُلَيْمَانَ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5269

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5270

4986 - حدثنا يونس بن عبد الأعلى قال ثنا سلامة بن روح قال ثنا بن خالد قال حدثني الزهري قال ثنا سعيد بن المسيب وأبو سلمة بن عبد الرحمن أن أبا هريرة رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم حين أنزل عليه وأنذر عشيرتك الأقربين يا معشر قريش اشتروا أنفسكم من الله لا أغني عنكم من الله شيئا يا بني عبد مناف اشتروا أنفسكم من الله لا أغني عنكم من الله شيئا يا عباس بن عبد المطلب لا أغني عنك من الله شيئا يا صفية عمة رسول الله لا أغني عنك من الله شيئا يا فاطمة ابنة رسول الله لا أغني عنك من الله شيئا

سعید بن مسیب اور ابو سلمہ بن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ ابو ہریرہ ۔رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جناب رسول اللہﷺ پر جب یہ آیت " وانذر عشیرتک الاقربین " نازل ہوئی تو آپ نے فرمایا اے قریش کے گروہ اللہ تعالی سے اپنے نفوس کو خرید لو ۔ میں تمہیں اللہ تعالی سے بچانے کے لئے کوئی کام نہ آ سکوں گا ۔ اے بنی عبدمناف ! تم اپنے نفوس کو اللہ تعالی سے خرید لو ۔ میں تمہیں اللہ تعالی سے چھڑانے کےلئے ذرہ بھر کام نہ آؤں گا ۔ اے عباس بن عبدالمطلب میں اللہ تعالی سے چھڑانے کے لئے تمہارے کچھ کام نہ آ سکوں گا ۔ اے صفیہ عمتہ الرسول ! اللہ تعالی کے عذاب سے چھڑانے کے لئے میں تمہارے کچھ کام نہ آ سکوں گا ۔ اے فاطمہ بنت رسول اللہ ! میں اللہ تعالی سے چھڑانےکے لئے تمہارے کچھ کام نہ آ سکوں گا ۔

سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← بن خالد ← سلامة بن روح ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5270

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5271

4987 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب قال أخبرني يونس عن بن شهاب قال أخبرني سعيد وأبو سلمة أن أبا هريرة رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم ذكر مثله غير أنه قال يا صفية يا فاطمة فلما كان رسول الله صلى الله عليه و سلم لما أمره الله عز و جل أن ينذر عشيرته الاقربين أنذر قريشا بعيدها وقريبها دل ذلك أنهم جميعا ذوو قرابته ولولا ذلك لقصد بإنذاره إلى ذوي قرابته منهم وترك من ليس منهم بذوي قرابة له فلم ينذره كما لم ينذر من يجمعه وإياه أب غير قريش فإن قال قائل إنه إنما جمع قريشا كلها فأنذرها لأن الله عز و جل أمره أن ينذر عشيرته الأقربين ولا عشيرة له أقرب من قريش فلذلك دعا قريشا كلها إذ كانت بأجمعها عشيرته التي هي أقرب العشائر إليه قيل له لو كان كما ذكرت إذا كان يقول وأنذر عشيرتك القربى ولكنه عز و جل لم يقل له كذلك وقال له وأنذر عشيرتك الأقربين فأعلمه أن كل أهل هذه العشيرة من أقربيه فبطل بما ذكرنا قول من جعل ذا قربى رسول الله صلى الله عليه و سلم بني هاشم وبني المطلب خاصة وفيما ذكرنا من بعد هذه الحجة التي احتججنا بها ما يغنينا عن الاحتجاج لقول من قال إن ذوي قربى رسول الله صلى الله عليه و سلم هم قريش كلها وقد روي عن عبد الله بن عباس رضي الله عنهما في تأويل قول الله عز و جل قل لا أسألكم عليه أجرا إلا المودة في القربى ما يدل على هذا المعنى أيضا

سعید بن ابو سلمہ نے بتلایا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جناب رسول اللہﷺ نے فرمایا پھر اسی طرح کی روایت نقل کی۔ بس اس میں اضافہ ہے اے صفیہ اے فاطمہ ۔ جب جناب نبی اکرم ﷺ کو اپنی قریبی خاندان والوں کو ڈرانے کا حکم ہوا تو آپ نے قریش کے بعید و قریب سب رشتہ داروں کو دعوت دی ۔ اس سے دلالت مل گئی کہ یہ تمام آپ کے قرابت والے ہیں ۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو قرابت والوں کو ڈراتے وقت ان کو ڈراتے جو زیادہ قرابت والے تھے اور جو قرابت دارنہ تھے ان کو چھوڑ دیتے ۔ جیسا کہ آپ نے غیر قریش کو چھوڑ دیا اور ان کو اقربین کے انداز میں شامل نہیں کیا ۔ آپ ﷺ نے تمام قریش کو جمع کیا اور ڈرایا کیونکہ اللہ تعالی نے عشیرہ اقربین کو ڈرانے کا حکم فرمایا تھا اور قریش سے قریب تر آپ کااور خاندان نہ تھا ۔ اسی لئے آپ نے تمام قریش کو جوکہ تمام قبائل آپ سے قریب تر تھے دعوت دی ۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اگر آپ کیبات درست تسلیم کر لی جائے جیساکہ آپ نے ذکر کیا تو " وانذر عشیر تک القربی " ہونا چاہئے تھا حالانکہ آیت میں تو " وانذر عشیر تک الاقربین ( الشعرا ء 214) فرمای گیا ہے ۔ آپ کو اس سے یہ بتلایا کہ خاندان قریش کے سب لوگ آپ کے اقارب ہیں پس اس سے ان لوگوں کی بات غلط ثابت ہو گئی جنہوں نے ذوالقربی کو فقط بنو ہاشم و بنو مطلب کے ساتھ خاص کیا ۔ ذوی القربی سے تمام قریش مراد ہیں ۔اگرچہ یہ ابت ہم نے ثابت کر دی کہ ذوی القربی سے فقط بنو ہاشم و بنو مطلب مراد نہیں بلکہ تمام قریش مراد ہیں ۔ اس مؤقف کے لئے ہم ایسی دلیل پیش کرنا چاہئے جو تمام دلائل سے بے نیاز کرنے والی ہے ۔حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالی کے ارشاد :قل لا اسئلکم علیہ اجرا الا المودۃ فی القربی (الشوری :23) کی تفسیر ی روایت اس معنی ہر دلالت کرتی ہے ۔

سَعِيدٌ وَأَبُو سَلَمَةَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ← بن شِهَابٍ ← يُونُسَ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5271

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5272

4988 - حدثنا عبد الله بن محمد بن أبي مريم قال ثنا الفريابي قال ثنا سفيان عن داود بن أبي هند عن الشعبي عن بن عباس رضي الله عنهما في قوله عز و جل قل لا أسألكم عليه أجرا إلا المودة في القربى قال أن يصلوا قرابتي ولا يكذبوني فهذا على الخطاب لقريش كلها فقد دل ذلك على أن قريشا كلها ذوو قرابته وقد روي في ذلك أيضا عن عكرمة ما يدل على هذا المعنى أيضا

امام شعی رحمتہ اللہ علیہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے آیت " قل لا اسئلکم علیہ اجرا الا المودۃ فی القربی ( الشوری:23)کے متعلق تفسیر کرتےہوئے فرمای کہ میں تم سے صرف اسی بات کا مطالبہ کرتا ہوں کہ تم میری قرابت کا لحاظ کرو اور میری تکذیب نہ کرو ۔ یہ تم قریش کو خطاب ہے اس سے یہ ثابت ہو گیا کہ تمام قریش آپ کے قرابت والے تھے ۔ روایت عکرمہ رحمتہ اللہ علیہ سے تائید ۔ عکرمہ رحمتہ اللہ علیہ کی روایت اس کی مؤید ہے ۔

الشَّعْبِيِّ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْفِرْيَابِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5272

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5273

4989 - حدثنا بن أبي مريم قال ثنا الفريابي قال ثنا يحيى بن أيوب البجلي قال سألت عكرمة عن قول الله عز و جل قل لا أسألكم عليه أجرا إلا المودة في القربى قال كانت قرابات النبي صلى الله عليه و سلم من بطون قريش كلها فكانوا أشد الناس له أذى فأنزل الله تعالى فيهم قل لا أسألكم عليه أجرا إلا المودة في القربى

یحیی بن ایوب بجلی کہتے ہیں کہ میں نے عکرمہ رحمتہ اللہ علیہ سے اس آیت " قل لا اسئلکم علیہ اجرا الا المودۃ فی القربی ( الشوری:23) کے متعلق سوال کیا تو فرمانے لگے آپ ﷺ کی تمام بطون قریش میں قرابت تھی اور قریش ہی ایذاء میں سب سے بڑھ کر تھے ۔ تو اللہ تعالی نے یہ آیت تمام بطون قریش کے متعلق اتاری ۔

سَأَلْتُ عِكْرِمَةَ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْبَجَلِيُّ، ← الْفِرْيَابِيُّ، ← بن اَبِیْ مَرْیَمَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5273

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5274

4990 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا الحجاج بن نصير عن عمر بن فروخ عن حبيب بن الزبير قال أتى رجل عكرمة فقال يا أبا عبد الله قول الله عز و جل قل لا أسألكم عليه أجرا إلا المودة في القربى قال أسبائي أنت قال لست بسبائي ولكني أريد أن أعلم قال إن كنت تريد أن تعلم فإنه لم يكن حي من أحياء قريش إلا وقد عرق فيهم رسول الله صلى الله عليه و سلم وقد كانت قريش يصلون أرحامهم من قبله فما عدا إذا جاء نبي الله صلى الله عليه و سلم فدعاهم إلى الإسلام فقطعوه ومنعوه وحرموه فقال الله عز و جل قل لا أسألكم عليه أجرا إلا المودة في القربى أن تصلوني لما كنتم تصلون به قرابتكم قبلي وقد روي عن مجاهد في ذلك أيضا ما يدل على هذا المعنى

عمر بن فروخ نے حبیب بن زبیر سے روایت کی کہ ایک آدمی حضرت عکرمہکی خدمت میں آیا اور کہا اے ابو عبداللہ ! اللہ تعالی کے اس قول کیا کیا معنی ہے " قل لا اسئلکم علیہ اجرا الا المودۃ فی القربی ( الشوری:23) انہوں نے فرمایا کیا تو سبائی گروہ سے تعلق رکھتا ہے میں نے کہ امیں سبائی تو نہیں لیکن میں تفسیر معلوم کرنا چاہتا ہوں ۔ تو انہوں نے فرمایا اگر تفسیر جاننا چاہتے ہو تو ( سنو) قبائل قریش میں کوئی خاندان ایسا نہ تھا کہ جس میں جناب رسول اللہﷺ کی رشتہ داری نہ ہو اور قریش پہلے صلہ رحمی کرتے تھے اور کوئی حد بڑھنے والا نہ تھا جب آپ نے نبوت کا دعوی کیا اور اسلام کی طرف بلایا تو انہوں نے قطعی رحمی کی آپ کے ساتھ میل ملاپ کو روکا اور محروم کیا تو اللہ تعالی نے فرمایا " قل لا اسئلکم علیہ اجرا الا المودۃ فی القربی ( الشوری:23) اب بھی تم مجھ سے اسی طرح صلہ رحمی کرو جیسا کہ پہلے صلہ رحمی کرتے تھے ۔ مجاہد رحمتہ اللہ علیہ کے قول سے تائید ۔ حضرت مجاہد کا قول بھی اسی معنی کی تائید کرتا ہے ۔

حَبِيبِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← عُمَرُ بْنُ فَرُّوخَ ← الْحَجَّاجُ بْنُ نُصَيْرٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5274

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5275

4991 - حدثنا بن أبي مريم قال ثنا الفريابي قال ثنا ورقاء عن بن أبي نجيح عن مجاهد في قوله قل لا أسألكم عليه أجرا إلا المودة في القربى أن تتبعوني وتصدقوني وتصلوا رحمي ففي ما روينا عن عبد الله بن عباس رضي الله عنهما وعن عكرمة وعن مجاهد في تأويل هذه الآية ما يدل على أن قريشا كلها ذوو قرابة لرسول الله صلى الله عليه و سلم وقد وافق ذلك ما ذكرناه في تأويل قول الله عز و جل وأنذر عشيرتك الأقربين غير أنه قد روى عن الحسن في تأويل هذه الآية وجه يخالف هذا الوجه

ابن ابی نجیع نے حضرت مجاہد رحمتہ اللہ علیہ سے اس آیت " قل لا اسئلکم علیہ اجرا الا المودۃ فی القربی ( الشوری:23) کے متعلق دریافت کیا تو فرمایا ( اے قریش ) تم میری اتباع کرو اور میری تصدیق کرو اور میرے ساتھ صلہ رحمی سے پیش آ ؤ ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ اور ان کے دونوں شاگرد عکرمہ ومجاہد رحمتہ اللہ علیہم نے اس آیت کی تفسیر میں جو فرمایا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام قریش آپ کے قربت دار ہیں اور یہ بات اس تاویل کت موافق ہے جو ہم نے وانذر عشیر تک الاقربین " کی گزشتہ سطور میں کی ہے ۔ حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ کا قول اس تاویل کے خلاف ہے ۔

مجاهد في قوله قل لا أسألكم عليه أجرا إلا المودة في القربى ← بن أَبِي نَجِيحٍ، ← وَرْقَاءُ ← الْفِرْيَابِيُّ، ← بن اَبِیْ مَرْیَمَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5275

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5276

4992 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا يعقوب بن إسحاق الحضرمي عن هشيم عن منصور بن زاذان عن الحسن في قوله قل لا أسألكم عليه أجرا إلا المودة في القربى قال التقرب إلى الله بالعمل الصالح فأما من ذهب إلى أن قريشا من ذوي قربى رسول الله صلى الله عليه و سلم وأن من ذوي القربى أيضا من مسه برحم من قبل أمهاته إلى أقصى كل أب لكل أم من أمهاته من العشيرة التي هي منها فإنه احتج لما ذهب إليه من ذلك بالنظر وقال رأيت الرجل بنسبته من أبيه ومن أمه مختلفا ولم يمنعه اختلاف نسبه منهما أن كان ابنا لهما ثم رأيناه يكون له قرابة لكل واحد منهما فيكون بموضعه من أبيه قرابة لذي قرابة أبيه ويكون بموضعه من أمه قرابة لذي قربى أمه ألا ترى أنه يرث إخوته لأبيه وإخوته لأمه وترثه إخوته لأبيه وإخوته لأمه وإن كان ميراث فريق ممن ذكرنا مخالفا لميراث الفريق الآخر وليس اختلاف ذلك بمانع منه القرابة فلما كان ذوو قربى أمه قد صاروا له قرابة كما أن ذوي قربى أبيه قد صاروا له قرابة كان ما يستحقه ذوو قربى أبيه بقرابتهم منه يستحق ذوو قربى أمه بقرابتهم منه مثله وقد تكلم أهل العلم في مثل هذا في رجل أوصى لذي قرابة فلان بثلث ماله فقالوا في ذلك أقوالا سنبينها ونبين مذهب صاحب كل قول منها الذي اداه إلى قوله الذي قاله منها في كتابنا هذا إن شاء الله تعالى فكان أبو حنيفة رحمة الله عليه قال هي كل ذي رحم محرم من فلان الموصى لقرابته بما أوصى لهم به من قبل أبيه ومن قبل أمه غير أنه يبدأ في ذلك بمن كانت قرابته منه من قبل أبيه على من كانت قرابته منه من قبل أمه وتفسير ذلك أن يكون له عم وخال فقرابة عمه منه من قبل أبيه كقرابة خاله منه من قبل أمه فيبدأ في ذلك عمه على خاله فيجعل الوصية له وكان زفر بن الهذيل يقول الوصية لكل من قرب منه من قبل أبيه أو من قبل أمه دون من كان أبعد منه منهم وسواء في ذلك من كان منهم ذا رحم للموصى لقرابته ومن لم يكن منهم ذا رحم وقال أبو يوسف ومحمد رحمة الله عليهما الوصية في ذلك لكل من جمعه وفلانا أب واحد منذ كانت الهجرة من قبل أبيه أو من قبل أمه وسويا في ذلك بين من بعد منهم وبين من قرب وبين من كانت رحمه محرمة منهم وبين من كانت رحمه منهم غير محرمة ولم يفضلا في ذلك بين من كانت رحمه منهم من قبل الأب على من كانت رحمه منهم من قبل الأم وكان آخرون يذهبون في ذلك إلى أن الوصية بما وصفنا لكل من جمعه والموصى لقرابته أبوه الثالث إلى من هو أسفل من ذلك وكان يذهبون في ذلك إلى أن الوصية لكل من جمعه وفلانا الموصى لقرابته أبوه الرابع إلى من هو أسفل من ذلك وكان آخرون يذهبون في ذلك إلى أن الوصية فيما ذكرنا لكل من جمعه وفلانا الموصى لقرابته أب واحد في الإسلام أو في الجاهلية ممن يرجع بآبائه أو بأمهاته إليه إما عن أب وإما عن أم إلى أن يلقاه يثبت به المواريث ويقوم به الشهادات فأما ما ذهب إليه أبو حنيفة رحمة الله عليه مما ذكرنا في هذا الفصل ففاسد عندنا لأن رسول الله صلى الله عليه و سلم لما قسم سهم ذوي القربى أعطى بني هاشم وبني المطلب وأكثرهم غير ذوي أرحام محرمة وقد روي عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه أمر أبا طلحة أن يجعل شيئا من ماله قد جاء به إلى النبي صلى الله عليه و سلم لله ولرسوله فأمره رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يجعل في فقراء قرابته فجعله أبو طلحة لأبي بن كعب ولحسان بن ثابت فأما حسان فيلقاه عند أبيه الثالث وأما أبي فيلقاه عند أبيه السابع وليسا بذوي أرحام منه محرمة وجاءت بذلك الآثار فمنها ما

منصور بن زاذان نے حجرت حسن رحمتہ اللہ علیہ سے : " قل لا اسئلکم علیہ اجرا الا المودۃ فی القربی ( الشوری:23) آیت کی تفسیر میں نقل کیا کہ اس سے اعمال صالحہ کےئ ساتھ قرب خدا وندی حاصل کرنا مراد ہے ۔ جن لوگوں کا یہ قول ہے کہ اس سے مراد قریش کی قرابت داری ہے اور ماں کی طرف سے صلہ رحمی کا تعلق رکھنے والے مراد ہیں اور یہ سلسلہ آپ کی امہات کے قبیلہ کی طرف سے ان کی اعلی جد تک پہنچتا ہے ان کی قیاسی و نظری دلیل یہ ہے کہ آدمی کو اپنے باپ اور ماں کی طرف سے مختلف نسبت حاصل ہوتی ہے اگر وہ ان دونوں کی اولاد سے ہے تو اس نسبت سے اس کو اختلاف نسب مانع نہیں ہے ۔ پھر یہ بھی دیکھی بھالی بات ہے کہ اس کو ان دونوں میں سے ہر ایک سےقرابت حاصل ہے ۔ پھر وہ والدہ کی قرابت کی سبب اس کے قریب داروں میں سے ہو گا اور والدہ کی طرف سے قرابت کے باعث وہ اس کے قرابت داروں میں سے ہو گا ۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ وہ باپ کی طرف بھائیوں کا وارث بھی ہوتا ہے اور ماں کی طرف سے بھائیوں کا بھی وارث بنتا ہے ۔ اسی طرح اس کے باپ کی طرف سے بھائی اور ماں کی طرف سے بھائی اس کے وارث بنتے ہیں اگرچہ ان فریقوں کی میراث ایک دوسرے کے خلاف ہے ۔ لیکن یہ اختلاف قرابت سے مانع نہیں تو جب ماں کے قرابت دار اس کے بھی قرابت دار ہوئے جیسے کہ باپ کے قرابت دار اس کے قرابت دار ہوتے ہیں تو جس چیز کے حقدار اس کے باپ کے قرابت دار ہوں گے اس کی ماں کے قرابت دار بھی قرابت کی وجہ سے مستحق ہوں گے ۔ اگر ایک آدمی مرنے سےپہلے یہ وصیت کرکے میرا تہائی مال میرے قرابت داروں کو دیا جائے اس سے کون لوگ مراد ہوں گے اس میں آئمہ احناف کے مابین ابھی اختلاف ہے ۔ البتہ باپ کی طرف قرابت داروں کو مال کے قرابت داروں پر ترجیح حاصل ہو گی ۔ مثلاً میت کے چچا کو ماموں پر ترجیح حاصل ہو گی ۔ وصیت کو چچا کے حق میں مانیں گے ۔ یہ وصیت ہر اس رشتہ دار کے حق میں ہے جو باپ کی طرف اور ماں کی طرف سے قریبی رشتہ والا ہے ۔ دور والے رشتہ دار مراد نہ ہوں گے ۔ اس میں وصیت کرنے والے کے ذی رحم محرم اور غیر ذی رحم برابر ہوں گے ۔ اس سے وہ لوگ مراد ہیں جو وصیت کرنے والے کے ساتھ جد اعلی میں شریک ہیں جب سے ہجرت ہوئی خواہ وہ ماں کی طرف سے شریک ہوں یا باپ کی طرف سے شریک ہوں اس میں دور اور نزدیک کے ذی رحم محرم اور غیر ذی رحم محرم برابر ہیں ۔ گویا ابو یوسف و محمد رحمتہ اللہ علیہ پاب اور ماں کے رشتہ داروں میں کوئی فرق نہیں کرتے ۔ بعض دیگر ائمہ کہتے ہیں کہ وصیت ہر ا س شخص کے حق میں ہے جس کو اور موصی کو تیسرا باپ جمع کرے اور اس سے نیچے رشتہ میں شریک ہوں ۔ یہ وصیت ہر اس شخص کے لئے ہے جو وصیت کرنے والے کے ساتھ چوتھے باپ میں اور اس سے نیچے کی قرابت میں شراکت رکھتا ہو۔ اس وصیت میں وہ تمام لوگ شریک ہیں جو وصیت کرنے والے کے ساتھ اسلام یا جاہلیت کے زمانہ میں ایک باپ کی قرابت میں ہوں اور وہ اپنے باپوں یا ماؤں کے ساتھ اس کی طرف لوٹتا ہو یا باپ کی طرف سئ یہاں تک کہ وہ اس سے مل جائے اور اسی رشتہ داری سے وراثت ثابت ہو گی اور اسی کے ساتھ شہادتیں قائم ہوں گی ۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرامتے ہیں : ان اقوال میں اول جو امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ کی طرف منسوب ہے علیہ کی طرف منسوب ہے وہ درست نہیں کیونکہ جناب رسول اللہﷺ نے قرابت والوں کے حصہ کی تقسیم کر کے بنو ہاشم اور بنو مطلب کو دیا حالانکہ ان میں اکثریت ان لوگوں کی تھی جو رحم محرم نہ تھے ۔ جیسا کہ یہ روایت شاہد ہیں ۔ مروی ہے جناب رسول اللہﷺ نے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کو حکم فرمایا کہ وہ جو مال لائے ہیں اس میں سے کچھ حصہ اللہ تعالی اور اس کے رسول کے لئے مقرر کر دیں پھر ان کو حکم فرمایا کہ باقی مال اپنے محتاج قرابت داروں میں صرف کر دیں ۔ تو حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے اس کو حضرت ابن ابی کعب اور حسان بن ثابت کے لئے مقرر کر دیا حالانکہ حضرت حسان رضی اللہ عنہ سے ان کا رشتہ تیسرے باپ میں ملتا تھا اور حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے ساتھ ساتویں پشت میں رشتہ ملتا تھا اور دونوں ان کے ذی رحم محرم نہ تھے ۔ قرابت دار سے ذی رحم مراد نہیں مطلقاً رشتہ دار مراد ہیں ۔ اس سلسلہ کی روایات ملاحظہ ہوں ۔

الحسن في قوله قل لا أسألكم عليه أجرا إلا المودة في القربى ← مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ، ← هُشَيْمٌ ← يعقوب بن إسحاق الحضرمي ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5276

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5277

4993 - حدثنا إبراهيم بن أبي داود قال ثنا أحمد بن خالد الوهبي قال ثنا الماجشون عن إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال لما نزلت هذه الآية لن البر حتى تنفقوا مما تحبون جاء أبو طلحة ورسول الله صلى الله عليه و سلم على المنبر قال وكان دار بن جعفر والدار التي تليها قصر حديلة حوائط قال وكان قصر حديلة حوائط لأبي طلحة فيها بير كان النبي صلى الله عليه و سلم يدخلها فيشرب من مائها ويأكل ثمرها فجاءه أبو طلحة ورسول الله صلى الله عليه و سلم على المنبر فقال إن الله يقول لن تنالوا البر حتى تنفقوا مما تحبون فإن أحب أموالي إلي هذه البير فهي لله ولرسوله أرجو بره وذخره أجعله يا رسول الله حيث أراك الله فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم بخ يا أبا طلحة مال رابح قد قبلناه منك ورددناه عليك فاجعله في الأقربين قال فتصدق أبو طلحة على ذوي رحمه فكان منهم أبي بن كعب وحسان بن ثابت قال فباع حسان نصيبه من معاوية فقيل له إن حسانا يبيع صدقة أبي طلحة فقال لا أبيع صاعا بصاع من دراهم

اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی ۔" لن تنالو االبر حتی تفقو ا مما تحبون ۔۔۔۔ "( آل عمران :92) تو حضرت ابو طلحہ جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضرہوئے اس وقت آپ منبر پر تشریف فرما تھے حضرت ابو جعفر کا گھر اور وہ گھر جس کے قریب قصر حدیلہ ہے وہاں ابو طلحہ کے باغات تھے اور یہ قصر حدیلہ یہ ابو طلحہ کا باغ تھا جسمیں کنواں تھا جناب رسول اللہﷺ اس میں تشریف لے جاتے اور اس کا پانی نوش فرماتے اور پھل کھاتے تھے ۔ تو ابو طلحہ جناب رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ جبکہ آپ منبر پر تشریف فرماتے تھے اور ابو طلحہ کہنے لگے یا رسول اللہﷺ ! اللہ تعالی فرما رہے ہیں : " لن تنالو االبر حتی تفقو ا مما تحبون ۔۔۔۔ " میرا سب سے محبوب ترین مال یہ کنواں ہے پس یہ اللہ اور اسکے رسول کے لئے ۔ میں اس کی نیکی اور ذخیرے کا امیدوار ہوں ۔ اس کو یا رسول اللہﷺ جہاں پسند کریں لگا دیں ۔ جناب رسول اللہﷺ نے فرمایا ۔ واہ واہ اے ابو طلحہ ! یہ تو نفع بخش مال ہے ہم نے اس کو تمہاری طرف سے قبول کیا اور تیری طرف لوٹا دیا اس کو اپنے اقربین میں خرچ کر دو ۔ انس کہتے ہیں کہ ابو طلحہ نے اپنے ذی رحم پر تقسیم کر دیا ۔ ان میں حضرت ابی بن کعب اور حسان بن ثابت رضی اللہ عنہم بھی تھے ۔ انس کہتے ہیں کہ حضرت حسان رضی اللہ عنہ نے اپنا حصہ حضرت معاویہ کے ہاتھ فروخت کردیا تےو ان سے کہا گیا کہ حسان ابو طلحہ کا صدقہ فروخت کرتے ہیں ۔ تو حضرت ابی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ میں ایک صاع کھجور کو دراہم کے ایک صاع کے بدلے بھی فروخت نہ کروں گا ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← الْمَاجِشُونُ، ← أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5277

chevron_left Previous
1…252627…33
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter