Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 12 باب الرجل يسلم في دار الحرب وعنده أكثر من أربع نسوة ) · حديث 5134

4857 - حدثنا أحمد قال ثنا يعقوب قال ثنا عبد الرزاق عن معمر عن بن شهاب عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله فهذا هو أصل هذا الحديث كما رواه مالك عن الزهري وكما رواه عبد الرزاق وابن عيينة عن معمر عن الزهري وقد رواه أيضا عقيل عن الزهري ما يدل على الموضع الذي أخذه الزهري منه

معمر نے ابن شہاب سے انہوں نے جناب رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔ یہ اس روایت کی اصل ہے جیسا کہ مالک رحمۃاللہ علیہ نے زہری رحمۃاللہ علیہ سے اور عبدالرزاق اور ابن عیینہ نے معمر اور انہوں نے زہری سے روایت کی ہے عقیل نے بھی زہری سے روایت کی ہے جس سے روایت کا وہ ماخذ معلوم ہوتا ہے جہاں سے زہری نے لی ہے روایت یہ ہے ۔

الزهري ما يدل على الموضع الذي أخذه الزهري منه ← الزهري وقد رواه أيضا عقيل ← مَعْمَرٌ، ← الزهري وكما رواه عبد الرزاق وابن عيينة ← بن شِهَابٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← يَعْقُوبُ، ← أَحْمَدُ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5134

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 12 باب الرجل يسلم في دار الحرب وعنده أكثر من أربع نسوة ) · حديث 5135

4858 - حدثنا نصر بن مرزوق وابن أبي داود قالا ثنا أبو صالح عبد الله بن صالح قال حدثني الليث قال حدثني عقيل عن بن شهاب قال بلغني عن عثمان بن محمد بن أبي سويد أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لغيلان بن سلمة الثقفي حين أسلم وتحته عشر نسوة خذ منهن أربعا وفارق سائرهن فبين عقيل في هذا عن الزهري مخرج هذا الحديث وأنه إنما أخذه عما بلغه عن عثمان بن محمد عن النبي صلى الله عليه و سلم فاستحال أن يكون الزهري عنده في هذا شيء عن سالم عن أبيه فيدع الحجة به ويحتج بما بلغه عن عثمان بن محمد بن أبي سويد عن النبي صلى الله عليه و سلم ولكن إنما أتى معمر في هذا الحديث لأنه كان عنده عن الزهري في قصة غيلان حديثان هذا أحدهما والآخر عن سالم عن أبيه أن غيلان بن سلمة طلق نساءه وقسم ماله فبلغ ذلك عمر فأمره أن يرتجع نساءه وماله وقال لو مت على ذلك لرجمت قبرك كما رجم قبر أبي رغال في الجاهلية فأخطأ معمر فجعل إسناد هذا الحديث الذي فيه كلام عمر للحديث الذي فيه كلام رسول الله صلى الله عليه و سلم ففسد هذا الحديث من جهة الإسناد ثم لو ثبت على ما رواه عبد الأعلى عن معمر عن الزهري لما كانت أيضا فيه حجة عندنا على من ذهب إلى ما ذهب إليه أبو حنيفة وأبو يوسف رحمة الله عليهما في ذلك لأن تزويج غيلان ذلك إنما كان في الجاهلية قد بين ذلك سعيد بن أبي عروبة عن معمر في هذا الحديث

عقیل ابن شہاب سے روایت کی ہے کہ مجھے عثمان بن محمد بن ابی سوید رضی اللہ عنہ سے بات پہنچی ہے انہوں نے جناب wرسول اللہ ﷺ سے روایت نقل کی ہے کہ آپ نے غیلان بن سلمہ ثقفی رضی اللہ عنہ کو مسلمان ہوتے وقت فرمایا ان میں سے چار رکھ لو اور بقیہ سے جدائی اختیار کر لو اس لئے کہ ان کی دس بیویاں تھیں ۔ اس روایت میں عقیل نے زہری سے اس روایت کا مخرج بتلایا کہ اس سے عثمان بن محمد بن ابی سوید عن النبی ﷺ نے یہ روایت اخذ کی ہے ۔ پس یہ بات نہ ممکن ہے کہ زہری کے پاس اس سلسلے میں سالم عن ابیہ سے کوئی چیز موجود ہو اور وہ اس کو چھوڑ کر عثمان بن محمد بن ابی سوید عن النبی ﷺ سے پہنچی ہوئی روایت بیان کریں ۔ لیکن اس روایت میں معمر آئے ہیں کیونکہ ان کے پاس حضرت غیلان رضی اللہ عنہ کے واقعہ کے سلسلے میں دو روایات تھیں ۔ ان میں سے ایک روایت بالا اور دوسری جو حضرت سالم عن ابیہ سے مروی ہے کہ حضرت غیلان رضی اللہ عنہ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی اور اپنا مال تقسیم کر دیا ۔ یہ بات حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو انہوں نے حکم دیا کہ بیویوں سے رجوع کرو اور مال کو واپس لو اگر تم اس حالت میں مر گئے تو میں تمہاری قبر کو اس طرح سنگسار کروں گا جس طرح زمانہ جاہلیت میں لوگ ابو رغال کی قبر کو سنگسار کرتے تھے ۔ اس روایت میں معمر رحمۃاللہ علیہ سے خطا ء ہوئی اور انہوں نے اس روایت کی سند کو جس میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا کلام تھا اس روایت کی سند کے ساتھ ملا دیا جس میں جناب رسول اللہ ﷺ کا کلام تھا تو سند کے لحاظ سے یہ روایت فاسد ہو گئی ۔( پس استدلال درست نہ رہا ) اگر بالفرض یہ روایت پایہ ثبوت کو پہنچ جائے جس طرح کہ عبدالا علی نے بواسطہ معمر زہری سے روایت کی ہے پھر بھی اس میں ہمارے ہاں امام ابو حنیفہ رحمۃاللہ علیہ اور ابو یوسف رحمۃاللہ علیہ کے مؤقف کی کوئی دلیل نہیں کیونکہ حضرت غیلان رضی اللہ عنہ کا نکاح دور جاہلیت میں ہوا تھا جیسا کہ اس روایت میں حضرت سعید بن ابی عروبہ نے معمر سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا ہے ۔ روایت یہ ہے ۔

عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي سُوَيْدٍ، ← بلغني ← بن شِهَابٍ ← عَقِیلٍ ← اللَّيْثُ ← أَبُو صَالِحٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ ← نصر بن مرزوق وابن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5135

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 12 باب الرجل يسلم في دار الحرب وعنده أكثر من أربع نسوة ) · حديث 5136

4859 - حدثنا خلاد بن محمد الواسطي قال ثنا محمد بن شجاع عن يزيد بن هارون قال أخبرنا سعيد بن أبي عروبة عن معمر عن الزهري عن سالم عن أبيه عن النبي صلى الله عليه و سلم بمثل حديث أحمد بن داود وزاد إنه كان تزوجهن في الجاهلية فكان تزويج غيلان للنسوة اللاتي كن عنده حين أسلم في وقت كان تزويج ذلك العدد جائزا والناكح عليه ثابت ولم يكن للواحدة حينئذ من ثبوت النكاح إلا ما للعاشرة مثله ثم أحدث الله عز و جل حكما آخر وهو تحريم ما فوق الأربع فكان ذلك حكما طارئا طرأت به حرمة حادثة على نكاح غيلان فأمره النبي صلى الله عليه و سلم لذلك أن يمسك من النساء العدد الذي إباحه الله ويفارق ما سوى ذلك وجعل كرجل له أربع نسوة فطلق إحداهن فحكمه أن يختار منهن واحدة فيجعل ذلك الطلاق عليها ويمسك الأخرى وكذلك أبو حنيفة وأبو يوسف رحمهما الله يقولان في هذا فأما من تزوج عشر نسوة بعد تحريم الله ما جاوز الأربع في عقدة واحدة فإنه إنما عقد النكاح عليهن عقدا فاسدا فلا يثبت بذلك له نكاح ألا ترى أنه لو تزوج ذات رحم محرم منه في دار الحرب وهو مشرك ثم أسلم أنها لا تقر تحته وإن كان عقده لذلك كان في دار الحرب وهو مشرك فلما كان هذا يرد حكمه فيه إلى حكم نكاحات المسلمين فيما يعقدون في دار الإسلام كان كذلك أيضا حكمه في العشر نسوة اللاتي تزوجهن وهو مشرك في دار الحرب يرد حكمه في ذلك إلى حكم المسلمين في نكاحاتهم فإن كان تزوجهن في عقدة واحدة فنكاحهن باطل وإن كان تزوجهن في عقد متفرقة جاز نكاح الأربع الأول منهن وبطل نكاح سائرهن فإن قال قائل فقد ترك أبو حنيفة وأبو يوسف قولهما في شيء قالاه في هذا المعنى وذلك أنهما قالا في رجل من أهل الحرب سبي وله أربع نسوة وسبين معه إن نكاحهن كلهن قد فسد ويفرق بينه وبينهن قال فقد كان ينبغي على ما حملا عليه حديث غيلان أن يجعلا له أن يختار منهن اثنين فيمسكهما ويفارق الأثنتين الباقيتين لأن نكاح الأربع قد كان كله ثابتا صحيحا وإنما طرأ الرق عليه فحرم عليه ما فوق الاثنتين كما أنه لما طرأ حكم الله في تحريم ما فوق الأربع أمر رسول الله صلى الله عليه و سلم غيلان باختيار أربع من نسائه وفراق سائرهن قيل له ما خرج أبو حنيفة وأبو يوسف رحمهما الله بما ذكرت عن أصلهما ولكنهما ذهبا إلى ما قد خفي عليك وذلك أن هذا كان تزوج الأربع في وقت ما تزوجهن بعد ما حرم على العبد تزوج ما فوق الاثنتين فإذا تزوج وهو حربي في دار الحرب ما فوق اثنتين ثم سبي وسبين معه رد حكمه في ذلك إلى حكم تحريم قد كان قبل نكاحه فصار كأنه تزوجهن في عقدة بعد ما صار رقيقا وهو في ذلك كرجل تزوج صبيتين صغيرتين فجاءت امرأة فأرضعتهما معا فإنهما تبينان منه جميعا ولا يؤمر بأن يختار إحداهما فيمسكها ويفارق الأخرى لأن حرمة الرضاع طرأت عليه بعد نكاحه إياهما وكذلك الرق الطارئ على النكاح الذي وصفنا حكمه حكم هذا الرضاع الذي ذكرنا وهما جميعا مفارقان لما كان من رسول الله صلى الله عليه و سلم في غيلان بن سلمة لأن غيلان لم يكن حرمة الله لما فوق الأربع تقدمت نكاحه فيرد حكم نكاحه إليها وإنما طرأت الحرمة على نكاحه بعد ثبوته كله فردت حرمة ما حرم عليه من ذلك إلى حكم حادث بعد النكاح فوجب له بذلك الخيار كما يجب له في الطلاق الذي ذكرنا فإن احتجوا أيضا في ذلك بما

سعید بن ابی عروبہ نے معمر سے انہون نے زہری سے انہوں نے سالم بن عبداللہ عن ابیہ انہوں نے جناب نبی اکر م ﷺ سے احد بن داؤد نے روایت کی ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے ۔کہ اس نے عورتوں سے شادی زمانہ جاہلیت میں کی تھی ۔ تو غیلان رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کے وقت ان کی جو بیویاں موجود تھیں ان سے انہوں نے اس وقت نکاح کیا تھا جب اتنی تعداد میں بیویاں رکھنا جائز تھا اور ان سے نکاح ثابت تھا اور ایک سے ثبوت نکاح اور دسویں عورت سے ثبوت نکاح برابر تھے ۔ پھر اللہ تعالی نے دوسرا حکم ظاہر فرمایا اور وہ چار بیویوں سے بیک وقت نکاح سے زائد نکاح کی ضرمت تھی ہس یہ جدید حکم حضرت غیلان رضی اللہ عنہ کے نکاح پر طاری ہوا تو جناب نبی اکرم ﷺ نے اسی وجہ سے ان کو حکم فرمایا کہ اپنی بیویوں میں سے اتنی تعداد (چار) کو رکھ لیں جس کو اللہ تعالی نے جائز قرار دیا اور باقی کو جدا کر دیں ان کو اس آدمی کی طرح قرار دیا گیا جس کی چار بیویاں ہوں پھر ان میں سے ایک کو طلاق دے تو اس کا حکم یہ ہے کہ ان میں سے کسی کو طلاق کے لئے اختیار کر کے اسے طلاق دے اور دوسری (چار ) کو رکھ لے ۔ اس سلسلہ میں امام ابو حنیفہ رحمۃاللہ علیہ اور امام باو یوسف رحمۃاللہ علیہ یہی فرماتے ہیں ۔ وہاں وہ شخص جس نے اللہ تعالی کی طرف سے ایک عقد میں چار عورتوں سے زیادہ عورتوں کے ساتھ نکاح کی حرمت کے بعد دس عورتوں سے نکاح کیا تو اس کا نکاح ان سے فاسد عقد ہو گا فلہذا اس سے ان کا نکاح ثابت نہ ہوگا ۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ اگرکسی نے دارالحرب میں اپنی ذمی رحم محرم سے نکاح کیا جبکہ وہ شرک کی حالت میں تھا پھر اس نے اسلام قبول کیا تو وہ عورت اس کے نکاح میں برقرار نہ رہ سکے گی ۔ اگرچہ اس کا عقد شرک کی حالت میں دارالحرب میں ہوا تھا پس جب اس کا حکم مسلمان منکوحہ عورتوں سے نکاح کی طرف لوٹایا جاتا ہے جیسا کہ وہ دارالاسلام میں کرتے ہیں تو بالکل دس عورتوں سے نکاح کو بھی جو کہ شرک کی حالت میں دارالحرب میں واقع ہوا اس کو بھی مسلمانوں کے نکاحوں کی طرف لوٹایا جائے گا اور اگر اس نے ایک عقد میں نکاح کیا ان سے اس کا نکاح باطل ہو گا اور اگر متفرق عقدوں میں کیا تو پہلی چار سے نکاح جائز ہو گا اور بقیہ کا نکاح باطل ہو گا ۔ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ امام ابو حنیفہ رحمۃاللہ علیہ اور ابو یوسف رحمۃاللہ علیہ نے اپنا قول چھوڑ دیا اور وہ اس طرح کہ جو شخص حربی ہوا اور وہ قید ہو کر آئے اس کی چار بیویاں ہوں جو اسکے ساتھ قید ہوئیں ان سب کا نکاح فاسد ہو جائے گا اب اس کے اور زوجات کے درمیان تفریق کر دی جائے گی ۔ حالانکہ حدیث غیلان رضی اللہ عنہ کو جس بات پر امام ابو حنیفہ رحمۃاللہ علیہ اور ابو یوسف رحمۃاللہ علیہ نے محمول کیا ہے اس کا تقاضا یہ ہے کہ اس کو دو عورتوں کے چننے کا اختیار ہو کہ وہ ان کو روک لے اور باقی چھوڑ دے کیونکہ چاروں کا نکاح صیح ثابت تھا ۔ اب اس پر غلامی طاری ہوئی جس سے دو عورتوں سے زائد حرام ہو گئیں۔ جس طرح کہ جب چار کو چن لینے اور باقی کو چھوڑنے کا حکم صادر فرمایا ۔ جو کچھ تم نے ذکر کیا امام ابو حنیفہ رحمۃاللہ علیہ اور ابو یوسف رحمۃاللہ علیہ نے اس وجہ سے ضابطہ کو ترک نہیں کیا بلکہ انہوں نے ایس بات اختیار کی ہے جو آپ پر مخفی ہے اور وہ یہ ہے کہ جس وقت اس نے چار عورتوں سے نکاح کیا اس وقت غلام پر دو عورتوں سے زائد کے ساتھ نکاح کرنا حرام ہو چکا تھا ۔ پس جب اس نے دارالحرب میں حربی ہونے کی حثیت سے دو سے زیادہ عورتوں سے نکاح کیا ۔ پھر وہ قید ہو گیا اور اس کے ساتھ وہ عورتیں بھی قیدی بن گئیں تو اس کاحکم اس تحریم کی طرف لوٹ گیا جو اس کے نکاح سے پہلے موجود تھی گویا اس نے غلام بننے کے بعد ان سے ایک عقد میں نکاح کیا اس سلسلے میں وہ اس شخص کی طرح ہو گا جس نے دو چھوٹی بچیوں سے نکاح کیا ۔ پھر کسی عورت نے آکر ان دونوں کو دودھ پلایا تو وہ دونوں اس سے جدا ہو جائیں گی اسے اس بات کاحکم نہ دیا جائے گا کہ ان میں سے ایک کو اختیار کرکے روک لے اور دوسری کو جدا کر دے کیونکہ دادھ کی وجہ سے حرمت ان دونوں کے ساتھ نکاح کرنے کے بعد طاری ہوئی ہے ۔ بالکل اس طرح جو غلامی اس نکاح کے بعد طاری ہوئی ہو جس کا ہم تذکرہ کیا ہے تو اس کا حکم اس رضاعت کی طرح ہو گا جس کا ہم نے ابھی تذکرہ کیا ہے اور یہ دونوں صورتیں اس صورت میں قطعاً مختلف ہیں جو جناب رسول اللہ ﷺ سے حضرت غیلان رضی اللہ عنہ کے سلسلہ میں وارد ہے کیونکہ حضرت غیلان رضی اللہ عنہ کے نکاح سے پہلے اللہ تعالی کی طرف سے چار عورتوں سے زائد کے ساتھ نکاح حرام ہونا وارد نہ ہوا تھا کہ جس کی بناء پر ان کے نکاح کا حکم اس کی طرف لوٹایا جاتا بلکہ نکاح کی حرمت اس وقت طاری ہوئی جب نکاح مکمل طور پر ثابت ہو چکا تھا فلہذا ب جو کچھ ان پر حرام ہو گا اس کی نسبت نکاح کے بعد پیدا ہونے والے حکم کی طرف ہو گی ۔ فلہذا اس سے ان کے لئے اختیار کا پایا جانا ضروری ہو گیا جیسا کہ اس طلاق میں اختیار واجب ہے جس کو کہ ہم نے بیان کیا ۔ اگر وہ اس روایت سے استدلال کریں جس کو حمیضہ بنت شمر دل نے حضرت حارث بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے ۔ روایت یہ ہے ۔

زَاد ← أَبِيهِ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← مُحَمَّدُ بْنُ شُجَاعٍ، ← خلاد بن محمد الواسطي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5136

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 12 باب الرجل يسلم في دار الحرب وعنده أكثر من أربع نسوة ) · حديث 5137

4860 - حدثنا صالح بن عبد الرحمن قال ثنا سعيد بن منصور قال ثنا هشيم قال أخبرنا بن أبي ليلى عن حميضة بنت الشمردل عن الحارث بن قيس قال أسلمت وعندي ثماني نسوة فأمرني رسول الله صلى الله عليه و سلم أن أختار منهن أربعا

حمیضہ بنت شمر دل نے حضرت حارث بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جب میں اسلام لایا تو میری آٹھ بیویاں تھیں جناب رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم فرمایا کہ میں ان میں سے چار کو اختیار کر لوں۔

الْحَارِثِ بْنِ قَيْسٍ ← حميضة بنت الشمردل ← بن أَبِي لَيْلَى ← هُشَيْمٌ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← صالح بن عبد الرحمن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5137

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 12 باب الرجل يسلم في دار الحرب وعنده أكثر من أربع نسوة ) · حديث 5138

4861 - حدثنا صالح قال ثنا سعيد قال ثنا هشيم قال أخبرنا مغيرة عن بعض ولد الحارث بن قيس عن النبي صلى الله عليه و سلم نحوه قيل له قد يحتمل ذلك ما قد ذكرناه في حديث غيلان وقد يجوز أيضا أن يكون رسول الله صلى الله عليه و سلم أراد بقوله له أختر منهن أربعا أي أختر منهن أربعا فتزوجهن ولا دلالة في هذا الحديث على واحد من هذين المعنيين وإن احتجوا في ذلك أيضا بما

مغیرہ نے حضرت حارث بن قیس ۔ کے کسی بیٹے سے انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح کی رقوایت نقل کی ہے ۔ اس روایت میں بھی اس بات کا احتمال ہے جس کو ہم نے حضرت غیلان رضی اللہ عنہ والی روایت کے ضمن میں بیان کر چکے اور یہ بھی احتمال ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کے ارشاد گرامی کہ ان میں سے چار کو چن لو ۔ کا مطلب یہ ہوکہ ان میں سے چار کو نا پسند کر کے ان سے نکاح کر لو اور اس روایت میں تو ان دونوں میں سے کسی معنی کی دلالت نہیں پائی جاتی ( پس اسے اعتراض کے لئے پیش نہیں کیا جا سکتا ) اگر وہ ضحاک بن فیروز دیلمی کی روایت سے استدلال کریں جو انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے جناب رسول اللہ ﷺ سے روایت کی ہے ۔ روایت یہ ہے ۔

بعض ولد الحارث بن قيس ← مُغِيرَةَ، ← هُشَيْمٌ ← سَعِيدٌ، ← صَالِحٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5138

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 12 باب الرجل يسلم في دار الحرب وعنده أكثر من أربع نسوة ) · حديث 5139

4862 - حدثنا ربيع الجيزي قال ثنا أبو الأسود وحسان بن غالب قالا ثنا بن لهيعة عن أبي وهب الجيشاني عن الضحاك بن فيروز الديلمي عن أبيه قال أسلمت وعندي أختان فأتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال طلق إحداهما

ضحاک بن فیروز دیلمی نے اپنے والد سے نقل کیا کہ میں اسلام لایا تو اس وقت میرے نکاح میں دو بہنیں تھیں جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ان میں سے ایک کو طلاق دے دو ۔

طلق إحداهما ← أسلمت وعندي أختان فأتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبِيهِ ← الضَّحَّاكِ بْنِ فَيْرُوزٍ الدَّيْلَمِيِّ ← أَبِي وَهْبٍ الْجَيْشَانِيِّ، ← بن لهيعة ← أبو الأسود وحسان بن غالب ← ربيع الجيزي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5139

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 12 باب الرجل يسلم في دار الحرب وعنده أكثر من أربع نسوة ) · حديث 5140

4863 - حدثنا علي بن عبد الرحمن قال ثنا يحيى بن معين قال ثنا وهب بن جرير عن أبيه عن يحيى بن أيوب عن يزيد بن أبي حبيب عن أبي وهب الجيشاني عن الضحاك بن فيروز الديلمي عن أبيه قال أسلمت وعندي أختان فأتيت النبي صلى الله عليه و سلم فسألته فقال طلق أيتهما شئت قيل لهم هذا يوجب الاختيار كما ذكرتم وهو أوضح من حديث حارث بن قيس ولكنه قد يجوز أن يكون رسول الله صلى الله عليه و سلم إنما خيره لأن نكاحه كان في الجاهلية قبل تحريم الله عز و جل ما فوق الأربع فيكون معنى هذا الحديث مثل معنى حديث غيلان بن سلمة فقد ثبت بما بينا في هذا الباب ما ذهب إليه أبو حنيفة وأبو يوسف رحمهما الله وفسد ما ذهب إليه محمد بن الحسن رحمه الله وقد ذهب إلى ما ذهب إليه أبو حنيفة وأبو يوسف بعض المتقدمين

جحاک بن فیروز دیلمی نے اپنے والد سے نقل کیا کہ جب میں اسلام لایا تو میرے نکاح میں دو بہنیں تھیں میں نے بارگا نبوت میں حاضر ہو کر مسئلہ دریافت کیا تو آپ نے فرمایا ان میں سے جس کو چاہو طلاق دو ۔ تو اسے جواباً عرض ہے کہ یہ روایت تو اختیار کرو واجب کرتی ہے جیسا کہ تم نے کہا اور یہ روایت حضرت حارث بن قیس رضی اللہ عنہ کی روایت سے واضح تر ہے ۔ لیکن یہ ممکن ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ان کو اختیار اس وجہ سے دیا ہو کہ ان کا نکاح زمانہ جاہلیت کے زمانہ میں ہوا جبکہ چار سے زائد عورتوں سے نکاح حرام نہ تھا ۔ پس اس روایت کا مفہوم حضرت غیلان رضی اللہ عنہ والی روایت کے مطابق ہو گا ۔ ہم نے جو کچھ بیان کیا اس سے امام ابو حنیفہ رحمۃاللہ علیہ اور ابو یوسف رحمۃاللہ علیہ کا مؤقف ثابت ہو گیا اور امام محمد بن حسن رحمۃاللہ علیہ کا مؤقف فاسد ہوا ۔ امام ابو حنیفہ رحمۃاللہ علیہ کے مؤقف کو بعض متقد مین نے بھی اختیار کیا جیسا کہ اس اثر سے واضح ہوتا ہے ۔

أسلمت وعندي أختان فأتيت النبي صلى الله عليه و سلم فسألته ← أَبِيهِ ← الضَّحَّاكِ بْنِ فَيْرُوزٍ الدَّيْلَمِيِّ ← أَبِي وَهْبٍ الْجَيْشَانِيِّ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← أَبِيهِ ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← علي بن عبد الرحمن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5140

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 12 باب الرجل يسلم في دار الحرب وعنده أكثر من أربع نسوة ) · حديث 5141

4864 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا بكر بن خلف قال ثنا غندر أو عبد الأعلى عن سعيد عن قتادة قال يأخذ الأولى والثانية والثالثة والرابعة

سعید نے قتادہ رضی اللہ عنہ کے متعلق نقل کیا کہ وہ فرماتے تھے کہ وہ چار بیویوں والا پہلی دوسری ، تیسری و چوتھی بیوی کو چن لے ۔

يأخذ الأولى والثانية والثالثة والرابعة ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← غندر أو عبد الأعلى ← بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5141

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 13 باب الحربية تسلم في دار الحرب فتخرج إلى دار الإسلام ثم يخرج زوجها بعد ذلك مسلما ) · حديث 5142

4865 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا الوهبي قال ثنا بن إسحاق عن داود بن الحصين عن عكرمة عن بن عباس رضي الله عنهما قال رد النبي صلى الله عليه و سلم ابنته زينب على أبي العاص بن الربيع على النكاح الأول بعد ثلاث سنين

عکرمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیٹی زینب کو تین سال بعد حضرت ابو العاص بن ربیع رضی اللہ عنہ ( کے اسلام لانے پر ان ) کی زوجیت میں لوٹا دیا ۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← عِكْرِمَةَ، ← دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ← بن إِسْحَاقَ، ← الوهبي ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5142

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 13 باب الحربية تسلم في دار الحرب فتخرج إلى دار الإسلام ثم يخرج زوجها بعد ذلك مسلما ) · حديث 5143

4866 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا الوهبي قال ثنا بن إسحاق عن الزهري عن أبي بكر بن عبد الرحمن قال رد النبي صلى الله عليه و سلم على عكرمة بن أبي جهل أم حكيم بنت الحارث بن هشام بعد أشهر أو قريب من سنة قال أبو جعفر فذهب قوم إلى أن المرأة إذا أسلمت في دار الحرب وجاءتنا مسلمة ثم جاء زوجها بعد ذلك فأدركها وهي في العدة فهي امرأته على حالها وإن لم يدركها حتى تخرج من العدة فلا سبيل له عليها واحتجوا في ذلك بهذا الحديث وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا لا سبيل له عليها في الوجهين جميعا وخروجها عندهم من دار الحرب يقطع العصمة التي كانت بينها وبين زوجها ويبينها منه واحتجوا في ذلك بما

زہری نے ابو بکر بن عبدالرحمن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے حضرت عکرمہ بن ابی جہل ( کے اسلام لانے پر ) ام حکیم بنت الحارث بن ہشام رضی اللہ عنہ کو کئی ماہ بعد یا سال کے قریب عرصہ کے بعد ان کی زوجیت میں واپس کر دیا ۔ امام طحاوی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں علامء کی ایک جماعت کی یہ رائے ہے کہ جب عورت دارالحرب سے مسلمان ہو کر دارالاسلام میں آجائے اس کے بعد اس کا خاونداگر حالت عدت میں آجائے تو وہ بدستور اس کی بیوی ہو گی اور اگر اس کی عدت ختم ہو گئی اور وہ بعد میں آیا تو اب اس کا اس عورت سے کوئی تعلق نہیں ۔ انہوں نے مندرجہ بالا روایات سے استدلال کیا ہے ۔ دوسروں نے کہا خاوند اگر بعد میں آئے خواہ عوررت یام عدت میں ہو یا نہ ہو بہر صورت وہ اس کی زوجیت میں نہ رہے گی ۔ کیونکہ عورت کے مسلمان ہو سر دارالحرب سے نکل جانے سے ہی وہ عصمت ختم ہو جائے گی جو اس کے خاوند کے درمیان تھی اور وہ عورت اس سے جدا ہو جائے گی انہوں نے اس روایت کی دلیل بنایا ۔

أَبِی بکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← الزُّهْرِيِّ، ← بن إِسْحَاقَ، ← الوهبي ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5143

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 13 باب الحربية تسلم في دار الحرب فتخرج إلى دار الإسلام ثم يخرج زوجها بعد ذلك مسلما ) · حديث 5144

4867 - حدثنا فهد قال ثنا يحيى الحماني قال ثنا حفص يعني بن غياث عن الحجاج عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده أن رسول الله صلى الله عليه و سلم رد زينب على أبي العاص بنكاح جديد

عمرو بن شعیب نے اپنے والد اپنے دادا سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے زینب رضی اللہ عنہا کو ابو العاص رضی اللہ عنہ پر نئےنکاح سے لوٹایا۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← الْحَجَّاجِ، ← حفص يعني بن غياث ← يحيى الحماني ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5144

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 13 باب الحربية تسلم في دار الحرب فتخرج إلى دار الإسلام ثم يخرج زوجها بعد ذلك مسلما ) · حديث 5145

4868 - حدثنا فهد قال ثنا يحيى قال ثنا حفص عن داود عن الشعبي مثله قالوا ففي حديث عبد الله بن عمرو هذا خلاف ما في حديث بن عباس رضي الله عنهما وقد وافق عبد الله بن عمرو على ذلك عامر الشعبي مع علمه بمغازي رسول الله صلى الله عليه و سلم قالوا فهذا أولى مما قد خالفه لمعان سنبينها في هذا الباب إن شاء الله تعالى وكان من الحجة لهم في ذلك على من ذهب إلى القول الأول أن بن عباس رضي الله عنهما إنما في حديثه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم ردها على أبي العاص على النكاح الأول فليس في ذلك دليل أنه ردها إليه لأنها في العدة ولا كيف كان الحكم يومئذ في المشركة تسلم وزوجها مشرك أيبينها ذلك منه أو تكون زوجة له على حالها وإنما يكون حديث بن عباس حجة لأهل المقالة الأولى لو كان فيه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم ردها على أبي العاص لأنه أدركها وهي في العدة فأما إذا لم يتبين لنا العلة التي لها ردها عليه فقد يجوز أن يكون هي العدة وقد يجوز أن تكون لأن الإسلام لم يكن حينئذ يبينها منه ولا يزيلها عن حكمها المتقدم

داؤد نے شعی سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔ عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کی روایت ، روایت ابن عبا س رضی اللہ عنہ کے خلاف ہے اور شعی نے مغازی رسول اللہﷺ کے متعلق واقفیت کے باوجود عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کی روایت کی موافقت کی ہے اور یہ روایت شروع باب والی روایت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے چند وجوہ کی بناپر اولی ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت میں جناب رسول اللہ ﷺ کے حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو ابو العاص رضی اللہ عنہ کی لوٹانے کا تذکرہ تو ضرور ہے مگر اس بات کی کوئی دلیل موجود نہیں ہے کہ آپ ﷺ نے ان کو عدت کے باقی رہنے کی وجہ سے لوٹایا اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جو مشرکہ اسلام لائے اور اس کا خاوند مشرک ہو تو کیا وہ عورت اس خاوند سے جدا ہو جائے گی یا اسی طرح اس کی بیوی رہے گی ؟ روایت ابن عباس رضی اللہ عنہ فریق اول کی دلیل تب بنتی جب رایت میں یہ موجود ہوتا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے زینب رضی اللہ عنہا کو ابو العاص رضی اللہ عنہ پر اس لئے واپس کر دیا کہ وہ عدت میں تھیں ۔ پس جبکہ ہمارے سامنے وہ علت بیان نہیں کی گئی جس کی وجہ سے آپ ﷺ نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو واپس کیا تو یہ بھی ممکن ہے کہ عدت میں ہوں اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس کی وجہ یہ ہو کہ ابھی اسلام میں اس کے متعلق حکم نہ آیا اور وہ ان سے جدا نہ ہوئی ہوں اور سابقہ حکم بھی ان کو اس سے زائل کرنے والا نہ تھا ۔

الشَّعْبِيِّ مِثْلَهُ. ← دَاوُدُ، ← حَفْصٌ، ← يَحْيَى ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5145

chevron_left Previous
1…141516…33
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter