شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5242
4960 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا سعيد بن أبي مريم قال أخبرنا بن أبي الزناد قال حدثني عبد الرحمن بن الحارث عن سليمان بن موسى عن مكحول عن أبي أمامة الباهلي عن عبادة بن الصامت رضي الله عنهما قال خرج رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى بدر فلقي العدو فلما هزمهم الله أتبعتهم طائفة من المسلمين يقتلونهم وأحدقت طائفة برسول الله صلى الله عليه و سلم واستولت طائفة بالعسكر والنهب فلما نفى الله العدو ورجع الذين طلبوهم قالوا لنا النفل نحن طلبنا العدو وبنا نفاهم الله عز و جل وهزمهم وقال الذين أحدقوا برسول الله صلى الله عليه و سلم ما أنتم بأحق منا نحن أحدقنا برسول الله صلى الله عليه و سلم لا ينال العدو منه غرة وقال الذين استولوا على العسكر والنهب والله ما أنتم أحق به منا نحن حويناه واستوليناه فأنزل الله عز و جل يسألونك عن الأنفال قل الأنفال لله والرسول إلى قوله إن كنتم مؤمنين فقسمه رسول الله صلى الله عليه و سلم بينهم عن فواق
حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ نے حضرت عبادہ بن اصامت رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ جناب رسول اللہ ﷺ بدر کی طرف تشریف لے گئے پھر دشمن سے ٹکراؤ ہوا ۔ پس جب اللہ نے دشمن کو شکست دے دی تو مسلمانوں کے ایک گروہ نے ان کا پیچھا کر کے ان کو قتل کیا اور ایک جماعت نے جناب رسول اللہ ﷺ کی حفاظت کا فریضہ انجام دیا اور ایک جماعت لشکر پر غلبہ پا کر مال غنیمت جمع کرنے میں مصروف ہوگئی ۔ جب اللہ تعالی نے دشمن کو شکست دے سی اور لوٹ کر آئے جنہوں نے دشمن کا پیچھا کیا تھا وہ کہنے لگے غنیمت ہمارا حق ہے ہم نے دشمن کو ڈھونڈا اور ہماری وجہ سے اللہ تعالی نے ان کو بھگایا اور شکست دی ۔ وہ لوگ جنہوں نے جناب رسول اللہ ﷺ کی حفاظت کا فریضہ انجام دیا تھا وہ کہنے لگے تم ہم سے زیداہ غنیمت کے حقدار نہیں ہو ۔ ہم نے جناب رسول اللہ ﷺ کی حفاظت کا فریضہ انجام دیا اور دشمن دھوکہ دہی سے آپ تک نہیں پہنچ سکے ۔ رہے وہ لوگ جنہوں نے لشکر کی حفاظت کی اور اور لوٹ اکٹھا کیا وہ کہنے لگے اللہ کی قسم تم ہم سے زیادہ حقدار نہیں ہو۔ ہم نے لشکر کی حفاظت کی اور غنیمت پر قبضہ جمایا ۔ اس پر اللہ تعالی نے یہ آیت اتار دی ۔یسئلونک عن الانفال قل الانفال للہ والرسول۔۔۔۔ان کنتم مؤمنین۔۔۔۔۔جناب رسول اللہ ﷺ نے اس کو مکمل طور پر برابر تقسیم فرما دیا ۔
عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، ← مَكْحُولٌ ← سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، ← بن أبي الزناد ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5242
