شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 14 باب الفداء ) · حديث 5158
4880 - حدثنا صالح بن عبد الرحمن قال ثنا سعيد بن منصور قال ثنا هشيم قال أخبرنا مجالد قال أخبرنا أبو الوداك جبر بن نوف عن أبي سعيد الخدري قال أصبنا سبيا فأردنا نفادي بهن فسألنا النبي صلى الله عليه و سلم فقلنا يا رسول الله الرجل يكون له الأمة فيصيب منها فيعزل عنها مخافة أن تعلق منه فقال أفعلوا ما بدا لكم فما يقضى من أمر يكن وإن كرهتم قال أبو جعفر فذهب قوم إلى أنه لا بأس أن يفدي ما في أيدي المشركين من أسرى المسلمين بمن قد ملكه المسلمون من أهل الحرب من الرجال والنساء وأحتجوا في ذلك بهذه الآثار وممن ذهب إلى هذا القول أبو يوسف رحمة الله عليه وكره آخرون أن يفادى بمن قد وقع ملك المسلمين عليه لأنه قد صارت له ذمة بملك المسلمين إياه فمكروه أن يرد حربيا بعد أن كان ذمة وقالوا إنما كان الفداء المذكور في هذه الآثار في وقت كان لا بأس أن يفادى فيه بمن اسلم من أهل الحرب فيردوا إلى المشركين على أن يردوا إلى المسلمين من أسروا منهم كما صالح رسول الله صلى الله عليه و سلم أهل مكة على أن يرد إليهم من جاء إليه منهم وإن كان مسلما فمما بين أن ذلك كذلك أن محمد بن خزيمة
جبر بن نوف نے حضرت ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ہم نے کچھ کافر قید کئے پس ہم نے چاہا کہ ان کو ہم فدیہ میں دیں تو ہم نے جناب نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا کہ اگر اس آدمی کے ہاں لونڈی ہو تو وہ حاملہ ہونے کے خطرہ سے اس سے عزل کر سکتا ہے آپؐ نے فرمایا جو چاہو تم کرو ۔ جس کام کا فیصلہ اللہ تعالی نے فرما لیا ہے وہ ہو کر رہے گا خواہ تمہیں نا پسندہو ۔ امام طحاوی فرماتے ہیں کہ ایک جماعت کا قول یہ ہے کہ مسلمانوں کو اہل حرب سے جو مرد یا عورتیں ہاتھ آئیں ان ان مسلمان قیدیوں کے فدیہ میں دے دینے میں کوئی حرج نہین جو کہ مشرکین کی قید میں ہوں ۔ ان کی دلیل مندرجہ بالا روایات ہیں ۔ اس قول کو امام ابو یوسف رحمۃاللہ علیہ نے اختیار کیا ہے ۔ دوسروں نے کہا کہ قیدیوں کو مسلمانوں کے فدیہ میں سدینا مکروہ ہے کیونکہ یہ لوگ مسلمانوں کی ملکیت میں آنے پر ذمی بن چکے ہیں تو ذمی بننے کے بعد ان کو حربی بنانا نا درست اور مکروہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان روایات میں جس فدیہ کا ذکر ہے اس زمانے کی بات ہے جبکہ اہل حرب میں سے جو لوگ مسلمان ہوجاتے تھے وہ بطور فدیہ مشرکین کی طرف لوٹا دئیے جاتے تھے تاکہ وہ مسلمان قیدیوں کر مسلمانوں کی طرف واپس کر دیں جیسا کہ آپ ﷺ نے اہل مکہ سے اس شرط پر صلح فرمائی کہ ان میں سے جو آپ کے پاس مسلمان ہوکر آجائے گا اس کو ان کی طرف لوٹا دیا جائے گا اگرچہ وہ مسلمان ہو ۔ جیسا کہ یہ روایت ثابت کر رہی ہیں ۔
أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبُو الْوَدَّاكِ جَبْرُ بْنُ نَوْفٍ ← مجالد ← هُشَيْمٌ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← صالح بن عبد الرحمن
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5158
