Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 15 باب ما أحرز المشركون من أموال المسلمين هل يملكونه أم لا ) · حديث 5170

4891 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا عبيد الله قال أخبرنا حماد عن الحجاج عن بن إبراهيم وعامر قال وقال قتادة عن عمر أنهم قالوا فيما أصاب المشركون من المسلمين ثم أصابه المسلمون بعد قالوا إن جاء صاحبه قبل أن يقسم فهو أحق به

قتادہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ تمام صحابہ نے فرمایا کہ اگر مشرکین مسلمانوں کا مال قبضہ میں لے لیں پھر دوبارہ مسلمان اس مال کو پا لیں تو اگر اس کا مالک تقسیم سے پہلے آ جا ئے تو وہ اس کا حقدار ہے ۔

إن جاء صاحبه قبل أن يقسم فهو أحق به ← فيما أصاب المشركون من المسلمين ثم أصابه المسلمون بعد ← عمر أنهم ← وَقَالَ قَتَادَةُ، ← بن إبراهيم وعامر ← الْحَجَّاجِ، ← حَمَّادٌ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5170

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 15 باب ما أحرز المشركون من أموال المسلمين هل يملكونه أم لا ) · حديث 5171

4892 - حدثنا أحمد قال ثنا عبيد الله قال أخبرنا حماد عن أيوب عن نافع أن المشركين أصابوا فرسا لعبد الله بن عمر فأصابه المسلمون بعد فأخذه عبد الله بن عمر قبل أن يقسم القاسم ولم يذكر نافع هنا قبل أن يقسم القاسم إلا أن الحكم بعد ما يقع القاسم بخلاف ذلك عنده

نافع روایت کرتے ہیں کہ دشمن حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا گھوڑا لے گئے پھر مسلمانوں نے اس پر قبضہ کر لیا تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے تقسیم سے پہلے وہ لے لیا ۔ حضرت نافع رحمتہ اللہ علیہ نے یہاں یہ ذکر کیا کہ انہوں نے تقسیم سے پہلے لیا مگر ابن عمر رضی اللہ عنہ کے ہاں تقسیم کے بعد اس کا حکم اس کے خلاف ہے ۔

أَيُّوبَ، ← حَمَّادٌ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← أَحْمَدُ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5171

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 15 باب ما أحرز المشركون من أموال المسلمين هل يملكونه أم لا ) · حديث 5172

4893 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا عبيد الله قال أخبرنا حماد بن سلمة عن قتادة عن خلاس أن علي بن أبي طالب قال من اشترى ما أحرز العدو فهو جائز

قتادہ رحمتہ اللہ علیہ نے خلاص سے انہوں نے حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا اگر دشمن کسی چیز کو قابو کرے تو اس کے بعد اس کو خریدنا جائز ہے ۔

من اشترى ما أحرز العدو فهو جائز ← خلاس أن علي بن أبي طالب ← قَتَادَةَ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5172

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 15 باب ما أحرز المشركون من أموال المسلمين هل يملكونه أم لا ) · حديث 5173

4894 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا يوسف قال ثنا بن المبارك عن معمر عن الزهري والحسن قالا ما احرز المشركون فهو فئ للمسلمين لا يرد منه شيء فكل هؤلاء الذين روينا عنهم هذه الآثار قد ثبت ملك المشركين لما أحرزوا من أموال المسلمين وإنما اختلافهم فيما بعد ذلك فقال الحسن والزهري إن ما أحرز المشركون من أموال المسلمين ثم قدر المسلمون عليه بعد ذلك فلا سبيل لصاحبه عليه وقد خالفهما في ذلك شريح ومجاهد وإبراهيم وعامر ومن تقدمهم من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم عمر وعلي وأبو عبيدة وابن عمر وزيد بن ثابت رضي الله عنهم أجمعين وشد ما قالوه من ذلك ما قد رويناه عن النبي صلى الله عليه و سلم في حديث تميم بن طرفة فذلك أولى مما ذهبنا إليه وإن كان النظر مخالفا لما ذهب إليه الفريقان جميعا وذلك أنا رأينا المسلمين يسبون أهل الحرب وأموالهم فيملكون أموالهم كما يملكون رقابهم وكان المشركون إذا أسروا المسلمين لم يملكوا رقابهم فالنظر على ذلك أن لا يملكون أموالهم ويكون حكم أموال المسلمين كحكم رقابهم كما كان حكم أموال المشركين كحكم رقابهم ولكنا منعنا من ذلك بما حكم به رسول الله صلى الله عليه و سلم وبما حكم به المسلمون من بعده فلما ثبت ما حكموا به من ذلك فنظرنا إلى ما أختلف فيه من حكم ما قدر عليه المسلمون في ذلك فأخذوه من أيدي المشركين فجاء صاحبه بعد ما قسم هل له أن يأخذه بالقيمة كما قال بعض من روينا عنه في هذا الباب أؤ لا يأخذه بقيمة ولا غيرها كما قد قال بعض من روينا عنه في هذا الباب أيضا فنظرنا في ذلك فرأينا النبي صلى الله عليه و سلم قد حكم في مشتري البعير من أهل الحرب أن لصاحبه أن يأخذه منه بالثمن وكان ذلك البعير قد ملكه المشتري من الحربيين كما يملك الذي يقع في سهمه من الغنيمة ما يقع في سهمه منها فالنظر على ذلك أن يكون الإمام إذا قسم الغنيمة فوقع شيء منها في يد رجل وقد كان أسر ذلك من يد آخر أن يكون المأسور من يده كذلك وأن يكون له أخذ ما كان أسر من يده من يدي الذي وقع في سهمه بقيمته كما يأخذه من يد مشتريه الذي ذكرنا بثمنه وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمة الله عليهم أجمعين

زہری اور حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جو چیز مشرکین کے قابو میں ہو وہ مسلمانوں کے لئے مال غنیمت ہے ۔ اس سے کچھ بھی واپس نہ کیا جائے گا ۔ ان تمام راویات سے ثابت ہو تا ہے کہ جو چیز مسلمانوں کی مشرک اپنے قبضہ میں لے لیں وہ ان کی ملکیت بن جاتی ہے ۔ مگر اس سلسلہ میں اختلاف ہے زہری و حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مشرکین مسلمانوں کے اموالمیں سے جو کچھ قابو میں لیں پھر دوسری بار ان کو قبضہ مل جاتا ہے تو اس امل میں مالک کا اب کوئی حق نہیں ۔ مگر دوسری طرف حضرت مجاہد، شریح، ابن عمر ،حضرت عمر ، حضرت علی المرتضی، ابو عبیدہ ، زید بن ثابت رضی اللہ عنہم نے ان دونوں کی مخالفت کی ہے اور انہوں نے اپنے قول کو جناب رسول اللہﷺ کے اس ارشاد گرامی سے پختہ و مضبوط کیا ہے جس کو ہم نے حضرت تمیم بن طرفہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں ذکر کیا ہے یہ اس سے بہتر ہے جس کی طرف ہم گئے ہیں ۔ اگرچہ قیاس کا تقاضا ان دونوں کے خلاف ہے ۔ وہ اس طرح کہ ۔ اگرچہ قیاس ہر دوفریق کے خلاف ہے ووہ اس طرح کہ ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمان اہل حرب کو قیدی بناتے اور ان کے مال پر قبضہ کرکے ان کے مالک بن جاتے ہیں جس طرح کہ وہ ان کی گردنوں کے مالک بن جاتے ہیں اور مشرکین جب مسلمانوں کو قیدی بناتے ہیں تو وہ ان کی گردونوں کے مالک تو نہیں بنتے مگر مالوں کے مالک بن جاتے ہیں اگرچہ قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ وہ ان اموال کے بھی مالک نہ بنیں اور مسلمانوں کے اموال کا حکم بھی ان کی گردنوں جیسا ہو ۔ جیسا کہ مشرکین کے اموال کا حکم ان کی گردونوں کی طرح ہے ۔ مگر ہم نے جناب رسول اللہﷺ اور آپ کے بعد والے مسلمانوں کے فیصلے کی وجہ سے اس قیاس کو ترک کر دیا ۔ تو اب جبکہ اس سلسلہ میں ان کا فیصلہ ثابت ہو گیا تو ہم نے مختلف فیہ مسئلہ سے متعلق بھی غور کیا یعنی جبکہ مسلمان اس پر قادر ہو کر مشرکین کے ہاتھوں لے لیں اور پھر تقسیم کے بعد اس کا مالک آ جائے تو وہ قیمت کے ساتھ لے سکتا ہے ۔ جیسا کہ ان بعض حضرات کا قول گزرا جس سے ہم نے اس باب میں روایت کیا ہے یا قیمت سے بھی نہیں لے سکتا اور نہ اور کسی طریقہ سے جیسا کہ دوسروں نے کہا جن کی روایات کا تذکرہ کر دیا گیا ۔ تو غور سے دیکھنے پر معلوم ہوا کہ جناب رسول اللہﷺ نے اہل حرب سے اونٹ خریدنے والے کے سلسلے میں فیصلہ فرمایاکہ وہ مذکورہ قیمت سے لے لے اور اس اونٹ کو حربیوں سے خرید کر مشتری مالک بن چکا تھا ۔ جس طرح وہ مالک بن جاتا ہے جس کا حصہ غنیمت میں آئے ۔ پس نظر کا تقاضا یہ ہے کہ امام نے غنیمت کو جب تقسیم کر دیا اور اس کا کوئی حصہ کسی آدمی کے ہاتھ میں آیا اور وہ چیز دوسرے ہاتھوں سے مقید ہوئی تھی اس اس کے ہاتھ میں مقید ہونے والی چیز کا حکم بھی اسی طرح ہونا چاہئے اور جو اس کے اپنے ہاتھوں سے مقید ہوئی اس کو قیمت کے ساتھ اس آدمی سے لینا درست ہے جس کے وہ حصہ میں آئی ہے۔

الزُّهْرِيِّ وَالْحَسَنِ ← مَعْمَرٌ، ← بن الْمُبَارَكِ، ← يُوسُفُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5173

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 16 باب ميراث المرتد لمن هو ) · حديث 5174

4895 - حدثنا يونس قال ثنا سفيان عن الزهري عن علي بن حسين عن عمرو بن عثمان عن أسامة بن زيد أن النبي صلى الله عليه و سلم قال لا يرث الكافر المسلم ولا المسلم الكافر

عمرو بن عثمان نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کافر مسلمان کا اور مسلمان کافر کا وارث نہیں ہوتا ۔

أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، ← عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5174

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 16 باب ميراث المرتد لمن هو ) · حديث 5175

4896 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب قال أخبرني يونس عن بن شهاب فذكر بإسناده مثله

یونس نے ابن شہاب سے پھر انہوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح رویات نقل کی ہے ۔

بن شهاب فذكر بإسناده مثله ← يُونُسَ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5175

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 16 باب ميراث المرتد لمن هو ) · حديث 5176

4897 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب قال أخبرني مالك عن بن شهاب عن علي بن حسين عن عمرو بن عثمان عن أسامة عن النبي صلى الله عليه و سلم قال لا يرث المسلم الكافر قال أبو جعفر فذهب قوم إلى أن المرتد إذا قتل على ردته أو مات عليها كان ماله لبيت مال المسلمين واحتجوا في ذلك بهذا الحديث وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا ميراثه لورثته من المسلمين وكان من الحجة لهم على أهل المقالة الأولى أن ذلك الكافر الذي عناه النبي صلى الله عليه و سلم في هذا الحديث لم يبين لنا فيه أي كافر هو فقد يجوز أن يكون هو الكافر الذي له ملة ويجوز أن يكون هو الكافر كل كفر كان ما كان ملة أو غير ملة فلما احتمل ذلك لم يجز أن يصرف إلى أحد المعنيين دون الآخر إلا بدليل يدل على ذلك فنظرنا هل في شيء من الآثار ما يدل على ما أراد به من ذلك فإذا ربيع المؤذن قد

عمرو بن عثمان نے اسامہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے نقل کیا کہ مسلمان کافر کا وارث نہ ہو گا ۔ امام طحاوی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں : کہ بعض لوگونم کا خیال یہ ہے کہ جب مرتد ہونے والا اپنے ارتداد پر قتل ہو جائے یا مر جائے تو اس کا مال بیت المال میں جائے گا اس کی دلیل مندرجہ بالا روایات ہیں ۔ دوسروں نے کہا مرتد کی میراث اس کے مسلمان ورثاء کو ملے گی ۔ فریق اول کے مؤقف کا جواب یہ ہے کہ اس اراد میں نبی اکرم ﷺ نے متعلقہ کافر کی وضاحت نہیں فرمائی کہ اس سے کون سا کافر مراد ہے ۔ ممکن ہے کہ اس سے وہ کافر مراد ہو جس کا کسی ملت سے تعلق ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ مطلق کافر مراد ہو ۔ خواہ اس کا کسی ملت سے تعلق ہو یا نہ ہو ۔ تو جب اس بات کا احتمال ہے تو کسی دلیل کے بغیر کسی ایک جانب کو متعین نہیں کیا جا سکتا ۔ اب دونوں معانی میں سے ایک کی تعیین نہیں کی جا سکتی جو کہ جناب رسول اللہ ﷺ کی مراد پر دلالت کرتی ہے ۔

لَا يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ ← أُسَامَةُ، ← عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، ← عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، ← بن شِهَابٍ ← مَالِكٍ، ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5176

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 16 باب ميراث المرتد لمن هو ) · حديث 5177

4898 - حدثنا قال ثنا أسد بن موسى قال ثنا هشيم عن الزهري قال حدثني علي بن حسين عن عمرو بن عثمان عن أسامة بن زيد قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لا يتوارث أهل ملتين لا يرث المسلم الكافر ولا يرث الكافر المسلم فلما جاء هذا عن رسول الله صلى الله عليه و سلم بما ذكرنا علمنا أنه أراد الكافر ذا الملة فلما رأينا الردة ليست بملة ورأيناهم مجمعين أن المرتدين لا يرث بعضهم بعضا لأن الردة ليست بملة ثبت أن حكم ميراثهم حكم ميراث المسلمين فإن قال قائل فأنت لا تورثهم من المسلمين فكذلك لا تورث المسلمين منهم قيل له ما في هذا دليل لك على ما ذكرت لأنا قد رأينا من يمنع الميراث بفعل كان منه ولا يمنع ذلك الفعل أن يورث من ذلك أنا رأينا القاتل لا يرث من قتل ورأينا لو جرح رجلا جراحة ثم مات المجروح من الجراحة والجارح أبو المجروح أنه يرثه فقد صار المقتول يرث ممن قتله ولا يرث القاتل ممن قتل لأن القاتل عوقب بقتله فمنع الميراث ممن قتله ولم يمنع المقتول من الميراث ممن جرحه الجراحة التي قتلته إذ كان لم يفعل شيئا فكذلك المرتد منع من ميراث غيره عقوبة لما أتاه ولم يمنع غيره من الميراث منه إذ لم يكن منه ما يعاقب عليه فثبت بذلك قول من يورث من المرتد ورثته من المسلمين وقد روى في ذلك عن جماعة من المتقدمين أيضا

عمر و بن عثمان نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مسلمان کافر کا وارث نہ ہو گا اور نہ کافر مسلمان کا وارث ہوتا ہے ۔ اس روایت سے معلوم ہو رہا ہے کہ کافر سے اہل ادیان مراد ہین اور مرتد ہونا تو کوئی دین نہیں اور اس پر سب کا اجماع ہے کہ مرتد ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوتے کیونکہ خود ارتداد کوئی دین نہیں اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ ان کی وراثت کا حکم مسلمانوں کی وراثت جیسا ہے ۔ تمہارے ہاں جب مسلمان کے وہ وارث نہیں تو مسلمان ان کے کس طرح وارث ہوئے ۔تمہاری بات کوئی دلیل اس روایت میں نہیں ہے کیونکہ اگر کوئی شخس اپنے کسی عمل کی وجہ میراث سے محروم ہو جائے تو وہ فعل اس کے وارث بننے میں رکاوٹ نہ بنے گی اسی سلسلہ کی یہ بات ہے کہ قاتل مقتول کا وارث نہیں بنتا اور ہم نے دیکھا کہ اگر کوئی شخص کسی کو زخمی کرتا ہے پھر زخمی کرنے والاخود طبعی موت مر گیا کچھ وقت بعد اسی زخم کی وجہ سے یہ زخمی شخص مرگیا اور زخمی کرنے والا اس زخمی شخص کا والد ہے تو اب یہ زخمی شخص اپنے زخم لگانے والے والد کا وارث بن جائے گا۔ اس سے ثابت ہو اکہ کہ مقتول اپنے قاتل کا وارث بن جاتا ہے ۔ مگر قاتل مقتول کا وارث نہیں بنتا اس کی وجہ یہ ہے کہ قاتل کو اس کے فعل قتل کی سزا دی گئی ۔ اس وجہ سے وہ مقتول کی وراثت سے محروم ہو گیا لیکن اس کے بالمقابل مقتول اس شخص کی وراثت سے محروم نہین ہوتا کہ جس نے اسے جانبر نہ ہونے والا زخم لگایا ۔ جس سے وہ مر گیا کیونکہ اس نے ایسا کوئی فعل نہیں کیا ( جس سے اسے محروم کیا جائے ) اس طرح مرتد کو اس عمل کی سزا دیتے ہوئے دوسروں کی وراثت سے تو محروم رکھا جائے گا لیکن دوسروں کو اس کی وراثت سے محروم نہ رکھا جائے گا کیونکہ دوسروں نے تو کوئی ایسا فعل نہیں کیا جس کی سزا میں ان کو وراثت سے محروم کر دیا جائے ۔ اس سے فریق ثانی کا قول ثابت ہو گیا کہ وہ مرتد کے مسلمان ورثاء کو اس کی وراثت دینے کے قائل ہیں ۔

أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، ← عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← هُشَيْمٌ ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5177

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 16 باب ميراث المرتد لمن هو ) · حديث 5178

4899 - حدثنا فهد قال ثنا محمد بن سعيد الأصبهاني قال أخبرنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي عمرو الشيباني عن علي أنه جعل ميراث المستورد لورثته من المسلمين

ابو عمر و شیبانی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے مستور کی وراثت اس کے مسلمان ورثاء کو دی ۔

علي أنه جعل ميراث المستورد لورثته من المسلمين ← أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَصْبَهَانِيُّ ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5178

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 16 باب ميراث المرتد لمن هو ) · حديث 5179

4900 - حدثنا فهد ثنا محمد بن سعيد قال أخبرنا شريك عن سماك عن بن عبيد بن الأبرص أن عليا قال للمستورد على دين من أنت قال علي دين عيسى قال علي وأنا علي دين عيسى فمن ربك فزعم القوم أنه قال إنه ربه فقال اقتلوه ولم يتعرض لما له

ابن عبید بن ابرص نے بیان کیا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مستور د کو فرمایا تم کس دین پر ہو ؟ اس نے کہا حضرت عیسی علیہ السلام کے دین پر ہوں ۔ تو آپ نے فرمایا میں بھی عیسی علیہ السلام کے دین پر ہوں آپ نے دوبارہ سول کیا تمہارا رب کون ہے ۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس نے کہا عیسی علیہ السلام میرا رب ہے ۔ اس پر آپ نے فرمایا اس کو قتل کر ددو ۔ مگر آپ نے اس کے مال کو نہ چھیڑا ۔

إنه ربه فقال اقتلوه ولم يتعرض لما له ← علي وأنا علي دين عيسى فمن ربك فزعم القوم أنه ← علي دين عيسى ← للمستورد على دين من أنت ← بن عبيد بن الأبرص أن عليا ← سِمَاكٍ، ← شَرِيکٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5179

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 16 باب ميراث المرتد لمن هو ) · حديث 5180

4901 - حدثنا فهد قال ثنا محمد بن سعيد قال أخبرنا محمد بن فضيل عن الوليد بن جميع عن القاسم بن عبد الرحمن عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه أنه قال إذا مات المرتد ورثه ولده

قاسم بن عبدالرحمن نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے نے فرمایا کہ جب مرتد مر جائے تو اس کی اولاد اس کی وارث ہوتی ہے ۔

إذا مات المرتد ورثه ولده ← عبد الله بن مسعود أنه ← الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← الْوَلِيدِ بْنِ جُمَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5180

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 16 باب ميراث المرتد لمن هو ) · حديث 5181

4902 - حدثنا علي بن زيد قال ثنا عبدة بن سليمان قال ثنا عبد الله بن المبارك قال أخبرنا شعبة عن الحكم بن عتيبة أن بن مسعود قال ميراثه لورثته من المسلمين

حکم بن عتیبہ نے بیان کیا کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا مرتد کی میراث اس کے مسلمان ورثاء کو ملے گی ۔

ميراثه لورثته من المسلمين ← الحكم بن عتيبة أن بن مسعود ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5181

chevron_left Previous
1…171819…33
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter