Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 14 باب الفداء ) · حديث 5158

4880 - حدثنا صالح بن عبد الرحمن قال ثنا سعيد بن منصور قال ثنا هشيم قال أخبرنا مجالد قال أخبرنا أبو الوداك جبر بن نوف عن أبي سعيد الخدري قال أصبنا سبيا فأردنا نفادي بهن فسألنا النبي صلى الله عليه و سلم فقلنا يا رسول الله الرجل يكون له الأمة فيصيب منها فيعزل عنها مخافة أن تعلق منه فقال أفعلوا ما بدا لكم فما يقضى من أمر يكن وإن كرهتم قال أبو جعفر فذهب قوم إلى أنه لا بأس أن يفدي ما في أيدي المشركين من أسرى المسلمين بمن قد ملكه المسلمون من أهل الحرب من الرجال والنساء وأحتجوا في ذلك بهذه الآثار وممن ذهب إلى هذا القول أبو يوسف رحمة الله عليه وكره آخرون أن يفادى بمن قد وقع ملك المسلمين عليه لأنه قد صارت له ذمة بملك المسلمين إياه فمكروه أن يرد حربيا بعد أن كان ذمة وقالوا إنما كان الفداء المذكور في هذه الآثار في وقت كان لا بأس أن يفادى فيه بمن اسلم من أهل الحرب فيردوا إلى المشركين على أن يردوا إلى المسلمين من أسروا منهم كما صالح رسول الله صلى الله عليه و سلم أهل مكة على أن يرد إليهم من جاء إليه منهم وإن كان مسلما فمما بين أن ذلك كذلك أن محمد بن خزيمة

جبر بن نوف نے حضرت ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ہم نے کچھ کافر قید کئے پس ہم نے چاہا کہ ان کو ہم فدیہ میں دیں تو ہم نے جناب نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا کہ اگر اس آدمی کے ہاں لونڈی ہو تو وہ حاملہ ہونے کے خطرہ سے اس سے عزل کر سکتا ہے آپؐ نے فرمایا جو چاہو تم کرو ۔ جس کام کا فیصلہ اللہ تعالی نے فرما لیا ہے وہ ہو کر رہے گا خواہ تمہیں نا پسندہو ۔ امام طحاوی فرماتے ہیں کہ ایک جماعت کا قول یہ ہے کہ مسلمانوں کو اہل حرب سے جو مرد یا عورتیں ہاتھ آئیں ان ان مسلمان قیدیوں کے فدیہ میں دے دینے میں کوئی حرج نہین جو کہ مشرکین کی قید میں ہوں ۔ ان کی دلیل مندرجہ بالا روایات ہیں ۔ اس قول کو امام ابو یوسف رحمۃاللہ علیہ نے اختیار کیا ہے ۔ دوسروں نے کہا کہ قیدیوں کو مسلمانوں کے فدیہ میں سدینا مکروہ ہے کیونکہ یہ لوگ مسلمانوں کی ملکیت میں آنے پر ذمی بن چکے ہیں تو ذمی بننے کے بعد ان کو حربی بنانا نا درست اور مکروہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان روایات میں جس فدیہ کا ذکر ہے اس زمانے کی بات ہے جبکہ اہل حرب میں سے جو لوگ مسلمان ہوجاتے تھے وہ بطور فدیہ مشرکین کی طرف لوٹا دئیے جاتے تھے تاکہ وہ مسلمان قیدیوں کر مسلمانوں کی طرف واپس کر دیں جیسا کہ آپ ﷺ نے اہل مکہ سے اس شرط پر صلح فرمائی کہ ان میں سے جو آپ کے پاس مسلمان ہوکر آجائے گا اس کو ان کی طرف لوٹا دیا جائے گا اگرچہ وہ مسلمان ہو ۔ جیسا کہ یہ روایت ثابت کر رہی ہیں ۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبُو الْوَدَّاكِ جَبْرُ بْنُ نَوْفٍ ← مجالد ← هُشَيْمٌ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← صالح بن عبد الرحمن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5158

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 14 باب الفداء ) · حديث 5159

حدثنا قال ثنا يوسف بن عدي قال ثنا عبد الله بن المبارك عن معمر عن أيوب عن أبي قلابة عن أبي المهلب عن عمران بن حصين قال أسرت ثقيف رجلين من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم وأسر أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم رجلا من بني عامر بن صعصعة فمر به النبي صلى الله عليه و سلم وهو موثق فأقبل إليه رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال على م أحتبس قال بجريرة حلفائك ثم مضى رسول الله صلى الله عليه و سلم فناداه فأقبل إليه فقال له الاسير إني مسلم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم لو قلتها وأنت تملك أمرك افلحت كل الفلاح ثم مضى رسول الله صلى الله عليه و سلم فناداه أيضا فأقبل فقال إني جائع فأطعمني فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم أنفذك حاجتك ثم إن النبي صلى الله عليه و سلم فاداه بالرجلين اللذين كانت ثقيف أسرتهما

ابو مہلب نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ قبیلہ بنو ثقیف نے دو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو قیدی بنا لیا ۔ صحابہ کرام نے بنو عامر بن صعصعہ کے ایک آدمی کو گرفتار کیا جناب رسول اللہ ﷺ وہاں سے گزرے تو وہ بندھا ہوا تھا ۔ آپ نے اس کی طرف متوجہ ہوئی تو وہ کہنے لگا مجھے کیوں قید کیا گیا آپ نے فرمایا تمہارے حلیفوں کے جرم میں ۔ پھر جناب رسول اللہ ﷺ تشریف لے گئے تو اس نے آواز دی آپ اس کی طرف متوجہ ہوئے تو قیدی کہنے لگا میں تو مسلمان ہو گیا ہو ں آپ نے فرمایا اگر تو اس وقت یہ بات کہتا جب تو اپنے معاملے کا مالک تھا تو مکمل طور پر فلاح و کامیابی پا لیتا ۔ پھر جناب رسول اللہ ﷺ تشریف لے گئے تو اس نے دوبارہ آواز دی آپ کے متوجہ ہونے پر کہنے لگا میں بھوکا ہوں آپ نے فرمایا میں تمہاری حاجت پورا کروں گا پھر جناب رسول اللہ ﷺ نے اسے ان دو آدمیوں کے عوض چھوڑ دیا جن کو بنی ثقیف نے گرفتار کیا تھا ۔

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← أَبِي الْمُهَلَّبِ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5159

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 14 باب الفداء ) · حديث 5160

4881 - حدثنا فهد قال ثنا أبو نعيم قال ثنا حماد بن زيد عن أيوب عن أبي قلابة عن أبي المهلب عن عمران بن حصين قال كانت العضباء لرجل من بني عقيل أسر فأخذت العضباء منه فأتي به رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال يا محمد على م تأخذوني وتأخذون سابقة الحاج وقد أسلمت فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم آخذك بجريرة حلفائك وكانت ثقيف قد أسرت رجلين من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم ورسول الله صلى الله عليه و سلم على حمار عليه قطيفة فقال يا محمد إني جائع فأطعمني وظمآن فاسقني فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم هذه حاجتك ثم أن الرجل فدى برجل وحبس رسول الله صلى الله عليه و سلم العضباء لرحله قال أبو جعفر فهذا الحديث مفسر قد أخبر فيه عمران بن حصين رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه و سلم فادى بذلك المأسور بعد أن أقر بالإسلام وقد أجمعوا أن ذلك منسوخ وأنه ليس للإمام أن يفدى من أسر من المسلمين بمن في يديه من أسرى أهل الحرب الذين قد أسلموا وأن قول الله تعالى لا ترجعوهن إلى الكفار قد نسخ أن يرد أحد من أهل الإسلام إلى الكفار فلما ثبت بذلك وثبت أن لا يرد إلى الكفار من جاءنا منهم بذمة وثبت أن الذمة تحرم ما حرمه الإسلام من دماء أهلها وأموالهم وأنه يجب علينا منع أهلها من نقضها والرجوع إلى دار الحرب كما يمنع المسلمون من نقض إسلامهم والخروج إلى دار الحرب على ذلك وكان من أصبناه من أهل الحرب فملكناه صار بملكنا إياه ذمة لنا ولو أعتقناه لم يعد حربيا على ذلك وكان لنا أخذه بأداء الجزية إلينا كما نأخذ بسائر ذمتنا وعلينا حفظه مما يحفظهم منه وكان حراما علينا أن نفادي بعبيدنا الكفار الذين قد ولدوا في دارنا لما قد صار لهم من الذمة فالنظر على ذلك أن يكون كذلك هذا الحربي إذا أسرناه فصار ذمة لنا وقع ملكنا عليه أن يحرم علينا المفاداة به ورده إلى أيدي المشركين وهذا قول أبي حنيفة رحمة الله عليه

ابوالمہلب نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ عضبا ء اونٹنی بنو عقیل کے ایک شخص کی تھی جس کو قید کیا گیا تھا اس وہ اونٹنی لے لی گئی اس خص کو جناب نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں لایا گیا تو اس نے کہا اے محمد (ﷺ) آپ نے مجھے جس بات پر پکڑا ہے اور اس اونٹنی کو بھی پکڑا ہے جو تمام حاجیوں سے سبقت کرنے والی ہے حالانکہ میں مسلمان ہو گیا ہوں ۔ جناب رسول اللہﷺ نے فرمایا میں نے تمہیں تمہارے خلفاء کے جرم میں پکڑا ہے اور بنو ثقیف نے دو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو قیدی بنا لیا تھا جناب نبی اکرم ﷺ ایک دراز گو ش پر سوار تھے اور آپ نے ایک دھاری دار چادر زیب تن کر رکھی تھی ۔ اس نے کہا اے محمد (ﷺ) میں بھوکا ہوں مجھے کھانا کھلائیں ۔ میں پیاسا ہوں مجھے پانی پلائیں جناب رسول اللہﷺ نے فرمایا یہ تمہاری ضرورت ہے پھر جناب رسول اللہﷺ نے اس کے عوض ایک صحابی کو چھڑایا اور اونٹنی کو اپنی سواری کے لئے رکھ لیا ۔ اس روایت میں پہلی کی بنسبت زیادہ وضاحت ہے اس میں حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے خبر دی ہے کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے اس شخص کو اظہار اسلام کے باوجود مقید صحابی کے عوض میں دے کر اسے چھڑایا اور اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ بات منسوخ ہے اور امام کو اس بات کا اختیار نہیں ہے کہ وہ اہل حرب میں سے حاصل ہونے والے قیدیوں کو جو کہ اسلام لے آئیں مسلمان قیدیوں کے عوض دیں اور اس آیت : فلا ترجعو ھن الی الکفار " الا یہ نے کسی مسلمان کے کفار کی طرف لوٹانے والے حکم کو منسوخ کر دیا جبکہ اس حکم کا منسوخ ہونا ثابت ہو چکا اور یہ بھی ثابت ہو گیا کہ جوشخص ذمی بن کر ہمارے پاس آئے تو اسے کفار کی طرف نہ لوٹایا جائے اور ثابت ہوا کہ جس طرح اسلام کی وجہ سے خونوں اور مالوں کو تحفظ حاصل ہوتا ہے اس طرح کسی عہد و پیمان کر لینے سے یہ چیزیں حرام ہو جاتی ہیں اور ہم پر لازم ہو جاتا ہے کہ ہم اہل ذمہ کو اس ذمہ داری کے توڑنے اور دارالحرب کی طرف لوٹنے سے منع کریں گے جس طرح کہ مسلمانوں کو اسلام کے ترک کرنے اور دارالحرب کی طرف جانے سے روکا جاتا ہے ۔ جن اہل حرب کو ہم حاصل کریں گے ان کے ہما ملک بن جائیں گے اس سے ملکیت سے ان کا ذمہ ہونا ثابت ہو گا اور اگر ہم ان کو آزاد کر دیں وہ اس کے بعد حربی چمار نہ ہوں گے اور اداء جزیہ کے ساتھ ان کو دارالاسلام میں لینا درست ہو گا جیسا کہ دیگر ذمیوں کا معاملہ ہے اور ہمارے ذمہ ان کی تمام چیزوں سے ان کی حفاظت ضروری جن سے مسلمانوں کی حفاظت کرتے ہیں اور یہ بات ہمارے لئے حرام ہے کہ وہ غلام جو ہمارے ملک میں پیدا ہوتے اور ذمی بن گئے ان کو فدیہ میں دے کر دارالحرب سے مسلمانوں کا چھڑانا جائز نہیں ۔ اس لئے کہ وہ ذمی بن چکے ہیں ۔ اس پر قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ حربی جس کو ہم نے قید کر لیا وہ ہماری ذمہ داری میں آگیا اور ہم اس کے مالک بن گئے اس کو بھی فدیہ میں دے کر دوسرے مسلمان کو چھڑانا جائز نہیں اور اس کا مشرکین کی طرف ( مسلمان ہونے کی صورت میں ) واپس کرنا درست نہیں یہ امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے ۔

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← أَبِي الْمُهَلَّبِ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5160

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 15 باب ما أحرز المشركون من أموال المسلمين هل يملكونه أم لا ) · حديث 5161

4882 - حدثنا فهد قال ثنا أبو نعيم قال ثنا حماد بن زيد عن أيوب عن أبي قلابة عن أبي المهلب عن عمران بن حصين قال كانت العضباء من سوابق الحاج فأغار المشركون على سرح المدينة فذهبوا به وفيه العضباء وأسروا امرأة من المسلمين وكانوا إذا نزلوا يرسلون إبلهم في أفنيتهم فلما كانت ذات ليلة قامت المرأة وقد نوموا فجعلت لا تضع يدها على بعير إلا رغا حتى إذا أتت على العضبا فأتت على ناقة ذلول فركبتها وتوجهت قبل المدينة ونذرت لئن نجاها الله عليها لتنحرنها فلما قدمت عرفت الناقة فأتوا بها النبي صلى الله عليه و سلم فأخبرته المرأة بنذرها فقال بئس ما جزيتها أو وفيتها لا وفاء لنذر في معصية الله ولا فيما لا يملك بن آدم قال أبو جعفر فذهب قوم إلى أن غنيمة أهل الحرب من أموال المسلمين مردود على المسلمين قبل القسمة وبعدها لأن أهل الحرب في قولهم لا يملكون أموال المسلمين بأخذهم إياها من المسلمين وقالوا قول النبي صلى الله عليه و سلم للمرأة التي أخذت العضباء لا نذر لابن آدم فيما لا يملك دليل على أنها لم تكن ملكتها بأخذها إياها من أهل الحرب وأن أهل الحرب لم يكونوا ملكوها على النبي صلى الله عليه و سلم وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا ما أخذه أهل الحرب من أموال المسلمين فأحرزوه في دارهم فقد ملكوه وزال عنه ملك المسلمين فإذا أوجف عليهم المسلمون فأخذوه منهم فإن جاء صاحبه قبل أن يقسم أخذه بغير شيء وإن جاء بعد ما قسم أخذه بالقيمة وكان من الحجة لهم في الحديث الأول أن قول النبي صلى الله عليه و سلم لا نذر لابن آدم فيما لا يملك إنما كان قبل أن تملك المرأة الناقة لأنها قالت ذلك وهي في دار الحرب وكل الناس يقول إن من أخذ شيئا من أهل الحرب فلم يتحول به إلى دار الإسلام أنه غير محرز له وغير مالك وإن ملكه لا يقع عليه حتى يخرج به إلى دار الإسلام فإذا فعل ذلك فقد غنمه وملكه فلهذا قال النبي صلى الله عليه و سلم في شأن المرأة ما قال لأنها نذرت قبل أن تملكها لئن نجاها الله عليها لتنحرنها فقال لها رسول الله صلى الله عليه و سلم لا نذر لابن آدم فيما لا يملكه لأن نذرها ذلك كان منها قبل أن تملكها فهذا وجه هذا الحديث وليس فيه دليل على أن المشركين قد كانوا ملكوها على النبي صلى الله عليه و سلم بأخذهم إياها منه أم لا ولا على أن أهل الحرب يملكون ما أوجفوا عليه من أموال المسلمين أيضا أم لا والذي فيه الدليل على ذلك ما

ابو المہلب نے حضرت عمرا ن بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ عضباء اونٹنی حجاج سے آگے نکلنے والی تھی ۔ مشرکین مدینہ منورہ کی چراہ گاہ پر لوٹ ڈال کر چراہ گاہ کے جانور ہانک کر لے گئے اس میں عضبا ء اونٹنی بھی تھی ۔ انہوں نے ایک مسلمان عورت کوبھی قیدی بنا لیا ۔ ان کی عادت یہ تھی کہ جب وہ کسی جگہ اترتے تو اپنے اونٹوں کو ان کے میدانوں میں چھوڑ دیتے تھے ۔ ایک رات وہ عورت اس حالت میں جاگی کہ وہ لوگ سو چکے تھے ۔ وہ جس اونٹ پر ہاتھ رکھتی وہ شور مچاتا یہاں تک کہ وہ عضباء اونٹنی کے پاس پہنچی تو گویاوہ ایک فرمانبردار اونٹنی کے پاس آئی وہ اس پر سوار ہو کر مدینہ منورہ کی طرف متوجہ ہوئی اور نذر مانی کہ اللہ تعالی نے اس کو نجات دی تو وہ اس اونٹنی کو ذبح کرے گی جب وہ مدینہ طیبہ پہنچی تقو اونٹنی پہچانی گئی ۔ چنانچہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس عورت کو جناب نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں لائے اس نے آپ کو اپنی نذر کے متعلق اطلاع دی تو آپ نے ارشاد فرمایا اگر تم یہ نذر پوری کرو تو تم نے برا بدلہ دیا ۔ اللہ تعالی کی نافرمانی اور غیر مملوک چیز میں نذر پوری نہیں کی جاتی ۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک جماعت علماء کا خیال یہ ہے کہ مسلمانوں کے اموال میں سے جو کچھ اہل حرب سے بطور غنیمت حاصل ہو اس کی تقسیم سے پہلے اور بعد مسلمانوں کو واپس کر دیا جائے گا ۔ ان کے بقول اہل حرب مسلمانوں کت مال ان سے لینے کی صورت میں مالک نہیں بن سکتے۔ اس روایت میں جناب رسول اللہﷺ نے اس عورت کو فرمایا جس نے عضباء اونٹنی لی تھی کہ انسان چیز کا مالک نہ ہوا اسے اہل حرب سے لینے کی صورت میں بھی مالک نہیں بنتا ۔ اہل حرب کو اس اونٹنی پر جناب رسول اللہﷺ کی طرف سے ملکیت حاصل نہ ہوئی تھی ۔ دوسروں نے کہا مشرکین مسلمانوں کا جو مال حاصل کرے گا اس کو دارالحرب میں محفوظ کر لیں گے وہ اس کے مالک بن جائیں گے اور اس مال پر مسلمانوں کی ملکیت نہ رہے گی پھر جب مسلمان دوبارہ اس پر گھوڑے دوڑائیں اور ان سے واپس حاصل کریں پھر تقسیم سے قبل اس کا سابقہ مسلمان مالک آ جائے تو وہ اسے کسی عوض کے بغیر حاصل کرے گا اور اگر تقسیم کر دیا گیا تو قیمت دے کر حاصل کرے گا ۔ اس روایت میں جناب رسول اللہﷺ کا ارشاد گرامی کہ غیر مملوک چیز میں انسان کی نذر ماننا معتبر نہیں ۔ عورت کا نذر ماننا اونٹنی کی ملکیت کے حاصل ہونے سے پہلے تھا ۔ کیونکہ اس نے یہ بات دارالحرب میں کہی تھی اور سب لوگ یہ کہتے ہیں کہ جو شخص دارالحرب والوں سے کچھ لے اور اسے دارالاسلام کی طرف نہ نکلے جب وہ ایسا کرے گا تو مال غنیمت ہو گا اور یہ شخص اس کا مالک بن جائے گا ۔ اسی وجہ سے جناب نبی اکرم ﷺ نے اس عورت کے متعلق فرمایا جو کچھ کہ فرمایا کیونکہ اس نے مالک بننے سے پہلے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ تعالی نے اس کو نجات دی تو وہ اسے ذبح کرے گی تو جناب رسول اللہﷺ نے اسے فرمایا ۔ کہ انسان جس چیز کا مالک نہ ہو اس میں اس کی نذر صیح نہیں کیونکہ اس نے اس اونٹنی کی مالک بننے سے پہلے اس کی نذر مان لی تھی ( جو کہ معتبر نہیں ) جب اس روایت کا یہ مطلب ہے اس میں اس بات کی کوئی دلیل نہیں ہے کہ مشرکین اس اونٹنی کے لوٹنے کے بعد مالک بن گئے تھے یا نہیں اور نہ اس بات کی کوئی دلیل ہے کہ حربی لوگ مسلمانوں کے جس مال کو لوٹ کر لے جائیں وہ اس کے مالک بن جائیں گے

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← أَبِي الْمُهَلَّبِ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5161

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 15 باب ما أحرز المشركون من أموال المسلمين هل يملكونه أم لا ) · حديث 5162

4883 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا عبيد الله بن محمد التيمي قال أخبرنا حماد بن سلمة عن سماك بن حرب عن تميم بن طرفة الطائي أن رجلا أصاب له العدو بعيرا فاشتراه رجل منهم فجاء به فعرفه صاحبه فخاصمه إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال إن شئت أعطيته ثمنه الذي اشتراه به وهو لك وإلا فهو له

سماک بن حرب نے تمیم بن طرفہ طائی سے رویات کی ہے کہ ایک آدمی کا اونٹ دشمنوں نے چھین لیا ( انہوں نے فروخت کردیا ) تو ایک دوسرا شخص اسے خرید لایا مالک نے اپنا اونٹ پہچان لیا ۔ وہ اپنا مقدمہ جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لایا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا اگر تم پسند کرو تو اس شخص کو اس کی اتنی قیمت دے دو جس میں اس نے خریدا ہے تو یہ اونٹ تمہارا ہو گا ورنہ اسی کا ہو گا ۔

تَمِيمَ بْنَ طَرْفَةَ الطَّائِيَّ، ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّيْمِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5162

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 15 باب ما أحرز المشركون من أموال المسلمين هل يملكونه أم لا ) · حديث 5163

4884 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا حسين بن حفص الأصبهاني قال ثنا سفيان الثوري عن سماك عن تميم بن طرفة عن النبي صلى الله عليه و سلم نحوه فهذا هو الذي فيه وجه الحكم في هذا الباب كيف هو وقد روى هذا عن جماعة من المتقدمين فمما روي عنهم في ذلك ما

سماک بن حرب نے تمیم بن طرفہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح کی روایت کی ہے ۔ اس باب کا یہی حکم ہے جو ان روایات میں مذکور ہوا ۔ متقد مین کی ایک جماعت نے اس کو نقل کیا ہے ۔

تَمِیْمِ بْنِ طَرَفَۃَ، ← سِمَاكٍ، ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← حسين بن حفص الأصبهاني ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5163

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 15 باب ما أحرز المشركون من أموال المسلمين هل يملكونه أم لا ) · حديث 5164

4885 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا يوسف بن عدي قال ثنا بن المبارك عن سعيد بن أبي عروبة عن قتادة عن رجاء بن حيوة عن قبيصة بن ذؤيب أن عمر بن الخطاب قال فيما أحرز المشركون فأصابه المسلمون فعرفه صاحبه قال إن أدركه قبل أن يقسم فهو له وإن جرت فيه السهام فلا شيء له

قتادہ رحمتہ اللہ علیہ نے رجاء بن حیوہ سے انہوں نے قبیصہ بن ذؤیب سے نقل کیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا جس مال پر مشرکین کا قبضہ ہو جائے پھر (دوبارہ ) مسلمان اسے حاصل کر لیں اور ان میں سے مال کے ما لکلان اپنی اشیاء پہچان لیں ۔ آُ نے فرمایا اگر تقسیم سے پہلے پا لیں تو وہ اس کا ہو گا اور اگر تقسیم کر دیا گیا تو سابقہ مالک کو کچھ نہ ملے گا ۔

فيما أحرز المشركون فأصابه المسلمون فعرفه صاحبه ← قبيصة بن ذؤيب أن عمر بن الخطاب ← رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← بن الْمُبَارَكِ، ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5164

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 15 باب ما أحرز المشركون من أموال المسلمين هل يملكونه أم لا ) · حديث 5165

4886 - حدثنا يزيد بن سنان قال ثنا محمد بن خزيمة قال ثنا أزهر بن سعد السمان عن بن عون عن رجاء بن حيوة أن عمر بن الخطاب وأبا عبيدة قالا ذلك

ابن عون نے رجا ء بن حیوہ سے روایت کی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ دونوں نے یہ فرمایا ہے ۔

ذَلِكَ ← رجاء بن حيوة أن عمر بن الخطاب وأبا عبيدة ← بن عون ← أَزْهَرُ بْنُ سَعْدٍ السَّمَّانُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ ← يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5165

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 15 باب ما أحرز المشركون من أموال المسلمين هل يملكونه أم لا ) · حديث 5166

4887 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا يوسف قال ثنا بن المبارك عن بن لهيعة عن بكير بن عبد الله بن الأشج عن سليمان بن يسار عن زيد بن ثابت مثله

سلیمان بن یسا ر نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے اسکی مثل روایت کی ہے ۔

زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ مِثْلَهُ. ← سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، ← بن لهيعة ← بن الْمُبَارَكِ، ← يُوسُفُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5166

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 15 باب ما أحرز المشركون من أموال المسلمين هل يملكونه أم لا ) · حديث 5167

4888 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا يوسف قال ثنا بن المبارك عن زائدة بن قدامة عن ليث عن مجاهد قال إذا أصاب المشركون السبي للمسلمين فأصابه المسلمون فقد رد عليه صاحبه قبل أن يقسم فهو له وإن قدر عليه بعد القسمة فهو أحق به بالثمن الذي أخذ به

لیث مجاہد رحمتہ اللہ علیہ سے نقل کیا کہ جب مشرکین مسلمانوں کے قیدی کے قیدی قبضہ میں کر لیں پھر مسلمانوں نے (حملہ کر کے ان کو ) پا لیا تقسیم سے پہلے تو مالک پر لوٹا دی جائے گی اور وہ اسی کی ملکیت ہو گی اور اگر تقسیم کے بعد قدرت ملی تو جس قیمت پر اس کو خرید کیا گیا وہ قیمت ادا کر دینے سے اس کا زیادہ حق دار ہے ۔

مُجَاهِدٍ ← لَيْثٌ، ← زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ ← بن الْمُبَارَكِ، ← يُوسُفُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5167

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 15 باب ما أحرز المشركون من أموال المسلمين هل يملكونه أم لا ) · حديث 5168

4889 - حدثنا إسحاق بن إبراهيم بن يونس قال ثنا محمد بن سليمان الأسدي قال بن أبي زائدة قال ثنا عبيد الله عن نافع عن بن عمر رضي الله عنهما أن غلاما لابن عمر رضي الله عنهما أبق إلى العدو وظهر المسلمون عليه فرده النبي صلى الله عليه و سلم ولم يكن قسم

نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک غلام دشمن کی طرف بھاگ گیا مسلمانوں نے اس پر غلبہ کر کے پکڑ لیا اور جناب رسول اللہﷺ نے اسے میری طرف واپس کر دیا ۔ اس وقت غنائم کی تقسیم عمل میں نہ آئی تھی ۔

نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← بن أَبِي زَائِدَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَسَدِيُّ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يُونُسَ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5168

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 15 باب ما أحرز المشركون من أموال المسلمين هل يملكونه أم لا ) · حديث 5169

4890 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا عبيد الله بن محمد قال أخبرنا حماد عن أيوب وحبيب وهشام عن محمد أن رجلا إبتاع جارية من العدو فوطئها فولدت منه فجاء صاحبها فخاصمه إلى شريح فقال المسلم أحق أن يرد على أخيه بالثمن قال فإنها قد ولدت منه فقال أعتقها قضاء الأمير عمر بن الخطاب رضي الله عنه

یاوب ، حبیب ، ہشام تینوں نے محمد رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کی ہے کہ ایک آدمی نے دشمن سے ایک لونڈی خریدی پھر اس سے وطی کی جس سے لڑکا پیدا ہو گیا تو لونڈی کا مالک آ گیا۔ دونوں اپنا مقدمہ حضرت شریح رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت میں لے گئے تو انہوں نے فیصلہ فرمایا کہ مسلمان کو چاہئے کہ اس لونڈی کو قیمت خرید پر واپس کر دے اس نے کہا اس سے رتو میرا بچہ پیدا ہوا ہے ۔ تو شریح نے فرمایا اسے آزاد کر دو یہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا فیصلہ ہے ۔

مُحَمَّدٍ ← أَيُّوبَ وَحَبِيبٍ وَهِشَامٍ ← حَمَّادٌ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5169

chevron_left Previous
1…161718…33
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter