Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5230

4950 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا مسلم بن إبراهيم قال ثنا شعبة عن أبي إسحاق عن العيزار بن حريث عن عروة عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

عیزار بن حریث نے حجرت عروہ بارقی رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب رسول اللہﷺ سے اسی طرح کی روایت کی ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← عُرْوَةَ ← الْعَيْزَارِ بْنِ حُرَيْثٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5230

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5231

4951 - حدثنا بن أبي داود الوحاظي قال ثنا زهير عن جابر بن عامر عن عروة البارقي عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله وزاد الأجر والغنيمة

جابر بن عامر نے حضرت عروہ بارقی رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب رسول اللہﷺ سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے آخر میں یہ اضافہ بھی ہے اجر اور غنیمت ملے گا ۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله وزاد الأجر والغنيمة ← عُرْوَةُ الْبَارِقِيُّ ← جابر بن عامر ← زُهَيْرٍ ← بن أبي داود الوحاظي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5231

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5232

4952 - حدثنا محمد بن حميد قال ثنا عبد الله بن يوسف قال ثنا عبد الله بن سالم قال ثنا إبراهيم بن سليمان الأفطس قال ثنا الوليد بن عبد الرحمن الجرشي عن جبير بن نفير قال حدثني سلمة بن قيس السكوي قال سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول الخيل معقود في نواصيها الخير إلى يوم القيامة وأهلها معانون عليها فإن قال قائل فما معنى اختصاص النبي صلى الله عليه و سلم بني هاشم بالنهي عن إنزاء الحمير على الخيل قيل له لما

جبیر بن نفیر نے بیان کیا کہ مجھے سلمہ بن قیس سکونی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے جناب رسول اللہﷺ کو فرماتے سنا کہ گھوڑوں کی پیشانیوں سے خیر قیامت تک کے لئے منسلک کر دی گئی اور گھوڑا رکھنے والے ان پر مشقت اٹھا تے رہیں گے ۔ گزشتہ روایات میں بنی ہاشم کو گدھے کی گھوڑی پر جفتی سے کیوں منع فرمایا گیا ۔ اس خصوصیت کی کیا وجہ ہے ؟ تو اس کے جواب میں کہے بنی ہاشم میں گھوڑوں کی قلت تھی اس وجہ سے ان کو گھوڑے کی نسل بڑھانے کی ترغیب اور خچر کی نسل کشی سے منع کیا گیا جیسا اس اثر میں موجود ہے ۔

سلمة بن قيس السكوي ← جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، ← الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُرَشِيِّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَفْطَسُ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَالِمٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5232

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5233

4953 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا أبو عمر الحوضي قال ثنا المرجي هو بن رجاء قال ثنا أبو جهضم قال حدثني عبيد الله بن عبد الله عن بن عباس رضي الله عنهما قال ما أختصنا رسول الله صلى الله عليه و سلم إلا بثلاث أن لا نأكل الصدقة وأن نسبغ الوضوء وأن لا ننزي حمارا على فرس قال فلقيت عبد الله بن الحسن وهو يطوف بالبيت فحدثته فقال صدق كانت الخيل قليلة في بني هاشم فأحب أن تكثر فيهم فبين عبد الله بن الحسن بتفسيره هذا المعنى الذي له أختص رسول الله صلى الله عليه و سلم بني هاشم أن لا تنزوا الحمار على فرس وأنه لم يكن للتحريم وإنما كانت العلة قلة الخيل فيهم فإذا ارتفعت تلك العلة وكثرت الخيل في أيديهم صاروا في ذلك كغيرهم وفي اختصاص النبي صلى الله عليه و سلم بالنهي عن ذلك دليل على إباحته إياه لغيرهم ولما كان النبي صلى الله عليه و سلم قد جعل في ارتباط الخيل ما ذكرنا من الثواب والأجر وسئل عن ارتباط الحمير فلم يجعل في ارتباطها شيئا والبغال التي هي خلاف الخيل مثلها كان من ترك أن تنتج ما في ارتباطه وكسبه ثواب وأنتج ما لا ثواب في ارتباطه وكسبه من الذين لا يعلمون فقد ثبت بما ذكرنا إباحة نتج البغال لبني هاشم وغيرهم وإن كان إنتاج الخيل أفضل من ذلك وهو قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمة الله عليهم أجمعين كتاب وجوه الفيء وخمس الغنائم قال الله عز و جل ما أفاء الله على رسوله من أهل القرى فلله وللرسول ولذي القربى واليتامى والمساكين وابن السبيل وقال الله عز و جل وأعلموا أنما غنمتم من شيء فأن لله خمسة وللرسول ولذي القربى واليتامى والمساكين وابن السبيل قال أبو جعفر فكان ما ذكر الله عز و جل في الآية الأولى هو فيما صالح عليه المسلمون أهل الشرك من الأموال وفيما أخذوه منهم في جزية رقابهم وما أشبه ذلك وكان ما ذكره في الآية الثانية هو خمس ما غلبوا عليه بأسيافهم وما أشبهه من الركاز الذي جعل الله فيه على لسان رسوله صلى الله عليه و سلم الخمس وتواترت بذلك الآثار عنه صلى الله عليه و سلم

عبید اللہ بن عبداللہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہﷺ نے تین باتوں سے ہمیں خاص کیا ہے ۔ صدقہ نہ کھائیں ، مکمل وضو کریں ، گھوڑی اور گدھےکا ملاپ نہ کرائیں ۔ راوی کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن حسن سے ملا جبکہ وہ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے اور میں نے ان کو حدیث سنائی ( اور اس کا معنی دریافت کیا ) تو فرمانے لگے آپ نے سچ فرمایا بن و ہاشم میں گھوڑوں کی قلت تھی پس آپ نے چاہا کہ ان کی نسل کشی ہو تاکہ وہ زیادہ ہو جائیں ۔ عبداللہ بن حسن رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی وضاحت سے بتلا دیا کہ بنو ہاشم کو اس سلسلہ میں خاص کرنے کی وجہ یہ نہیں گدھے کی جفتی حرام ہے بلکہ اس کی وجہ بنی ہاشم میں گھوڑوں کی قلت ہے ۔ جب وہ علت ختم ہو گئی تو حکم بھی ختم ہو گیا اس میں وہ دوسروں کی طرح ہو گئے اور نہی میں خاس کر دینا یہ بھی دوسروں کے لئے اباجت کی دلیل بن گیا ۔جب کہ گھوڑے کوپالنے میں اتنا بڑا ثواب و اجر ہے اور گدھے کے باندھنے کا اجر تو ذکر نہیں فرمایا مگر ان کے باندھنے کو گنا ہ بھی قرار نہیں دیاگیا اور خچر بھی گدھے کی طرح ہے تو وہ آدمی جب اس کی نسل کشی کو ترک کر کے جس کی نسل میں ثواب ہی ثواب ہے ۔ اس کی نسل کشی کا سلسلہ جاری کرے جس میں ثواب نہیں تو ایسا آدمی بے علم کہلانے کا حقدار ہے کہ نری خیر کو چھوڑ کر وقتی معمولی فائدے کو اپنانے والا ہے ۔ آخری اثر سے بنی ہاشم کے لئے بھی خچر کی نسل کشی کا جواز ثابت اور دوسروں کے لئے تو پہلے بھی درست ہی تھا ۔ اگرچہ گھوڑے کی نسل کشی افصل ہے یہی امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف ، محمد رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے ۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی نے پہلی آیت میں جس مال کا ذکر فرمایا ہے اس کاتعلق اس مال سے ہے جس کو مسلمان مشرکین سے بطور صلح حاصل کریں اور وہ مال جس کو ان سے بطور جزیہ جانوں کے بدلے میں لیا جائے اور اسی قسم کے جو دوسرے اموال ہیں اور آیت دوم میں جس مال کا تذکرہ ہے اس سے مراد وہ مال ہے جو تلواروں سے ذریعہ غلبہ سےحاصل ہو ۔یا مدفون خزانہ ہو اس میں اللہ تعالی نے اپنے رسول ﷺ کی زبان سے پانچواں حصہ مقرر کیا اوراس سلسلہ میں متواتر روایات پائی جاتی ہیں ۔ دو روایات بطور نمونہ ذکر کی جاتی ہیں ۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← أَبُو جَهْضَمٍ ← المرجي هو بن رجاء ← أَبُو عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5233

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5234

4954 - حدثنا يونس بن عبد الأعلى قال ثنا بن وهب قال حدثني مالك بن أنس عن بن شهاب عن سعيد بن المسيب وعن أبي سلمة بن عبد الرحمن عن أبي هريرة رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه و سلم قال في الركاز الخمس

ابو سلمہ بن عبدالرحمن نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے فرمایا دفن شدہ مال میں خمس پانچواں حصہ ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← بن شِهَابٍ ← مالک بن أنس ← بن وَهْبٍ ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5234

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5235

4955 - حدثنا يونس بن عبد الأعلى قال ثنا سفيان عن الزهري عن سعيد بن المسيب عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله فقال له السائل يا أبا محمد أمعه أبو سلمة فقال إن كان معه فهو معه فكان حكم جميع الفيء وخمس الغنائم حكما واحدا ثم تكلم الناس بعد ذلك في تأويل قوله عز و جل في آية الفيء فلله وفي الغنيمة فأن لله فقال بعضهم قد وجب لله عز و جل بذلك سهم في الفيء وفي خمس الغنيمة فجعل ذلك السهم في نفقة الكعبة ورووا ذلك عن أبي العالية كتب علي بن عبد العزيز

سعید بن المسیب نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے انہوں جناب رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح روایت کی ہے کہ ایک سائل کہنے لگا اے سفیان ابو محمد کیا ابو سلمہ ان کے ساتھ ہیں ؟ تو نہوں نے فرمایا اھر ابو سلمہ ان کے ساتھ ہوں تب بھی حکم میں ان جے ساتھ ہیں یعنی یہی حکم دینے والے ہیں تمام فئی کا یہی حکم ہے اور خمس غنائم بھی اسی حکم میں ہے ۔ لوگوں نے اس آیت فئی سے متعلق مختلف کلام کیا ہے ۔ واعلمو اانما غنمتم من شیء فان للہ خمسہ والرسول ولذی القربی والیتامی والمساکین وابن السبیل " (الایہ41سورۃ انفال ) اس طرح غنیمت کے متعلق بھی کلام کیا ہے ۔ فئی میں ایک حصہ لازم ہے اسی طرح غنیمت کے خمس میں بھی لازم ہے انہوں نے اس حصے کو غنیمت کے متعلق بھی کلام کیا ہے ۔ فئی میں ایک حصہ لازم ہے اسی طرح غنیمت کے خمس میں بھی لازم ہے انہوں نے اس حصے کو بیت اللہ شریف پر خرچ کے لئے قرار سیا ہے ۔ انہون نے یہ ابوالعالیہ سے روایت کی ہے ۔

لَهُ السَّائِلُ: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ أَمَعَهُ أَبُو سَلَمَةَ؟ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5235

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5236

حدثني عن أبي عبيد الله عن حجاج عن أبي جعفر الرازي عن الربيع عن أبي العالية قال كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يؤتى بالغنيمة فيضرب بيده فما وقع فيها من شيء جعله للكعبة وهو سهم بيت الله ثم يقسم ما بقى على خمسة فيكون للنبي صلى الله عليه و سلم سهم ولذي القربى سهم ولليتامى سهم وللمساكين سهم ولإبن السبيل سهم قال والذي جعله للكعبة هو السهم الذي جعله الله عز و جل وذهب آخرون إلى ما أضاف الله جل ثناؤه إلى نفسه من ذلك أنه مفتاح كلام أفتتح به ما أمر من قسمة الفيء وخمس الغنائم فيه قالوا وكذلك ما أضافه إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم ورووا ذلك عن بن عباس رضي الله عنهما

میری طرف علی بن عبدالعزیز رحمۃاللہ علیہ نے لکھا کہ مجھے ابو عبید اللہ نے اپنی سند کے ساتھ ابوالعالیہ ۔ سے روایت کی ہے کہ جب جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں مال غنیمت لایا جاتا تو آپ اس میں ہاتھ ڈالتے اس میں سے جو کچھ ہاتھ میں آ جاتا اس کو بیت اللہ شریف کے لئے قرار دے دیتے وہ بیت اللہ کا حصہ ہوتا پھر جو کچھ بچتا اس کو پانچ حصوں میں تقسیم فرماتے۔ ایک حصہ جناب رسول اللہ ﷺ اور ایک حصہ آپ کے قرابت داروں کے لئے ایک حصہ یتیموں کے لئے ۔ ایک حصہ محتاجوں کے لئے اور ایک حصہ مسافروں کے لئے بیت اللہ شریف کے لئے وہی حصہ مقرر فرماتے جو اللہ تعالی کے لئے ہوتا ۔ آیت میں فان للہ خمسہ الایہ اس میں جس حصے کو اللہ تعالی نے اپنی ذات کی طرف منسوب کیا ہے تو نسبت آغاز کلام کے لئے ہے کیونکہ اللہ تعالی نے غنائم کے خمس کی تقسیم کے حکم کی ابتداء فرمائی اور جو جناب رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب ہے اس کا یہی مقصد ہے کہ کلام کا آغاز کرنے کے لئے یہ نسبت ذکر کی ( کیوں رسول اللہﷺ اس خمس کو تقسیم کرنے والے ہیں ) یہ بات حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے ۔

أَبِي الْعَالِيَةِ ← الرَّبِيعِ، ← أَبِي جَعْفَرٍ الرَّازِيِّ، ← حجاج، ← أَبِي عُبَيْدِ اللهِ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5236

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5237

4956 - حدثنا محمد بن الحجاج بن سليمان الحضرمي ومحمد بن خزيمة بن راشد البصري وعلي بن عبد الرحمن بن المغيرة الكوفي رحمة الله عليهم قالوا حدثنا عبد الله بن صالح عن معاوية بن صالح عن علي بن أبي طلحة عن بن عباس رضي الله عنهما قال كانت الغنيمة تقسم على خمسة أخماس فأربعة منها لمن قاتل عليها وخمس واحد يقسم على أربعة فربع لله ولرسوله ولذي القربى يعني قرابة النبي صلى الله عليه و سلم فما كان لله وللرسول فهو لقرابة النبي صلى الله عليه و سلم ولم يأخذ النبي صلى الله عليه و سلم من الخمس شيئا والربع الثاني لليتامى والربع الثالث للمساكين والربع الرابع لابن السبيل وهو الضيف الفقير الذي ينزل بالمسلمين وذهب قوم إلى أن معنى قول الله عز و جل فأن لله خمسه مفتاح كلام وأن قوله وللرسول يجب به لرسول الله سهم وكذلك ما أضافه إلى من ذكره في آية خمس الغنائم جميعا ورووا ذلك عن الحسن بن محمد بن علي بن أبي طالب رضي الله عنهم

علی ابن ابی طلحہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ مال غنیمت پانچ حصوں میں تقسیم کیا جاتا چار حصے غازیوں کے ہوتے اور ایک خمس چار حصوں میں تقسیم کیا جاتا ۔ ایک چوتھائی اللہ تعالی اور اس کے رسول اور آپ کے قرابت والوں کے لئے ہوتا یعنی جو اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ کا حصہ ہوتا وہ جناب نبی اکر ﷺ کے قرابت والو کے لئے ہوتا جناب رسول اللہ ﷺ خمس میں سے کوئی چیز نہ لیتے تھے ۔ دوسرا چوتھائی یتیموں اور تیسرا چوتھائی مساکین اور چوتھا چوتھائی مسافروں کے لئے اس مرا فقیر مہمان ہیں جو مسلمانوں کے پاس آئے ۔ آیت "فان للہ خمسہ" یہ تو افتتاح کلام کے لیے ہے اور للرسول کے الفاظ جناب رسول اللہ ﷺ کے لئے ایک حصہ لازم کرنا مراد ہے اور اسی طرح غنائم کے خمس میں جن تمام کا تذکرہ ہوا ان کے لئے حصہ کو لازم کرنا مراد ہے اور یہ حسن بن محمد بن علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ۔ روایت یہ ہے ۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← علي بن عبد الرحمن بن المغيرة الكوفي عليهم ← محمد بن خزيمة بن راشد البصري ← محمد بن الحجاج بن سليمان الحضرمي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5237

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5238

4957 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا أبو حذيفة موسى بن مسعود قال ثنا سفيان الثوري ح

موسی بن مسعود نے سفیان ثوری رحمۃاللہ علیہ سے روایت کی ہے ۔

سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← أَبُو حُذَيْفَةَ مُوسَى بْنُ مَسْعُودٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5238

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5239

وحدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا يوسف بن عدي قال ثنا عبد الله بن المبارك عن سفيان عن قيس بن مسلم قال سألت الحسن بن محمد بن علي عن قول الله عز و جل واعلموا أنما غنمتم من شيء فأن لله خمسه الآية قال أما قوله فأن لله خمسه فهو مفتاح كلام الله في الدنيا والآخرة وللرسول ولذي القربى واليتامى والمساكين وابن السبيل فاختلف الناس بعد وفاة رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال قائل سهم ذوي القربى لقرابة الخليفة وقال قائل سهم النبي صلى الله عليه و سلم للخليفة من بعده ثم أجمع رأيهم على أن جعلوا هذين السهمين في الخيل والعدة في سبيل الله عز و جل فكان ذلك في إمارة أبي بكر وعمر رضي الله عنهما فلما اختلفوا فيما يقسم عليه الفيء وخمس الغنائم هذا الاختلاف فقال كل فريق منهم ما قد ذكرناه عنه وجب أن ننظر في ذلك لنستخرج من أقوالهم فيه قولا صحيحا فاعتبرنا قول الذين ذهبوا إلى أنهما يقسمان على ستة أسهم وجعلوا ما أضافه الله عز و جل إلى نفسه من ذلك يجب به سهم يصرف في حق الله تعالى كما ذكروا هل له معنى أم لا فرأينا الغنيمة قد كانت محرمة على من سوى هذه الأمة من الأمم ثم إباحه الله لهذه الأمة رحمة منه إياها وتخفيفا منه عنها وجاءت بذلك الآثار عن رسول الله صلى الله عليه و سلم

عبداللہ بن المبار ک نے سفیان ثوری سے انہوں نے قیس بن مسلم سے نقل کیا کہ میں نے حسن بن محمد بن علی رحمۃاللہ علیہ سے اللہ تعالی کے اس قول کے متعلق دریافت کیا ۔ واعلمو ا انما غنمتم من شیء فان للہ ۔ الایۃ وہ کہنے لگے " فان للہ خمسہ " یہ ابتدا کلام ہے دنیا و آخرت میں کلام کی ابتدا ء اللہ تعالی کے نام سے ہے ۔ وللرسول ولذی القربا الایۃ۔ جناب رسول اللہ ﷺ اور ذی القربا ، یتامی ، مساکین اور مسافروں کا تذکرہ حصوں کی تقسیم کے لئے ہے ۔جناب رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد آپ کا حصہ باقی ہو گا یا نہیں ۔ اس کے متعلق دورائے ہوئیں ۔ ذوالقربی کا حصہ خلفاء کے قربت داروں کے لئے ہے ۔ جناب رسول اللہ ﷺ کا حصہ آپ کے بعد خلیفہ کے لئے ہو گا ۔ پھر اس پر اتفاق صحابہ ہوا کہ یہ دونوں حصے گھوڑے اور جہاد کے اسلحہ کے لئے استعمال ہوں گے ۔ یہ حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہا کی خلافت میں تھا ۔ اب جبکہ فئی اور خمس غنائم کی تقسیم میں یہ اختلاف ہوا اور ہر فریق نے وہ بات کہی جس کا ہم نے تذکرہ کیا تو اب ضروری ہے ہو گیا کہ ہم ان کے اقوال سے صیح قول سامنے لائیں ۔ پس ہم نے اولاً اس قول کا جائزہ لیا جو اس کو چھ حصوں میں تقسیم کے قائل ہیں اور اللہ تعالی کی طرف منسوب ہونے والے حصے کو انہوں نے اللہ تعالی کے لئے استعمال کرنا لازم کیا ( بیت اللہ کے لئے ) جیسا کہ انہوں نے کیا کیا اس کا کوئی مطلب بنتا ہے یا نہیں ۔ پس ہم نے غور کیا کہ اس امت کے عالوہ دیگر امتوں پر غنیمت کا استعمال حرام تھا ۔ پھر اللہ تعالی نے اپنی خاص رحمت کرتے ہوئے اور اس امت پر تخفیف کرتے ہوئے اس کو حلال فرمایا اور اس سلسلہ میں جناب رسول اللہ ﷺ سے کئی آثار وارد ہیں ملا حظہ ہوں ۔ جناب رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد آپ کا حصہ باقی ہو گا یا نہیں ۔ اس کے متعلق دو رائے ہوئیں ۔ نمبر 1: ذوالقربی کا حصہ خلفا ء کے قرابت داروں کے لئے ہے ۔نمبر 2: جناب رسول اللہ ﷺکا حصہ آپ کے بعد خلیفہ کے لئے ہو گا ۔ پھر اس پر اتفاق صحابہ ہوا کہ یہ دونوں حصے گھوڑے اور جہاد کے اسلحہ کے لئے استعمال ہوں گے ۔ یہ حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہا کی خلافت میں تھا ۔ اب جبکہ فئی اور خمس غنائم کی تقسیم میں یہ اختلاف ہوا اور فریق نے وہ بات کہی جس کا ہم نے تذکرہ کیا تو اب ضروری ہو گیا کہ ہم ان کے اقوال سے صیح قول سامنے لائیں ۔ پس ہم نے اولاً اس قول کا جائزہ لیا جو اس کو چھ حصوں میں تقسیم کے قائل ہیں اور اللہ تعالی کی طرف منسوب ہونے والے حصہ کو انہوں نے اللہ تعالی کے لئے استعمال کرنا لازم کیا ( بیت اللہ کے لئے ) جیسا کہ انہوں نے ذکے کیا کیا اس کا کوئی مطلب بنتا ہے یا نہیں ۔ پس ہم نے غور کیا کہ اس امت کے علاوہ دیگر امتوں پر غنیمت کا استعمال حرام تھا ۔ پھر اللہ تعالی نے پانی خاص رحمت کرتے ہوئے اور اس امت پر تخفیف کرتے ہوئے اس کو حلال فرمایا اور اس سلسلہ میں جناب رسول اللہ ﷺ سئ کئی آثار وارد ہیں ملاحظہ ہوں۔

قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5239

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5240

4958 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا أبو حذيفة عن سفيان عن الأعمش عن ذكوان عن أبي هريرة رضي الله عنه أنه قال لم تحل الغنيمة لأحد سود الرؤس قبلنا كانت الغنيمة تنزل النار فتأكلها فنزلت لولا كتاب من الله سبق لمسكم في الكتاب السابق

ذکوان نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ہم سے پہلے یہ غنائم سیاہ سروں والی کسی قوم کے لئے حلال نہ تھی۔ آسمان سے آگ اتر کر غنیمت کو جلا دیتی تو یہ آیت اتری : " لو لا کتاب من اللہ سبق ۔۔۔۔۔ اگر اللہ تعالی کی طرف سے لکھا ہوا سبقت نہ کر چکا ہوتا تو سابقہ لکھے کے مطابق تمہیں درد ناک ؑزاب پہنچتا ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ ← ذَكْوَانَ، ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو حُذَيْفَةَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5240

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5241

4959 - حدثنا حسين بن نصر قال ثنا محمد بن يوسف الفريابي قال ثنا قيس بن الربيع عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لم تحل الغنيمة لقوم سود الرؤس قبلكم كانت تنزل نار من السماء فتأكلها حتى كان يوم بدر فوقعوا في الغنائم فاختلف بهم فأنزل الله تعالى لولا كتاب من الله سبق لمسكم فيما أخذتم عذاب عظيم فكلوا مما غنمتم حلالا طيبا ثم إن أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم أختلفوا في الأنفال فأنتزعها الله منهم ثم جعلها لرسوله صلى الله عليه و سلم فأنزل الله فيه يسألونك عن الأنفال قل الأنفال لله والرسول

ابو صالح نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نت فرمایا یہ غنائم تم سے پہلے کسی سیاہ بالوں والی قوم کے لئے حالا نہ تھے بلکہ آسمان سے آگ آ کر ان کو جلا دیتی تھی یہاں تک کہ بدر کا دن آیا اور وہ غنائم میں مبتلا ہوئے اور اس کے متعلق ان میں اختلاف ہو گیا تو اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی ۔ لو لا کتاب من اللہ سبق ۔۔۔۔ پھر اصحاب رسول اللہ ﷺ نے غنیمت کے (تقسیم کے ) متعلق اختلاف کیا تو اللہ تعالی نے ان سے تقسیم کا حق چھین کر جناب رسول اللہ ﷺ کو عنایت فرمایا اور یہ آیت اتاری : یسئلونک عن الانفال قل الانفال للہ والرسول ۔۔۔۔۔آپ سے غنائم کے متلعق پوچھتے ہو تو آپ فرمادیں یہ اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے لئے ہیں ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ← حسين بن نصر

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5241

chevron_left Previous
1…222324…33
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter