Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5242

4960 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا سعيد بن أبي مريم قال أخبرنا بن أبي الزناد قال حدثني عبد الرحمن بن الحارث عن سليمان بن موسى عن مكحول عن أبي أمامة الباهلي عن عبادة بن الصامت رضي الله عنهما قال خرج رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى بدر فلقي العدو فلما هزمهم الله أتبعتهم طائفة من المسلمين يقتلونهم وأحدقت طائفة برسول الله صلى الله عليه و سلم واستولت طائفة بالعسكر والنهب فلما نفى الله العدو ورجع الذين طلبوهم قالوا لنا النفل نحن طلبنا العدو وبنا نفاهم الله عز و جل وهزمهم وقال الذين أحدقوا برسول الله صلى الله عليه و سلم ما أنتم بأحق منا نحن أحدقنا برسول الله صلى الله عليه و سلم لا ينال العدو منه غرة وقال الذين استولوا على العسكر والنهب والله ما أنتم أحق به منا نحن حويناه واستوليناه فأنزل الله عز و جل يسألونك عن الأنفال قل الأنفال لله والرسول إلى قوله إن كنتم مؤمنين فقسمه رسول الله صلى الله عليه و سلم بينهم عن فواق

حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ نے حضرت عبادہ بن اصامت رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ جناب رسول اللہ ﷺ بدر کی طرف تشریف لے گئے پھر دشمن سے ٹکراؤ ہوا ۔ پس جب اللہ نے دشمن کو شکست دے دی تو مسلمانوں کے ایک گروہ نے ان کا پیچھا کر کے ان کو قتل کیا اور ایک جماعت نے جناب رسول اللہ ﷺ کی حفاظت کا فریضہ انجام دیا اور ایک جماعت لشکر پر غلبہ پا کر مال غنیمت جمع کرنے میں مصروف ہوگئی ۔ جب اللہ تعالی نے دشمن کو شکست دے سی اور لوٹ کر آئے جنہوں نے دشمن کا پیچھا کیا تھا وہ کہنے لگے غنیمت ہمارا حق ہے ہم نے دشمن کو ڈھونڈا اور ہماری وجہ سے اللہ تعالی نے ان کو بھگایا اور شکست دی ۔ وہ لوگ جنہوں نے جناب رسول اللہ ﷺ کی حفاظت کا فریضہ انجام دیا تھا وہ کہنے لگے تم ہم سے زیداہ غنیمت کے حقدار نہیں ہو ۔ ہم نے جناب رسول اللہ ﷺ کی حفاظت کا فریضہ انجام دیا اور دشمن دھوکہ دہی سے آپ تک نہیں پہنچ سکے ۔ رہے وہ لوگ جنہوں نے لشکر کی حفاظت کی اور اور لوٹ اکٹھا کیا وہ کہنے لگے اللہ کی قسم تم ہم سے زیادہ حقدار نہیں ہو۔ ہم نے لشکر کی حفاظت کی اور غنیمت پر قبضہ جمایا ۔ اس پر اللہ تعالی نے یہ آیت اتار دی ۔یسئلونک عن الانفال قل الانفال للہ والرسول۔۔۔۔ان کنتم مؤمنین۔۔۔۔۔جناب رسول اللہ ﷺ نے اس کو مکمل طور پر برابر تقسیم فرما دیا ۔

عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، ← مَكْحُولٌ ← سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، ← بن أبي الزناد ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5242

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5243

4961 - حدثنا مالك بن يحيى قال ثنا أبو النصر قال ثنا الأشجعي قال ثنا سفيان عن عبد الرحمن بن الحارث بن أبي ربيعة عن سليمان بن موسى عن مكحول عن أبي سلام عن أبي أمامة رضي الله عنه نحوه ولم يذكر عبادة غير أنه قال فقسمها النبي صلى الله عليه و سلم عن فواق بينهم ونزل القرآن يسألونك عن الأنفال قل الأنفال لله والرسول وقد قال قوم إن هذه الآية نزلت في غير هذا المعنى

ابو سلام نے حضرت ابو امامہ ۔ سے اسی طرح رویت کی ہے اس میں حضرت عبادہ کاتذکرہ نہیں البتہ یہ لفظ جناب نبی اکرم ﷺ سے ان کے مابین مکمل طور پر برابر تقسیم فرما دیا اور قرآن مجید کی یہ آیت اتری ۔ یسئلو نک عن الانفال الایہ۔ بعض علما ء کا قول یہ ہے کہ اس آیت کا شان نزول یہ نہیں جیسا کہ روایات اس کی تائید کرتی ہیں ۔

قوم إن هذه الآية نزلت في غير هذا المعنى ← الأنفال قل الأنفال لله والرسول وقد ← فواق بينهم ونزل القرآن يسألونك ← فقسمها النبي صلى الله عليه و سلم ← أبي أمامة نحوه ولم يذكر عبادة غير أنه ← أَبِي سَلَّامٍ ← مَكْحُولٌ ← سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْأَشْجَعِيُّ ← أبو النصر ← مالك بن يحيى

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5243

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5244

4962 - حدثنا يحيى بن عثمان قال ثنا نعيم بن حماد قال ثنا عبد الله بن المبارك قال ثنا عبد الملك بن سليمان عن عطاء في قوله يسألونك عن الأنفال قل الأنفال لله والرسول قال ما ند من المشركين إلى المسلمين من غير قتال من دابة ونحو ذلك فهو نفل للنبي صلى الله عليه و سلم وقال والدليل على صحة هذا التأويل ما روي عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في أمر أبي بكرة

عبدالملک بن سلیمان نے عطا ء رحمۃاللہ علیہ سے اس آیت کے متعلق نقل کیا ۔ یسئلونک عن الانفال قل الانفال للہ والرسول الایہ۔ کہنے لگے مزرکین کا جو اونٹ ، غلام وغیرہ مسلمانوں کی طرف بلا قتال بھاگ کر آجائے وہ جناب رسول اللہ ﷺ کے لئے نفل ہے اور عطاء رحمۃاللہ علیہ کہنے لگے اس تاویل کے درست ہونے کی دلیل وہ روایت ہے جو جناب رسول اللہ ﷺ نے ابو بکرہ کے بارے میں فرمائی ۔ ( وہ روایت یہ ہے )

عطاء في قوله يسألونك ← عبد الملك بن سُلَيْمَانَ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ← يَحْيَی بْنُ عُثْمَانَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5244

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5245

4963 - حدثنا فهد قال ثنا عثمان بن حفص بن غياث قال ثنا أبي عن حجاج عن الحكم عن مقسم عن بن عباس رضي الله عنهما قال كان من خرج إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم الطائف أعتقه فكان أبو بكرة منهم فهو مولى رسول الله صلى الله عليه و سلم

مقسم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ طائف کی لڑائی کے روز جو غلام قلعہ سے بھاگ کر آ گئے جناب رسول اللہ ﷺ نے ان کو آزاد کر دیا ۔ حضرت ابو بکرہ انہی میں سےتھے ۔ پس یہ جناب رسول اللہ ﷺ کے آزاد کردہ غلام تھے ۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← مِقْسَمٍ، ← الْحَكَمِ ← حجاج، ← أَبِي ← عثمان بن حفص بن غياث ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5245

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5246

4964 - حدثنا فهد قال ثنا إسماعيل بن الخليل الكوفي قال أخبرنا على بن مسهر عن الحجاج عن الحكم عن مقسم عن بن عباس رضي الله عنهما قال أعتق رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم الطائف من خرج إليه من عبيد الطائف فكان ممن عتق يومئذ أبو بكرة وغيره فكانوا موالي رسول الله صلى الله عليه و سلم

مقسم نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے طائف کی لڑائی کے روز قلعہ سے نکلنے والے تمام غلاموں کو آزاد کر دیا انآزاد ہونے والوں میں حضرت ابو بکرہ بھی شامل تھے ۔ و ہ سب جناب رسول اللہ ﷺ کے آزاد کردہ غلام تھے ۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← مِقْسَمٍ، ← الْحَكَمِ ← الْحَجَّاجِ، ← عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ← إسماعيل بن الخليل الكوفي ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5246

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5247

4965 - حدثنا أحمد بن داود بن موسى قال ثنا عبد الرحمن بن صالح الأزدي قال ثنا يحيى بن آدم عن الفضل بن مهلهل عن المغيرة عن الشباك عن الشعبي عن رجل من ثقيف قال سألنا رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يرد إلينا أبا بكرة فأبى علينا وقال هو طليق الله وطليق رسوله أفلا ترى أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قد أعتق أبا بكرة ومن نزل إليه من عبيد الطائف عتقا صاروا به مواليه فدل ذلك على أن ملكهم كان وجب له قبل العتاق دون سائر من كان معه من المسلمين وأنهم إذا أخذوا بغير قتال كما لو لم يوجف عليه بخيل ولا ركاب وذلك لرسوله صلى الله عليه و سلم دون من سواه وممن كان معه من المسلمين وقد قال قوم إن تأويل هذه الآية أريد به معنى غير هذين المعنيين

شباک نے سشعی رحمۃاللہ علیہ سے انہوں نے ثقیف کے ایک آدمی سے روایت کی ہے کہ ہم نے جناب رسول اللہ ﷺ سے سوعال کیا کہ وہ ابو بکرہ کو ہمیں واپس کر دیں تو آپ نے انکار فرم دیا اور فرمایا وہ اللہ تعالی کی خاطر آزاد شدہ ہے اور اللہ کے رسول نے اس کو آزاد کیا ہے ۔ ان روایات میں غور فرمائیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ابو بکرہ کو آزاد فرما دیا اور ان تمام غلاموں کو بھی آزاد فرمادیا جو قلعہ سے اتر کر آ گئے تھے وہ آپ کے موالی بن گئے ۔ اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ ان پر آپ کی ملک عتاق سے قبل کامل تھی اور مسلمانوں کو ان پر ملک حاصل نہ ہوئی تھی ۔ ا لئے وہ بغیر لڑا ئی کے حاصل ہوئے تھے ۔ جس طرح وہ بستیاں جن پر پیدل یا سوار فوج کو چڑھا کر لے جانے کی ضرورت نہ پڑی ۔ یہ خاص جناب رسول اللہ ﷺ کے لئے تھے دوسروں کا اس میں حق نہ تھا ۔

رَجُلٍ مِنْ ثَقِيفٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← الشباك ← الْمُغِيرَةِ، ← الْفَضْلِ بْنِ مُهَلْهَلٍ، ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ صَالِحٍ الْأَزْدِيُّ، ← أحمد بن داود بن موسى

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5247

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5248

4966 - حدثنا عبد الله بن محمد بن سعيد بن أبي مريم قال ثنا أسد بن موسى قال ثنا يحيى بن زكريا بن أبي زائدة قال ثنا داود بن أبي هند عن عكرمة عن بن عباس رضي الله عنهما قال لما كان يوم بدر قال رسول الله صلى الله عليه و سلم من فعل كذا وكذا فله كذا وكذا فذهب شبان الرجال وجلس شيوخ تحت الرايات فلما كانت الغنيمة جاء الشبان يطلبون نفلهم فقال الشيوخ لا تستأثروا علينا فإنا كنا تحت الرايات لو انهزمتم كنا ردءا لكم فأنزل الله عز و جل يسألونك عن الأنفال فقرأ حتى بلغ كما أخرجك ربك من بيتك بالحق وإن فريقا من المؤمنين لكارهون يقول أطيعوا في هذا الأمر كما رأيتم عاقبة أمري حيث خرجتم وأنتم كارهون فقسم بينهم بالسوية أفلا ترى أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قد قسمه كله بينهم كما أنزل الله تعالى يسألونك عن الأنفال قل الأنفال لله والرسول وكان ما أضافه الله إلى نفسه على سبيل الفرض وما أضافه إلى رسوله على سبيل التمليك وقد روي في ذلك وجه آخر أيضا

عکرمہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے رویت کی ہے کہ جب بدر کا دن آیا تو جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ۔ جس نے فلاں کام اس طرح انجام دیا اس کو اتنا ملے گا جسنے اس طرح کیا اس کو یہ دیا جائے گا ۔ جو ان آگے بڑھ گئے اور بوڑھے جھنڈوں کے نیچے رہے ۔ جب غنیمت جمع ہوگئی تو نوجوانوں نے اپنی خصوصی غنیمت کا مطالبہ کیا ۔ بوڑھے بولے تم ہمارے مقابلے میں قابل ترجیح نہیں ہو ۔ ہم تو جھنڈوں کی حفاظت میں ان کے نیچے رہے ۔ اگر تم شکست کھا کر پیچھے ہٹتے تو ہم تمہارے لئے دفاعی معاون تھے ۔ اس پر اللہ تعالی نے یہ آیت اتاری "یسئلونک عن الانفال الایۃ آپ نے یہ آیت لکارھون ( آیت 5الانفال )تک تلاوت فرمائی ۔ اللہ تعالی نے فرمایا تم اس غنیمت کے سلسلہ میں میرا حکم مانو ! جیسا کہ تم نے میرے حکم کا انجام دیکھ لیا کہ تم نا پسندیدگی کے ساتھ نکلے اور اللہ تعالی نے تمہیں فتح دے دی ۔ پس آپ نے ان کے مابین برابر تقسیم کر دیا ۔ ذرا غور سے دیکھو کہ جناب رسول اللہﷺ نے تمام مال غنیمت کو ان کے مابین تقسیم کر دیا جیسا کہ اللہ تعالی نے یسئلونک عن الانفال الایۃ اتار کر فرمایا ۔ اللہ تعالی نے اس میں اپنی طرف اس کی نسبت بطور فرض کے اور جناب رسول اللہﷺ کی طرف بطور تملیک کے فرمائی ہے ۔ایک اور تفسیر ملاحظہ ہو ۔

لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ ← بْنِ عَبَّاسٍ ← عِكْرِمَةَ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← يَحْيَی بْنُ زَکَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5248

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5249

4967 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا وهب بن جرير قال ثنا شعبة عن سماك بن حرب عن مصعب بن سعد عن أبيه قال نزلت في أربع آيات أصبت سيفا يوم بدر فقلت يا رسول الله نفلنيه فقال ضعه من حيث أخذته ثم قلت يا رسول الله نفلنيه فقال ضعه من حيث أخذته قلت يا رسول الله نفلنيه فقال ضعه من حيث أخذته أتجعل كمن لا غنى له أو قال أو جعل كمن لا غني له الشك من بن مرزوق قال ونزول يسألونك عن الأنفال إلى آخر الآية قال أبو جعفر ففي هذه الآثار كلها التي أباحت الغنائم إنما جعلت في بدء تحليلها لله والرسول فلم يكن ما أضاف الله سبحانه وتعالى منها إلى نفسه على أن يصرف شيء منها في حق الله تعالى فيصرف ذلك في ذلك الحق بعينه لا يجوز أن يتعدى إلى غيره ويصرف بعينها إلى سهم لرسول الله صلى الله عليه و سلم فتكون مقسمة على سهمين مصروفة في وجهين بل جعلت كلها متصرفة في وجه واحد وهو إن جعلت لرسول الله صلى الله عليه و سلم فلم يستأثر بها على أصحابه ولم يخص بها بعضهم دون بعض بل همهم بها جميعا وسوى بينهم فيها ولم يخرج منها لله خمسا لأن آية الخمس فئ الأفياء وآية الغنائم لم تكن نزلت عليه حينئذ ففيما ذكرنا ما يدل على أنه لما نزلت آية الغنائم وهي التي وقع في تأويلها من الاختلاف ما قد ذكرنا أن لا يكون ما أضاف الله تعالى منها إلى نفسه من الغنائم يجب به لله فيها سهم فيكون ذلك السهم خلاف سهم رسول الله صلى الله عليه و سلم فيها ولكنه كان منه على أنه له عز و جل فرض أن يقسم على ما سماه من الوجوه التي ذكرناها فبطل بذلك قول من ذهب إلى أن الغنيمة تقسم على ستة أسهم ثم رجعنا إلى قول من ذهب إلى أنها تقسم على أربعة أسهم إلى ما أحتجوا به في ذلك من خبر بن عباس رضي الله عنهما الذي رويناه في صدر هذا الكتاب وإن كان خبرا منقطعا لا يثبت مثله غير أن قوما من أهل العلم بالآثار يقولون إنه صحيح وإن علي بن أبي طلحة وإن كان لم يكن رأى عبد الله بن عباس رضي الله عنهما فإنما أخذ ذلك عن مجاهد وعكرمة مولى بن عباس رضي الله عنهما

مصعب بن سعد نے اپنے والد سے رویت کی کہ وہ فرمانے لگے میرے متعلق چار آیات نازل ہوئیں میں نے بدر کے دن ایک تلوار پائی ۔ میں نے عرض کیایا رسول اللہ ﷺ یہ بطور غنیمت مجھے عنایت فرما دیں آپ نے فرمایا اس کو وہیں رکھ دو جہاں سے تم نے یہ لی ہے ۔ میں نے پھرکہا یا رسول اللہﷺ ! یہ مجھے مال غنیمت میں مجھے عنایت فرما دیں آپ نے فرمایا تم نے یہ جہاں سے لی ہے وہیں رکھ دو ۔ میں نے تیسری مرتبہ کہا یا رسول اللہ ﷺ! یہ بطور غنیمت مجھے عنایت ہو ۔ آپ نے پھر فرمایا اس کو وہیں رکھ دو جہاں سے تم نے اس کو اٹھایا ہے ۔ کیا تم اس طرح کر رہے ہو جیسے وہ شخص کرتا ہے جس کو اس چیز کے بغیر چارہ نہ ہو ۔(یہ شک ابن مرزوق راوی کو ہے ) سعد فرماتے ہیں اللہ تعالی نےیہ آیت نازل فرمائی : یسئلونک عن الانفال ۔۔۔۔۔امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ان تمام آثار سے جن غنائم کا مباح ہونا مذکور ہوا تو شروع میں ان کو اللہ تعالی اور اس کے رسول کے لئے مقرر کیا گیا ۔ پس اللہ تعالی نے جو اپنی ذات کے لئے منسوب کیا ہے اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جو کچھ اللہ تعالی کے حق پر خرچ کیا جائے ۔ وہ بعینہ اس کے حق میں خرچ ہو اور کسی دوسری طرف اس کا پھیرنا درست نہ ہو اور اس کو اسی طرح جناب رسول اللہﷺ کے حصہ کی طرف پھیر ا جائے اور اس کو دو حصوں پر تقسیم کر کے دو مقام پر خرچ کرنا لازم ہو ۔ بلکہ اصل یہ ہے کہ تمام مال ایک ہی مصرف پر لگایا جائے گا اور وہ مصرف یہ ہے کہ اسے جناب رسول اللہ ﷺ کے حسہ کی طرف پھیرا جائے اور اس کو دو حصوں پر تقسیم کر کے دو مقام پر خرچ کرنا لازم ہو ۔ بلکہ اصل یہ ہے کہ تمام مال ایک ہی مصرف پر لگایا جائے اور وہ مصرف یہ ہے کہ اسے جناب رسول اللہﷺ کا حصہ قرار دیا جائے اور اس میں آپ اپنے کو تقسیم میں صحابہ کرام سے نہ تو ترجیح دیں اور نہ ان کے مابین بعض کو عطا ء اور بعض کو عدم عطاء والا معاملہ کریں بلکہ اس کو ان میں برابر تقسیم کریں اور اس میں سے خمس ( پانچواں حصہ ) بھی نہ نکالا جائے ۔ کیونکہ آیت خمس فئی سے متعلق نازل ہوئی اس وقت تک غنائم کے سلسلہ میں آیت نازل نہ ہوئی تھی ۔ ہم نے جو ذکر کیا اس میں اس بات پر دلالت پائی جاتی ہے کہ جب غنائم والی آیت نازل ہوئی اور وہ : یسئلونک عن الانفال قل الانفال للہ وللرسول والذی القربی ۔۔۔۔۔ ہے اس میں غنائم کے ایک حصے کو اللہ تعالی نے اپنی ذات کی طرف منسوب کیا ہے وہ اللہ تعالی کا الگ حصہ مراد نہیں بلکہ وہی جو جناب رسول اللہﷺ کا حصہ ہے وہ وہی حصہ ہے اس سے الگ نہیں ۔ لیکن اس کو اللہ تعالی کی طرف منسوب کیا گیا تاکہ یہ بات لازم قرار دی جائے کہ جن جن کے حصے مقرر کئے گئے ہیں انہی پر تقسیم کئے جائیں ۔ مال غنیمت میں چھ حصے ماننے والوں کی تردید : جب ان مقامات پرصرف کرنا لازم ہو اتو اس نے ان لوگوں کے اقوال باطل ہو گیا جو غنیمت کو چھ حصوں میں تقسیم کے قائل ہیں ۔ غنائم کے چار حصوں میں تقسیم کرنے والوں کی تردید : جو لوگ غنائم کو چار حصوں میں تقسیم کے قائل ہیں ان کی دلیل کا موازنہ کرتے ہیں اس سلسلہ میں روایت ابن عباس رضی اللہ عنہ منقطع ہے وہ پایہ ثبوت کو نہیں پہنچتی ۔ البتہ اہل علم کے کھ آثار سے اتنی بات ثابت ہوئی ہے کہ غنیمت صدقہ ہے اور علی بن ابی طلحہ نے اگرچہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کو نہیں دیکھا مگر اس نے مجاہد و عکرمہ مولی ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ قول اخذ کیا ہے ۔ جیسا کہ مندرجہ ذیل اثر سے ظاہر ہوتا ہے ۔ ملاحظہ ہو ۔

نزلت في أربع آيات أصبت سيفا يوم بدر فقلت ← أَبِيهِ ← مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← شُعْبَةُ، ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5249

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5250

4968 - حدثنا علي بن الحسين بن عبد الرحمن بن فهم قال سمعت أحمد بن حنبل يقول لولا أن رجلا رحل إلى مصر فأنصرف منها بكتاب التأويل لمعاوية بن صالح ما رأيت رحلته ذهبت باطلة فوجدنا ما أضيف إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم والتحية في آية الأنفال قد كان التمليك لا على ما سواه فقد كان في هذا حجة قاطعة تغنينا عن الاحتجاج بما سواها على أهل هذا القول ولكنا نريد في الاحتجاج عليهم فنقول قد وجدنا الله عز و جل أضاف إلى رسوله صلى الله عليه و سلم شيئا من الفيء في غير الآيتين اللتين قدمنا ذكرهما في أول هذا الباب فكان ذلك على التمليك منه إياه ما أضافه إليه من ذلك عز و جل قال ما أفاء الله على رسوله منهم فما أوجفتم عليه من خيل ولا ركاب

علی بن حسین بن عبدالرحمن بن فہم کہتے ہیں کہ میں نے امام احمد بن حنبل رحمتہ اللہ علیہ کو فرماتے سنا کہ اگر کوئی مصر کا سفر کرے اور وہاں سے معاویہ بن صالح کی کتاب التاویل لے آئے تو اس کا سفر بے کار نہیں گیا ۔ پس ہمارے پاں آیت انفال میں جو کچھ جناب رسول اللہﷺ کی طرف منسوب کیا گیا ہے وہ تملیک کو ظاہر کرنے کے لئے ہے اور کسی مقصد کے لئے نہیں ۔ اس میں خود ایسی قطعی دلیل ہے جو کہ کسی اور روایت کے ان قول والوں کے خلاف دلیل بنانے سے ہمیں بے نیاز کرتی ہے مگر تمام حجت کے طور پر ہم مزید دلیل پیش کئے دیتے ہیں ۔ چنانچہ ہم کہتے ہیں کہ اللہ تعالی نے ان دو آیات کے علاوہ بھی فئی کی نسبت اپنے رسول ﷺ کی طرف کی ہے ۔ جو اس بات کا ثبوت پیش کرتی ہیں کہ وہ اضافت تملیک کے لئے ہے جیسا کہ سورہ حشر کی یہ آیت :"وما افاء اللہ علی رسولہ منھم فما او جفتم علیہ من خیل ولا رکاب " ( الحشر 6) روایت ملاحظہ ہو ۔

أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ← علي بن الحسين بن عبد الرحمن بن فهم

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5250

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5251

4969 - حدثنا يزيد بن سنان وأبو أمية قالا ثنا بشر بن عمر الزهراني قال ثنا مالك بن أنس عن بن شهاب عن مالك بن أوس النضري قال أرسل عمر بن الخطاب رضي الله عنه فقال إنه قد حضر المدينة أهل أبيات قومك وقد أمرنا لهم برضخ فاقسمه بينهم فبينا أنا كذلك إذ جاءه حاجبه يرفأ فقال هذا عثمان وعبد الرحمن وسعد والزبير وطلحة يستأذنون عليك فقال إيذن لهم ثم مكثنا ساعة فقال هذا العباس وعلي يستأذنان عليك فقال إيذن لهما فدخل العباس قال يا أمير المؤمنين اقض بيني وبين هذا الرجل وهما حينئذ فيما أفاء الله على رسوله من أموال بني النضير فقال القوم اقض بينهما يا أمير المؤمنين وأرح كل واحد منهما عن صاحبه فقال عمر رضي الله عنه أنشدكم الله الذي بإذنه تقوم السماوات والأرض أتعلمون أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لا نورث ما تركنا صدقة قالوا قد قال ذلك ثم قال لهما مثل ذلك فقالا نعم قال فإني سأخبركم عن هذا الفيء إن الله خص نبيه بشيء لم يعطه غيره فقال ما أفاء الله على رسوله منهم فما أوجفتم عليه من خيل ولا ركاب فوالله ما احتازها دونكم ولا استأثر بها عليكم ولقد قسمها بينكم وبثها فيكم حتى بقي منها هذا المال وكان ينفق منه على أهله رزق سنة ثم يجمع ما بقي مجمع مال الله أفلا ترى أن قوله عز و جل وما أفاء الله على رسوله منهم هو على فئ تملكه رسول الله صلى الله عليه و سلم دون سائر الناس ليس على مفتاح الكلام الذي يجب له به ملك فكذلك ما أضافه إليه أيضا في آية الفيء وفي آية الغنيمة اللتين قدمنا ذكرهما في صدر هذا الكتاب هو على التمليك منه ليس له على افتتاح الكلام الذي لا يجب له به ملك فثبت بما ذكرنا أن الفيء والخمس من الغنائم قد كانا في عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم يصرفان في خمسة أوجه لا في أكثر منها ولا فيما دونها وقد كتب إلي علي بن عبد العزيز

مالک بن اوس نضری کہتےہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نےمیری طرف پیغام بھیج کر فرمایا تمہاری قوم کے لوگ مدینہ منورہ میں آئے ہیں ہم نے ان کے لئے تھوڑے سے عطیے کا فیصلہ کیا ہے پس تم آ کر ان میں تقسیم کر دو ۔ میں اس حالت میں تھا کہ آپ کا دربان یر فاء آ گیا اور کہنے لگا یہ عثمان ، عبدالرحمن ، سعد ، زبیر ، طلحہ رضی اللہ عنہم آپ کے پاس حاضری کی اجازت چاہتے ہیں آپ نے فرمایا ان کو اجاز ت دے دو ۔ پھر ابھی ذرا سی دیر گزری تھی کہ یرفا نے آکر کہا یہ عباس و علی رضی اللہ عنہا آپ کے ہاں آنے کی اجاز ت چاہتے ہیں انہوں نے فرمایا ان کو اجازت دے دو ۔ پس عباس رضی اللہ عنہ نے داخل ہوتے ہی کہا اے امیر المؤمنین میرے اور اس آدمی کے درمیان فیصلہ کر دو ۔ وہدونوں اموال بنی نضیر سے حاصل ہونے والے مال فئی کےمتعلق جھگڑ رہےتھے ۔ تمام حاضرین نے کہا اے امیر المؤمنین ان کے مابین فیصلہ فرما کر ہر ایک کو دوسرے سے راحت پہنچائیں ۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دونوں کو مخاطب کر کے فرمایا میں تم دونوں کو اس اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس کے حکم سے آسمان و زمین قائم ہے ۔ کیا تم جانتے ہو کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " لا نورث ماتر کناہ صدقۃً " دونوں نے جواب میں کہا بالکل آپ نے یہ بات فرمائی ہے پھر دوسری مرتبہ یہی بات کہی انہوں نے جواب میں نعم کہا۔ پھر فرمای میں تمہیں اس فئی کے متعلق بتلاتا ہون کہ اللہ تعالی نے اپنے پیغمبر ﷺ کو اس میں سے کس چیز کے ساتھ خاص کیا وہ دوسروں کو نہ سی چنانچہ فرمایا "وما افاء اللہ علی رسول " ( الحشر:4)اللہ کی قسم اس مال کو اللہ تعالی نے تمہارے علاوہ اور کسی کے لئے اٹھا نہیں رکھا اور نہ اس کے سلسلے میں تمہارے اوپر دوسروں کو ترجیح دی ۔ آُ نے وہ مال تم پرتقسیم کر دیا اور تم میں پھیلا دیا یہاں تک کہ اس میں سے یہ بچ گیا ۔ آپ اس میں سے اپنے اہل کے لئے ایک سال کا خرچہ لیتے تھے ۔ پھر بقیہ مال کو اللہ تعالی کا مال قرار دے کر جمع کت دیتے ۔ اس ارشاد الہی : ماافاء اللہ علی رسول منھم (الحشر:6)اس میں اس فئی کا ذکر ہے جو لوگوںکی بجائے آپ کی ملک ہے ۔ یہ افتتاح کلام میں نہیں کہ جس میں ملک لازم نہ ہوتی ہو ۔ سپ اس سے یہ ثابت ہوا کہ فئی اور خمس غنائم سے ہیں جناب رسول اللہﷺ کے زمانہ میں پانچ مواقع میں اس کو صرف کیا جاتا تھا ۔ نہ اس سے کم نہ اس س زیادہ ۔ پس چار حصوں میں تقسیم غنائم والا قول غلط ٹھہرا ۔ روایات ملاحظہ ہوں ۔

أرسل عمر بن الخطاب ← مالك بن أوس النضري ← بن شِهَابٍ ← مالک بن أنس ← بِشْرُ بْنُ عُمَرَ الزَّهْرَانِيُّ، ← يزيد بن سنان وأبو أمية

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5251

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5252

يحدثني عن أبي عبيد عن سعيد بن عفير عن عبد الله بن لهيعة عن عبيد الله بن أبي جعفر عن نافع عن بن عمر رضي الله عنهما قال رأيت الغنائم تجزأ خمسة أجزاء ثم تسهم عليهم فما أصاب لرسول الله صلى الله عليه و سلم فهو له لا تحتاز

میری طرف علی بن عبدالعزیز نے یہ روایت لکھی کہ نافع نے ابن عمر ۔ سے روایت کی ہے کہ میں نے غنائم کو دیکھا کہ وہ پانچ حصوں میں تقسیم کئے جاتے تھے ۔ جو اس میں جناب رسول اللہﷺ کے لئے ہوتا اور کسی کے لئے جمع نہ کیا جاتا ۔

بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ← عبد الله بن لهيعة ← سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ ← اَبِیْ عُبَیْدٍ، ← يحدثني

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5252

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5253

ثم حدثنيه يحيى بن عثمان قال ثنا أبي وسعيد بن عفير فذكره بإسناده ومتنه عنهما

یحیی بن عثمان نے اپنے والد اور سعید بن عفیر سے انہو ں نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت کی ہے ۔

أبي وسعيد بن عفير فذكره بإسناده ومتنه عنهما ← يَحْيَی بْنُ عُثْمَانَ ← ثُمَّ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5253

chevron_left Previous
1…232425…33
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter