Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 17 باب إحياء الأرض الميتة ) · حديث 5194

4915 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب أن مالكا ويونس بن يزيد أخبراه عن بن شهاب عن سالم بن عبد الله عن أبيه أن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال من أحيا أرضا ميتة فهي له وذلك أن رجالا كانوا يتحجرون من الأرض

سالم بن عبداللہ نے حجرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا جس نے مردہ کو زندہ کیا وہ اسی کی ہے ۔ آپ نے یہ بات اس لئے فرمائی کیونکہ لوگ زمین کے ارد گرد پتھر لگا کر اس کو روک لیتے تھے ۔

أَبِيهِ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← بن شِهَابٍ ← بن وهب أن مالكا ويونس بن يزيد أخبراه ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5194

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 17 باب إحياء الأرض الميتة ) · حديث 5195

4916 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا إبراهيم بن أبي الوزير قال ثنا سفيان عن الزهري عن سالم عن أبيه عن عمر مثله قيل له لا حجة لك في هذا ومعنى هذا عندنا على ما ذكرناه من معنى قول رسول الله صلى الله عليه و سلم من أحيا أرضا ميتة فهي له وقد روي عن عمر رضي الله عنه في غير هذا الحديث ما يدل على أن مراده في هذا الحديث هو ما ذكرناه

زہری نے سالم سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے اسی طرح رویت نقل کی ہے۔ اس روایت میں تمہارے لئے کوئی دلیل نہیں ۔ ہمارے ہاں اس کا مفہوم وہی ہے جو ہم نے ارشاد نبوت ' من احی ارضا میتہ فھی لہ " میں ذکر کیا ہے ۔ بلکہ اس کے علاوہ خود حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے اس روایت کے ظاہر کے خلاف روایت وارد ہے جو ہمارے بیان کردہ مفہوم کی تائید کرتی ہے ۔ روایت حضرت عمر رضی اللہ عنہ ملاحظہ ہو ۔

أَبِيهِ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5195

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 17 باب إحياء الأرض الميتة ) · حديث 5196

4917 - حدثنا أبو بشر الرقي قال ثنا أبو معاوية عن أبي إسحاق الشيباني عن محمد بن عبيد الله قال خرج رجل من أهل البصرة يقال له أبو عبد الله إلى عمر فقال إن بأرض البصرة أرضا لا تضر بأحد المسلمين وليست من أرض الخراج فإن شئت أن تقطعنيها أتخذها قضبا وزيتونا ونخلا في نخيلي فأفعل فكان أول من أخد الفلايا بأرض البصرة قال فكتب عمر إلى أبي موسى الأشعري إن كانت حمى فأقطعها إياه أفلا ترى أن عمر لم يجعل له أخذها ولا جعل له ملكها إلا بإقطاع خليفته ذلك الرجل إياها ولولا ذلك لكان يقول له وما حاجتك إلى إقطاعي إياك لأن لك أن تحييها دوني وتعمرها فتملكها فدل ذلك أن الاحياء عند عمر هو ما أذن الإمام فيه للذي يتولاه وملكه إياه وقد دل ذلك أيضا ما

محمد بن عبداللہ بیان کیا کہ بصرہ کا ایک آدمی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا بصرہ کی سر زمین میں ایک جگہ ایسی ہے اگر آپ پسند کریں تو اسے میرے لئے خاص کر دیں میں اس میں سبزی ،زیتون ، کھجوریں لگا لوں گا ۔ یہ پہلا شخص تھا جس نے بصرہ میں جنگل کو حاصل کیا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت موسی اشعری رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ وہ جگہ اگر چراگاہ ہے تو اسے اس شخص کے لئے مختص کر دیں ۔ذرا غور فرمائیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس زمین کا لینا اور حاصل کرنا اپنے نائب کی تقسیم کے بغیر ناجائز قرار دیا اگر یہ بات نہ ہوتی آپ فرماتے کہ میری تقسیم کی کیا حاجت ہے تم میری اجازت کے بغیر بھی اس کو لے سکتے ہو اور آباد کر کے مالک بن سکتے ہو ۔ یہ اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ہاں زمین آباد کرنے کے باوجود اس کی ہو گی جس کے لئے حکمران اختیار دے گا اورمالک بنائے گا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا اثر بھی اس کی مزید تائید کرتا ہے ملاحظہ ہو ۔

خرج رجل من أهل البصرة يقال له أبو عبد الله إلى عمر ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أبو بشر الرقي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5196

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 17 باب إحياء الأرض الميتة ) · حديث 5197

4918 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أزهر السمان عن بن عون عن محمد قال قال عمر رضي الله عنه لنا رقاب الأرض قال أبو جعفر فدل ذلك أن رقاب الأرضين كلها إلى أيمة المسلمين وأنها لا تخرج من أيديهم إلا بإخراجهم إياها إلى ما رأوا على حسن المنظر منهم للمسلمين في عمارة بلادهم وصلاحها فهذا قول أبي حنيفة رحمة الله عليه

ابن عون نے محمد سے روایت کی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا زمینوں کی ملکیت ہمارے اختیار میں ہے ۔ ان آثار سے دلالت مل گئی کہ تمام زمینوں کی ملکیت مسلمان حکمران کو حاصل ہے ان کے ہاتھ سے اس وقت نکلے گی جب وہ اپنی صوابدید کے مطابق اس کی آباد کاری اور بہتری کے لئے مسلمانوں کے حوالے کریں گے ۔ یہی امام ابو حنیفہ رحمۃاللہ علیہ کا قول ہے ۔

عمر لنا رقاب الأرض ← مُحَمَّدٍ ← بن عون ← أَزْهَرُ السَّمَّانُ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5197

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5198

4919 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا شعيب بن الليث قال أخبرنا الليث عن يزيد بن أبي حبيب عن أبي الخير عن أبي رزين عن علي بن أبي طالب قال أهديت لرسول الله صلى الله عليه و سلم بغلة فركبها فقال علي لو حملنا الحمير على الخيل لكان لنا مثل هذه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم إنما يفعل ذلك الذين لا يعلمون

ابو رزین نے حجرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کو ایک خچر ہدیۃً دی گئی آپ ﷺ نے اس پر سواری کی ۔ حجرت علی نے عرض کیا اگر ہم گدھے سے گھوڑی کو جفتی کرائیں تو ہمارے لئے بھی اسی طرح کے جانور ہوں ۔ تو جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ کام تو بے علم لوگ کرتے ہیں ۔

علي لو حملنا الحمير على الخيل لكان لنا مثل هذه ← أهديت لرسول الله صلى الله عليه و سلم بغلة فركبها ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← اَبِیْ رَزَینٍ ← أَبِي الْخَيْرِ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← اللَّيْثُ ← شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، ← ربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5198

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5199

4920 - حدثنا فهد قال ثنا أبو غسان قال ثنا شريك عن عثمان عن سالم عن عثمان بن علقمة عن علي عن النبي صلى الله عليه و سلم نحوه

عثمان بن علقمہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح کی روایت کی ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم نحوه ← عَلِيٍّ، ← عثمان بن علقمة ← سَالِمٍ ← عُثْمَانَ، ← شَرِيکٍ ← أبو غسان، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5199

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5200

4921 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا أسد ح

ربیع موذن نے اسد سے اسی طرح روایت کی ہے ۔

أسد ← ربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5200

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5201

وحدثنا أحمد بن داود قال ثنا سليمان بن حرب قالا ثنا حماد بن زيد عن أبي جهضم عن عبد الله بن عبيد الله بن عباس عن بن عباس قال ما اختصنا رسول الله صلى الله عليه و سلم بشيء دون الناس إلا بثلاث إسباغ الوضوء وأن لا نأكل الصدقة وأن لا ننزي الحمر على الخيل فذهب قوم إلى هذا فكرهوا إنزاء الحمر على الخيل وحرموا ذلك ومنعوا منه واحتجوا بهذه الآثار وخالفهم في ذلك آخرون فلم يروا بذلك بأسا وكان من الحجة لهم في ذلك لو كان مكروها لكان ركوب البغال مكروها لأنه لولا رغبة الناس في البغال وركوبهم إياها لما أنزيت الحمر على الخيل ألا ترى أنه لما نهى عن إخصاء بني آدم كره بذلك إتخاذ الخصيان لأن في إتخاذهم ما يحمل من تحضيضهم على إخصائهم لأن الناس إذا تحاموا إتخاذهم لم يرغب أهل الفسق في إخصائهم وقد

عبداللہ بن عبید اللہ بن عباس نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ہمیں لوگون کو چھوڑ کر کسی بات میں خاص نہین کیا سوائے ان تین چیزوں کے ۔مکمل وضو کرنا ، صدقہ نہ کھانا ، گھوڑی اور گدھےکا ملاپ نہ کرائیں۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ گدھے کی گھوڑی سے جفتی مکروہ و حرام اور ممنوع ہے اس کی دلیل مندرجہ بالا آثار ہیں ۔ علماء کی دوسری جماعت کہتی ہے کہ اسمیں کوئی حرج نہیں ۔ اس کی عقل دلیل یہ ہے کہ اگر یہ مکروہ ہوتا تو خچر پر سواری بھی مکروہ ہوتی اگر لوگون کی اس پر سواری میں رغبت نہ ہو تو لوگ جفتی نہ کرائیں اس کی نظر یہ ہے کہ غلاموں کو خصی کرنا ممنوع ہے تو ضصی غلاموں کی خرید و فروخت بھی منع ہے ۔ کیونکہ ان کی خریداری خصی کرنے کی حوصلہ افزائی کرتی ہے ۔ جب لوگ اس سے گریز کریں گے ۔تو اہل فسق غلاموں کو خصی کرنے کی طرف رغبت نہیں کریں گے ۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي جَهْضَمٍ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5201

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5202

4922 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا القواريري قال ثنا عفيف بن سالم قال ثنا العلاء بن عيسى الذهبي قال أتى عمر بن عبد العزيز بخصي فكره أن يبتاعه وقال ما كنت لأعين على الإخصاء فكل شيء في ترك كسبه ترك لبعض أهل المعاصي لمعصيتهم فلا ينبغي كسبه فلما أجمع على إباحة إتخاذ البغال وركوبها دل ذلك على أن النهي الذي في الآثار الأول لم يرد به التحريم ولكنه أريد به معنى آخر فمما روي عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في ركوب البغال ما قد

علاء بن عیسی ذہبی کہتے ہیں عمر بن عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ کے پاس خصی غلام لایا گیا انہوں نے اس کی خریداری کو ناپسند کیااور فرمایا یہ خصی پن کی اعانت کرنے والا نہیں ۔ اصول یہ ہے کہ ہر وہ چیز جس کی کمائی چھوڑ دینے سے اہل معاصی کے گناہ چھوڑنے میں مدد ملتی ہو اس کا چھوڑنا ضروری ہے ۔ خچر کو خریدنا اور ان کو سواری کے لئے استعمال کرنا جب سب کے ہاں درست ہے تو اس سے یہ دلالت مل گئی کہ اثر اول میں ممانعت سے تحریمی مراد نہیں ۔ بلکہ اس سے دوسرا مفہوم مراد ہے ۔

أتى عمر بن عبد العزيز بخصي فكره أن يبتاعه ← العلاء بن عيسى الذهبي ← عَفِيفُ بْنُ سَالِمٍ، ← الْقَوَارِيرِيُّ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5202

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5203

4923 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا القواريري قال ثنا يحيى بن سعيد عن سفيان عن أبي إسحاق قال قال رجل للبراء يا أبا عمارة وليتم يوم حنين فقال لا والله ما ولى رسول الله صلى الله عليه و سلم ولكن ولى سرعان الناس تلقتهم هوازن بالنبل ولقد رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو على بغلته البيضاء وأبو سفيان بن الحارث آخذ بلجامها وهو يقول أنا النبي لا كذب أنا بن عبد المطلب

ابو اسحاق بے بیان کیا کہ ایک آدمی نے حضرت براء سے کہا اے ابو عمارہ ! تم حنین کے دن شکست کھا کر بھاگے ؟ انہوں نے جواب دیا نہیں ، اللہ کی قسم ! جناب رسول اللہﷺ میدان سے نہیں بھاگے ۔ لیکن جلد باز لوگ بھاگے ۔ ان کو ہوازن نے تیروں سے آ لیا ۔ واقعۃً میں نے جناب رسول اللہﷺ کو سفید خچر پر سوار پایا جبکہ ابو سفیان بن حارث رضی اللہ عنہ خچر کی لگام تھامے ہوئے تھا ۔ آپ ﷺ کی زبان مبارک پر یہ کلمات تھے میں نبی ہوں اس میں جھوٹ نہیں ۔ میں عبدالمطلب کا بیٹا ( پوتا ) ہوں (یعنی بزدل نہیں ) ۔

أَبِي إِسْحَاقَ ← سُفْيَانَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← الْقَوَارِيرِيُّ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5203

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5204

4924 - حدثنا فهد قال ثنا أبو الوليد قال ثنا شعبة قال أخبرنا أبو إسحاق فذكر بإسناده مثله

شعبہ نے ابو اسحاق سے پھر انہوں نے اپنی سند سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔

أبو إسحاق فذكر بإسناده مثله ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5204

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5205

4925 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا علي بن الجعد قال ثنا زهير بن أبي إسحاق عن البراء مثله

زہیر ابن ابی اسحاق نے حضرت براء سے اسی طرح روایت کی ہے ۔

البراء مثله ← زهير بن أبي إسحاق ← عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5205

chevron_left Previous
1…192021…33
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter