شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 13 باب الحربية تسلم في دار الحرب فتخرج إلى دار الإسلام ثم يخرج زوجها بعد ذلك مسلما ) · حديث 5146
ولقد حدثنا أبو بكر محمد بن عبدة بن عبد الله بن زيد قال حدثني أبو توبة الربيع بن نافع قال قلت لمحمد بن الحسن من أين جاء اختلافهم في زينب فقال بعضهم ردها رسول الله صلى الله عليه و سلم على أبي العاص على النكاح الأول وقال بعضهم ردها بنكاح جديد أترى كل واحد منهم سمع من النبي صلى الله عليه و سلم ما قال فقال محمد بن الحسن لم يجئ اختلافهم من هذا الوجه وإنما جاء اختلافهم أن الله إنما حرم أن ترجع المؤمنات إلى الكفار في سورة الممتحنة بعد ما كان ذلك جائزا حلالا فعلم ذلك عبد الله بن عمرو ثم رأى أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قد رد زينب على أبي العاص بعد ما كان علم حرمتها عليه بتحريم الله المؤمنات على الكفار فلم يكن ذلك عنده إلا بنكاح جديد فقال ردها عليه رسول الله صلى الله عليه و سلم بنكاح جديد ولم يعلم عبد الله بن عباس رضي الله عنهما بتحريم الله عز و جل المؤمنات على الكفار حتى علم برد النبي صلى الله عليه و سلم زينب على أبي العاص فقال ردها عليه بالنكاح الأول لأنه لم يكن عنده بين إسلامه وإسلامها فسخ للنكاح الذي كان بينهما قال محمد رحمه الله فمن ههنا جاء اختلافهم لا من اختلاف سمعوه من النبي صلى الله عليه و سلم في ذكره ما رد زينب به على أبي العاص أنه النكاح الأول أو النكاح الجديد قال أبو جعفر وقد أحسن محمد في هذا وتصحيح الآثار في هذا الباب على هذا المعنى الصحيح يوجب صحة ما قال عبد الله بن عمرو والدليل على ذلك أن بن عباس رضي الله عنهما قد كان يقول في النصرانية إذا أسلمت في دار الإسلام وزوجها كافر ما قد
ابو توبہ الربیع بن نافع کہتے ہیں کہ میں امام محمد رحمۃاللہ علیہ سے دریافت کیا کہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے متعلق یہ اختلاف کیسے پیدا ہوا کہ بعض کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ان کو حضرت ابو العاص رضی اللہ عنہ کی طرف پہلے نکاح کے ساتھ واپس کر دیا جبکہ دوسرے حضرات کا یہ قول ہے کہ نئے نکاح سے واپس کیا ۔ کیا آپ نہیں دیکھتے کہ ان میں سے ہر گروہ ہی بات کہتا ہے جو اس نے جناب رسول اللہ ﷺ سے سن پائی ۔( میرے سوال پر ) امام محمد رحمۃاللہ علیہ نے جواباً فرمایا یہ اختلاف نقل روایت کی وجہ سے نہیں آیا بلکہ اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالی نے سورہ ممتحنہ میں فرمایا ( فلا ترجعو ھن الی الکفار ۔۔۔۔) کہ مؤمنہ عورتوں کو کفار کی طرف مت واپس کرو ۔ اس آیت کے نزول سے پہلے یہ جائز و حلال تھا حضرت عبداللہ عمر رضی اللہ عنہ کو یہ بات معلوم تھی ۔ پھر انہوں نے دیکھا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو حضرت ابو العاص رضی اللہ عنہ کی طرف ( ان کے مسلمان ہونے پر ) لوٹا دیا اس سے پہلے انہیں یہ معلوم تھا کہ یہ بات جائز نہیں کیونکہ اللہ تعالی نے مؤمنہ عورتوں کو کفار کی طرف لوٹانا حرام قرار دیا تھا ۔ اسی لئے انہوں نے فرمایا کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے ان کو نکاح جدید سے لوٹایا ۔ جبکہ دوسری طرف ابن عباس رضی اللہ عنہ کو یہ معلوم نہیں کہ اللہ تعالی نے مؤمنہ عورتوں کو کفار کی طرف لوٹانا حرام قرار دیا ہے یہاں تک کہ ان کو جناب نبی اکرم ﷺ کے حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو حضرت ابو العاص رضی اللہ عنہ کی طرف لوٹانے کا علم ہوا تو انہوں نے فرمایا کہ آپ نے نکاح اول کے ساتھ واپس کیا کیونکہ ان کے نزدیک حضرت ابو العاص رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے اور حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے اسلام لانے کے درمیانی عرصہ میں نکاح فسخ نہیں ہو ا اسی وجہ سے انہوں نے لوٹا دیا ۔ امام محمد رحمۃاللہ علیہ فرمانے لگے : اس وجہ سے اختلاف ہوا ۔ اس وجہ سے نہیں کہ انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے حضرت زینب رضی اللہ عنہاکو حضرت ابو العاص رضی اللہ عنہ کی طرف لوٹانے کا تذکرہ س کر کہا کہ آیا آپ نے پہلے نکاح کے ساتھ لوٹایا یا جدید نکآھ کے ساتھ واپس کیا ۔ امام طحاوی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں ، امام محمد رحمۃاللہ علیہ نے کتنی شاندار بات فرمائی ہے اس صیح بات کی بنا پر روایات کے معانی کی تصیح سے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے قول کی تصیح لازم ہو گئی اور اس کی دلیل یہ ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ اس نصرانیہ عورت سے متعلق فرماتے ہیں جو دارالاسلام میں مسلمان ہو گئی جبکہ اس کا خاوند کافر ہو تا مسلمان ہوتے ہی اس کا نکاح ختم ہو گیا ان میں تفریق کر دی جائے گی ۔
أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، ← أبو بكر محمد بن عبدة بن عبد الله بن زيد ← وَلَقَدْ
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5146
