شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 8 باب النفل بعد الفراغ من قتال العدو وإحراز الغنيمة ) · حديث 5110
4834 - حدثنا يونس قال أخبرنا [ ص 243 ] سفيان عن الأسود بن قيس عن رجل من قومه يقال له بشر بن علقمة قال بارزت رجلا يوم القادسية فقتلته فبلغ سلبه أثني عشر ألفا فنفلنيه سعد بن أبي وقاص قيل له قد يجوز أن يكون سعد نفله ذلك والقتال لم يرتفع فإن كان ذلك كذلك فهذا قولنا أيضا وإن كان إنما نفله بعد ارتفاع القتال فقد يحتمل أن يكون جعل ذلك من الخمس فإن كان جعله من غير الخمس فهذا فيه الذي ذكرنا من الاختلاف فلم يكن في ذلك الحديث لأحد الفريقين حجة إذ كان قد يحتمل ما قد صرفه إليه مخالفه ووجب بعد ذلك أن يكشف وجه هذا الباب لنعلم كيف حكمه من طريق النظر فكان الأصل في ذلك أن الإمام إذا قال في حال القتال من قتل قتيلا فله سلبه أن ذلك جائز ولو قال من قتل قتيلا فله كذا وكذا درهما كان ذلك جائزا أيضا ولو قال من قتل قتيلا فله عشر ما أصبنا لم يجز ذلك لأن هذا لو جاز جاز أن تكون الغنيمة كلها للمقاتلين فيبطل حق الله تعالى فيها من الخمس فكان النفل لا يكون قبل القتال إلا فيما أصابه النفل بسيفه ولا يجوز فيما أصاب غيره إلا أن يكون فيما حكمه حكم الإجارة فيجوز ذلك كما تجوز الإجارة كقوله من قتل قتيلا فله عشرة دراهم فذلك جائز فلما كان ما ذكرنا كذلك ولم يجز النفل إلا فيما أصابه المنفل بسيفه أو فيما جعل له لعمله ولم يجز أن ينفل مما أصابه غيره كان النظر على ذلك أن يكون بعد إحراز الغنيمة أحرى أن لا يجوز أن ينفل مما أصاب غيره ففسد بذلك قول من أجاز النفل بعد إحراز الغنيمة ورجعنا إلى حكم ما أصابه هو فكان ذلك قبل أن ينفله الإمام إياه قد وجب حق الله تعالى في خمسه وحق المقاتلة في أربعة أخماسه فلو أجزنا النفل إذا لكان حقهم قد بطل بعد وجوبه وإنما يجوز النفل فيما يدخل في ملك المنفل من ملك العدو وأما ما قد زال عن ملك العدو قبل ذلك وصار في ملك المسلمين فلا نفل في ذلك لأنه من مال المسلمين فثبت بذلك أن لا ينفل بعد إحراز الغنيمة على ما قد فصلنا في هذا الباب وبينا وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمة الله عليهم أجمعين
اسعود بن قیس نے اپنی قوم کے ایک آدمی سے بیان کیا جس کو بشر بن علقمہ کہا جاتا ہے ۔ اس نے بتایا کہ میں نے قادسیہ کے دن ایک آدمی سے مقابلہ کر کے اس کو قتل کر دیا تو اس کا سامان بارہ ہزار کی قیمت کو پہنچا ۔ تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ وہ مجھے زائد عنایت فرمایا ۔ یہ عین ممکن ہے کہ حضرت سعدرضی اللہ عنہ نے لڑائی ختم ہونے سے پہلے ان کو دیا ہو ۔ اگر یہ اسی طرح ہو تو امیں اس سے اختلاف نہیں اور اگر لڑائی کے بعد ہے تو پھر احتمال ہے کہ خمس میں سے دیا ہو اور بالفرض اگر انہوں نے خمس کے علاوہ مال سے دیا ہو تو اس میں اختلاف ہے ۔ اسی اختلاف کا ہم پہلے ذکر کر آئے ۔ اس صورت میں یہ روایت کسی فریق کی دلیل نہ ہو گی ۔ اس لئے کہ ہر دو احتمالات کی طرف پھیرا جا سکتا ہے ۔ اب ضروری ہوا کہ نظر و فکر سے غور کر کے مسئلہ کی اختالفی باڑ سے نکلیں ۔ تاکہ نظر سے اس کا حکم معلوم ہو سکے ۔ نظر کی راہ سے اس باب کا حکم معلوم کرنا ضروری ہو گیا ۔اس میں بنیادی بات یہ ہے کہ سپہ سالار اگر اعلان کردے کہ جو شخص کسی (کافر ) کو قتل کر ت تو اسے مقتول کا سامان ملے گا ۔ اس کا یہ اعلان جائز و درست ہے اور اگر کوئی کہے کہ جو شخص کسی کو قتل کرے گا تو اسے اتنے درہم ملیں گے تویہ بھی درست ہے اور اگر وہ یہ اعلان کرے کہ جو شخص کسی کو قتل کرے گا اس کو مال غنیمت میں سے دسواں حصہ ملے گا تو یہ درست نہیں ۔ کیونکہ اگر ایسا درست ہوتا تو پھر تمام مال مجاہدین ہی کے لئے ہوتا اور اللہ تعالی کا حق یعنی خمس باطل ہو جاتا ۔ اسی وجہ سے لڑائی سے پہلے نفل اس مال سے ہو گا جس کو نفل حاصل کرنے والا اپنی تلوار کے ذریعہ حاصل کرے یا اس کی کارکردگی کی وجہ سے اس کے لئے مقرر کیا گیا ہو ۔ جو کچھ دوسروں کو حاصل ہوا وہ اس کے لئے قرار نہ دیا جائے گا البتہ ایک صورت ہے کہ جس کا حکم اجارہ والا ہو وہ جائز ہے ۔ جیسا کہ امام کہے :"من قتیلا فلہ عشرہ دراھم " تو یہ درست ہے ۔ جب یہ بات اسی طرح ہے تو نفل اتنا ہی جائز ہے جتنا حاصل کرنے والا اپنی تلوار سے حاصل کرے یا وہ جو اس کے عمل پر مقرر کیا جائے ۔ اس میں اس کو دینا جائز نہیں جو دوسروں سے پایا ہو ۔ تو نظر کا تقاضا یہی ہے کہ مال غنیمت کے جمع ہونے کے بعد نفل ( زائد مال ) مجاہد کو دینے کے قائل ہیں ۔ پس یہ حکم اس چیز کی طرف لوٹ گیا جو اس نے خود حاصل کی ہے۔ تو امام کے اسے نفل دینے سے پہلے خمس میں امام کا اور چار حصوں میں مجاہدین کا حق لازم تھا ۔ اگر ہم اس کو دینا جائز قرار دیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ حق لازم ہونے کے بعد باطل ہو گیا ۔ بلا شبہ نفل اسی چیز میں ہو گا جو دشمن کی ملکیت سے نکل کر مجاہد کی ملکیت میں آئی ہو ۔ رہی وہ چیز جو دشمن کی ملکیت سے نکل کر عامۃالمسلمین میں داخل ہو چکی اس میں نفل جائز نہیں ہے ۔ کیونکہ وہ تمام مسلمانوں کا مال ہے ۔ اس سے یہ ثابت ہو گیا کہ مال غنیمت جمع کرنے کے بعد نفل (زائد مال ) دینا جائز نہیں جیسا کہ ہم تفصیل سے بیان کر آئے ۔ ہمارے ائمہ امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف ،محمد رحمۃاللہ علیہ کا یہی قول ہے ۔ جو امدادی دستے میران جنگ سے نکلنے سے پہلے پہلے آ ملیں گے اس سب کو مال غنیمت سے حصہ دیا جائے گا ۔ اس قول کو امام شعبی ، ثوری ، اوزاعی ائمہ احناف رحمۃاللہ علیہم اجمعین نے اختیار کیا ہے اور اپنے مؤقف کے لئے دلائل پیش کئے ہیں ۔ مال غنیمت میں سے ان لوگوں کو حصہ ملے گا جو واقعہ میں موجود ہوں گے ۔ یہ شعبی ۔ اوزاعی ، ابو حنیفہ ، ابو یوسف ، محمد رحمۃاللہ علیہ کا قول ہے ۔ انہوں نے اس روایت سے استدلال کیا ہے ۔
بارزت رجلا يوم القادسية فقتلته فبلغ سلبه أثني عشر ألفا فنفلنيه سعد بن أبي ← رجل من قومه يقال له بشر بن علقمة ← الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، ← سُفْيَانَ، ← يُونُسَ
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5110
