Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 10 باب الأرض تفتتح كيف ينبغي للإمام أن يفعل فيها ) · حديث 5122

4846 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا يوسف بن عدي قال ثنا بن المبارك عن إسماعيل بن أبي خالد عن قيس بن أبي حازم قال لما وفد جرير بن عبد الله وعمار بن ياسر في أناس من المسلمين إلى عمر بن الخطاب قال عمر لجرير يا جرير والله لولا أني قاسم مسئول لكنتم على ما قسمت لكم ولكني أرى أن أرده على المسلمين فرده وكان ربع السواد لجبيلة فأخذه منهم وأعطاهم ثمانين دينارا

قیس بن ابی حازم کہتے ہیں کہ جب جریرین بن عبداللہ اور عمار بن یاسر رضی اللہ عنہم مسلمانوں کی ایک جماعت کے ساتھ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو حضرت عمر ۔ نے فرمایا ۔ اے جریر ! اگر میں ایسا تقسیم کرنے والا نہ ہوتا کہ جس سے سوال ہو گا ۔ تو میں تمہیں اس پر چھوڑ دیتا جو میں تم کو عطا کرتا ہوں ۔ پس میرا تو خیال یہ ہے کہ ہم اس کو بھی مسلمانوں پر واپس کر دیں انہوں نے وہ مال لوٹا دیا جریر کہتے ہیں کہ پھر مجھے اسی دینار کی اجاز ت مرحمت فرمائی ۔ سواد کا چوتھائی حصہ بجیلہ والوں کا تھا آپ نے وصول کر کے ان کو اسی دینار عنایت فر مائے ۔

عمار بن ياسر في أناس من المسلمين إلى عمر بن الخطاب ← لما وفد جرير بن عبد الله ← قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ2 ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← بن الْمُبَارَكِ، ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5122

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 10 باب الأرض تفتتح كيف ينبغي للإمام أن يفعل فيها ) · حديث 5123

4847 - حدثنا فهد قال ثنا بن الأصبهاني قال أخبرنا أبو أسامة قال ثنا إسماعيل عن قيس عن جرير قال كان عمر قد أعطى بجيلة ربع السواد فأخذناه ثلاث سنين فوفد بعد ذلك جرير إلى عمر ومعه عمار بن ياسر فقال عمر رضي الله عنه والله لولا أني قاسم مسئول لتركتكم على ما كنت أعطيتكم فأرى أن نرده على المسلمين ففعل قال فأجازني عمر بثمانين دينارا قالوا فهذا يدل على أن عمر قد كان قسم السواد بين الناس ثم أرضاهم بعد ذلك بما أعطاهم على أن يعود للمسلمين قيل له ما يدل هذا الحديث ظاهره على ما ذكرتم ولكن يجوز أن يكون عمر رضي الله عنه فعل من ذلك ما فعل في طائفة من السواد فجعلها لبجيلة ثم أخذ ذلك منهم للمسلمين وعوضهم منهم عوضا من مال المسلمين فكانت تلك الطائفة التي جرى فيها هذا الفعل للمسلمين بما عوض عمر أهلها ما عوضهم منها من ذلك وما بقي بعد ذلك من السواد فعلى الحكم الذي قد بينا فيما تقدم من هذا الباب ولولا ذلك لكانت أرض السواد أرض عشر ولم يكن أرض خراج فإن احتجوا في ذلك بما

قیس نے حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بجیلہ کو سواد کا چوتھائی حصہ دیا پھر ہم نے ان سے تین سال تک لیا ۔ پھر اس کے بعد حضرت جریر ، عمار بن یاسر رضی اللہ عنہم کے پاس آئے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ کی قسم ! اگر میں ایسا تقسیم کرنے والا نہ ہوتا جس سے سوال ہوگا تو میں تمہیں اس چیز پر چھوڑ دیتا جو تمہیں دی ہے ۔ لیکن میرا خیال ہے اسے مسلمانوں کی طرف لوٹا دینا چاہئے چنانچہ انہوں نے اس طرح کیا حضرت جریر کہتے ہیں کہ مجھے آپ نے اسی دینار کی اجازت دی ۔ وہ حضرات یہ کہتے ہیں کہ اس روایت سے یہ معلوم ہو گیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سوادد کی زمین لوگوں پر تقسیم فرمایا پھر ان حضرات کو عطیہ دے کر اسے مسلمانوں کی طرف لوٹا نے پر راضی کیا ۔ اس حدیث کے ظاہر میں تو اس بات کی دلالت موجود نہیں جو تمہارے استدلال کی تائید کرے اگر بالفرض ہو تو ممکن ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ عمل سواد کے کسی ایک گروہ کے لئے کیا ہو پس اس کو بجیلہ قبیلہ کے لئے مقرر کر دیا ۔ پھر اس قبیلہ سے لے کر مسلمانوں کے مال سے معاوضہ دے کر مسلمانوں کو دے دی ۔پس یہی وہ گروہ تھا جس میں مسلمانوں کی خاطر یہ معاوضہ والا فعل جاری ہوا ۔ کہ قبیلہ بجیلہ والوں کو عوضا نہ دیا گیا اور بقیہ سواد میں عہی حکم جاری رہا جو ہم اس میں ذکر کر آئے ۔ اگر یہ بات نہ ہوتی تو سواد کی زمین عشری ہوتی خراجی نہ ہوتی ۔ اگر وہ اس روایت سے استدلال کریں جس کو قیسبن ابو حازم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے ۔روایت یہ ہے ۔

جَرِيرٌ ← قَيْسٍ ← إِسْمَاعِيلُ ← أَبُو أُسَامَةَ ← بن الأصبهاني ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5123

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 10 باب الأرض تفتتح كيف ينبغي للإمام أن يفعل فيها ) · حديث 5124

4848 - حدثنا بن أبي داود قال حدثني عمرو بن عون قال ثنا هشيم عن إسماعيل بن أبي خالد عن قيس بن أبي حازم قال جاءت امرأة من بجيلة إلى عمر رضي الله عنه فقالت إن قومي رضوا منك من السواد بما لم أرض ولست أرضي حتى تملأ كفى ذهبا أو جملي طعاما أو كلاما هذا معناه ففعل ذلك بها عمر رضي الله عنه قيل لهم ذلك أيضا عندنا والله أعلم بالجزء الذي كان سلمه عمر لبجيلة فملكوه ثم أراد انتزاعه منهم بطيب أنفسهم فلم يخرج حق تلك المرأة منها إلا بما طابت به نفسها فأعطاها عمر ما طلبت حتى رضيت فسلمت ما كان لها من ذلك كما سلم سائر قومها حقوقهم فهذا عندنا وجه هذا الباب كله من طريق الآثار ومن طريق النظر على ما بينا وهو قول أبي حنيفة وسفيان وأبي يوسف ومحمد رحمة الله عليهم أجمعين وقد روي عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه في أرض مصر أيضا ما

قیس بن ابی حازم نے نقل کیا کہ ایک عورت جس تعلق بجیلہ قبیلہ سے تھا وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آئی اور کہنے لگی میری قوم تو سواد کے سلسلہ میں راضہ ہو گئی مگر میں اس کے عوض پر راضی نہیں اور راضی بھی بہ ہوں گی یہاں تک کہ تو یری ہتھیلی سونے سے یا میرے اونٹ کو غلہ سے نہ بھر دے یا اسی کے ہم معنی بات تھی جناب عمر رضی اللہ عنہ نے اسی طرح کر دیا ۔ فریق اول سے یہی عرض کریں گے کہ ہمارے ہواں اس واقعہ کا تعلق بھی اس جز سے جس کو عمر رضی اللہ عنہ نے بجیلہ کے سپرد کر دیا تھا اور وہ مالک بن گئے پھر ان سے لینے کا ارادہ فرمایا تو ان کی خوش دلی سے عوضانہ دے کر اس کو واپس کر لیا اس عورت کو اس کی خوشدلی سے جو اس نے مانگا وہ اس کو عنایت فرما دیا جیسا کہ اس کی قوم کو ان کے حقوق دے کر راضی کر دیا ۔ آثار کو پیش نظر اور نظری لحاظ سے اس بات کا یہی حکم ہے اور یہی امام ابو حنیفہ ، سفیان ثوری، ابویوسف، محمد رحمۃاللہ علیہ کا مسلک ہے ۔سر زمین مصر کے متعلق حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ارشاد اس کی تائید کرتا ہے ملاحظہ ہو ۔

قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ2 ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← هُشَيْمٌ ← عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5124

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 10 باب الأرض تفتتح كيف ينبغي للإمام أن يفعل فيها ) · حديث 5125

4849 - حدثنا عبد الله بن محمد بن سعيد بن أبي مريم قال ثنا نعيم بن حماد قال ثنا محمد بن حميد عن عمرو بن قيس السكوني عن أبيه عن عبد الله بن عمرو بن العاص قال لما فتح عمرو بن العاص أرض مصر جمع من كان معه من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم واستشارهم في قسمة أرضها بين من شهدها كما قسم بينهم غنائمهم وكما قسم رسول الله صلى الله عليه و سلم خيبر بين من شهدها أو يوقفها حتى راجع في ذلك رأي أمير المؤمنين فقال نفر منهم فيهم الزبير بن العوام والله ما ذاك إليك ولا إلى عمر إنما هي أرض فتح الله علينا وأوجفنا عليها خيلنا ورجالنا وحوينا ما فيها فما قسمتها بأحق من قسمة أموالها وقال نفر منهم لا نقسمها حتى نراجع رأي أمير المؤمنين فيها فاتفق رأيهم على أن يكتبوا إلى عمر في ذلك ويخبروه في كتابهم إليه بمقالتهم فكتب إليهم عمر بسم الله الرحمن الرحيم أما بعد فقد وصل إلي ما كان من إجماعكم على أن تغتصبوا عطايا المسلمين ومؤن من يغزو أهل العدو وأهل الكفر وإني أن قسمتها بينكم لم يكن لمن بعدكم من المسلمين مادة يقوون به على عدوكم ولولا ما أحمل عليه في سبيل الله وأدفع عن المسلمين من مؤنهم وأجري على ضعفائهم وأهل الديوان منهم لقسمتها بينكم فأوقفوها فيئا على من بقي من المسلمين حتى ينقرض آخر عصابة تغزو من المؤمنين والسلام عليكم قال أبو جعفر ففي هذا الحديث ما قد دل في حكم الأرضين المفتتحة على ما ذكرنا وأن حكمهما خلاف حكم ما سواها من سائر الأموال المغنومة من العدو فإن قال قائل ففي هذا الحديث ذكر أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه كان قسم خيبر بين من كان شهدها فذلك ينفي أن يكون فيما فعل رسول الله صلى الله عليه و سلم في خيبر حجة لمن ذهب إلى ما ذهب إليه أبو حنيفة وسفيان ومن تابعهما في إيقاف الأرضين المفتتحة لنوائب المسلمين قيل له هذا حديث لم يفسر لنا فيه كل الذي كان من رسول الله صلى الله عليه و سلم في خيبر وقد جاء غيره فبين لنا ما كان من رسول الله صلى الله عليه و سلم فيها

قیس سکونی نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جب حضرت عمر و بن العاص رضی اللہ عنہ نے سر زمین مسر کو فتح کیر لیا تو ان کے ساتھ جو بھی اصحاب رسول اللہﷺ تھے ان کو جمع کیا اور ان سے اس کی زمین اس لوگوں کے مابین تقسیم کرنے کے سلسلے میں مشورہ کیا جو واقعہ میں موجود تھے جس طرح ان کے مابین غنائم کو تقسیم کردیا اور جس طرح جناب رسول اللہ ﷺ نے واقعہ خیبر میں حاضر لوگوں کے درمیان خیبر کو تقسیم فرما دیا پھر اس کو امیر المؤمنین کی رائے آنے تک توقف کیا جائے ( درائے آئیں )نمبر1:ان میں سے ایک جماعت نے کہا جب میں حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ بھی تھے کہ اللہ کی قسم ! یہ معاملہ نہ تو تیرے اختیار میں ہے اور نہ عمررضی اللہ عنہ کے ۔ اس زمین کو اللہ تعالی نے ہم پر فتح کیا ہم نے اپنے گھوڑ سوار اور پیدل اس پر دوڑائے اور جو کچھ اس میں ہے اس کو جمع کیا ۔ اس کی زمین اس کے اموال کی طرح تقسیم کی حقدار ہے ۔ نمبر 2:ان میں سے دوسری جماعت نے کہا ہم اس کو امیر المؤمنین کی طرف رجوع سے پہلے تقسیم نہ کریں گے ۔ پھر اس پر اتفاق رائے ہو گیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف لکھا جائے اور ان کے خط میں ان کی آراء کی بھی اطلاع دی جائے (چنانچہ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کا خط پہنچا ) تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف یہ خط لکھا۔ ﷽ حمد وصلاۃ کے بعد مجھے تمہاری طرف سے یہ بات پہنچی ہے کہ تم اس بات پر متفق ہو کہ تم مسلمانوں کے عطیات اور دشمن نیز کفار کے مقابلے میں لڑنے والوں کی محنت کو چھین لو ۔ اگر میں اس کو تمہارے درمیان تقسیم کر دوں تو تمہارے بعد والے مسلمانوں کے لئے ایسی کوئی چیز باقی نہ رہے گی ۔ جس کے ذریعہ تمہارے دشمنوں کے خلاف مضبوط ہو سکیں ۔ اگر وہ چیزیں نہ ہوتیں جس سے میں تمہیں اللہ تعالی کی راہ میں آمادہ کروں اور مسلمانوں سے ان کا بوجھ دور کروں اور ان کے کمزور وں اور دیوان والوں پر اسے جاری کرنا نہ ہوتا تو میں اس کو تمہارے درمیان تقسیم کر دیتا فلہذا اے بقیہ مسلمانوں کے لئے بطور غنیمت رہنے دو یہاں تک کہ مسلمانوں کی آخری جماعت کفار سے جنگ کرے ۔ والسلام علیکم ۔ امام ظحاوی فرماتے ہیں اس روایت سے بھی یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ مفتوحہزمینوں کا مسئلہ دشمن سے حاصل شدہ دیگر تمام غنائم سے مختلف ہے جیسا کہ ہم نے ذکر کیا اس روایت میں مذکور ہے کہ آپ ﷺ نے خیبر ان لوگوں میں تقسیم کر دیا جو فتح میں شریک تھے پس اس سے اس بات کی نفی ہو گئی جس کو ابو حنیفہ ، سفیان ثوری رحمۃاللہ علیہ اور ان کے پیروکار وں نے اختیار کیا کہ یہ اراضی مفتوحہ مصائب مسلمین کے لئے روک لی جائیں گی ۔ اس روایت میں خیبر کے متعلق پوری تفصیل موجود نہیں ہے خیبر کے متعلق تفصیلی روایت اس بات کو واضح کرتی ہے ۔وہ روایت یہ ہے۔

عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← أَبِيهِ ← عَمْرُو بْنُ قَيْسٍ السَّكُونِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ ← نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5125

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 10 باب الأرض تفتتح كيف ينبغي للإمام أن يفعل فيها ) · حديث 5126

4850 - حدثنا الربيع بن سليمان المؤذن قال ثنا أسد بن موسى قال ثنا يحيى بن زكريا بن أبي زائدة قال حدثني سفيان عن يحيى بن سعيد عن بشير بن يسار عن سهل بن أبي حثمة قال قسم رسول الله صلى الله عليه و سلم خيبر نصفين نصفا لنوائبه وحاجته ونصفا بين المسلمين فقسمها بينهم على ثمانية عشر سهما ففي هذا الحديث بيان ما كان من رسول الله صلى الله عليه و سلم في خيبر وأنه أوقف نصفها لنوائبه وحاجته وقسم نصفها بين من شهدها من المسلمين فالذي كان أوقفه منها هو الذي كان دفعه إلى اليهود مزارعة على ما في حديث بن عمر وجابر رضي الله عنهم اللذين ذكرناهما وهو الذي تولى عمر قسمته في خلافته بين المسلمين لما أجلى اليهود عن خيبر وفيما بينا من ذلك تقوية لما ذهب إليه أبو حنيفة وسفيان في إيقاف الأرضين وترك قسمتها إذا رأى الإمام ذلك

بشیر بن یسار نے سہل بن ابی حشمہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے خیبر کو دو برابر حصوں میں تقسیم فرمایا کہ نصف حصہ اپنی ضروریا ت مصائب کے لئے رکھا اور باقی نصف مسلمانوں کے مابین اٹھارہ حصوں میں تقسیم فرمایا ۔ اس روایت سے خیبر سے سلسلہ میں آپ ﷺ کا طرز عمل معلوم ہو رہا ہے کہ آپ نے نصف پانے مصائب و حوائج کے لئے رکھا اور نصف کو واقعہ میں شامل حضرات پر تقسیم کر دیا جو حصہ اپنے لئے رکھا اسی کو یہود ک ہاتھوں میںمزارعت پر دیا جیسا کہ روایت حضرت ابن عمر ، جابر رضی اللہ عنہا میں مذکور ہوا اور یہ وہی حصہ ہے کہ جس کو مسلمانوں میں اس وقت تقسیم کیا گیا جبکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دور میں یہود کو جلا وطن کیا ۔ یہ جو کچھ مذکور ہوا یہ امام ابو حنیفہ اور سفیان ثوری رحمۃاللہ علیہ کے مؤقف کی تائید کرتا ہے اگر امام چا ہے تو ان مفتوحہ زمینوں کو وقف کر دے اور تقسیم نہ کرے ۔

سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، ← بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سُفْيَانَ، ← يَحْيَی بْنُ زَکَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُؤَذِّنُ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5126

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 11 باب الرجل يحتاج إلى القتال على دابة من المغنم ) · حديث 5127

4851 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب قال أخبرني بن لهيعة عن جعفر بن ربيعة عن بن مرزوق التجيبي عن حنش بن عبد الله عن رويفع بن ثابت عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال عام خيبر من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فلا يأخذ دابة من المغانم فيركبها حتى إذا أنقصها ردها في المغانم ومن كان يؤمن بالله واليوم الآخر فلا يلبس ثوبا من المغانم حتى إذا أخلقه ردها في المغانم

حنش بن عبداللہ نے حضرت رویفع بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت کی انہوں نے جناب رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے سال فرمایا جو شخص اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ غنائم میں کوئی جانور سواری کے لئے نہ لے کہ اس کو کمزور کر کے پھر اس کو غنائم میں واپس کر دے اور جو شخص اللہ تعال اور آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ غنائم میں سے کوئی کپڑا پہننے کے لئے نہ لے کہ جب وہ پرانا ہو جائے غنائم میں واپس کر دے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم أنه ← رُوَيْفِعَ بْنَ ثَابِتٍ ← حَنَشِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← بن مرزوق التجيبي ← جَعْفَرِ بْنِ رَبِیعَۃَ، ← بن لهيعة ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5127

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 11 باب الرجل يحتاج إلى القتال على دابة من المغنم ) · حديث 5128

4852 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب قال أخبرني يحيى بن أيوب عن ربيعة بن سليم التجيبي عن حنش عن رويفع بن ثابت عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله فذهب قوم منهم الأوزاعي إلى أنه لا بأس أن يأخذ الرجل السلاح من الغنيمة فيقاتل به في معمعة القتال ما كان إلى ذلك محتاجا ولا ينتظر برده الفراغ من الحرب فتعرضه للهلاك وانكساد الثمن في طول مكثه في دار الحرب واحتجوا في ذلك بهذا الحديث وخالفهم في ذلك آخرون منهم أبو حنيفة رحمة الله عليه

حنش نے رویفع بن ثابت رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے جناب رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح روایت کی ہے ۔ ایک جماعت جس میں اوزاعی بھی شامل ہیں ان کا مؤقف یہ ہے کہ مال غنیمت میں ملنے والے ہتھیاروں کے ذریعہ لڑنے میں کوئی حرج نہیں جب تک کہ اس کو ضرورت رہے مگر واپس لوٹانے کے لئے لڑائی کے ختم کا منتظر نہ رہے کیونکہ دارالحرب میں زیادہ دیر ٹھہرنے کی وجہ سے وہ اسلحہ ضائع ہو جائے گا یا اس کی قیمت میں کمی آجائے گی ۔ اس کی دلیل مندرجہ بالا روایات ہیں ۔ دوسرے حضرات نے ان کی مخالفت کی جن میں امام ابو حنیفہ رحمۃاللہ علیہ بھی ہیں ۔ جیسا کہ اس اثر سے واضح ہو رہا ہے ۔

رُوَيْفِعَ بْنَ ثَابِتٍ ← حنش ← رَبِيعَةَ بْنِ سُلَيْمٍ التُّجِيبِيِّ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5128

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 11 باب الرجل يحتاج إلى القتال على دابة من المغنم ) · حديث 5129

فيما حدثني سليمان بن شعيب عن أبيه عن أبي يوسف فقالوا لا بأس أن يأخذ ذلك الرجل من الغنيمة السلاح إذا احتاج إليه بغير إذن الإمام فيقاتل به حتى يفرغ من الحرب ثم يرده في المغنم قال أبو يوسف وقد بلغنا عن النبي صلى الله عليه و سلم ما أحتج به الأوزاعي ولحديث رسول الله صلى الله عليه و سلم معان ووجوه وتفسير لا يفهمه ولا يبصره إلا من أعانه الله عليه فهذا الحديث عندنا على من يفعل ذلك وهو عنه غني يبقى بذلك على دابته وعلى ثوبه أو يأخذ ذلك يريد به الخيانة فأما رجل مسلم في دار الحرب ليس معه دابة وليس مع المسلمين فضل يحملونه إلا دواب الغنيمة ولا يستطيع أن يمشي فإن هذا لا يحل للمسلمين تركه ولا بأس أن يركبها هذا شاءوا أو كرهوا وكذلك هذه الحال في الثياب وكذلك هذه الحال في السلاح والحال أبين وأوضح ألا ترى أن قوما من المسلمين لو تكسرت سيوفهم أو ذهبت ولهم غنى عن المسلمين أنه لا بأس أن يأخذوا سيوفا من الغنيمة فيقاتلوا بها ما داموا في دار الحرب أرأيت ولو لم يحتاجوا إليها في معمعة القتال واحتاجوا إليها بعد ذلك بيومين أغار عليهم العدو أيقومون هكذا في وجوه العدو بغير سلاح كيف يصنعون أيستأسرون هذا الرأي فيه توهين لمكيدة المسلمين وكيف يحل هذا في المعمعة ويحرم بعد ذلك وقد

سلیمان بن شیعیب نے اپنے والد سے انہوں نے ابو یوسف رحمۃاللہ علیہ سے نقل کیا کہ اس آدمی کو غنیمت کا اسلحہ لینے میں کچھ حرج نہین جبکہ ضرورت پیش آئے امام سے اجازت کی ضرورت نہیں اس اسلحہ سے قتال کرے جب لڑائی سے فارغ ہو تو غنائم میں لوٹا دے امام ابو یوسف کہتے ہیں کہ ہمیں جناب نبی اکرم ﷺ سے یہ بات پہنچی ہے جس سے امام اوزعی نے دلیل پیش کی ہے اور حدیث جناب رسول اللہ ﷺ کے کچھ معنی اور وجوہ اور تفسیر ہوتی ہے جن کی سمجھ بوجھ وہی رکھتا ہے جس کی اللہ تعالی اعانت فرمائے ہمارے ہاں اس روایت میں جو کچھ بتلایا گیا اس کا تعلق مالدار سے ہے جو کہ ضرورت کے بغیر جانور یا کپڑا لیتا ہے یا خیانت کے طور پر لیتا ہے مگر جس مسلمان کے پاس دارالحرب میں کوئی جانور نہ ہو اور دوسرے مسلمان کے پاس غنیمت کے عالوہ کوئی زائد جانور نہ ہو اور وہ پیدل بھی نہ چل سکتا ہو تو مسلمانوں کے لئے اسے بغیر سواری چھوڑنا جائز نہیں اور اس پر سواری میں کوئی حرج نہیں ۔ خواہ دوسرے مسلمان اس کو پسند کریں یا نہ کریں ۔ کپڑے کا اور ہتھیاروں کا بھی حال ہے اور یہ حکم تو ظاہر تر ہے کیا تم اس بات پر نظر نہیں ڈالتے کہ اگر مسلمانوں کی تلوار یں ٹوٹ جائیں یا ان کے پاس تلواریں نہ رہیں اور مسلمانوں کے پاس سے انہیں کچھ نہ مل سکے تو اس بات میں کوئی حرج نہیں کہ مال غنیمت سے تلواریں لے کر ان کے ساتھ لڑیں جب تک کہ وہ دارالحرب میں ہو ۔ ذرا توجہ تو کرو کہ اگر ان کو ان تلواروں کی ضرورت عین کھمسان کی جنگ کے موقعہ پر نہ ہو اوراس کے دو دن بعد ان کو ان کی اس لئے ضرورت ہو کہ دشمن کے شب خون کا خطرہ ہو آپ ہی بتلائیں کہ آیا وہ دشمن کے سامنے یوں بلا اسلحہ کھڑے ہوں گے ؟ وہ کیا کریں گے کیا وہ اس رائے کو ترجیح دیں گے جس میں مسلمانوں کی جنگی چال کی تذلیل ہے ( یا کچھ اور کریں گے ) پھر یہ عین گھمسان میں کیسے حلال ہوا کہ جو بعد میں حرام ہو گیا ؟

لاَ بَأْسَ. ← أَبِي يُوسُفَ ← أَبِيهِ ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ ← فِيمَا

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5129

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 11 باب الرجل يحتاج إلى القتال على دابة من المغنم ) · حديث 5130

4853 - حدثنا سليمان بن شعيب عن أبيه عن أبي يوسف قال ثنا أبو إسحاق الشيباني عن محمد بن أبي المجالد عن عبد الله بن أبي أوفي صاحب رسول الله صلى الله عليه و سلم قال كنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم بخيبر يأتي أحدنا إلى طعام من الغنيمة فيأخذ منه حاجته فإذا كان الطعام لا بأس بأخذه وأكله واستهلاكه لحاجة المسلمين إلى ذلك كان كذلك أيضا لا بأس بأخذ الدواب والسلاح والثياب واستعمالها للحاجة إلى ذلك حتى لا يكون الذي أريد من حديث بن أبي أوفي هذا غير ما أريد به من حديث رويفع حتى لا يتضادان وهو قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمة الله عليهم وبه نأخذ

محمد بن ابی المجاہد نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جو صحابی رسول اللہﷺ ہیں کہ ہم جناب رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خیبر میں تھے ہم میں سے ہر ایک غنائم کے کھانے کی طرف آتا اور وہاں سے اپنی ضرورت کے مطابق لے لیتا تھا ۔ اس روایت سے کھانے کا استعمال ثابت ہوا تو اگر کھانا ضرارت کے وقت استعمال کرنے اور اس کے کھانے اور اسے حاجت مسلم میں لگانے میں حرج نہیں تو بالکل اس طرح جانوروں ، ہتھیاروں اور کپڑوں کو لے کر ضرورت کے وقت استعمال میں کوئی حرج نہیں اور یہ مفہوم اس لئے مراد لیا گیا ہے تاکہ دونوں روایات عبداللہ بن ابی اوفی اور روایت رویفع رضی اللہ عنہا مفہوم کے لحاظ سے ایک دوسرے کے مخالف نہ ہوں ۔ یہی امام ابوحنیفہ ، ابو یوسف ، محمد کا قول ہے اور اسی کو ہم اختیار کرتے ہیں ۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5130

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 12 باب الرجل يسلم في دار الحرب وعنده أكثر من أربع نسوة ) · حديث 5131

4854 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا بكر بن خلف قال ثنا عبد الأعلى بن عبد الأعلى الشامي عن معمر عن الزهري عن سالم عن بن عمر أن غيلان بن سلمة أسلم وتحته عشر نسوة فقال له النبي عليه السلام خذ منهن أربعا قال أبو جعفر فذهب قوم إلى أن الرجل إذا أسلم وعنده أكثر من أربع نسوة قد كان تزوجهن في دار الحرب وهو مشرك أنه يختار منهن أربعا فيمسكهن ويفارق سائرهن وسواء عندهم كان تزويجه إياهن في عقدة واحدة أو في عقد متفرقة وممن قال هذا القول محمد بن الحسن رحمه الله وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا إن كان تزوجهن في عقدة واحدة فنكاحهن كلهن باطل ويفرق بينه وبينهن وإن كان تزوجهن في عقد متفرقة فنكاح الأربع الأول منهن ثابت ويفرق بينه وبين سائرهن وممن ذهب إلى هذا القول أبو حنيفة وأبو يوسف رحمة الله عليهما وكان من الحجة لهم في ذلك أن هذا الحديث منقطع ليس كما رواه عبد الأعلى وأصحابه البصريون عن معمر إنما أصله ما

سالم نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ حضرت غیلان بن سلمہ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا اور ان کی اس وقت دس بیویاں تھیں جناب رسول اللہ ﷺ نے اس کو فرمایا ۔ ان میں سے چار رکھ لو ۔ امام طحاوی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں : ایک جماعت کا خیال یہ ہے کہ جب آدمی اسلام قبول کر لے اور اس کے پاس چار سے زائد بیویاں ہوں اور اس نے شرک کی حالت میں دارالحرب میں ان سے نکاح کیا ہو تو اسے ان میں سے چار کے چناؤ کا اختیار ہے کہ ان کو اپنے ہاں رکھے اور بقیہ کو جدا کر دے ۔ اس میں کوئی فرق نہیں کہ ان سے اکھٹی شادی کی ہو یا الگ الگ عقد کیا ہو ۔ یہ امام محمد رحمۃاللہ علیہ کا بھی قول ہے ۔ اگر ان سب سے عقد سے نکاح کیا ہو تو تمام سے نکاح ٹوٹ جائے گا اور اس کے اور ان کے درمیان تفریق کر دی جائے گی اور اگر الگ الگ عقد سے نکاح ہوا تو پہلی چار سے نکاح درست رہے گا ۔ بقیہ سے تفریق کر دی جائے گی اس قول کی امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف رحمۃاللہ علیہ اور دیگر علماء نے اختیار کیا ہے ۔ اس روایت کو جس طرح عبد الاعلی اور اس کے شاگردوں نے معمر رحمۃاللہ علیہ سے جس طرح بیان کیا یہ اس طرح نہیں بلکہ اس کی اصل یہ ہے ۔

بن عُمَرَ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الشَّامِيُّ، ← بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5131

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 12 باب الرجل يسلم في دار الحرب وعنده أكثر من أربع نسوة ) · حديث 5132

4855 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب أن مالكا حدثه عن بن شهاب أنه قال بلغنا أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لرجل من ثقيف أسلم وعنده أكثر من أربع نسوة أمسك منهن أربعا وفارق سائرهن

مالک ابن شہاب سے روایت کیا کہ ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ثقیف کے ایک اسلام لانے والے شخص کو فرمایا جبکہ اس کے پاس چار سے زیادہ بیویاں تھیں ۔ ان میں سے چار کو روک لو اور بقیہ کو جدا کر دو ۔

بَلَغَنَا ← بن شهاب أنه ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5132

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 12 باب الرجل يسلم في دار الحرب وعنده أكثر من أربع نسوة ) · حديث 5133

4856 - حدثنا أحمد بن داود المكي قال ثنا يعقوب بن حميد قال ثنا بن عيينة عن معمر عن بن شهاب عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

معمر نے ابن شہاب انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح روایت بیان کی ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← بن شِهَابٍ ← مَعْمَرٌ، ← بن عُيَيْنَةَ ← يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5133

chevron_left Previous
1…131415…33
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter