شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 10 باب الأرض تفتتح كيف ينبغي للإمام أن يفعل فيها ) · حديث 5122
4846 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا يوسف بن عدي قال ثنا بن المبارك عن إسماعيل بن أبي خالد عن قيس بن أبي حازم قال لما وفد جرير بن عبد الله وعمار بن ياسر في أناس من المسلمين إلى عمر بن الخطاب قال عمر لجرير يا جرير والله لولا أني قاسم مسئول لكنتم على ما قسمت لكم ولكني أرى أن أرده على المسلمين فرده وكان ربع السواد لجبيلة فأخذه منهم وأعطاهم ثمانين دينارا
قیس بن ابی حازم کہتے ہیں کہ جب جریرین بن عبداللہ اور عمار بن یاسر رضی اللہ عنہم مسلمانوں کی ایک جماعت کے ساتھ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو حضرت عمر ۔ نے فرمایا ۔ اے جریر ! اگر میں ایسا تقسیم کرنے والا نہ ہوتا کہ جس سے سوال ہو گا ۔ تو میں تمہیں اس پر چھوڑ دیتا جو میں تم کو عطا کرتا ہوں ۔ پس میرا تو خیال یہ ہے کہ ہم اس کو بھی مسلمانوں پر واپس کر دیں انہوں نے وہ مال لوٹا دیا جریر کہتے ہیں کہ پھر مجھے اسی دینار کی اجاز ت مرحمت فرمائی ۔ سواد کا چوتھائی حصہ بجیلہ والوں کا تھا آپ نے وصول کر کے ان کو اسی دینار عنایت فر مائے ۔
عمار بن ياسر في أناس من المسلمين إلى عمر بن الخطاب ← لما وفد جرير بن عبد الله ← قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ2 ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← بن الْمُبَارَكِ، ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5122
