Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 1 باب الإمام يريد قتال أهل الحرب هل عليه قبل ذلك أن يدعوهم أم لا ) · حديث 4978

4708 - حدثنا فهد قال ثنا يوسف بن بهلول قال ثنا عبد الله بن إدريس عن بن إسحاق قال حدثني حميد الطويل عن أنس بن مالك قال كان النبي صلى الله عليه و سلم إذا غزا قوما لم يغر عليهم حتى يصبح فإن سمع أذانا امسك وإن لم يسمع أذانا أغار فنزلنا خيبر فلما أصبح ولم يسمع أذانا ركب وركبنا معه فركبت خلف أبي طلحة وإن قدمي لتمس قدم رسول الله صلى الله عليه و سلم فاستقبلنا عمال خيبر قد أخرجوا مساحيهم ومكاتلهم فلما رأوا النبي صلى الله عليه و سلم والجيش قالوا محمد والخميس فأدبروا هرابا فقال النبي صلى الله عليه و سلم الله أكبر خربت خيبر إنا إذا نزلنا بساحة قوم فساء صباح المنذرين

حمید الطویل نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب نبی اکرم ﷺ جب کسی قوم سے جہاد کرتے تو صبح ہونے تک ان پر حملہ نہ کرتے پس اگر اذان کی آواز سن پاتے تو حملے سے رک جاتے اور اگر اذان کی آواز نہ سنتے تو حملہ کر دیتے ۔پس ہم خیبر میں اترے جب صبح ہوئی اور آپؐ نے اذان نہ سنی تو آپؐ بھی سوار ہوئے اورہم بھی سوار ہوئے میں ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے سوار ہوا اور میرا پاؤں جناب رسول اللہ ﷺ کے پاؤں کو چھو رہا تھا ۔ پھر ہمارا سامنا خیبر کے مزدوروں سے ہوا وہ اپنی کدالیں اور ٹوکرے لئے نکلے ۔ جب انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ اور لشکر کو دیکھا تو کہنے لگے یہ تو محمد ﷺ لشکر سمیت آئے ہیں اور پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوئے ۔ جناب نبی اکرم ﷺ نے نعرہ تکبیر بلند کرتےہوئے فرمایا خیبر برباد ہو گیا ۔ بے شک جب ہم کسی قوم کی زمین پر اترتے ہیں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بری ہوتی ہے

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← بن إِسْحَاقَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، ← يُوسُفَ بْنِ بُهْلُولٍ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4978

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 1 باب الإمام يريد قتال أهل الحرب هل عليه قبل ذلك أن يدعوهم أم لا ) · حديث 4979

4709 - حدثنا فهد قال ثنا يوسف بن بهلول قال ثنا عبد الله بن إدريس قال ثنا محمد بن إسحاق عن يعقوب بن عتبة عن مسلم بن عبد الله بن حبيب الجهني عن جندب بن مكيث الجهني قال بعث رسول الله صلى الله عليه و سلم غالب بن عبد الله الليثي في سرية كنت فيهم وأمره أن يشن الغارة على بن الملوح بالكديد قال فراحت الماشية من إبلهم وغنمهم فلما احتلبوا وعطنوا واطمأنوا نياما شننا عليهم الغارة فقتلنا واستقنا النعم

جندب بن مکیث جبنی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے غالب بن عبداللہ لیثی رضی اللہ عنہ کو ایک دستے میں روانہ فرمایا میں بھی اس میں شامل تھا ۔ اس کو حکم فرمایا کہ وہ قبیلہ ابن ملوح پر مقام کدید میں لوٹ ڈالیں ۔ راوی کہتے ہیں کہ شام کو جب ان کے اونٹ اور بکریاں واپس لوٹ آئیں اور وہ دودھ دوھ چکے اور اونٹوں اور بکریوں کو بٹھا دیا پھر اطمینان سے سو گئے تو ہم نے ان پر چاروں اطراف سے حملہ کر دیا اور انکو قتل کر کے ان کے جانور ہانک لائے ۔

جندب بن مكيث الجهني ← مسلم بن عبد الله بن حبيب الجهني ← يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، ← يُوسُفَ بْنِ بُهْلُولٍ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4979

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 1 باب الإمام يريد قتال أهل الحرب هل عليه قبل ذلك أن يدعوهم أم لا ) · حديث 4980

4710 - حدثنا سليمان بن شعيب قال ثنا أسد قال ثنا سليمان بن المغيرة عن حميد بن هلال قال جاء أبو العالية إلي وإلى صاحب لي فانطلقنا معه حتى أتينا نصر بن عاصم الليثي فقال أبو العالية حدث هذين حديثك قال ثنا عقبة بن مالك الليثي قال بعث رسول الله صلى الله عليه و سلم سرية فأغارت على القوم فشد رجل وأتبعه رجل من السرية ثم ذكر حديثا طويلا أردنا منه ما فيه من ذكر الغارة

حمید بن ہلال کہتے ہیں کہ میرے اور میرے ایک دوست کے پاس ابو العالیہ آئے ہم ان کے ساتھ چل کر نصر بن عاصم لیثی کے ہاں گئے تو ان کو ابوالعالیہ نے کہا ان دو نے تمقاہری روایت اس طرح بیان کی ہے ہمیں عقبہ بن ملاک لیثی نے بیان کیا کہ جناب رسول اللہﷺ نے ایک سریہ روانہ فرمایا جس نے ایک قوم پر لوٹ ڈالی ۔ تو آدمی نے حملہ کیا سریہ کے ایک آدمی نے اس کا پیچھا کیا پھر طویل روایت ذکر کی ۔ ہمارے ہاں مقصود صرف اچانک حملے کا تذکرہ ہے ۔

حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← أسد ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4980

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 1 باب الإمام يريد قتال أهل الحرب هل عليه قبل ذلك أن يدعوهم أم لا ) · حديث 4981

4711 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا بشر بن عمر قال ثنا عكرمة بن عمار عن إياس بن سلمة بن الأكوع عن أبيه قال لما قربنا من المشركين أمرنا أبو بكر الصديق فشننا عليهم الغارة ففي هذه الآثار أمر رسول الله صلى الله عليه و سلم بالغارة والغارة لا تكون وقد تقدمها الدعاء والإنذار فيحتمل أن يكون أحد الأمرين مما روينا ناسخا للآخر فنظرنا في ذلك فإذا

ایاس بن سلمہ بن اکوع سے اپنے والد سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جب ہم مشرکین کے قریب ہو گئے تو ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حملے کا حکم دیا ہم نے ان پر چاروں طرف سے حملہ کر دیا ۔ ان آثار میں جناب رسول اللہﷺ نے کافروں پر لوٹ ڈالنے کا حکم دیا اوریہ اسی وقت ہو سکتی ہے جبکہ اس سے پہلے ان کاو علم بھی نہ ہو ۔ دعوت و انداز تو بعد کی بات ہے ۔ اب یہ احتمال پایا جاتا ہے کہ دو میں سے ایک بار دوسری کے لئے ناسخ ہو ۔ اس لئے مندرجہ ذیل روایات پر غور کرنا ہو گا ۔ چنانچہ یزید بن سنان کی روایت مل گئی وہ درج ذیل ہے

أَبِيهِ ← إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← بِشْرُ بْنُ عُمَرَ؛ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4981

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 1 باب الإمام يريد قتال أهل الحرب هل عليه قبل ذلك أن يدعوهم أم لا ) · حديث 4982

4712 - يزيد بن سنان قد حدثنا قال ثنا سعيد بن سفيان الجحدري ح وحدثنا أبو بكرة قال ثنا بكر بن بكار ح وحدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو إسحاق الضرير قالوا أخبرنا عبد الله بن عون قال كتبت إلى نافع أسأله عن الدعاء قبل القتال فقال إنما كان ذلك في أول الإسلام أغار رسول الله صلى الله عليه و سلم على بني المصطلق وهم غارون وأنعامهم على الماء فقتل مقاتلهم وسبى سبيهم وأصاب يومئذ جويرية بنت الحارث وحدثني بهذا الحديث عبد الله بن عمر وكان في ذلك الجيش وإذا

اب اسحاق الضریر نے بتلایا کہ ہمیں عبداللہ بن عون نے خبر دی کہ میں نافع کو خط لکھ کر پوچھا کہ لڑائی سے پہلے کیا دعوت ضروری ہے تو انہوں نے جواباً لکھا یہ اسلام کے ابتدائی دور میں تھا ۔ جناب رسول اللہ ﷺ نے نی مطلق پر اچانک حملہ کیا جبکہ وہ حالت غفلت میں تھے اور ان کے چوپائے پانی پر تھے انکے لڑنے والوں کو قتل کیا اور دوسروں کو قیدی بنا لیا اور اسی دن قیدیوں میں جویریہ بن حارث کو پایا ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ عَوْنٍ، ← أبو إسحاق الضرير ← بن مرزوق ← بكر بن بكار ← أَبُو بَکْرَةَ ← سَعِيدُ بْنُ سُفْيَانَ الْجَحْدَرِيُّ ← يزيد بن سنان قد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4982

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 1 باب الإمام يريد قتال أهل الحرب هل عليه قبل ذلك أن يدعوهم أم لا ) · حديث 4983

4713 - بن مرزوق قد حدثنا قال ثنا بشر بن عمر قال ثنا حماد بن زيد عن بن عون مثله

اس روایت کو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے بھی بیان کیا وہ خود اس لشکر میں شامل تھے ۔سند یہ ہے ۔ بشر بن عمر نے حماد بن زید سے انہوں نے ابن عون سے اسی طرح روایت بیان کی ہے ۔

بن عون مثله ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← بِشْرُ بْنُ عُمَرَ؛ ← بن مرزوق قد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4983

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 1 باب الإمام يريد قتال أهل الحرب هل عليه قبل ذلك أن يدعوهم أم لا ) · حديث 4984

4714 - وإذا روح بن الفرج قد حدثنا قال ثنا عمرو بن خالد قال ثنا بن المبارك عن سليمان التيمي عن أبي عثمان النهدي قال كل ذلك قد كان قد كنا نغزو فندعو ولا ندعو

سلیمان تیمی نے ابو عثمان نہدی سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں کہ یہ پہلے تھا ہم غزہ میں جاتے دعوت دیتے اور کبھی نہ بھی دیتے ۔

كل ذلك قد كان قد كنا نغزو فندعو ولا ندعو ← أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ← سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، ← بن الْمُبَارَكِ، ← عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، ← وإذا روح بن الفرج قد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4984

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 1 باب الإمام يريد قتال أهل الحرب هل عليه قبل ذلك أن يدعوهم أم لا ) · حديث 4985

4715 - وإذا محمد بن خزيمة قد حدثنا قال ثنا أبو عمر الضرير قال أخبرنا حماد بن سلمة أن سليمان التيمي أخبرهم عن أبي عثمان النهدي قال كنا نغزو فندعو ولا ندعو

سلیمان تیمی نے ابو عثمان نہدی سے خبر دی کہ ہم جہاد کرتے ہم دعوت دیتے اور نہ بھی دیتے تھے ۔

كنا نغزو فندعو ولا ندعو ← أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ← حماد بن سلمة أن سليمان التيمي ← اَبُوْ عُمَرَ الضَّرِیْرُ ← وإذا محمد بن خزيمة قد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4985

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 1 باب الإمام يريد قتال أهل الحرب هل عليه قبل ذلك أن يدعوهم أم لا ) · حديث 4986

4716 - وإذا بن مرزوق قد حدثنا قال ثنا بشر بن عمر قال ثنا مبارك قال كان الحسن يقول ليس على الروم دعوة لأنهم قد دعوا

ابن مبارک نے بیان کیا کہ حسن بصری فرمایا کرتے تھے کہ اہل روم کود عوت کی ضرورت نہیں کیونکہ ان کو دعوت دی جا چکی ۔

ليس على الروم دعوة لأنهم قد دعوا ← كَانَ الْحَسَنُ ← مُبَارَكٌ، ← بِشْرُ بْنُ عُمَرَ؛ ← وإذا بن مرزوق قد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4986

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 1 باب الإمام يريد قتال أهل الحرب هل عليه قبل ذلك أن يدعوهم أم لا ) · حديث 4987

4717 - وإذا بن مرزوق قد حدثنا قال ثنا بشر بن عمر قال ثنا محمد بن طلحة عن أبي حمزة قال قلت لإبراهيم إن ناسا يقولون إن المشركين ينبغي أن يدعوا فقال قد علمت الروم على ما يقاتلون وقد علمت الديلم على ما يقاتلون

ابو حمزہ کہتے ہیں کہ میں نے ابراہیم سے کہا بعض لوگ کہتے ہیں کہ مشرکین کو دعوت دینی چاہیے تو انہوں نے جواب میں فرمایا ۔ اہل روم کو معلوم ہو چکا کہ کس بات پر ان سے لڑا جا رہا ہے اور اسی طرح دیلمیوں کو بھی معلوم ہو چکا کہ کس بات پر ان سے لڑا جا رہا ہے ۔

قلت لإبراهيم إن ناسا يقولون إن المشركين ينبغي أن يدعوا ← أَبِي حَمْزَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ ← بِشْرُ بْنُ عُمَرَ؛ ← وإذا بن مرزوق قد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4987

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 1 باب الإمام يريد قتال أهل الحرب هل عليه قبل ذلك أن يدعوهم أم لا ) · حديث 4988

4718 - وإذا محمد بن خزيمة قد حدثنا قال ثنا يوسف بن عدي قال ثنا عبد الله بن المبارك عن سفيان الثوري عن منصور قال سألت إبراهيم عن دعاء الديلم فقال قد علموا ما الدعاء قال أبو جعفر فبين ما روينا من هذا أن الدعاء إنما كان في أول الإسلام لأن الناس حينئذ لم تكن الدعوة بلغتهم ولم يكونوا يعلمون على ما يقاتلون عليه فأمر بالدعاء ليكون ذلك تبليغا لهم وإعلاما لهم ما يقاتلون عليه ثم أمر بالغارة على آخرين فلم يكن ذلك إلا لمعنى لم يحتاجوا معه إلى الدعاء لأنهم قد علموا ما يدعون إليه لو دعوا وما لو أجابوا إليه لم يقاتلوا فلا معنى للدعاء وهكذا كان أبو حنيفة وأبو يوسف ومحمد رحمة الله عليهم أجمعين يقولون كل قوم قد بلغتهم الدعوة فأراد الإمام قتالهم فله أن يغير عليهم وليس عليه أن يدعوهم وكل قوم لم تبلغهم الدعوة فلا ينبغي قتالهم حتى يتبين لهم المعنى الذي عليه يقاتلون والمعنى الذي إليه يدعون وقد تكلم الناس في المرتد عن الإسلام أيستتاب أم لا فقال قوم إن استتاب الإمام المرتد فهو أحسن فإن تاب وإلا قتل وممن قال ذلك أبو حنيفة وأبو يوسف ومحمد رحمة الله عليهم وقال الآخرون لا يستتاب وجعلوا حكمه كحكم الحربيين على ما ذكرنا من بلوغ الدعوة إياهم ومن تقصيرها عنهم وقالوا إنما تجب الاستتابة لمن خرج عن الإسلام لا عن بصيرة منه به فأما من خرج منه إلى غيره على بصيرة فإنه يقتل ولا يستتاب وهذا قول قال به أبو يوسف في كتاب الإملاء قال أقتله ولا أستتيبه إلا أنه إن بدرني بالتوبة خليت سبيله ووكلت أمره إلى الله وقد

منصور کہتے ہیں کہ میں نے ابراہیم سے پوچھا کہ دیلمیوں کو دعوت کی ضرورت ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ ان کو دعوت کا بخوبی علم ہو چکا ۔ امام جعفر طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ان آثار سے واضح ہوا کہ یہ دعوت اسلام ، ابتداء اسلام میں تھی کیونکہ اس وقت تک ان کو دعوت نہ پہنچی تھی اور ان کو معلوم نہ تھا کہ ان سے جنگ کرنے کا کیا مقصد ہے فلہذا دعوت کا کا حکم دیا گیا تاکہ ان کو تبلیغ ہو جائے اور ان کو مطلع کر دیا جائے کہ ان سے لڑائی کا سبب کیا ہے ۔ پھر دوسرے لو گوں پر حملہ آور ہونے کا حکم دیا اس کا یہی مطلب ہے کہ وہ دعوت کے محتاج نہ تھے کیونکہ ان کو یہ معلوم تھا کہ ان کو کس چیز کی طرف بلایا جا رہا ہے ۔ اگر ان کو دعوت دی گئی اور اگر وہ اس کو قبول کر لیتے تو ان سے لڑائی نہ کی جاتی ۔ پس اس صورت میں دعوت دینے کا کوئی مطلب نہیں ۔ امام ابو حنیفہ ،ابو یوسف ،محمد رحمتہ اللہ علیہ اس طرح کہتے تھے کہ ہر وہ قوم جن کو دعوت پہنچ جائے پھر امام ان سے قتال کا ارادہ کرے تو وہ ان پر بے خبری میں حملہ کر سکتا اس پر ان کو دعوت دینا لازم نہیں ہے اور جس قوم کو دعوت نہ پہنچی ہو تو ان سے قتل جائز نہیں ہے جب تک کہ ان کے سامنے مقصد قتقل نہ واضح کر دیا جائے اورمقصود دعوت نہ ذکر کر دیا جائے مرتد کے متعلق لوگوں نے کلام کیا ہے کیا اس سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے گا یا نہیں ۔ بعض لوگوں کا قول یہ ہے کہ اگر امام مرتد سے توبہ کرنے کا کہے تو مناسب ہے اگر وہ توبہ کرے تو بہتر ورنہ اس کو قتل کر دیا جائے گا یہ امام ابو حنیفہ ،ابو یوسف ،محمد رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے ۔ دوسروں نے کہا اس کو توبہ کے لئے نہ کہا جائے گا اور انہوں نے اس کا حکم حربی کافر جیسا قرار دیا ہے جیسا ذکر ہوا کہ ان تک دعوت پہنچ چکی یا نہیں پہنچی ۔ مطالبہ توبہ تو اس سے کیا جائے گا جو اسلام سے نکلا ہے اور اس کو اسلام کی سمجھ حاصل نہیں ہے ۔رہا وہ شخص جو جانچ پرکھ کے بعد دوسرے مذہب میں گیا اس کو قتل کیا جائے گا توبہ کا مطالبہ نہ کیا جائے گا ۔ یہ امام ابو یوسف کا قول ہے انہوں نے کتاب الا ملا ء میں لکھا ہے کہ میں اس کو قتل کروں گا اس سے توبہ کا مطالبہ نہ کروں گا ۔ اگر وہ میرے پاس سے پہلے توبہ کرے تو میں اس کا راستہ چھوڑ دوں گا اور اس کا معاملہ اللہ تعالی کے حوالہ کر دوں گا ۔

أبو جعفر فبين ما روينا من هذا ← قد علموا ما الدعاء ← دعاء الديلم ← سَأَلْتُ إبْرَاهِيمَ ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← وإذا محمد بن خزيمة قد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4988

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 1 باب الإمام يريد قتال أهل الحرب هل عليه قبل ذلك أن يدعوهم أم لا ) · حديث 4989

4719 - حدثنا سليمان بن شعيب عن أبيه عن أبي يوسف بذلك أيضا وقد روي في استتابة المرتد وفي تركها اختلاف عن جماعة من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم فمن ذلك ما قد

سلیمان بن شعیب نے اپنے والد سے انہوں نے ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ سے اس کو بیان کیا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مرتد کی توبہ کے سلسلہ میں اختلاف مروی ہے جن میں سے چند روایات یہ ہیں

أبي يوسف بذلك أيضا وقد روي في استتابة المرتد وفي تركها اختلاف ← أَبِيهِ ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4989

chevron_left Previous
1234…33
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter