Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 8 باب النفل بعد الفراغ من قتال العدو وإحراز الغنيمة ) · حديث 5110

4834 - حدثنا يونس قال أخبرنا [ ص 243 ] سفيان عن الأسود بن قيس عن رجل من قومه يقال له بشر بن علقمة قال بارزت رجلا يوم القادسية فقتلته فبلغ سلبه أثني عشر ألفا فنفلنيه سعد بن أبي وقاص قيل له قد يجوز أن يكون سعد نفله ذلك والقتال لم يرتفع فإن كان ذلك كذلك فهذا قولنا أيضا وإن كان إنما نفله بعد ارتفاع القتال فقد يحتمل أن يكون جعل ذلك من الخمس فإن كان جعله من غير الخمس فهذا فيه الذي ذكرنا من الاختلاف فلم يكن في ذلك الحديث لأحد الفريقين حجة إذ كان قد يحتمل ما قد صرفه إليه مخالفه ووجب بعد ذلك أن يكشف وجه هذا الباب لنعلم كيف حكمه من طريق النظر فكان الأصل في ذلك أن الإمام إذا قال في حال القتال من قتل قتيلا فله سلبه أن ذلك جائز ولو قال من قتل قتيلا فله كذا وكذا درهما كان ذلك جائزا أيضا ولو قال من قتل قتيلا فله عشر ما أصبنا لم يجز ذلك لأن هذا لو جاز جاز أن تكون الغنيمة كلها للمقاتلين فيبطل حق الله تعالى فيها من الخمس فكان النفل لا يكون قبل القتال إلا فيما أصابه النفل بسيفه ولا يجوز فيما أصاب غيره إلا أن يكون فيما حكمه حكم الإجارة فيجوز ذلك كما تجوز الإجارة كقوله من قتل قتيلا فله عشرة دراهم فذلك جائز فلما كان ما ذكرنا كذلك ولم يجز النفل إلا فيما أصابه المنفل بسيفه أو فيما جعل له لعمله ولم يجز أن ينفل مما أصابه غيره كان النظر على ذلك أن يكون بعد إحراز الغنيمة أحرى أن لا يجوز أن ينفل مما أصاب غيره ففسد بذلك قول من أجاز النفل بعد إحراز الغنيمة ورجعنا إلى حكم ما أصابه هو فكان ذلك قبل أن ينفله الإمام إياه قد وجب حق الله تعالى في خمسه وحق المقاتلة في أربعة أخماسه فلو أجزنا النفل إذا لكان حقهم قد بطل بعد وجوبه وإنما يجوز النفل فيما يدخل في ملك المنفل من ملك العدو وأما ما قد زال عن ملك العدو قبل ذلك وصار في ملك المسلمين فلا نفل في ذلك لأنه من مال المسلمين فثبت بذلك أن لا ينفل بعد إحراز الغنيمة على ما قد فصلنا في هذا الباب وبينا وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمة الله عليهم أجمعين

اسعود بن قیس نے اپنی قوم کے ایک آدمی سے بیان کیا جس کو بشر بن علقمہ کہا جاتا ہے ۔ اس نے بتایا کہ میں نے قادسیہ کے دن ایک آدمی سے مقابلہ کر کے اس کو قتل کر دیا تو اس کا سامان بارہ ہزار کی قیمت کو پہنچا ۔ تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ وہ مجھے زائد عنایت فرمایا ۔ یہ عین ممکن ہے کہ حضرت سعدرضی اللہ عنہ نے لڑائی ختم ہونے سے پہلے ان کو دیا ہو ۔ اگر یہ اسی طرح ہو تو امیں اس سے اختلاف نہیں اور اگر لڑائی کے بعد ہے تو پھر احتمال ہے کہ خمس میں سے دیا ہو اور بالفرض اگر انہوں نے خمس کے علاوہ مال سے دیا ہو تو اس میں اختلاف ہے ۔ اسی اختلاف کا ہم پہلے ذکر کر آئے ۔ اس صورت میں یہ روایت کسی فریق کی دلیل نہ ہو گی ۔ اس لئے کہ ہر دو احتمالات کی طرف پھیرا جا سکتا ہے ۔ اب ضروری ہوا کہ نظر و فکر سے غور کر کے مسئلہ کی اختالفی باڑ سے نکلیں ۔ تاکہ نظر سے اس کا حکم معلوم ہو سکے ۔ نظر کی راہ سے اس باب کا حکم معلوم کرنا ضروری ہو گیا ۔اس میں بنیادی بات یہ ہے کہ سپہ سالار اگر اعلان کردے کہ جو شخص کسی (کافر ) کو قتل کر ت تو اسے مقتول کا سامان ملے گا ۔ اس کا یہ اعلان جائز و درست ہے اور اگر کوئی کہے کہ جو شخص کسی کو قتل کرے گا تو اسے اتنے درہم ملیں گے تویہ بھی درست ہے اور اگر وہ یہ اعلان کرے کہ جو شخص کسی کو قتل کرے گا اس کو مال غنیمت میں سے دسواں حصہ ملے گا تو یہ درست نہیں ۔ کیونکہ اگر ایسا درست ہوتا تو پھر تمام مال مجاہدین ہی کے لئے ہوتا اور اللہ تعالی کا حق یعنی خمس باطل ہو جاتا ۔ اسی وجہ سے لڑائی سے پہلے نفل اس مال سے ہو گا جس کو نفل حاصل کرنے والا اپنی تلوار کے ذریعہ حاصل کرے یا اس کی کارکردگی کی وجہ سے اس کے لئے مقرر کیا گیا ہو ۔ جو کچھ دوسروں کو حاصل ہوا وہ اس کے لئے قرار نہ دیا جائے گا البتہ ایک صورت ہے کہ جس کا حکم اجارہ والا ہو وہ جائز ہے ۔ جیسا کہ امام کہے :"من قتیلا فلہ عشرہ دراھم " تو یہ درست ہے ۔ جب یہ بات اسی طرح ہے تو نفل اتنا ہی جائز ہے جتنا حاصل کرنے والا اپنی تلوار سے حاصل کرے یا وہ جو اس کے عمل پر مقرر کیا جائے ۔ اس میں اس کو دینا جائز نہیں جو دوسروں سے پایا ہو ۔ تو نظر کا تقاضا یہی ہے کہ مال غنیمت کے جمع ہونے کے بعد نفل ( زائد مال ) مجاہد کو دینے کے قائل ہیں ۔ پس یہ حکم اس چیز کی طرف لوٹ گیا جو اس نے خود حاصل کی ہے۔ تو امام کے اسے نفل دینے سے پہلے خمس میں امام کا اور چار حصوں میں مجاہدین کا حق لازم تھا ۔ اگر ہم اس کو دینا جائز قرار دیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ حق لازم ہونے کے بعد باطل ہو گیا ۔ بلا شبہ نفل اسی چیز میں ہو گا جو دشمن کی ملکیت سے نکل کر مجاہد کی ملکیت میں آئی ہو ۔ رہی وہ چیز جو دشمن کی ملکیت سے نکل کر عامۃالمسلمین میں داخل ہو چکی اس میں نفل جائز نہیں ہے ۔ کیونکہ وہ تمام مسلمانوں کا مال ہے ۔ اس سے یہ ثابت ہو گیا کہ مال غنیمت جمع کرنے کے بعد نفل (زائد مال ) دینا جائز نہیں جیسا کہ ہم تفصیل سے بیان کر آئے ۔ ہمارے ائمہ امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف ،محمد رحمۃاللہ علیہ کا یہی قول ہے ۔ جو امدادی دستے میران جنگ سے نکلنے سے پہلے پہلے آ ملیں گے اس سب کو مال غنیمت سے حصہ دیا جائے گا ۔ اس قول کو امام شعبی ، ثوری ، اوزاعی ائمہ احناف رحمۃاللہ علیہم اجمعین نے اختیار کیا ہے اور اپنے مؤقف کے لئے دلائل پیش کئے ہیں ۔ مال غنیمت میں سے ان لوگوں کو حصہ ملے گا جو واقعہ میں موجود ہوں گے ۔ یہ شعبی ۔ اوزاعی ، ابو حنیفہ ، ابو یوسف ، محمد رحمۃاللہ علیہ کا قول ہے ۔ انہوں نے اس روایت سے استدلال کیا ہے ۔

بارزت رجلا يوم القادسية فقتلته فبلغ سلبه أثني عشر ألفا فنفلنيه سعد بن أبي ← رجل من قومه يقال له بشر بن علقمة ← الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، ← سُفْيَانَ، ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5110

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 9 باب المدد يقدمون بعد الفراغ من القتال في دار الحرب بعد ما ارتفع القتال قبل قفول العسكر هل يسهم لهم ) أم لا · حديث 5111

4835 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال أخبرنا إسماعيل بن عياش عن محمد بن الوليد الزبيدي عن بن شهاب الزهري ان عنبسة بن سعيد أخبره أنه سمع أبا هريرة يحدث سعيد بن العاص قال أبو هريرة بعث النبي صلى الله عليه و سلم أبان بن سعيد على سرية من المدينة قبل نجد فقدم أبان أصحابه على النبي صلى الله عليه و سلم بخيبر بعد ما فتحنا وأن حزم خيلهم لليف فقال أبان اقسم لنا يا رسول الله فقال أبو هريرة فقلت لا تقسم لهم شيئا يا نبي الله قال أبان أتيت بهدايا وفد نجد فقال النبي صلى الله عليه و سلم اجلس يا أبان فلم يقسم لهم شيئا قال أبو جعفر فذهب قوم إلى أنه لا يسهم من الغنيمة إلا لمن حضر الوقعة وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا يقسم لكل من شهد الوقعة ولمن كان غائبا عنها في شيء من أسبابها فمن ذلك من خرج يريدها فلم يلحق بالإمام حتى ذهب القتال غير أنه لحق به في دار الحرب قبل خروجه منها قسم له واحتجوا في ذلك بما

ابن شہاب نے عنبسہ بن سعید ستے نقل کیا کہ انہوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو سنا کہ وہ سعید بن عاص سے یہ بات بیان کر رہے تھے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ابان بن سعید رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ سے ایک سریہ پر نگران بنا کر نجد کی طرف بھیجا ۔ حضرت ابان اور ان کے ساتھی خیبر میں جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہ حاضری فتح خیبر کے بعد تھی ۔ ان کے گھوڑوں کی لگامیں کھجور کی چھال سے بنی ہوئی تھیں ۔ ابان رضی اللہ عنہ کہنے لگے یا رسول اللہ ﷺ ہمیں بھی مال غنیمت سے حصہ دو ۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے میں نے کہا اے اللہ کے نبی ﷺ ان کو بالکل مال غنیمت سے حصہ نہ دیں ۔ ابان کہنے لگے میں وفد نجد کے ہدایا لایا ہوں ۔ تو جناب نبی اکرم ﷺ نے فرمایا اے ابان بیٹھ جاؤ ۔ آپ نے ان کو مال غنیمت میں سے کوئی چیز نہ دی ۔ امام طحاوی رحمۃاللہ علیہ کا ارشاد : ایک جماعت کا قول یہ ہے کہ مال غنیمت میں سے صرف ان کو حصہ ملے گا جو واقعہ میں موجود ہوں ۔ مال غنیمت ہر اس آدمی پر تقسیم ہو گا جو واقعہ میں موجود ہو اور اس واقعہ کے اسباب میں سے کسی بھی کام کی وجہ سے غائب ہو ۔ جیسے وہ آدمی جو غزہ کا ارادہ کر کے نکلا مگر امام کے پاس تب پہنچا جب لڑائی ختم ہو چکی تھی ۔ البتہ یہ ضروری ہے کہ وہ دارالحرب میں پہنچ جائے جبکہ امام ابھی وہاں سے نہ نکلا ہو ۔ تو مال غنیمت میں سے اس کو حصہ دیا جائے گا ۔ انہوں نے ان روایات سے استدلال کیا ہے ۔

بن شهاب الزهري ← مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيِّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5111

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 9 باب المدد يقدمون بعد الفراغ من القتال في دار الحرب بعد ما ارتفع القتال قبل قفول العسكر هل يسهم لهم ) أم لا · حديث 5112

4836 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا عيسى بن إبراهيم قال ثنا عبد الواحد بن زياد قال ثنا كليب بن وائل قال حدثني هاني بن قيس عن حبيب بن أبي مليكة قال كنت قاعدا إلى جنب بن عمر فأتاه رجل فقال هل شهد عثمان بدرا فقال لا ولكن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال يوم بدر إن عثمان انطلق في حاجة الله وحاجة رسوله فضرب له بسهم ولم يضرب لأحد غاب غيره

حبیب ابن ابی ملیکہ روایت کرتے ہیں کہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں بیٹھا تھا کہ ان کے پاس ایک آدمی آکر دریافت کرنے لگا ۔ کیا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بدر میں شریک تھے ؟ انہوں نے جواب دیا نہیں۔ لیکن جناب رسول اللہ ﷺ نے بدر کے دن فرمایا عثمان اللہ اور اس کے رسول کے کام میں مصروف ہے ۔ پس آپ ﷺ نے ان کا حصہ مقرر فرمایا ۔ ان کے علاوہ کسی غائب رہنے والے کا حصہ مقرر نہیں فرمایا

لا ولكن رسول الله صلى الله عليه و سلم ← هل شهد عثمان بدرا ← كنت قاعدا إلى جنب بن عمر فأتاه رجل ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← هَانِئِ بْنِ قَيْسٍ ← کُلَيْبُ بْنُ وَائِلٍ ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5112

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 9 باب المدد يقدمون بعد الفراغ من القتال في دار الحرب بعد ما ارتفع القتال قبل قفول العسكر هل يسهم لهم ) أم لا · حديث 5113

4837 - حدثنا أبو أمية قال ثنا أبو معاوية بن عمرو الأزدي قال ثنا أبو إسحاق الفزاري عن كليب بن وائل ثم ذكر بإسناده مثله إلا هنا أفلا ترى أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قد ضرب لعثمان في غنائم بدر بسهم ولم يحضرها لأنه كان غائبا في حاجة الله وحاجة رسوله فجعله رسول الله صلى الله عليه و سلم كمن حضرها فكذلك كل من غاب عن وقعة المسلمين بأهل الحرب بشغل يشغله به الإمام من أمور المسلمين مثل أن يبعثه إلى جانب آخر من دار الحرب لقتال قوم آخرين فيصيب الإمام غنيمة بعد مفارقة ذلك الرجل إياه أو يبعث برجل ممن معه من دار الحرب إلى دار الإسلام ليمده بالسلاح والرجال فلا يعود ذلك الرجل إلى الإمام حتى يغنم غنيمة فهو شريك فيها وهو كمن حضرها وكذلك من أراده فرده الإمام عنها وشغله شيء من أمور المسلمين فهو كم حضرها وعلى هذا الوجه عندنا والله أعلم أسهم النبي صلى الله عليه و سلم لعثمان بن عفان في غنائم بدر ولولا ذلك لما أسهم له كما لم يسهم لغيره ممن غاب عنها لأن غنائم بدر وكانت وجبت لمن حضرها دون من غاب عنها إذا لما ضرب النبي صلى الله عليه و سلم لغيرهم فيها بسهم ولكنها وجبت لمن حضر الوقعة ولكل من بذل نفسه لها فصرفه الإمام عنها وشغله بغيرها من أمور المسلمين كمن حضرها وأما حديث أبي هريرة رضي الله عنه فإنما ذلك عندنا والله أعلم أن النبي صلى الله عليه و سلم وجه أبانا إلى نجد قبل أن يتهيأ خروجه إلى خيبر فتوجه أبان في ذلك ثم حدث من خروج النبي صلى الله عليه و سلم إلى خيبر ما حدث فكان ما غاب فيه أبان من ذلك عن حضور خيبر وليس هو شغلا شغله النبي صلى الله عليه و سلم عن حضورها بعد إرادته إياه فيكون كمن حضرها فهذان الحديثان أصلان فكل من أراد الخروج مع الإمام إلى قتال العدو فرده الإمام على ذلك بأمر آخر من أمور المسلمين فتشاغل به حتى غنم الإمام غنيمة فهو كمن حضر مع الإمام يسهم له في الغنيمة كما يسهم لمن حضرها وكل شيء تشاغل به رجل من شغل نفسه أو شغل المسلمين مما كان دخوله فيه متقدما ثم حدث للإمام قتال العدو فتوجه له فغنم فلا حق لذلك الرجل في الغنيمة وهي بين من حضرها وبين من حكمه حكم الحاضر لها واحتج أهل المقالة الأولى لقولهم أيضا بما

ابو اسحاق قزاری نے کلیب بن وائل سے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت یہاں تک نقل کی ہے ۔ اس روایت میں غور فرمائیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے غنائم بدر میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو حصہ دیا حالانکہ وہ موجود نہ تھے ۔ کیونکہ وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے کام میں مصروف تھے اس لئے ان کو حاضر شمار کیا ۔ اسی طرح ہر وہ شخص جو کفار کے ساتھ مسلمانوں کی جنگ سے غائب ہو کہ امام اس کو کسی کام میں مشغول رکھے ۔ نمبر ٍ1 : مثلاً اس کو دارالحرب کی کسی دوسری جانب دوسروں لوگوں کے ساتھ لڑائی کے لئے بھیجے پھر اس کے جانے کے بعد امام کو مال غنیمت مل جائے ۔ دارالحرب میں موجود لوگوں میں سے کسی کو دارالاسلام میں بھیجے تاکہ وہ اسلحہ اور آدمیوں سے اس کی مدد کرے ۔ پھر یہ نمائندہ اما م کے غنیمت حاصل کرنے تک واپس نہ آئے تو مال غنیمت میں شریک ہو گا ۔ وہ موجود لوگوں کی طرح ہو گا ۔ وہ آدمی جو جنگ میں جانے کا ارادہ کرے لیکن اس کو واپس کر کے مسلمانوں کے کسی کام میں مصروف کر دے تو وہ بھی اس جنگ میں حاضر لوگوں کی طرح شمار ہو گا۔ ہمارے نزدیک اسی بنا ء پر جناب نبی اکرم ﷺ نےحضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو غنائم بدر میں حصہ عنائت فرمایا (واللہ اعلم ) اگر یہ بات نہ ہوتی تو آپ ﷺ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو بھی اسی طرح حصہ نہ دیتے جیسا کہ دوسروں کو نہ دیا جو کہ وہاں موجود نہ تھے ۔ کیونکہ بدر کے غنائم انہی کے لئے لازم کئے گئے تھے جو وہاں موجود تھے ۔ غائبین کے لئے نہ تھے۔ ورنہ اس میں دوسروں کا بھی حصہ ضرور لگاتے ۔ لیکن وہ غنائم موجودین کے لئے لازم کئے گئے تھے اور ہر ایسے آدمی کے لئے جس نےاپنے آپ کو بدر کے لئے پیش کیا مگر آپ نے اس کو امور مسلمین میں مصروف کر کے وہاں سے ہٹا دیا ۔ روایت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا جواب یہ ہے کہ آپ ﷺ نے حضرت ابان کو نجد کی طرف اس وقت روانہ فرمایا جبکہ خیبر کی طرف یلغار کی تیاری بھی نہیں تھی ۔ پس ابان کو نجد بھیج دیا (واللہ اعلم ) پھر آپ نے خیبر کی تیاری فرمائی ۔ پس ابان کا اس حاضری خیبر سے غائب رہنا اس وجہ سے تھا کہ ان کو جناب رسول اللہ ﷺ کے کسی کام میں مشغولیت نے شرکت کے ارادہ کے باوجود الگ کر دیا تاکہ ان کو حاضر کی طرح شمار کیا جائے ۔ ان دو روایات سے دو قاعدے معلوم ہوتے ہیں کہ جو شخص امام کے ساتھ دشمن کے خلاف قتال میں نکلنے کا ارادہ رکھتا تھا ۔ پھر اس کو خود امام نے مسلمانوں کے کسی دوسرے کام کی ذمہ اری سونپ دی اور وہ اس میں مشغول رہا یہاں تک کہ امام نے قتال میں غنیمت پا لی تو یہ آسمی قتال میں حاضر باس لوگوں میں شمار ہو گا اس کا غنیمت حاضر جیسا حصہ ہو گا ۔ ہر وہ چیز جس میں آدمی مشغول رہا اور وہ اس کی ذاتی مشغولیت تھی ۔ یا مسلمانوں کا کام تھا مگر وہ قال میں جانے سے پہلے اس مشغول چلا آرہا تھا ۔ پھر امام کو دشمن کے خلاف لڑائی پیش آ گئی ۔ جس میں اس کو غنیمت مل گئی تو اس آدمی کا غنیمت میں کوئی حق نہیں ۔ یہ قتال میں حاضر ہو اور وہ جن کا حکم حاضر جیسا ہے ان کے درمیانی درجے کا آدمی ہے ۔ فریق اول کی ایک اور دلیل ملاحظہ ہو ۔

بإسناده مثله إلا هنا أفلا ترى ← كليب بن وائل ثم ← اَبُوْ اِسْحَاقَ الْفَزَارِیُّ ← أبو معاوية بن عمرو الأزدي ← اَبُوْ اُمَیَّۃَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5113

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 9 باب المدد يقدمون بعد الفراغ من القتال في دار الحرب بعد ما ارتفع القتال قبل قفول العسكر هل يسهم لهم ) أم لا · حديث 5114

4838 - حدثنا سليمان بن شعيب قال ثنا عبد الرحمن بن زياد قال ثنا شعبة عن قيس بن مسلم قال سمعت طارق بن شهاب أن أهل البصرة غزوا نهاوند وأمدهم أهل الكوفة فظفروا فأراد أهل البصرة أن لا يقسموا لأهل الكوفة وكان عمار على أهل الكوفة فقال رجل من بني عطارد أيها الأجدع تريد أن تشاركنا في غنائمنا فقال أذني سينبت قال فكتب في ذلك إلى عمر رضي الله عنه فكتب عمر إن الغنيمة لمن شهد الوقعة قالوا فهذا عمر رضي الله عنه قد ذهب أيضا إلى أن الغنيمة لمن شهد الوقعة فقد وافق هذا قولنا قيل لهم قد يجوز أن تكون نهاوند فتحت وصارت دار الإسلام وأحرزت الغنائم وقسمت قبل ورود أهل الكوفة فإن كان ذلك كذلك فإنا نحن نقول أيضا إن الغنيمة في ذلك لمن شهد الوقعة وإن كان جواب عمر رضي الله عنه الذي في هذا الحديث لما كتب به إليه إنما هو لهذا السؤال فإن ذلك مما لا اختلاف فيه وإن كان على أن أهل الكوفة لحقوا بهم قبل خروجهم من دار الشرك بعد ارتفاع القتال فكتب عمر رضي الله عنه إن الغنيمة لمن شهد الوقعة فإن في ذلك الحديث ما يدل على أن أهل الكوفة قد كانوا طلبوا أن يقسم لهم وفيهم عمار بن ياسر ومن كان فيهم غيره من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم فهم ممن يكافأ قول عمر رضي الله عنه بقولهم فلا يكون واحد من القولين أولى من الآخر إلا بدليل عليه إما من كتاب أو من سنة وإما من نظر صحيح فنظرنا في ذلك فرأينا السرايا المبعوثة من دار الحرب إلى بعض أهل الحرب أنهم ما غنموا فهو بينهم وبين سائر أصحابهم وسواء في ذلك من كان خرج في تلك السرية ومن لم يخرج لأنهم قد كانوا بذلوا من أنفسهم ما بذل الذين أسروا فلم يفضل في ذلك بعضهم على بعض وإن كان ما لقوا من القتال مختلفا فالنظر على ذلك أن يكون كذلك من بذل نفسه بمثل ما بذل به نفسه من حضر الوقعة فهو في ذلك كمن حضر الوقعة إذا كان على الشرائط التي ذكرنا في هذا الباب والله أعلم

قیس بن مسلم نے طارق بن شہاب سے سنا کہ اہل بصرہ نے نہاوند کی لڑائی لڑی اور اہل کوفہ نے ان کی امداد کی جس سے نہاوند فتح ہو گیا ۔ اہل بصرہ نے چاہا کہ اہل کوفہ کو غنیمت میں حصہ نہ ملے س وقت عمار رضی اللہ عنہ کوفہ کے گورنر تھے ۔ بنی عطارد کے ایک آسمی نے کہا ۔ اے کان کٹے ! کیا تم ہماری غنیمتوں میں شرکت چاہتے ہو ؟ انہوں نے کہا میرے کان عنقریب اگ آئیں گے ۔ چنانچہ انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف لکھا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لکھا جو واقعہ میں موجود تھے ان سب کو غنیمتملے گیرضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس ارشاد میں غنیمت کا حق انہی کو دیا جو واقعہ میں موجود تھے اور یہ بات ہمارے قول کو مؤید ہے ۔ ان کو جواب میں کہے کہ یہ عین ممکن ہے کہ نہاوند فتح ہو کر دارالسلام بن چکا ہو اور غنائم جمع ہو کر اہل کوفہ کے پہنچنے سے پہلے تقسیم ہو چکی ہوں ۔ اگر یہ بات اسی طرح ثابت ہو جائے تو ہم کہیں گے کہ غنیمتان لوگوں کو ہی ملے گی جو واقعہ میں موجود تھے ۔ اگر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا جواب اس سوال سے متعلق ہے ۔ تو اس میں کسی کو اختلاف نہیں اور اگر اہل کوفہ اہل بصرہ کے دارالشرک سے نکلنے سے پہلے وہاں پہنچ گئے ہوں اور لڑائی اس وقت ختم ہو چکی ہو ۔ تو عمر رضی اللہ عنہ نے لکھا کہ غنیمت واقعہ میں موجود سب کو ملے گی ۔ اس روایت میں یہ دلالت موجود ہے کہ اہل کوفہ نے تقسیم میں اپنے حصہ کا مطالبہ کیا اور ان میں عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ اور ان کے علاوہ اور بھی اصحاب رسول اللہﷺموجود تھے ۔ وہ ایسے لوگ تھے کہ جن کی بات وزن میں قول عمر رضی اللہ عنہ کی برابری کر سکتی تھی ۔ اب ان دونوں اقوال میں کسی ایک کو بلا دلیل تر جیح نہیں دی جا سکتی خواہ وہ دلیل قرآن مجید سے ہو یا سنت نبوی سے ۔ اب ہم قیاس صیح سے ایک قول کو ترجیح دیتے ہیں ۔ غور کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ دارالحرب سے دارالحرب کے کسی حصہ کی طرف روانہ کئے جانے والے چھوٹے لشکر جو غنیمت حاصل کریں گے وہ ان تمام کے مابین تقسیم کی جائے گی خواہ اس لشکر میں گیا ہو یا نہ گیا ہو کیونکہ انہوں نے ( بڑے لشکر میں شامل ہو کر دارالحرب میں اقامت سے )اپنی جان کی بازی لگا دی اس لئے ان میں کسی کو دوسرے پر فضیلت حاصل نہ ہو گی ۔ اگر مختلف دشمنوں کے ساتھ ان کی لڑائیاں الگ الگ پیش آئیں ۔ پس نظر کا تقاضا یہی ہے کہ بالکل اس طرح جس نے اپنے آپ کو اس طرح صرف کیا جس طرح واقعہ میں موجود لوگوں نے کیا تو وہ واقعہ میں حاضر شمار ہوں گے ۔ جب کہ وہ ان شرائط کےمطابق ہوں جن کا ہم ذکر کر آئے ۔

طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، ← قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، ← شُعْبَةُ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5114

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 10 باب الأرض تفتتح كيف ينبغي للإمام أن يفعل فيها ) · حديث 5115

4839 - حدثنا يونس بن عبد الأعلى قال أخبرنا بن وهب قال أخبرني هشام بن سعد عن زيد بن اسلم عن أبيه عن عمر قال لولا أن يكون الناس يبابا ليس لهم شيء ما فتح الله على قرية إلا قسمتها كما قسم رسول الله صلى الله عليه و سلم خيبر

زید بن اسلم نے اپنے والد سے انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ اگر بعد والوں کی ویرانی کا خطرہ نہ ہوتا کہ ان کے لئے کوئی چیز نہ رہے گی تو میں جس بستی کو فتح کرتا اس کو تقسیم کر دیتا جیسا کہ رسول اللہﷺ نے خیبر کو تقسیم فرمایا۔

عُمَرَ، ← أَبِيهِ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ← بن وَهْبٍ ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5115

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 10 باب الأرض تفتتح كيف ينبغي للإمام أن يفعل فيها ) · حديث 5116

4840 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا يوسف بن عدي قال ثنا بن المبارك عن هشام بن سعد عن زيد بن أسلم عن أبيه قال سمعت عمر بن الخطاب يقول فذكر نحوه فذهب قوم إلى أن الأمام إذا فتح أرضا عنوة وجب عليه أن يقسمها كما يضم الغنائم وليس له احتباسها كما ليس له احتباس سائر الغنائم وأحتجوا في ذلك بهذا الحديث وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا الإمام بالخيار إن شاء خمسها وقسم أربعة أخماسها وإن شاء تركها أرض خراج ولم يقسمها

زید بن اسلم نے اپنے والد سے نکل کیا کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا پھر اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔ امام جب کسی زمین کو زبردستی فتح کرے تو اس کے لئے لازم ہے کہ وہ اسی طرح اس کو تقسیم کردے جیسے مال غنیمت کو تقسیم کیا جاتا ہے ۔ اس کو اس علاقہ کے روک رکھنے کا حق حاصل نہیں جیسا کہ وہ مال غنیمت کو روک نہیں سکتا ۔ انہوں اسی روایت کو دلیل بنایا ہے ۔ دوسروں نے کہا دوسرے علماء کا قول یہ ہے کہ امام کو آختیار ہے کہ وہ اس کا خمس لے کر بقیہ چار حصے تقسیم کرے اور اگر مناسب خیال کرے تو خراجی زمیں کے طور پر چھوڑ دے اور اس کو تقسیم نہ کرے ۔

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← أَبِيهِ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ← بن الْمُبَارَكِ، ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5116

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 10 باب الأرض تفتتح كيف ينبغي للإمام أن يفعل فيها ) · حديث 5117

4841 - حدثنا بذلك محمد بن خزيمة قال ثنا يوسف بن عدي قال ثنا بن المبارك عن أبي حنيفة وسفيان بذلك وهو قول أبي يوسف ومحمد رحمة الله عليهم وكان من الحجة لهم في ذلك ما قد روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم فمن ذلك ما

عبداللہ بن المبارک نے ابو حنیفہ اور سفیان رحمتہ اللہ علیہ سے ایسا ہی نقل کیا ہے ۔ اس قول کو امام ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ اور محمد رحمتہ اللہ علیہ نے اختیار کیا ہے اس کی دلیل مندرجہ روایت ہے ۔

أَبِي حَنِيفَةَ ← بن الْمُبَارَكِ، ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← بذلك محمد بن خزيمة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5117

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 10 باب الأرض تفتتح كيف ينبغي للإمام أن يفعل فيها ) · حديث 5118

4842 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا أسد قال حدثني يحيى بن زكريا عن الحجاج عن الحكم عن القاسم عن بن عباس قال أعطى رسول الله صلى الله عليه و سلم خيبر بالشطر ثم أرسل بن رواحة فقاسمهم

قاسم نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہﷺ نے خیبر کی زمین حصہ پر دے دی پھر عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو بھیج کران کے مابین تقسیم کردیا ۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← الْقَاسِمِ، ← الْحَكَمِ ← الْحَجَّاجِ، ← يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ← أسد ← ربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5118

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 10 باب الأرض تفتتح كيف ينبغي للإمام أن يفعل فيها ) · حديث 5119

4843 - حدثنا محمد بن عمرو قال ثنا عبد الله بن نمير عن عبيد الله بن عمر عن نافع عن بن عمر رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه و سلم عام خيبر عامل أهل خيبر بشطر ما خرج من الزرع

نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے پھر انہوں نے بیان کیا کہ جناب رسول اللہﷺ نے خیبر والے سال اہل خیبر سے معاملہ کیا اور اہل خیبر سے کھیتی کی آمدنی کے نصف پر معاملہ ہوا ۔

بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5119

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 10 باب الأرض تفتتح كيف ينبغي للإمام أن يفعل فيها ) · حديث 5120

4844 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا بن عون الزيادي قال ثنا إبراهيم بن طهمان قال ثنا أبو الزبير عن جابر قال أفاء الله خيبر فأقرهم رسول الله صلى الله عليه و سلم كما كانوا وجعلها بينه وبينهم فبعث عبد الله بن رواحة فخرصها عليهم

ابو الزبیر نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ اللہ تعالی خیبر بطور غنیمت عنایت فرمایا تو جناب رسول اللہﷺ نے ان کو پہلی حالت پر برقرار رکھا اور اس کو پانے اور ان کے مابین برابر رکھا ۔ پھر عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا تو انہوں نے پھل و کھیتی کا اندازہ لگایا۔

جَابِرٍ ← أَبُو الزُّبَيْرِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، ← بن عون الزيادي ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5120

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 10 باب الأرض تفتتح كيف ينبغي للإمام أن يفعل فيها ) · حديث 5121

4845 - حدثنا أبو أمية قال ثنا محمد بن سابق قال ثنا إبراهيم بن طهمان ثم ذكر بإسناده مثله فثبت بما ذكرنا أن رسول الله صلى الله عليه و سلم لم يكن قسم خيبر بكمالها ولكنه قسم طائفة منها على ما احتج به عمر في الحديث الأول وترك طائفة منها فلم يقسمها على ما روي عن بن عباس وابن عمر وجابر رضي الله عنهم في هذه الآثار الأخر والذي كان قسم منها هو الشق والبطاء وترك سائرها فعلمنا بذلك أنه قسم وله أن يقسم وترك وله أن يترك فثبت بذلك أنه هكذا حكم الأرضين المفتتحة للإمام فيقسمها إن رأى ذلك صلاحا للمسلمين كما قسم رسول الله صلى الله عليه و سلم ما قسم من خيبر وله تركها إن رأى في ذلك صلاحا للمسلمين أيضا كما ترك رسول الله صلى الله عليه و سلم ما ترك من خيبر يفعل ذلك ما رأى من ذلك على التحري منه لصلاح المسلمين وقد فعل عمر بن الخطاب رضي الله عنه في أرض السواد مثل ذلك أيضا فتركها للمسلمين أرض خراج لينتفع بها من يجئ من بعده منهم كما ينتفع بها من كان في عصره من المسلمين فإن قال قائل فقد يجوز أن يكون عمر رضي الله عنه لم يفعل في السواد ما فعل من ذلك من جهة ما قلتم ولكن المسلمين جميعا رضوا بذلك والدليل على أنهم قد كانوا رضوا بذلك أنه جعل الجزية على رقابهم [ ص 248 ] فلم يخل ذلك من أحد وجهين إما أن يكون جعلها عليهم ضريبة للمسلمين لأنهم عبيد لهم أو يكون جعل ذلك عليهم كما يجعل الجزية على الأحرار ليحقن بذلك دماءهم فراينا قد أهمل نساؤهم ومشائخهم وأهل الزمانة منهم وصبيانهم وإن كانوا قادرين على الاكتساب أكثر مما يقدر عليه بعض البالغين فلم يجعل على أحد ممن ذكرنا من ذلك شيئا فدل ما بقي من ذلك أن ما أوجب ليس لعلة الملك ولكنه لعلة الذمة وقبل ذلك جميع ما أفتتح تلك الأرض أخذهم ذلك منهم دليل على إجارتهم لما كان عمر فعل ذلك ثم رأيناه وضع على الأرض شيئا مختلفا فوضع على جريب الكرم شيئا معلوما ووضع على جريب الحنطة شيئا معلوما وأهمل النخل فلم يأخذ منها شيئا فلم يخل ذلك من أحد وجهين إما أن يكون ملك به القوم الذين قد ثبت حرمتهم بثمار أرضيهم والأرض ملك للمسلمين أو يكون جعل ذلك عليهم كما جعل الخراج على رقابهم ولا يجوز أن يكون الخراج يجب إلا فيما ملكه لغير أخذ الخراج فإن حملنا ذلك على التمليك من عمر رضي الله عنه إياهم ثمر النخل والكرم بما جعل عليهم مما ذكرنا جعل فعله ذلك قد دخل فيما قد نهى عنه رسول الله صلى الله عليه و سلم من بيع السنين ومن بيع ما ليس عندك فاستحال أن يكون الأمر على ذلك ولكن الأمر عندنا على أن تمليكه لهم الأرض التي أوجب هذا عليهم فيما قد تقدم على أن يكون ملكهم لذلك ملك خراجي فهذا حكمه فيما يجب عليهم فيه وقبل الناس جميعا منه ذلك وأخذوا منه ما أعطاهم مما أخذ منهم فكان قبولهم لذلك إجازة لفعله قالوا فلهذا جعلنا أهل السواد مالكين لأرضهم وجعلناهم أحرارا بالعلة المتقدمة وكل هذا إنما كان بإجازة القوم الذين غنموا تلك الأرض ولولا ذلك لما جاز ولكانوا على ملكهم قالوا فكذلك نقول كل أرض مفتتحة عنوة فحكمها أن تقسم كما تقسم الأموال خمسها لله وأربعة أخماسها للذين افتتحوها ليس للإمام منعهم من ذلك إلا أن تطيب أنفس القوم بتركها كما طابت أنفس الذين افتتحوا السواد لعمر بما ذكرنا فكان من الحجة للآخرين عليهم أنا نعلم أن أرض السواد لو كانت كما ذكر أهل المقالة الأولى لكان قد وجب فيها خمس الله بين أهله الذين جعله الله لهم وقد علمنا أنه لا يجوز للإمام أن يجعل ذلك الخمس ولا شيئا منه لأهل الذمة وقد كان أهل السواد الذين أقرهم عمر رضي الله عنه صاروا أهل الذمة وقد كان السواد بأسره في أيديهم فثبت بذلك أن ما فعله عمر رضي الله عنه من ذلك كان من جهة غير الجهة التي ذكروا وهو على أنه لم يكن وجب لله عز و جل في ذلك خمس وكذلك ما فعل في رقابهم فمن عليهم بأن أقرهم في أرضيهم ونفي الرق منهم وأوجب الخراج عليهم في رقابهم وأرضيهم فملكوا بذلك أرضيهم وأنتفى الرق عن رقابهم فثبت بذلك أن للإمام أن يفعل هذا بما أفتتح عنوة فنفى عن أهلها رق المسلمين وعن أرضيهم ملك المسلمين ويوجب ذلك لأهلها ويضع عليهم ما يجب عليهم وضعه من الخراج كما فعل عمر رضي الله عنه بحضرة أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم واحتج عمر رضي الله عنه في ذلك بقول الله عز و جل ما أفاء الله على رسوله من أهل القرى فلله وللرسول ولذي القربى واليتامى والمساكين وابن السبيل ثم قال للفقراء المهاجرين فأدخلهم معهم ثم قال والذين تبوءوا الدار والإيمان من قبلهم يريد بذلك الأنصار فأدخلهم معهم ثم قال والذين جاءوا من بعدهم فأدخل فيها جميع من يجئ من المؤمنين من بعدهم فللإمام أن يفعل ذلك ويضعه حيث رأى وضعه فيما سمى الله في هذه السورة فثبت بما ذكرنا ما ذهب إليه أبو حنيفة وسفيان وهو قول أبي يوسف ومحمد رحمة الله عليهم فإن احتج في ذلك محتج بما

محمد بن سابق نے ابراہیم بن طھمان سے پھر انہوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح کی روایت کی ہے ۔ اس سے یہ بات ثابت ہو ئی جناب رسول اللہ ﷺ نے خیبر کو مکمل طور پر تقسیم نہ فرمای تھا ۔ بلکہ اس میں کچھ حصہ تقسیم فرمایا ۔ جیسا کہ حضرت عمر والی روایت سے معلوم ہوتا ہے اور کچھ حصہ بلا تقسیم چھوڑ دیا ۔ جیسا کہ ابن عباس ، ابن عمر اور جابر رضی اللہ عنہم کی روایات سے معلوم ہوتا ہے ۔ آپ ﷺ نے شق اور بطاۃ نامی قلعوں اور ان کی زمینوں کو تقسیم کر دیا اور بقیہ کو چھوڑ دیا اس سے ہمیں معلوم ہوا کہ آپ نے تقسیم کیا اس لئے آپ کو تقسیم کا حق حاصل تھا اور کچھ حصہ چھوڑ دیا تو آپ کو چھوڑنے کا بھی اختیار تھا ۔ اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ مفتوحہ زمینوں کا حکم امام کے لئے یہی تھا ۔ کہ اگر مسلمانون کی مصلحت خیال کرے تو ان کو تقسیم کر دے ۔ جیسا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے خیبر کا کچھ تقسیم فرمایا اور اگر مسلمانوں کی مصلحت تقسیم نہ کرنے میں ہو تو نہ تقسیم کرے جیسا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے خیبر کا کچھ حصہ تقسیم نہ فرمایا ۔ مسلمانوں کی بھلائی کے لئے جس کام میں خیر ہو وہ کرے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عراق کی زمین سے ساتھ اس طرح کیا اس زمین کو مسلمانوں کے لئے خراجی زمین کے طور پر چھوڑ دیا تا کہ بعد میں آنے والے لوگ بھی اس سے اسی طرح فائدہ حاصل کر یں جس طرح اس دور کے مسلمانوں نے نفع اٹھایا ۔ یہ ممکن ہے کہ حضرت رضی اللہ عنہ نے عراق کی سر زمین میں یہ تقسیم والا عمل اس وجہ سے اختیار نہ کیا ہو جو تم نے بیان کیا بلکہ اس زمانے کے مسمانوں نے اس پر رضا مندی ظاہر کی ہو اور اسی رضا کی دلیل یہ ہے کہ آپ نے ان پر جزیہ مقرر فرمایا اور یہ جزیہ دو حال سے خالی نہیں ۔ نمبر ایک اس لئے مقرر فرمایا کہ وہ لوگ ان کے غلام تھے ۔ نمبر دو اس لئے مقرر فرمایا جس طرح آزاد لوگوں پر مقرر کیا جاتا ہے تا کہ اس کے ذریعہ ان کی جانوں کی حفاظت کی جائے جب ہم غور کرتے ہیں بچے بوڑھے اور عورتیں اس سے مستثنی نظر آتی ہیں ۔ خواہ وہ بعض بالغوں سے زیادہ کمائی کرنے پر قدرت رکھتے تھے لیکن مذکورہ افراد میں سے کسی پر کچھ بھی مقرر نہیں کیا ۔ اس سے یہ چابت ہوگیا کہ باقی لوگوں پر جو لزم کیا گیا وہ ان کی ملکیت کی بناء پر نہ تھا ۔ بلکہ ذمی ہونے کی بناء پر تھا ۔ اس سے پہلے کتنے مفتوحہ مقبوضات سے وصول کرنا ان کے اجارہ کی دلیل ہے کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسی طرح کیا ۔ پھر ہم دیکھتے ہیں کہ انہوں نے زمین پر مختلف چیزیں مقرر کی مگر انگور والی زمین پر ایک معین و مخصوص مقدار فرمائی اس طرح گندم والی زمین پر بھی ایک مقررہ مقدار3 معین کی لیکن کھجور کو چھوڑ دیا اور اس کچھ بھی نہ لیا اب یہ دو حال سے خالی نہیں ۔ نمبر ایک ان لوگون کی ملکیت ہے جن کی حرمت ان کی زمین کے پھلوں سے سبب ثابت ہوا اور زمین مسلمانوں کی ملکیت ہی رہے گی ۔ نمبر دو یہ ان پر اسی طرح لگایا گیا جیسا کہ ان کی گردنوں پر خراج مقرر کیا گیا اور جب تک خراج لئے بغیر مالک نہ ہو گا اس تک خراج واجب ہی نہ ہو گا اور اگر ہم اس کو اس بات پر محمول کریں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے محصول کے بدلے ان کو کھجوروں اور انگور کے پھل کا مالک بنایا ۔ پھر اگر ہم اس کو تملیک پر محمول کریں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو کھجور اور انگور کے پھل کا مالک بنا دیا تھا اس محصول کے بدلے جو ان پر لگایا تھا ۔ تو اس طرح یہ فعل اس نہی میں داخل ہو جائے گا ۔ یعنی کئی سالوں کی بیع اور اس چیز کی بیع جو پاس نہ ہو ۔ مگر اس بات کا اس طرح ہونا ناممکن ہے ۔ لیکن ہمارے نزدیک یہ معاملہ اس طرح ہے کہ آپ نے ان کو اس زمین کا مالک بنایا تھا جو پہلے ان کو اجرت پر دی تھی ۔ کہ اب یہی زمین ان کی خراجی ملکیت ہو گی ( یعنی اس کا اخراج ادا کریں گے ) اور جو کچھ ان پر واجب ہوا اس کا یہی حکم ہے اور تمام لوگوں نے آپ کے اس فیصلے کو قبول کر لیا فلہذا ان کا اس بات کو قبول کرنا اس کی طرف سے آپ کے اس عمل کی اجازت تھی ۔ وہ حضرات فرماتے ہیں کہ اس وجہ سے ہم اہل سواد کو ان کی زمینوں کا مالک قرار دیا اور پہلی علت کے مطابق ہم ان کو آزاد قرار دیا اور یہ تمام باتیں ان لوگوں کی اجازت سے تھیں کنہوں نے اس زمین کو بطور غنیمت لیا تھا اگر ان کی اجازت نہ ہوتی تو یہ جائز نہ ہوتا اور یہ زمین ان کی ملک رہتی ۔ وہ حضرات یہ بھی کہتے ہیں کہ اسئ طرح ہم کہتے ہیں کہ جو زمین لڑائی کے بغیر فتح کی جائے اس کا حکم یہ ہے کہ اسے بھی دیگر اموال کی طرح تقسیم کیا جائے ۔ کہ پانچواں حصہ اللہ تعالی اور چار حصے فتح کرنے والوں کے ہوں گے ۔ امام ان کو روک نہیں سکتا ۔ البتہ ہپ قوم خوشی سے اس کے چھوڑنے پر اضا مند ہو جائیں جیسا کہ سواد کی زمین فتح کرنے والوں نے اس زمین کو فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے لئے چھوڑ دیا جیسا کہ ہم نے ذکر کیا ۔دوسرے لوگوں کی دلیل یہ ہے کہ اس بات کو ہم جانتے ہیں کہ اگر سواد کی زمین اس طرح ہوتی جس طرح فریق اول نے کہا ہے تو اس میں خمس لزم ہوتا ۔ جو اللہ تعالی اور ان لوگوں کے درمیان ہوتا جن کے لئے اللہ تعالی نے اسے قرار دیا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ امام کے لئے بانچواں حصہ یا اس میں سے کوئی چیز ذمی لوگوں کو دینا جائز نہیں اور سواد کے جن لوگوں کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بر قرار رکھا وہ ذمی بن چکے تھے اور سواد کا تمام علاقہ ان کے قبضہ میں تھا ۔ پس اس سے یہ ثابت ہو گیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ عمل اس وجہ سے نہ تھاکہ جو ان حضرات نے ذکر کی ہے ۔ بلکہ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس میں اللہ تعالی کے لئے خمس واجب نہیں ہوا تھا ۔ اسی طرح جو کچھ ان کی گردنوں کے سلسلہ میں کیا تو آپ نے ان پر احسان فرمایا ۔ کہ ان کو ان کی زمینوں پر برقرار رکھا اور ان سے غلامی کواٹھا دیا اور ان کی گردنوں اور زمینوں پر خراج لازم کیا ۔ اسی طرح وہ اپنی زمینوں کے مالک بن گئے اور ان کی گردوں سے غلامی کو دور کیا ۔ پس اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ جس زمین کو امام نے لڑائی کے ذریعے فتح کیا وہ اس میں عمل اختیار کر سکتا ہے وہ ان کو مسلمانوں کے غلام ہونے اور ان کی زمینوں کو مسلمانوں کی ملکیت ہونے سے بچا کر ان پر خراج مقرر کر سکتا ہے ۔ جس طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں یاسا کیا ۔ اس سلسلے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالی کے ااس ارشاد سے استدلال کیا ہے "ما افاءاللہ علی رسولہ من اھل القربی فلللہ وللرسول ولذی القربی والیتامی والمساکین وابن السبیل" (الحشر ۔7)پھر فرمایا " للفقراء المھاجرین " (الحشر -8)پس ان کے ساتھ ان کو داخل کیا پھر "والذین تبوؤ الدار والایمان من قبلھم "(الحشر -9)اس سے مراد انصار ہیں پس ان کو ان کے ساتھ داخل کیا ۔ پھر فرمایا " والذین جاؤ من بعدھم "(الحشر-10) اس طرح ان کے بعد آنے والے تمام مؤمنوں کو بھی اس میں شامل کیا ۔ تو امام کو اس بات کا حق ہے اور وہ ان لوگوں کو جن کا اللہ تعالی نے اس سورت میں ذکر فرمایا مناسب خیال کرے ان کو دے ۔ جو ہم نے ذکر کیا اس سے امام ابو حنیفہ ، سفیان ثوری رحمۃاللہ علیہ کا قول ثابت ہو گیا اور اسی کو امام یوسف ، محمد رحمۃاللہ علیہ نے اختیار کیا ہے۔

بإسناده مثله فثبت بما ذكرنا ← إبراهيم بن طهمان ثم ← مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، ← اَبُوْ اُمَیَّۃَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5121

chevron_left Previous
1…121314…33
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter