شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 1 باب الإمام يريد قتال أهل الحرب هل عليه قبل ذلك أن يدعوهم أم لا ) · حديث 4978
4708 - حدثنا فهد قال ثنا يوسف بن بهلول قال ثنا عبد الله بن إدريس عن بن إسحاق قال حدثني حميد الطويل عن أنس بن مالك قال كان النبي صلى الله عليه و سلم إذا غزا قوما لم يغر عليهم حتى يصبح فإن سمع أذانا امسك وإن لم يسمع أذانا أغار فنزلنا خيبر فلما أصبح ولم يسمع أذانا ركب وركبنا معه فركبت خلف أبي طلحة وإن قدمي لتمس قدم رسول الله صلى الله عليه و سلم فاستقبلنا عمال خيبر قد أخرجوا مساحيهم ومكاتلهم فلما رأوا النبي صلى الله عليه و سلم والجيش قالوا محمد والخميس فأدبروا هرابا فقال النبي صلى الله عليه و سلم الله أكبر خربت خيبر إنا إذا نزلنا بساحة قوم فساء صباح المنذرين
حمید الطویل نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب نبی اکرم ﷺ جب کسی قوم سے جہاد کرتے تو صبح ہونے تک ان پر حملہ نہ کرتے پس اگر اذان کی آواز سن پاتے تو حملے سے رک جاتے اور اگر اذان کی آواز نہ سنتے تو حملہ کر دیتے ۔پس ہم خیبر میں اترے جب صبح ہوئی اور آپؐ نے اذان نہ سنی تو آپؐ بھی سوار ہوئے اورہم بھی سوار ہوئے میں ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے سوار ہوا اور میرا پاؤں جناب رسول اللہ ﷺ کے پاؤں کو چھو رہا تھا ۔ پھر ہمارا سامنا خیبر کے مزدوروں سے ہوا وہ اپنی کدالیں اور ٹوکرے لئے نکلے ۔ جب انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ اور لشکر کو دیکھا تو کہنے لگے یہ تو محمد ﷺ لشکر سمیت آئے ہیں اور پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوئے ۔ جناب نبی اکرم ﷺ نے نعرہ تکبیر بلند کرتےہوئے فرمایا خیبر برباد ہو گیا ۔ بے شک جب ہم کسی قوم کی زمین پر اترتے ہیں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بری ہوتی ہے
اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← بن إِسْحَاقَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، ← يُوسُفَ بْنِ بُهْلُولٍ، ← فهد
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4978
