Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5254

4970 - حدثنا يزيد بن سنان قال ثنا نعيم بن حماد قال ثنا بن المبارك قال أخبرنا بن لهيعة فذكر بإسناده مثله غير أنه قال مما أصاب لرسول الله صلى الله عليه و سلم فهو له ويقسم البقية بينهم وقد روي ذلك أيضا عن يحيى بن الجزار وعن عطاء بن أبي رباح

ابن المبارک نے ابن لہیعہ سے پھر اس نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت نقل کی البتہ یہ الفاظ مختلف ہیں جو حصۃ جناب رسول اللہﷺ کو پہنچتا وہ آپ پی کے ساتھ خاص ہوتا اور بقیہ ان کے مابین تقسیم کر دیا جاتا اور یہ روایت یحیی بن جزاراور عطا ء بن ابی رباح رحمتہ اللہ علیہ سے بھی مروی ہے ۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5254

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5255

4971 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا يوسف بن عدي قال ثنا عبد الله بن المبارك عن سفيان الثوري عن موسى بن أبي عائشة قال سمعت يحيى بن الجزار يقول سهم النبي صلى الله عليه و سلم خمس الخمس

موسی بن ابی عائشہ کہتے ہیں کہ میں یحیی بن جزار کو کہتے سنا کہ جناب نبی اکرم ﷺ کا حصہ خمس کا خمس ہوتا تھا ۔

سهم النبي صلى الله عليه و سلم خمس الخمس ← يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، ← مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5255

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5256

4972 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا يوسف بن عدي قال ثنا بن المبارك عن عبد الملك بن أبي سليمان عن عطاء قال خمس الله عز و جل وخمس الرسول واحد ثم تكلموا في تأويل قوله عز و جل ولذي القربى من هم فقال بعضهم هم بنو هاشم الذين حرم الله عليهم الصدقة لا من سواهم من ذوي قربى رسول الله صلى الله عليه و سلم جعل الله لهم من الفيء ومن خمس الغنائم ما جعل لهم منها بدلا مما حرم الله عليهم من الصدقة وقال قوم هم بنو هاشم وبنو المطلب خاصة دون من سواهم من قرابة رسول الله صلى الله عليه و سلم وقال قوم هم قريش كلها الذين يجمعه وإياهم أقصى آبائه من قريش دون من سواهم ممن يقاربه من قبل أمهاته ممن ليس من قريش غير أنه لم يكن عليه أن يعمهم إنما كان عليه أن يعطى من رأى إعطاءه منهم دون بقيتهم وقال قوم هم قرابته من قبل آبائه إلى أقصى أب له من قريش ومن قبل أمهاته إلى أقصى أم لكل أم منهن من العشيرة التي هي منها غير أنه لم يكن عليه أن يعمهم بعطيته إنما يعطي من رأى إعطاءه منهم وقد احتج كل فريق منهم لما ذهب إليه في ذلك بما سنذكره في كتابنا هذا ونذكر مع ذلك ما يلزمه من مذهبه إن شاء الله تعالى فأما أهل القول الأول الذين جعلوه لبني هاشم خاصة فاحتجوا في ذلك بأن الله عز و جل اختصهم بذلك بتحريمه الصدقة عليهم فإن قولهم هذا عندنا فاسد لأن رسول الله صلى الله عليه و سلم لما حرمت الصدقة على بني هاشم قد حرمها على مواليهم كتحريمه إياها عليهم وتواترت عنه الآثار بذلك

عبدالملک بن ابی سلیمان نے عطاء رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کی کہ خمس اللہ تعالی کا اور خمس الرسول یہ ایک ہی چیز ہے ۔ بعض نے کہا اس لئے اللہ تعالی کا ارشاد "ولذی القربی "(الحشر 7) کے متعلق کلام کیا گیا کہ اس سے مراد کون ہیں ؟ مراد بنو پاشم ہیں کہ جن پر صدقہ حرام کیا گیا ان کے علاوہ آپ کے قرابت والوں کا فئی میں حصہ نہیں ۔ صدقہ کے ان پر حرام کر دینے کے بدلے ان کے لئے ضمس غنائم مقرر کیا گیا ۔ اس سے مراد خاص بنو ہاشم اور بنو مطلب ہیں ۔ اس کے علاوہ قرابت داران رسول اللہﷺ اس میں شامل نہیں جو کہ والدہ کی طرف سے تو اقارب پر لازم نہیں تھا کہ تمام کو دیں آپ کو اختیار تھاکہ جن کو مناسب خیال فرمائیں دیں ۔ مراد وہ قرابت دار ہیں باپ کی طرف سے قریش کے آخری والد تک اور والدہ کی طرف ۔ اخری ماں تک ہر ماں کا وہ قبیلہ جس سے وہ ہے ۔ البتہ ان تمام کو عطیہ دینا لازم نہ تھا ۔ آُ کی رائے پر موقوف تھا جس کو مناسب خیال کریں دیں ۔ ان میں سے ہر ایک نے اپنے قول کے لئے دلیل پیش کی جو آئندہ ذکر کی جائے گی ۔ ہم وہاں اس قول کے لوازمات میں ذکر کریں گے ۔ انشاء اللہ ۔ پہلا قول یہ ہے کہ یہ بنی ہاشم کے ساتھ مخصوص ہے ان کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالی نے ان کو تحریم صدقہ کے ساتھ خاص کیا ہے ۔ مگر ہمارے نزدیک ان کا قول غلط ہے کیونکہ جناب رسول اللہ ﷺ نے جب صدقہ کو حرام کیا تو موالی بنی ہاشم کے لئے بھی حرام کیا ۔ جیسا کہ بنی ہاشم پر حرام کیا اور اس سلسلہ میں بہت سی روایات ہیں چند نقل کرتے ہیں ۔ اللہ تعالی کا ارشاد " ولذی القربی " ( الحشر 7) کے متعلق کلام کیا گیا کہ اس سے مراد کون ہیں ؟ نمبر 1:مراد بنو ہاشم ہیں کہ جن پر صآدقہ حرام کیا گیا ان کے علا وہ آپ کے قرابت والوں کا فئی میں حصہ نہیں ۔ صدقہکے ان پر حرام کر دینے کے بدلے ان کے لئے خمس غنائم مقرر کیا گیا ۔ نمبر 2:اس سے مراد بنو ہاشم اور بنو مطلب ہیں ۔ اس کے عالوہ قرابت داران رسول اللہﷺ اس میں شامل نہیں ۔ نمبر 3:تمام قریش مراد ہیں جو آپ کے ساتھ قریش ( بنو کنانہ ) ہونے میں شریک ان کے علاوہ مراد نہیں جو کہ والدہ کی طرف سے تو اقارب تھے مگر قریش نہ تھے ( اوپر والے اجداد میں شریک تھے ) البتہ آ پ پر لازم نہیں تھا کہ تمام کو دیں آپ کو اختیار تھا کہ جن کو مناسب خیال فرمائیں دیں ۔ نمبر 4: مراد وہ قرابت دار ہیں باپ کی طرف سے قریش کے آخری والد تک اور والدہ کی طرف ۔ آخری ماں تک ہر ماں کا وہ قبیلہ جس سے وہ ہے ۔ البتہ ان تمام کو عطیہ دینا لازم نہیں تھا ۔ آپ کی رائے پر موقوف تھا جس کو مناسب خیال کریں دیں ۔ ان میں سے ہر ایک نے اپنے قول کے لئے دلیل پیش کی جو آئندہ ذکر کی جائے گی ۔ ہم وہاں اس قول کے لوازمات میں ذکر کریں گے ۔انشاء اللہ

عَطَاءٍ، ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، ← بن الْمُبَارَكِ، ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5256

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5257

4973 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا محمد بن كثير قال ثنا سفيان الثوري عن بن أبي ليلى عن الحكم عن المقسم عن بن عباس رضي الله عنهما قال استعمل أرقم بن أرقم على الصدقات فاستتبع أبا رافع فأتى النبي صلى الله عليه و سلم فسأله فقال يا أبا رافع إن الصدقة حرام على محمد وآل محمد وإن مولى القوم من أنفسهم

مقسم نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے آپ ﷺ نے ارقم بن ارقم کو صدقات کا عامل بنایا تو انہوں نے ابو رافع جو ساتھ چلنے کےلئے کہا ۔ ابو رافع جناب رسول اللہﷺ کی خدمت میں آئے اور آپ سے اجازت مانگی تو آپ نے ارشاد فرمایا ۔ اے ابو رافع صدقہ محمد اور آل محمد پر حرام ہے اور قوم کا غلام انہی میں سے ہوتا ہے ۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← الْمِقْسَمِ ← الْحَكَمِ ← بن أَبِي لَيْلَى ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5257

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5258

4974 - حدثنا بكار بن قتيبة وإبراهيم بن مرزوق قالا ثنا وهب بن جرير قال ثنا شعبة عن الحكم عن بن أبي رافع مولى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن أبيه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم بعث رجلا من بني مخزوم على الصدقة فقال لأبي رافع أصحبني كيما نصيب منها فقال حتى أستأذن رسول الله صلى الله عليه و سلم فأتى النبي صلى الله عليه و سلم فذكر ذلك له فقال إن آل محمد لا يحل لهم الصدقة وإن مولى القوم من أنفسهم

حکم بن ابن ابی رافع مولی رسول اللہﷺ سے انہوں نے اپنے والد ابو رافع سے نقل کیا جناب رسول اللہﷺ نے بنو مخزوم کے ایک آدمی کو صدقہ کا عامل بنایا اس نے ابو رافع رضی اللہ عنہ کو کہا کہ تم میرے ساتھ چلو تاکہ ہم اس میں سے اپنا حصہ پائیں ۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے اس سے کہا میں جناب رسول اللہﷺ سے اجازت حاصل کر لوں ۔

أَبِيهِ ← بن أبى رافع مولى رسول الله صلى الله عليه و سلم ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← بكار بن قتيبة وإبراهيم بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5258

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5259

4975 - حدثنا ربيع بن سليمان المؤذن قال ثنا أسد بن موسى قال ثنا ورقاء بن عمر عن عطاء بن السائب قال دخلت على أم كلثوم ابنة علي رضي الله عنهما فقالت إن مولى لنا يقال له هرمز أو كيسان أخبر أنه مر على رسول الله صلى الله عليه و سلم قال فدعاني فقال يا أبا فلان إنا أهل بيت قد نهينا أن نأكل الصدقة وإن مولى القوم من أنفسهم فلا تأكل الصدقة فلما كانت الصدقة المحرمة على بني هاشم قد دخل فيهم مواليهم ولم يدخل مواليهم معهم في سهم ذوي القربى باتفاق المسلمين ثبت بذلك فساد قول من قال إنما جعلت لذوي القربى في آية الفيء وفي آية خمس الغنيمة بدلا مما حرم عليهم الصدقة ويفسد هذا القول أيضا من جهة أخرى وذلك أنا رأينا الصدقة لو كانت حلالا لبني هاشم كهي لجميع المسلمين لكانت حراما على أغنيائهم كرحمتها على أغنياء جميع المسلمين ممن سواهم وقد رأينا رسول الله صلى الله عليه و سلم أدخل بني هاشم في سهم ذوى القربى جميعا وفيهم العباس بن عبد المطلب وقد كان موسرا في الجاهلية والإسلام جميعا ألا ترى أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قد تعجل منه زكاة ماله عامين فلما رأينا يساره لم يمنعه من سهم ذوي القربى وكان ذلك اليسار يمنعه من الصدقة قبل تحريم الله إياها على بني هاشم فدل ذلك أن سهم ذوي القربى لم يجعل لمن يجعل له خلفا من الصدقة التي حرمت عليه وأما الذين ذهبوا إلى أن ذوي القربى في الآيتين اللتين قدمنا في أول هذا الكتاب هم بنو هاشم وبنو المطلب خاصة فإنهم أحتجوا لقولهم بما روى جبير بن مطعم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في ذلك

عطاء بن سائب کہتے ہیں کہ میں حضرت ام کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے فرمایا ہے ہمارے ایک غلام کانام ہرمز ہے یا کیسان ہے ۔ اس نے بتلایا کہ میرا گزر جناب رسول اللہﷺ کے پاس سے ہوا آپ نے مجھے بلایا اور فرمایا اے ابو فلاں ۔ ہم اہل بیت نبوت کو صدقہ کھانے سے منع کیا گیا ہے اور قوم کا غلام انہی میں سے ہوتا ہے پس صدقہ مت کھانا ۔ صدقہ بنی ہاشم پر جس طرح حرام ہے ان کے موالی پر بھی حرام کیا گیا ہے مگر تمام مسلمانوں کا اس پر اتفاق ہے کہ ذوالقربی کے حصہ میں موالی کو داخل نہیں کیا گیا ۔ اس سے ان لوگوں کی دلیل کی کمزوری ظاہر ہو گئی کہ آیت فئی اور آیت خمس غنیمت میں ذوی القربی کے حصہ کی وجہ صدقہ کی حرمت ہے اللہ تعالی ان کو اس کا عوض دیا ہے ۔ نظر ڈالنے سے معلوم ہوا کہ اگر صدقہ تمام بنی ہاشم کے لئے عام مسلمانوں کی طرح حلال ہوتا تو ان کے مالداروں پر حرام ہو جیسا کہ عامتہ المسلمین میں مالداروں پر صادقہ حرام ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ جناب رسول اللہﷺ ذوی القربی کے حصہ میں امیر و غریب کے احتیاز کے بغیر سب ہی شامل ہیں حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو بھی یہ حصہ ملتا تھا حالانکہ وہ جاہلیت و اسلام دونوں میں خوشحال تھے کیا تم نہیں دیکھتے کہ جناب رسول اللہﷺ ان سے دو سال کی پیشگی زکوۃ طلب کی ( تو زکوۃ مالدار پر لازم ہے ) جب حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی خوشحالی ذوی القربی کے حصہ سے ان کے لئے مانع نہ تھی اور یہ خوشحالی صدقے کو بنی ہاشم پر حرام ہونے سے بھی ان پر صدقہ حرام کرنے والی تھی ۔اس سے یہ دلالت مل گئی کہ بنی ہاشم کے لئے ذوی القربی کا حصہ صدقی کی حرمت کے بدلے نہیں ہے ۔ ان لوگوں کا ہے جو اس بات کے قائل ہیں کہ ذوی القربی سے مراد دونوں آیات میں بنو ہاشم اور بنو مطلب مراد ہیں انہوں نے اپنی دلیل میں حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کی روایت کو پیش کیا ہے ۔

دخلت على أم كلثوم ابنة علي ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← وَرْقَاءُ بْنُ عُمَرَ، ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← ربيع بن سليمان المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5259

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5260

4976 - حدثنا علي بن شيبة ومحمد بن بحر بن مطر البغداديان قالا ثنا يزيد بن هارون قال أخبرنا محمد بن إسحاق عن الزهري عن سعيد بن المسيب عن جبير بن مطعم قال لما قسم رسول الله صلى الله عليه و سلم سهم ذوي القربى به أعطى بني هاشم وبني المطلب ولم يعط بني أمية شيئا فأتيت أنا وعثمان رسول الله صلى الله عليه و سلم فقلنا يا رسول الله هؤلاء بنو هاشم فصلهم الله بك فما بالنا وبني المطلب وإنما نحن وهم في النسب شيء واحد فقال إن بني المطلب لم يفارقوني في الجاهلية والإسلام قالوا فلما رأينا رسول الله صلى الله عليه و سلم قد عم بعطيته ما أمر أن يعطيه ذوي قرباه بني هاشم وبني المطلب وحرم من فوقهم فلم يعطه شيئا دل ذلك أن من فوقهم ليسوا من ذوي قرباه وهذا القول أيضا عندنا فاسد لأنا قد رأيناه قد حرم بني أمية وبني نوفل ولم يعطهم شيئا لأنهم ليسوا قرابة وكيف لا يكونون قرابة وموضعهم منه كموضع بني المطلب فلما كان بنو أمية وبنو نوفل لم يخرجوا من قرابة النبي صلى الله عليه و سلم بتركه إعطاءهم كان كذلك من فوقهم من سائر بطون قريش لا يخرجون من قرابته بتركه إعطاءهم وقد أعطى رسول الله صلى الله عليه و سلم أيضا من سهم ذوي القربى من ليس من بني هاشم ولا من بني المطلب ولكنه من قريش ممن يلقاه إلى اب هو أبعد من الأب من الذي يلقاه عنه بنو أمية وبنو نوفل وهو الزبير بن العوام

سعید بن المسیب نے حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے ۔ جب جناب رسول اللہﷺ نے ذوی القربی کو حصہ تقسیم فرمایا تو بنو ہاشم اور بنو مطلب کو دیا مگر بنو امیہ کو بالکل عنایت نہیں فرمایا ۔چنانچہ میں اور عثمان رضی اللہ عنہ جناب رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اورعرض کیا یا رسول اللہ ﷺ یہ بنو ہاشم کو اللہ تعالی نے آپ کی وجہ سے فضیلت عانیت فرمائی ہمارا اور بنی مطلب کا کیا فرق ہے ؟ ہم اور وہ نسب کے قرابت میں ایک شے ہیں ۔ آپ نے فرمایا بنی عبدالمطلب جاہلیت واسلام دونوں زمانوں میں میرے ساتھ رہے ہیں ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ جب آپ نت حکم الہی کے مطابق اپنے عطیہ کو بنی ہاشم و بنی مطلب دونوں قرابت والوں پر بلا تفریق تقسیم فرمایا اور ان سے اوپر والوں کو محروم رکھا اور انہیں کوئی چیز عنایت نہ فرمائی اس سے یہ ثابت ہوا کہ ان سے اوپر نسب میں شریک ذوی القربی میں شامل نہیں ۔ہمارے نزدیک یہ قول بھی درست نہیں کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ بنو امیہ اور بنو نوفل دونوں کو محروم کیا گیا اور ان کو کچھ نہیں دیا گیا ۔(ابو لہب کی اولاد بھی محروم رہی ) کیونکہ وہ قرابت دار نہ تھے حالانکہ یہ بات درست نہیں کیونکہ قرابت میں ان کا مرتبہ بنو مطلب کے برابر تھا ۔ اب جبکہ بنو امیہ اور بنو نوفل قرابت نبوت میں شامل رہے اگر چہ ذوی القربی کے عطیہ میں سے ان کو حصہ نہیں دیا گیا ۔ اسی طرح وہ لوگ جو ان سے اوپر ہیں تمام بطون قریش قربت میں تو ڈاکل رہیں گے اگرچہ ذوی القربی کے حصہ میں سے ان کو نہ دیا جائے گا اور دوسری طرف ملاحظہ کریں کہ آپ ﷺ نے ذوی القربی کے اس حصہ میں سے بنو ہاشم کے علاوہ بنو مطلب کو بھی عنایت فرمایا جو کہ فقط قریش سے تھے جو والد کی طرف سے دور والے جد میں شریک تھے ۔ حالانکہ بنو امیہ ، بنو نوفل یعنی زبیر بن عوام آپ کے والد کی طرف سے قریب تر تھے ۔ روایت ملاحظہ ہو ۔

جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← محمد بن بحر بن مطر البغداديان ← علي بن شيبة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5260

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5261

4977 - حدثنا يونس بن عبد الأعلى قال ثنا عبد الله بن وهب قال أخبرني سعيد بن عبد الرحمن الجمحي عن هشام بن عروة عن يحيى بن عباد بن عبد الله بن الزبير عن جده أنه كان يقول ضرب رسول الله صلى الله عليه و سلم عام خيبر للزبير بن العوام بأربعة أسهم سهم للزبير وسهم لذي القربى لصفية بنت عبد المطلب أم الزبير وسهمين للفرس

یحیی بن عباد بن عبداللہ بن زبیر نے اپنے دادا سے روایت کیا کہ وہ فرماتے تھے کہ جناب رسول اللہﷺ نے خیبر والے سال زبیر بن عوام کو چار حصے عنایت فرمائے ۔ زبیر کا حصہ ام الزبیر صفیہ بنت عبدالمطلب کی وجہ سے اور دو حصے گھوڑے کے ۔

جَدِّهِ أَنَّهُ کَانَ ← يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُمَحِيُّ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5261

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5262

4978 - حدثنا محمد بن علي بن داود البغدادي قال ثنا سعيد بن داود الزبيري قال ثنا مالك بن أنس عن أبي الزناد عن خارجة بن زيد بن ثابت رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه و سلم أعطى الزبير بن العوام يوم خيبر أربعة أسهم سهما له مع المسلمين وسهمين للفرس وسهما لذي القرى

ابو الزناد نے خارجہ بن زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے روایت کی ہے کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے خیبر والے سال زبیر بن عوام کو چارحصے عنایت فرمائے ایک حصہ عام مسلمانوں کے ساتھ ۔ دوحصے گھوڑے کے اور ایک حصہ قرابت داری کا ۔

خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثابت ← أَبِي الزِّنَادِ، ← مالک بن أنس ← سَعِيدُ بْنُ دَاوُدَ الزُّبَيْرِيُّ، ← محمد بن علي بن داود البغدادي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5262

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5263

4979 - حدثنا الحسين بن عبد الرحمن الأنصاري قال ثنا سعيد بن عبد الرحمن المخزومي قال ثنا سفيان عن هشام بن عروة عن أبيه قال كان الزبير يضرب له في الغنم بأربعة أسهم سهمين لفرسه وسهما لذي القربى فلما كان رسول الله صلى الله عليه و سلم قد أعطى الزبير بن العوام لقرابته منه من سهم ذوي القربى والزبير ليس من بني هاشم ولا بني المطلب وقد جعله فيما أعطاه من ذلك كبني هاشم وبني المطلب دل ذلك أن ذوي القربى لرسول الله صلى الله عليه و سلم هم بنو هاشم وبنو المطلب ومن سواهم من ذوي قرابته فإن قال قائل إن الزبير وإن لم يكن من بني هاشم فإن أمه منهم وهي صفية بنت عبد المطلب بن هاشم فبهذا أعطاه رسول الله صلى الله عليه و سلم ما أعطاه فقام عنده بموضعه منه بأمه مقام غيره من بني هاشم قيل له لو كان ما وصفت كما ذكرت إذا لأعطى من سواه من غير بني هاشم ممن أمه من بني هاشم وقد كان بحضرته من غير بني هاشم ممن أمهاتهم هاشميات ممن هو أمس برسول الله صلى الله عليه و سلم بنسب أمه رحما من الزبير منهم أمامة ابنة أبي العاص بن الربيع وقد حرمها رسول الله صلى الله عليه و سلم فلم يعطها شيئا من سهم ذوي القربى إذ حرم بني أمية وهي من بني أمية ولم يعطها رسول الله صلى الله عليه و سلم بأمها الهاشمية وهي زينب ابنة رسول الله صلى الله عليه و سلم ورضي عنها وحرم أيضا جعدة بن هبيرة المخزومي فلم يعطه شيئا وأمه أم هانئ ابنة أبي طالب بن عبد المطلب بن هاشم فلم يعطه بأمه شيئا إذ كانت من بني هاشم فدل ذلك أن المعنى الذي أعطى به رسول الله صلى الله عليه و سلم الزبير بن العوام ما أعطاه من سهم ذوي القربى ليس لقرابته لأمه ولكنه لمعنى غير ذلك فثبت بما ذكرنا أن ذوي القربى لرسول الله صلى الله عليه و سلم هم بنو هاشم وبنو المطلب ومن سواهم ممن هو له قرابة من غير بني هاشم ومن غير بني المطلب وقد أمر الله عز و جل رسوله في غير هذه الآية وأنذر عشيرتك الأقربين فلم يقصد رسول الله صلى الله عليه و سلم بالنذارة بني هاشم وبني المطلب خاصة بل قد أنذر من قومه ممن هو أبعد منه رحما من بني أمية ومن بني نوفل

ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کو غنیمت میں چار حصے دئیے جاتے ایک حصہ عامتہ المسلمین کے ساتھ دو حصے گھوڑے کے اور ایک حصہ قرابت کا ۔ ان روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے حجرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کو ذوی القربی کے حصے میں سے قرابت کا حصہ دیا ۔ حالانکہ زبیر بنو ہاشم سے نہ تھے اور نہ بنی مطلب سےتھے اور ان کو اس عطیے میں بنو ہاشم اور بنو مطلب کی طرح قرار دیا تو اس سے یہ ثابت ہو گیا کہ ذوی القربی تو بنو ہاشم و بنو مطلب ہی ہیں مگر ان کے علاوہ ( قریش) وہ آپ کے قرابت دار ہیں ۔ یہ بات درست ہے کہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ بنو ہاشم سے نہ تھے مگر ان کی والدہ تو بنو ہاشم سے تھیں ۔ اسی وجہ سے جناب رسول اللہﷺ نے ان کو بھی عنایت فرمایا جتنا عنایت فرمایا۔ وہ والدہ کی وجہ سے دوسرے بنی ہاشم کی طرح ہو گئے ۔ اگر بات اسی طرح ہوتی جیسا کہ تم نے بیان کی تو ان کے علاوہ بھی دیگر غیر بنو ہاشم کو آپ عنایت فرماتے جن کی مائیں ہاشمی تھیں اور والدہ کی طرف سے رشتہ داری میں وہ آپ سے زبیر کی نسبت بہت قریب تر تھی جیسے امامہ بنت ابوالعاص بن ربیع رضی اللہ عنہ جناب رسول اللہ ﷺ نے اس کو محروم رکھا کوئی چیز ذوی القربیٰ کے حصہ سے عنایت نہیں فرمائی جب کہ بنو امیہ محروم رہے اور وہ بھی بنو امیہ سے تھیں۔ آپ نے انکو ان کی والدہ ہاشمیہ زینب بنت رسول اللہ ﷺ کی وجہ سے کچھ بھی عنایت نہیں فرمایا۔ اسی طرح جعدہ بن ہبیر مخزومی بھی محروم رہا اس کو بھی کوئی چیز نہیں دی حالانکہ ان کی والدہ ام ہانی رضی اللہ عنہ ہاشمیہ تھیں وہ ابو طالب بن عبدالمطلب کی بیٹی تھیں۔ تو جعدہ کو اپنی ہاشمیہ ماں کی وجہ سے کچھ نہیں دیا گیا جبکہ وہ بنو ہاشم و بنو مطلب دونو ں سے متعلق تھے اس سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچی کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ذوی القربیٰ کے حصہ سے زبیر رضی اللہ عنہ کو جو کچھ عنایت فرمایا وہ والدہ کی وجہ سے نہیں تھا۔ بلکہ کسی اور وجہ سے تھا۔ پس مذکورہ تفصیل سے یہ بات ثابت ہوئی کہ جناب رسول اللہ ﷺ کے ذوی القربیٰ میں بنو ہاشم ، بنو مطلب اور ان کے علاوہ جن کو بنی ہاشم اور بنی مطلب کے علاوہ سے قرابت حاصل ہے وہ سب شامل ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو اس آیت کے علاوہ دوسری آیت: وانذر عشیرتک الاقربین (الشعراء : 214) میں علم فرمایا کہ اپنے قریبی خاندان کو ڈراؤ۔ آپ نے اس ڈرانے میں بنو ہاشم و بنو مطلب کو خاص نہیں کیا بلکہ اپنی قوم بطون قریش سب کو شامل کیا ان میں ان سے دور والے بنو امیہ اور بنو نوفل بھی شامل تھے۔ روایت ملاحظہ ہو۔

أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، ← الحسين بن عبد الرحمن الأنصاري

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5263

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5264

4980 - حدثنا محمد بن عبد الله الأصبهاني قال ثنا عباد بن يعقوب قال ثنا عبد الله بن عبد القدوس عن الأعمش عن المنهال بن عمرو عن عباد بن عبد الله قال قال علي رضي الله عنه لما نزلت وأنذر عشيرتك الأقربين قال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم يا علي اجمع لي بني هاشم وهم أربعون رجلا أؤ أربعون إلا رجلا ثم ذكر الحديث قال أبو جعفر رضي الله عنه ففي هذا الحديث أنه قصد بالنذارة إلى بني هاشم خاصة

عباد بن عبداللہ نے حضر ت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی و انذر عشیرتک الاقریبن (الشعراء : 214) تو مجھے جناب رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا اے علی ! تم میر ے لیے بنی ہاشم کو جمع کرو ان کی تعداد چالیس تھی یا ایک کم چالیس تھی پھر اسی طرح روایت ذکر کی۔ابو جعفر طحاوی رحمتہ اللہ علیہ نے اس روایت میں خاص بنو ہاشم کو انذار کرنا مراد لیا ہے۔

عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ← الْاَعْمَشِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْقُدُّوسِ ← عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ ← محمد بن عبد الله الأصبهاني

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5264

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5265

4981 - فحدثنا محمد بن عبد الله الأصبهاني قال ثنا محمد بن حميد قال ثنا سلمة بن الفضل عن محمد بن إسحاق عن عبد الغفار بن القاسم عن المتهال بن عمرو عن عبد الله بن الحارث عن بن عباس عن علي رضي الله عنهم مثله غير أنه قال اجمع لي بني المطلب

عبد اللہ بن حارث نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی روایت کی ہے البتہ اس میں زائد ہے بنع مطلب کو میرے لیے اکٹھا کرو۔

اجمع لي بني المطلب ← علي مثله غير أنه ← بْنِ عَبَّاسٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ ← المتهال بن عمرو ← عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ الْقَاسِمِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← سلمۃ بن الفضل ← مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ ← فحدثنا محمد بن عبد الله الأصبهاني

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5265

chevron_left Previous
1…242526…33
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter