Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 6 باب الرجل يقتل قتيلا في دار الحرب هل يكون له سلبه أم لا ) · حديث 5086

4810 - حدثنا يونس وربيع المؤذن قالا ثنا بشر بن بكر قال حدثني الأوزاعي قال أخبرني الزهري عن القاسم بن محمد عن بن عباس رضي الله عنهما قال كنت جالسا عنده فأقبل رجل من أهل العراق فسأله عن السلب فقال السلب من النفل وفي النفل الخمس فهذا بن عباس رضي الله عنهما قد جعل في السلب الخمس وجعله من الأنفال وقد كان علم من رسول الله صلى الله عليه و سلم ما قد ذكرناه في أول هذا الباب من تسليمه إلى الزبير سلب القتيل الذي كان قتله فدل ذلك أن ما تقدم من رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم بدر لم يكن عند بن عباس رضي الله عنهما منسوخا وأن ما قضى به من سلب القتيل الذي قتله الزبير إنما كان يقول كان قد تقدم منه أو لمعنى غير ذلك فهذا حكم هذا الباب من طريق تصحيح معاني الآثار وأما وجه النظر في ذلك فإنا قد رأينا الإمام لو بعث سرية وهو في دار الحرب وتخلف هو وسائر العسكر عن المضي معها فغنمت تلك السرية غنيمة كانت تلك الغنيمة بينهم وبين سائر أهل العسكر وإن لم يكونوا تولوا معهم قتالا ولا تكون هذه السرية أولى بما غنمت من سائر أهل العسكر وإن كانت قاتلت حتى كان عن قتالها ما غنمت ولو كان الإمام نفل تلك السرية لما بعثها الخمس مما غنمت كان ذلك لها على ما نفلها إياه الإمام وكان ما بقي مما غنمت بينها وبين سائر أهل العسكر فكانت السرية المبعوثة لا تستحق مما غنمت دون سائر أهل العسكر إلا ما خصها به الإمام دونهم فالنظر على ذلك أن يكون كذلك كل من كان من أهل العسكر في دار الحرب لا يستحق أحد منهم شيئا مما تولى أخذه من أسلاب القتلى وغيرها إلا كما يستحق منه سائر أهل العسكر إلا أن يكون الإمام نفله من ذلك شيئا فيكون ذلك له بتنفيل الإمام لا بغير ذلك فهذا هو النظر في هذا الباب أيضا وهو قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمة الله عليهم أجمعين وقد

زہری نے قاسم بن محمد سے انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ امیں ان کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک عراقی آیا اور اس نے سامان مقتول کے متعلق پوچھا ۔ تو انہوں نے فرمایا اس کا سامان مال غنیمت ہے اور مال غنیمت میں خمس ہے یہ ابن عباس رضی اللہ عنہ ہیں جو سامان کے متعلق خمس کا حکم لگا رہے ہیں اور اس کے سامان کو مال غنیمت قرار دے رہے ہیں حالانکہ وہ جناب رسول اللہﷺ کے متعلق یہ جان چکے تھے کہ آپ ﷺ نے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کو اس مقتول کا سامان عنایت فرمایا جس کو انہوں نے قتل کیا تھا ۔ اس سے یہ دلالت مل گئی کہ جناب رسول اللہﷺ نے بدر کے دن جو کچھ کیا وہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کے ہاں منسوخ نہ تھا اور جس مقتول کو زبیر رضی اللہ عنہ نے قتل کیا تھا اس کا سامان ان کو اس بات کے پیش نظر دیا گیا جو ہم نے ذکر کیا یا اس کا کچھ اور مطلب تھا ۔ معانی آثار کو درست کرنے کا یہی طریقہ ہے ۔ قیاس کے لحاظ سے اس کی وضاحت اس طرح ہے کہ اگر امام کوئی لشکر روانہ کرے اور وہ لشکر دارلحرب میں ہو اور امام اور بقیہ لشکر اس چھوٹے لشکر کے ساتھ شریک نہ ہو ۔ پھر وہ لشکر مال غنیمت لے آئیں تو یہ غنیمت انے اور باقی لشکر کے مابین تقسیم ہو گی ۔ خواہ وہ لڑائی میں ان کے ساتھ شریک نہ تھے اور یہ چھوٹا لشکر اس مال غنیمت کا دوسروں سے زیادہ حقدار نہ ہو گا اگرچہ جنگ فقط انہی نے لڑی ہے اور ان کی وجہ سے مال غنیمت ملا ہے اور اگر امام اس لشکر کو روانہ کرتے وقت غنیمت میں سے پانچواں حصہ ان کے لئے مقرر کر دے تو ان کو وہ ملے گا جو امام نے ان کے لئے مقرر کیا اور باقی مال ان کےاور باقی لشکر کے درمیان تقسیم ہو گا جو اس نے مقتول افراد کے سامان وغیرہ سے حاصل کیا بلکہ وہ بقی لشکر کی طرح استحقاق رکھتا ہے البتہ یہ امام اس کے لئے اس میں کچھ حصہ مقرر فرما دے فلہذا یہ اسے امام کے مقرر کرنے سے ملے گا نہ کہ کسی اور وجہ سے۔ اس باب میں قیاس کا تقاضہ یہی ہے ۔ حضرت امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف ، محمد رحمۃاللہ علیہ کا مذہب یہی ہے ۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← بِشْرُ بْنُ بَکْرٍ ← يونس وربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5086

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 6 باب الرجل يقتل قتيلا في دار الحرب هل يكون له سلبه أم لا ) · حديث 5087

4811 - حدثنا محمد بن عبد الرحمن الهروي قال ثنا دحيم قال ثنا الوليد بن مسلم قال ثنا صفوان عن عبد الرحمن بن جبير عن أبيه عن عوف قال الوليد وحدثني ثور عن خالد بن معدان عن جبير عن عوف وهو بن مالك أن مدديا رافقهم في غزوة مؤتة وأن روميا كان يشد على المسلمين ويقري بهم فتلطف له ذلك المددي فقعد له تحت صخرة فلما مر به عرقب فرسه وخر الرومي لقفاه فعلاه بالسيف فقتله فأقبل بفرسه وسيفه وسرجه ولجامه ومنطقته وسلاحه كل ذلك مذهب بالذهب والجوهر إلى خالد بن الوليد فأخذ منه خالد طائفة ونفله بقيته فقلت يا خالد ما هذا أما تعلم أن رسول الله صلى الله عليه و سلم نفل القاتل السلب كله قال بلى ولكني استكثرته فقلت إني والله لأعرفنكما عند رسول الله صلى الله عليه و سلم قال عوف فلما قدمنا على رسول الله صلى الله عليه و سلم أخبرته خبره فدعاه وأمره أن يدفع إلى المددي بقية سلبه فولى خالد ليدفع سلبه فقلت كيف رأيت يا خالد أو لم أف لك بما وعدتك فغضب رسول الله صلى الله عليه و سلم وقال يا خالد لا تعطه فأقبل علي فقال هل أنتم تاركوا أمرائي لكم صفوة أمرهم وعليهم كدره أفلا ترى أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قد كان أمر خالدا بدفع بقية السلب إلى المددي فلما تكلم عوف بما تكلم به أمر رسول الله صلى الله عليه و سلم خالدا أن لا يدفعه إليه فدل ذلك أن السلب لم يكن واجبا للمددي بقتله الذي كان ذلك السلب عليه لأنه لو كان واجبا له بذلك إذا لما منعه رسول الله صلى الله عليه و سلم بكلام كان من غيره ولكن رسول الله صلى الله عليه و سلم أمر خالدا بدفعه إليه وله دفعه إليه وأمره بعد ذلك بمنعه منه وله منعه منه كقول عمر بن الخطاب رضي الله عنه لأبي طلحة في حديث البراء بن مالك الذي قد ذكرناه فيما تقدم من هذا الباب إنا كنا لا نخمس الأسلاب وإن سلب البراء قد بلغ مالا عظيما ولا أرانا إلا خامسيه قال فخمسه فأخبر عمر أنهم كانوا لا يخمسون الأسلاب ولهم أن يخمسوها وأن تركهم تخميسها إنما كان بتركهم ذلك لا لأن الأسلاب قد وجبت للقاتلين كما تجب لهم سهمانهم من الغنيمة فكذلك ما فعله رسول الله صلى الله عليه و سلم في حديث عوف بن مالك من أمره خالدا بما أمره به ومن نهيه إياه بعد ذلك عما نهاه عنه إنما أمره بما له أن يأمر به ونهاه عما له أن ينهاه عنه وفيما ذكرنا دليل صحيح أن السلب لا يجب للقاتلين من هذه الجهة

عبدالرحمن بن جبیر نے اپنے والد سے انہوں نے عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ غزہ موتہ کے موقع پر ایک لشکری میرے ساتھ ہو لیا ایک رومی مسلمانوں پر حملہ کرتا تھا اور ان کا پیچھا کرتا تھا اس لشکری نے اس رونی کے ساتھ نرمی کا سلسلہ اختیار کر کے اس کو مہلت سی اور اس کی تاک میں ایک چٹان کے نیچے بیٹھ گیا جب وہ وہاں سے گزرا تو اس نے اس کے گھوڑے کے پاؤں کاٹ ڈالے روامی اپنی گردن کے بل جا گرا لشکری نے اس پر تلوار کے وار کر کے قتل کر دیا پھر وہ اس کا گھوڑا ، تلوار ، زین ، کمر بند ، لگام اور اسلحہ لے کر خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آیا یہ تمام سامان سونے اور جواہرات سے مرصع تھا ۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اس سے کچھ مال لے لیا اور باقی اس کو دے دیا ۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت خالدرضی اللہ عنہ سے کہا یہ کیا ہے ؟ کیا تم جانتے ہو کہ جناب رسول اللہﷺ نےقاتل کو مقتول کا تمام سامان دیا ہے ۔ انہوں نے کہا ہاں میں جانتا ہوں لیکن میرے خیال میں یہ بہت زیادہ مال ہے ۔ عوف کہنے لگے میں نے کہا یہ بات رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ضرور عرض کروں گا ۔حضرت عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب ہم رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ تو میں نے آپ تک یہ بات پہنچائی ۔ جناب رسول اللہﷺ نے حضرت خالد رضی اللہ عنہ کو بلا یا اور فرمای لشکر ی کا باقی مال بھی اسے دے دو ۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ وہ مال واپس دینے کے لئے لوٹے تو میں نے کہا اے خالد رضی اللہ عنہ ! تمہارا کیا خیال ہے ۔ کیا میں نے تم سے کیا وعدہ پورا نہیں کیا ۔ اس پر جناب رسول اللہﷺ ناراض ہو گئے اور فرمایا اے خالد ! اس مت دو ۔ پھر میری طرف توجہ فرما کر فرمایا ۔ کیا تم لوگ میرے مقرر کردہ امراء کو چھوڑ دو گے کہ تمہارے لئے تو عمدہ اشیاء اور ان کے لئے خراب مال ہو ۔ ذرا غور کرو کہ جناب رسول اللہﷺ نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو حکم فرمایا کہ باقی مال بھی مجاہد کو واپس کر دیا جائے ۔ پھر جب حضرت عوف رضی اللہ عنہ نے ان کے متعلق کچھ طنز والی بات کی تو جناب نبی اکرم ﷺ نے حضرت خالد رضی اللہ عنہ کو حکم فرمایا کہ اس کو مال مت واپس دو ۔ تو یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ وہ سامان قتل کی وجہ سے لشکر ی کو دینا واجب نہیں ہے اگر قتل کی وجہ سے واجب ہوتا تو کسی دوسرے شخص کی گفتگو کے باوجود جناب رسول اللہﷺ اس سامان کو نہ روکتے بلکہ ضرور دیتے ۔ لیکن آپ ﷺ نے خالد بن ولید کو حکم ددیا کہ وہ مال دے دو ۔ اس سے ثابت ہوا کہ آپ کو دینے کا حق تھا اور پھر منع فرما دیا تو اس سے ثابت ہوا روکنے کا بھی حق حاصل تھا ۔ جیسا کہ حضرت براء رضی اللہ عنہ کی روایت میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول ہے اور ہم نے اس کو اس باب میں ذکر کیا ہے کہ آپ نے فرمایا ہم پانچواں حصہ نہیں لیتے لیکن حضرت براء کو جو سامان ملا ہے وہ بہت بڑا مال ہے اور ہم اس کا پانچواں حصہ لیں گے ۔ چنانچہ انہوں نے خمس لیا ۔ تو اس سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بتلا دیا کہ وہ مقتول کے مال سے خمس نہیں لیتے لیکن خمس لینے کا اختیار بھی حاصل ہے ۔ ان کا خمس نہ لینا اس اختیار کی وجہ سے ہے ۔ اس وجہ سے ہرگز نہیں کہ وہ قتل کرنے والوں کے لئے لازم ہو گیا جیسا کہ ان کے لئے مال غنیمت سے حصہ لازم ہو جاتا ہے ۔ اس طرح حضرت عوف رضی اللہ عنہ کی روایت میں جناب رسول اللہ ﷺ نے جو کچھ کیا کہ خالد بن ولیدرضی اللہ عنہ کو حکم فرمای پھر آپؐ نے منع فرما دیا ۔ تو اس کی وجہ یہ تھی کہ آپؐ اس کا حکم دینے اور منع کرنے ہر دو باتوں کا اختیار رکھتے تھے ۔ جو کچھ ہم نے بیان کیا ہے ۔ اب اس میں اس بات کی واضح دلیل مل گئی کہ قاتلین مشرکین کا سامان دینا لازم نہیں ہے۔

جُبَيْرٌ ← خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← ثَوْرٍ ← الْوَلِیْدُ ← عَوْفٌ، ← أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ← صَفْوَانُ؛ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← دُحَيْمٌ، ← محمد بن عبد الرحمن الهروي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5087

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 6 باب الرجل يقتل قتيلا في دار الحرب هل يكون له سلبه أم لا ) · حديث 5088

4812 - حدثنا عبد الله بن محمد بن سعيد بن أبي مريم قال ثنا أسد بن موسى قال ثنا يحيى بن زكريا بن أبي زائدة قال ثنا داود بن أبي هند عن عكرمة عن بن عباس قال لما كان يوم بدر قال رسول الله صلى الله عليه و سلم من فعل كذا وكذا فله كذا وكذا فذهب شبان الرجال وجلست الشيوخ تحت الرايات فلما كانت الغنيمة جاءت الشبان يطلبون نفلهم فقال الشيوخ لا تستأثروا علينا فإنا كنا تحت الرايات ولو انهزمتم كنا ردءا لكم فأنزل الله عز و جل يسألونك عن الأنفال فقرأ حتى بلغ كما أخرجك ربك من بيتك بالحق وإن فريقا من المؤمنين لكارهون يقول أطيعوني في هذا الأمر كما رأيتم عاقبة أمري حيث خرجتم وأنتم كارهون فقسم بينهم بالسواء بما قسم ففي هذا الحديث منع رسول الله صلى الله عليه و سلم الشبان ما كان جعله لهم ففي هذا الحديث دليل على أن الأسلاب لا تجب للقاتلين ولولا ذلك لما منعهم منها ولا أعطاهم أسلاب من استأثروا بقتله دون من سواهم ممن تخلف عنهم فإن قال قائل فما وجه منعه صلى الله عليه و سلم إياهم ما كان جعله لهم قيل له لأن ما كان جعله لهم فإنما كان لأن يفعلوا ما هو صلاح لسائر المسلمين وليس من صلاح المسلمين تركهم الرايات والخروج عنها وإضافة الحافظين لها فلما خرجوا عن ذلك كانوا قد خرجوا عن المعنى الذي به يستحقون ما جعل لهم فمنعهم رسول الله صلى الله عليه و سلم لذلك والله تعالى أعلم

عکرمہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب بدر کا دن آیا جناب رسول اللہﷺ نے فرمایا جس نے اس طرح کیا اس کو یہ یہ ملے گا ۔ تو جوان آگے نکل گئے اور بوڑھے جھنڈوں کے نیچے بیٹھے رہے ۔ جب غنیمت کا مال آیا تو نوجوان اپنا آضافی حصہ طلب کرنے لگے ۔ بوڑھوں نے کہا کیا تمہیں ہم پر ترجیح حاصل نہیں ہے ۔ ہم جھنڈو ں کے نیچے تھے اگر تمہیں ( خدانخواستہ ) شکست ہوتی تو ہم تمارے لئے پشت پناہ تھے ۔ پس اللہ تعالی نے یہ آیت اتار دی (یسلونک عن الانفال تا کما اخرجک ربک من بیتک بالحق و ان فریقا من المومنین لکارھون )(الانفال 5)آپ نے پہلی پانچ آیات پڑھ کر سنائی اور فرمایا تم اس معاملہ میں میری بات مانو جیسا کہ تم میری کہی ہوئی بات کا انجام دیکھ چکے ہو ۔ جبکہ تم گھر سے اس حال میں نکلے کہ تم (لڑائی کو ) نا پسند کرتے تھے ۔ پس آپ ﷺ نے ان کے مابین برابر تقسیم کر دیا ۔ اس روایت میں جناب رسول اللہﷺ نے نوجوانوں سے اس چیز کو روک لیا جو بطور انعام ان کے لئے مقرر فرمایا تھا کہ وہ کام تماسم مسلمانوں کے لئے کریں اور جھنڈوں کا چھوڑ جانا اس میں عام مسلمانوں کے لئے بہتری نہ تھی ۔ بلکہ اس سے حفاظت کرنے والوں کے ضائع ہو نے کا خطرہ تھا ۔ جب اس سے نکل گئے تو استحقاق کی خصوصی وجہ جاتی رہی ۔ اس سے جناب رسول اللہﷺ نے اعلان کے باوجود ان کو عنایت نہ فرمایا ۔ واللہ اعلم

لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ ← بْنِ عَبَّاسٍ ← عِكْرِمَةَ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← يَحْيَی بْنُ زَکَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5088

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 7 باب سهم ذوي القربى ) · حديث 5089

4813 - حدثنا سليمان بن شعيب قال ثنا عبد الرحمن بن زياد قال ثنا شعبة عن الحكم قال سمعت عبد الرحمن بن أبي ليلى يحدث عن علي بن أبي طالب أن فاطمة أتت رسول الله صلى الله عليه و سلم تشكو إليه أثر الرحى في يدها وقد بلغها أن النبي صلى الله عليه و سلم أتاه سبي فأتته تسأله خادما فلم تلقه ولقيتها عائشة فأخبرتها الحديث فلما جاء النبي صلى الله عليه و سلم أخبرته بذلك قال فأتاني رسول الله صلى الله عليه و سلم وقد أخذنا مضاجعنا فذهبنا لنقوم فقال مكانكما فقعد بيننا حتى وجدت برد قدميه على صدري فقال ألا أدلكما على خير مما سألتما تكبران الله أربعا وثلاثين وتسبحان ثلاثا وثلاثين وتحمدان ثلاثا وثلاثين إذا أخذتما مضاجعكما فإنه خير لكما من خادم

عبدالرحمن بن ابی لیلی نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے باین کیا کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا جناب رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں ہاتھوں میں چکی کے نشانات کی شکایت کر رہی تھیں اور حاضری اس وقت ہوئی جب ان کو اطلا ع ملی کہ جناب نبی اکرم ﷺ کے پاس کچھ قیدی آئے ہیں تو وہ ایک خادم کا مطالبہ لے کر حاضر ہوئیں مگر آپؐ سے ملاقات نہ ہوئی ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ان سے ملیں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ان کو بات بتلائی ۔ پس جناب رسول اللہﷺ تشریف لائے تو انہوں نے آپ ؐ کو اس کی اطلاع دی حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہﷺ ہمارے ہاں اس وقت تشریف لائے جب ہم اپنے بستروں میں لیٹ چکے تھے ۔ ہم اٹھنے لگے تو آپؐ نے فرمایا اپنی اپنی جگہ پر رہو پھر جناب رسول اللہﷺ ہمارے درمیان بیٹھ گئے یہاں تک کہ میں نے اپ ؐ کے قدمین مبارک کی ٹھنڈک اپنے سینے پر محسوس کی اور آپؐ نے ارشاد فرمایا ۔ کیا میں تم دونوں کو ایسی چیز نہ بتلا دوں جو اس سے بہتر ہے جو تم نے مجھ سے مانگی ۔ تم دونوں 34مرتبہ اللہ اکبر 33 مرتبہ سبحان اللہ 33مرتبہ الحمداللہ اس وقت پڑھا کرو جب تم اپنے بستروں میں لیٹ جاؤ ۔ یہ تم دونوں کے لئے خادم سے بہتر ہے ۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5089

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 7 باب سهم ذوي القربى ) · حديث 5090

4814 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا أسد قال ثنا حماد بن سلمة عن عطاء بن السائب عن أبيه عن علي أنه قال لفاطمة ذات يوم قد جاء الله أباك بسعة ورقيق فأتيه فاطلبي منه خادما فأتته فذكرت ذلك له فقال والله لا أعطيكما وأدع أهل الصفة يطوون بطونهم ولا أجد ما أنفق عليهم ولكن أبيعها وأنفق عليهم ألا أدلكما على خير مما سألتما علمنيه جبرائيل كبرا في دبر كل صلاة عشرا وسبحا عشرا وأحمدا عشرا وإذا آويتما إلى فراشكما ثم ذكر مثل ما في حديث سليمان

عطا بن سائب نے اپنے والد اور انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو ایک دن کہا کہ تمہارے والد کے ہاں خوش حالی مال کی صورت میں اور غلام آئے ہیں ۔ تم اپنے والسد کے ہاں جاؤ اور ان سے خادم طلب کرو ۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا آﷺآئیں اور اس بات کا تذکرہ جناب رسول اللہﷺ کی خدمت میں کیا تو آپؐ نے فرمایا اللہ کی قسم میں اصحاب صفہ کو بھوک میں لپٹتا چھوڑکر تم دونوں کو خادم نہ دوں گا ۔ میرے پاس ان پر خرچ کے لئے کچھ نہیں ۔ میں غلاموں کو فروخت کر کے ان پر خوچ کروں گا ۔ کیا میں تم دونو ں کو اس سوال سے بہتر چیز نہ بتلا دوں ۔ وہ چیز مجھے جبرائیل علیہ السلام نے سکھائی ہے کہ ہر نماز کے بعد 10 مرتبہ اللہ اکبر 10مرتبہ سبحان اللہ 10 مرتبہ الحمداللہ پڑھ لیا کرو اور جب بستروں پر لیٹ جاؤ تو پڑھ لیا کرو ۔ پھر اس طرح ذکرکیا جیسا کہ سلیمان کی روایت 5089میں ہے ۔

عَلِیٍّ اَنَّہٗ ← أَبِيهِ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أسد ← ربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5090

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 7 باب سهم ذوي القربى ) · حديث 5091

4815 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا محمد بن عبد الله بن نمير قال ثنا زيد بن الحباب قال حدثني عياش بن عقبة قال حدثني الفضل بن حسن بن عمرو بن الحكم أن أمه حدثته أنها ذهبت هي وأمها حتى دخلت على فاطمة فخرجن جميعا فأتين رسول الله صلى الله عليه و سلم وقد أقبل من بعض مغازيه ومعه رقيق فسألته أن يخدمهن فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم سبقكن يتامى أهل بدر قال أبو جعفر فذهب قوم إلى أن ذوي قرابة رسول الله صلى الله عليه و سلم لا سهم لهم من الخمس معلوم ولا حظ لهم منه خلاف حظ غيرهم قالوا وإنما جعل الله لهم ما جعل من ذلك بقوله واعلموا أنما غنمتم من شيء فأن لله خمسه وللرسول ولذي القربى واليتامى والمساكين وابن السبيل وبقوله ما أفاء الله على رسوله من أهل القرى فلله وللرسول ولذي القربى واليتامى والمساكين بحال فقرهم وحاجتهم فأدخلهم مع الفقراء والمساكين فكما يخرج الفقير واليتيم والمسكين من ذلك لخروجهم من المعنى الذي به أستحقوا ما أستحقوا من ذلك فكذلك ذوو قرابة رسول الله صلى الله عليه و سلم المضمومون معهم إنما كانوا ضموا معهم لفقرهم فإذا استغنوا خرجوا من ذلك وقالوا لو كان لقرابة رسول الله صلى الله عليه و سلم في ذلك حظ لكانت فاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه و سلم منهم إذ كانت أقربهم إليه نسبا وأمسهم به رحما فلم يجعل لها حظا في السبي الذي ذكرنا ولم يخدمها منه خادما ولكنه وكلها إلى ذكر الله عز و جل لأن ما تأخذ من ذلك وإنما حكمها فيه حكم المساكين فيما تأخذ من الصدقة فرأى أن تركها ذلك والإقبال على ذكر الله عز و جل وتسبيحه وتهليله خير لها من ذلك وأفضل وقد قسم أبو بكر وعمر رضي الله عنهما بعد وفاة رسول الله صلى الله عليه و سلم جميع الخمس فلم يريا لقرابة رسول الله صلى الله عليه و سلم في ذلك حقا خلاف حق سائر المسلمين فثبت بذلك أن هذا هو الحكم عندهما وثبت إذ لم ينكره عليهما أحد من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم ولم يخالفهما فيه أن ذلك كان رأيهم فيه أيضا وإذا ثبت الإجماع في ذلك من أبي بكر وعمر رضي الله عنهما ومن جميع أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم ثبت القول به ووجب العمل به وترك خلافه ثم هذا علي رضي الله عنه لما صار الأمر إليه حمل الناس على ذلك أيضا وذكروا في ذلك ما قد

فضل بن حسن بن عمرو بن حکم بیان کرتے ہیں کہ میری والدہ نے بیان کیا کہ میں اور میری والدہ دونوں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئیں ہم سب مل کر جناب رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں آپ ﷺ کسی غزہ سے تشریف لائے تھے ار اس وقت آپؐ کے ساتھ غلام تھے میں آپؐ سے سوال کیا کہ ہمیں خادم عنایت فرمائیں تو جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ۔ اہل بدر کے یتیم تم سے سبقت کر گئے ۔ امام طحاوی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک جماعت اس بات کی طرف گئی ہے کہ جناب رسول اللہﷺ کے رشتہ داروں کے لئے خمس غنیمت میں سے کلوئی مقدار معلوم یا متعین نہیں اور دوسروں کے حصہ سے الگ کوئی حصہ نہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالی نے ان کے لئے وہ حصہ مقرر فر ما یا جو اس آیت کریمہ میں مذکور ہے (واعلمو انما غنمتم من شئی۔۔۔۔۔ وابن السبیل )(الانفال 41)(وما افاء اللہ علی رسول۔۔۔۔۔ المساکین )(الحشر :7)اور تم جان لو کہ جو کوئی چیز تمیں مال غنیمت سے ملے سو بلا شبہ اللہ تعالی کے لئے اس کا پانچواں حصہ ہے اور رسول کے لئے اور قرابت داروں کے لئے اور یتیموں کے لئے اور مساکین کے لئے اور مسافروں کے لئے اور جو کچھ اللہ تعالی نے اپنے رسول کو ان سے بطور فئی دلوایا سو تم نے اس کے لئے نہ گھوڑے دوڑائے اور نہ اونٹ ،لیکن اللہ تعالی اپنے پیغمبروں کو جس پر چاہے غلبہ دے دیتا ہے اور اللہ تعالی کو ہر چیز پر قدرت ہے جو کچھ اللہ تعالی اپنے رسول کو (دوسری ) بستیوں والوں سے بطور فئی دلوائے ۔ وہ الللہ تعالی ہی کا حق ہے اور رسول کا اور (رسول کے ) قرابت داروں کا اور یتیموں کا اور مساکین کا اور مسافروں کا ۔ اللہ تعالی نے ان آیات میں ان کے لئے مقرر فرمایا ہے اور وہ ان کے فقر حاجت کے وقت ہے اسی لئے ان کو فقراء و مساکین میں داخل فرمایا ہے ۔ تو جس طرح فقیر ، یتیمو مساکین استحقاق کا سبب ختم ہو جانے سے اس سے نکل جاتے ہیں بالکل اسی طرح اقربا ء رسول اللہ ﷺ کو بھی ان ساتھ ملایا گیا تو فقر کی وجہ سے ملایا گیا پس جب وہ مالدار ہو جائیں گے تو اس سے نکل جائیں گے ۔ یہ علماء فرماتے ہیں کہ اگر خالص قرابت نبوت کی وجہ سے ان کا حصہ مقرر ہوتا تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا بھی ان میں سے ہوئیں کیونکہ نسبی اعتبار سے وہ آپؐ کے قریب تر تھیں اور رحم کے اعتبار سے نزدیک تر تھیں ۔ لیکن آپؐ نے ان کے لئے ان قیدیوں میں حصہ نہیں رکھا جن کا ہم نے تذکرہ کیا اور ان کو کوئی خادم عنایت نہیں فرمایا ۔ بلکہ ان کو اللہ تعالی کے ذکر کے حوالے کیا کیونکہ آپ اس میں سے جو کچھ حاصل کرتیں تو آپ صدقہ لینے کی وجہ سے مساکین میں شمار ہوتیں ۔ تو آپﷺ نے خیال فرمایا کہ ان اس مطالبہ سے دست بردار ہونا اور اللہ تعالی کے ذکر و تسبیح اور تہلیل کی طرف متوجہ ہونا اس سے بہتر اور افضل ہے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ جناب رسول اللہﷺ کے بعد حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہا نے تمام خمس تقسیم فرما دیا اور قرابت رسول اللہﷺ کی وجہ سے ان کے لئے عام مسلمانوں کے حق سے کوےئ الگ حق خیال نہیں کیا ۔ پس اس سے بھی ثابت ہو تا ہے کہ ان کے ہاں بھی یہی حکم ہے اور جب کسی ڈحابی نے بھی اس کا انکار نہیں کیا اور نہ ہی ان کی مخالفت کی تو ثابت ہوگیا کہ صحابہ کرام کی رائے بھی اس سلسلہ میں یہی تھی ۔ پس جب حضرت ابو بکر و ععمر رضی اللہ عنہا اور تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اس پر اجماع ہو گیا تو یہ قول ثابت ہو گیا اور اس پر عمل کرنا لازم اور اس کے خلاف کو چھوڑنا ضروری ہو گیا ۔ تیسری بات یہ ہے کہ حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ کو خلافت ملی تو انہوں نے بھی لوگوں کو اسی بات کی ترغیب دی جسا کہ اس روایت میں مذکور ہے ۔

الفضل بن حسن بن عمرو بن الحكم ← عَيَّاشِ بْنِ عُقْبَةَ ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5091

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 7 باب سهم ذوي القربى ) · حديث 5092

4816 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا يوسف بن عدي قال ثنا عبد الله بن المبارك عن محمد بن إسحاق قال سألت أبا جعفر فقلت رأيت علي بن أبي طالب حيث ولي العراق وما ولي من أمور الناس كيف صنع في سهم ذوي القربى قال سلك به والله سبيل أبي بكر وعمر رضي الله عنهما قلت وكيف وأنتم تقولون ما تقولون قال إنه والله ما كان أهله يصدرون إلا عن رأيه قلت فما منعه قال كره والله أن يدعى عليه خلاف أبي بكر وعمر رضي الله عنهما فهذا علي بن أبي طالب رضي الله عنه قد أجراه على ما كان أبو بكر وعمر رضي الله عنهما أجرياه عليه لأنه رأى ذلك عدلا ولو كان رأيه خلاف ذلك مع علمه ودينه وفضله إذا لرده إلى ما رأى واحتجوا في ذلك أيضا بما

محمد بن اسحاق کہتے ہیں کہ میں نے ابو جعفر رحمۃاللہ علیہ سے پوچھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو جب عراق کی حکومت ملی اور لوگوں کے معاملات ان کے سپرد ہوےئ تو آپ نے قرابت داروں کے حصہ کے سلسلہ میں کیا عمل کیا ۔ انہوں نے فرمایا اللہ کی قسم ! وہ ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہا کے راستہ پر چلے ۔ میں نے پوچھا کیسے ؟ حالانکہ کہ تم فلاں فلاں بات کہتے ہو ؟ کہنے لگے اللہ کی قسم ! ان کے گھر والے تو ان کی رائے سے لوٹنے والے تھے ۔ میں نے کہا پھر انہوں نے کیوں نہ کیا ؟ کہنے لگے ۔ انہوں نے اس بات کو ناپسند سمجھا کہ لوگ ان کے خلاف یہ کہیں گے کہ انہوں نے حضرت ابو بکر وعمر رضی اللہ عنہم کے طرز عمل کے خلاف کیا ۔ یہ حضرت علی ابن ابو طالب رضی اللہ عنہ ہیں کہ انہوں نے اس بات کو ہی جاری رکھا جس کو ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہم نے جاری کیاتھا کیونکہ کہ انہوں نے اسی کو عدل سمجھا ۔ اگر ان کی رائے اس کے مخالف ہوتی تو علم ، فضل ، اور دینی عظمت کے تقاضے سے وہ ضرور اس رائے کو رد فرما دیتے ۔ انہوں نے اس روایت کو بھی بطور دلیل پیش کیا ۔

مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5092

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 7 باب سهم ذوي القربى ) · حديث 5093

4817 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا يوسف بن عدي قال ثنا بن المبارك عن سفيان عن قيس بن مسلم قال سألت الحسن بن محمد بن علي عن قول الله عز و جل واعلموا أنما غنمتم من شيء فأن لله خمسه قال أما قوله فأن لله خمسه فهو مفتاح كلام لله الدنيا والآخرة وللرسول ولذي القربى واليتامى والمساكين وأختلف الناس بعد وفاة رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال قوم منهم سهم ذوي القربى لقرابة الخليفة وقال قوم سهم النبي صلى الله عليه و سلم للخليفة من بعده ثم أجمعوا رأيهم أن جعلوا هذين السهمين في الخيل والعدة في سبيل الله عز و جل وكان ذلك في إمارة أبي بكر وعمر رضي الله عنهما قالوا أفلا ترى أن ذلك مما قد أجمع أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه رجع إلى الكراع والسلاح الذي تكون عدة للمسلمين لقتال عدوهم ولو كان ذلك لذوي قرابة رسول الله صلى الله عليه و سلم لما منعوا منه ولما صرفوا إلى غيرهم ولا خفي ذلك على الحسن بن محمد مع علمه في أهله وتقدمه فيهم وقد قال ذلك أيضا عبد الله بن عباس رضي الله عنهما في جوابه لنجدة لما كتب إليه يسأله عن سهم ذوي القربى وذكروا في ذلك ما

قیس بن مسلم کہتے ہیں کہ میں نے حسن بن محمد بن علی سے اللہ تعالی کے اس ارشاد کے متعلق دریافت کیا (واعلمو انما غنتم من شئی فان للہ خمسہ) (الانفال 41)تو کہنے لگے ( فان للہ خمسہ) سے تو کلام کو شرو ع فرمایا عبارت اس طرح ہے ( للہ الدنیا والآ خرہ وللرسول ولذی القربی والیتامی والمساکین ای خمسہ )دنیا و آخرت اللہ تعالی کی ہے رسول اللہ ﷺ اور قرابت داروں اور یتامی اور مساکین کے لئے خمس ہے ۔ جناب رسول اللہﷺ کی وفات کے بعد صحابہ کرام اس بارے میں مختلف ہوئے ۔ ایک جماعت کہتی تھی کہ رشتہ داروں کا حق خلیفہ کی قرابت کی وجہ سے ہے ۔ بعض نے کہا جناب رسول اللہﷺ کے آپ کا حصہ خلیفہ وقت کے لئے ہو گا ۔ پھر اس بات پر سب متفق ہو گئے کہ ان دونوں حصوں کو گھوڑوں اور جہاد کی تیاری کے لئے صرف کیا جائے ۔ چنانچہ حضرت ابو بکرو عمر رضی اللہ عنہا کی خلافت میں یہی طریق رائج رہا ۔ ذرا غور فرمائیں کہ یہ صحابہ کرام کا متفقہ فیصلہ ہے اور یہ حصہ ان گھوڑوں اور اسلحہ کی طرف لوٹتا ہے ۔ جس کو دزمن کے بالمقابل مسلمانوں نے تیار کیا اور اگر یہ جناب رسول اللہﷺ کی قرابت کی وجہ سے حصہ مقرر ہوتا تو وہ اس کو نہ روکتے اور اس کو قطعاً کسی دوسرے مصرف میں نہ لگاتے اور یہ بات حسن بن محمد رحمتہ اللہ علیہ جیسے مستند علم کے شہ سوار پر ہرگز مخفی نہ رہتی ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے نجدہ کے خط کے جواب میں ذی القربی کا حصہ دریافت کرنے پر یہی بات فرمائی ۔ روایت یہ ہے ۔

قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، ← سُفْيَانَ، ← بن الْمُبَارَكِ، ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5093

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 7 باب سهم ذوي القربى ) · حديث 5094

4818 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا عبد الله بن محمد بن أسماء قال ثنا عمي جويرية بن أسماء عن مالك بن أنس عن بن شهاب أن يزيد بن هرمز حدثه أن نجدة صاحب اليمامة كتب إلى بن عباس يسأله عن سهم ذوي القربى فكتب إليه بن عباس إنه لنا وقد كان دعانا عمر بن الخطاب لينكح منه إيمنا ويقضي عنه من غارمنا فأبينا إلا أن يسلمه لنا كله ورأينا أنه لنا

ابن شہاب بیان کرتےہیں کہ یزید بن ہرمز نے مجھے بیان کیا کہ یمامہ کے حکمران نجدہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہ کی طرف خط لکھا جس میں وہ ان سے ذی القربی کا حصہدریافت کر رہا تھا تو ابن عباس رضی اللہ عنہ اس کی طرف لکھ بھیجا ۔ کہ یہ حصہ ہمارے لئے ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ہمیں بلایا تھا کہ وہ اس حصہ میں سے ہماری بیواؤں کا نکاح کر دیں اور قرض داروں کا قرض اتار دیں ۔ تو ہم نے انکار کر دیا اور ہم نے کہا اس صورت میں لیں گے کہ آپ تمام حصہ ہمیں دیں اور ہمارا خیال یہی تھا کہ ہمارے لئے ہے اور حق ہمارا ہے۔

سهم ذوي القربى ← إلى بن عباس يسأله ← أن نجدة صاحب اليمامة ← بن شهاب أن يزيد بن هرمز ← مالک بن أنس ← عَمِّي جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5094

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 7 باب سهم ذوي القربى ) · حديث 5095

4819 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا وهب بن جرير قال ثنا أبي قال سمعت قيسا يحدث عن يزيد بن هرمز قال كتب نجدة بن عامر إلى بن عباس رضي الله عنهما يسأله عن سهم ذوي القربى الذي ذكر الله وفرض لهم فكتب إليه وأنا شاهد كنا نرى أنهم قرابة رسول الله صلى الله عليه و سلم فأبى ذلك علينا قومنا فهذا بن عباس رضي الله عنهما يخبر أن قومهم أبوا عليهم أن يكون لهم ولم يظلم من أبى ذلك عليه فدل ذلك أن ما أريد في ذلك بقرابة رسول الله صلى الله عليه و سلم هو ما ذكرنا من الفقر والحاجة فهذه حجج من ذهب إلى أن ذوي القربى لا سهم لهم من الخمس وأن ذلك لم يكن لهم في عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم ولا من بعده وقد خالفهم في ذلك آخرون فقالوا قد كان لهم سهم على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو خمس الخمس وكان لرسول الله صلى الله عليه و سلم أن يضعه فيمن شاء منهم وذكروا في ذلك ما

یزید بن ہرمز نے بیان کیا کہ نجدہ بن عامر نے ابن عباس رضی اللہ عنہ کی طرف لکھا کہ ذوی القربی کے حصہ کا کیا حکم ہے جس کا اللہ تعالی نے قرآن مجید میں ذکر کیااور اس کو ان کے لئے مقرر کیا ۔ تو انہوں نے لکھا اور میں اس موقعہ پر موجود تھا ۔ کہ ہمارا خیال یہی ہے تھا کہ اس سے جناب رسول اللہﷺ کی قرابت مرا دہے ۔ مگر ہماری قوم نے ہمیں دینے سے انکار کر دیا ۔ یہ ابن عباس رضی اللہ عنہ ہیں جو بتلا رہے ہیں کہ ہماری قوم نے یہ حصہ ہمیں دینے سے انکار کر دیا مگر جنہوں نے انکار کیا انہوں نے انکار کیے جانے والوں پو کوئی زیادتی نہیں کی ۔ تو کیا اس بات کا ثبوت نہیں کہ جناب رسول اللہﷺ کی قرابت سے یہاں وہی مراد ہے جس کا ہم نے تذکرہ کیا یعنی فقر و محتاجی کیصورت میں ان کو دیا جائے گا ۔ یہ فریق اول کے دلائل کا تذکرہ ہے ۔ جو یہ کہتے ہیں کہ جناب نبی اکرم ﷺ کے قرابت داروں کے لئے خمس میں سے کوئی حصہ مقر رنہیں نہ تو آپ کے زمانہ میں اور نہ بعد میں ہے سوائے اس سبب کے جس کا تذکرہ ہوا ۔ جناب رسول اللہﷺ کے زمانہ میں ذوی القربی کا حصہ مقرر تھا اور وہ خمس الخمس یعنی خمس کا پانچواں حصہ ہوتا ہے اور جناب رسول اللہ ﷺ کو اختیار تھا کہ جس کو چاہیں عنایت فرما دیں ان کی دلیل یہ روایت ہے ۔

إِلَيْهِ ← الله وفرض لهم ← سَهْمِ ذَوِي الْقُرْبَى الَّذِي ← نجدة بن عامر إلى بن عباس يسأله ← يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ ← قَيْسًا ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5095

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 7 باب سهم ذوي القربى ) · حديث 5096

4820 - حدثنا محمد بن بحر بن مطر وعلي بن شيبة البغداديان قالا ثنا يزيد بن هارون قال أخبرنا محمد بن إسحاق عن الزهري عن سعيد بن المسيب عن جبير بن مطعم قال لما قسم رسول الله صلى الله عليه و سلم سهم ذوي القربى أعطى بني هاشم وبني المطلب ولم يعط بني أمية شيئا وبني نوفل فأتيت أنا وعثمان رضي الله عنه رسول الله صلى الله عليه و سلم فقلنا يا رسول الله هؤلاء بنو هاشم فضلهم الله بك فما بالنا وبنى المطلب وإنما نحن وهم في النسب شيء واحد [ ص 236 ] فقال إن بني المطلب لم يفارقوني في الجاهلية ولا في الإسلام قالوا فلما أعطى رسول الله صلى الله عليه و سلم ذلك السهم بعض القرابة وحرم من قرابته منه كقرابتهم ثبت بذلك أن الله لم يرد بما جعل لذوي القربى كل قرابة رسول الله صلى الله عليه و سلم وإنما أراد به خاصا منهم وجعل الرأي في ذلك إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم يضعه فيمن شاء منهم وإذا مات فانقطع رأيه انقطع ما جعل لهم من ذلك كما قد جعل لرسول الله صلى الله عليه و سلم يصطفى من المغنم لنفسه سهم الصفي فكان ذلك ما كان حيا يختار لنفسه من المغنم ما شاء فلما مات انقطع ذلك وممن ذهب إلى هذا القول أبو حنيفة وأبو يوسف ومحمد رحمة الله عليهم وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا بل ذوو القربى الذين جعل الله لهم من ذلك ما جعل هم بنو هاشم وبنو المطلب فأعطاهم رسول الله صلى الله عليه و سلم ما أعطاهم من ذلك بجعل الله عز و جل ذلك لهم ولم يكن له حينئذ أن يعطى غيرهم من بني أمية وبني نوفل لأنهم لم يدخلوا في الآية وإنما دخل فيها من قرابة رسول الله صلى الله عليه و سلم بنو هاشم وبنو المطلب خاصة فلما اختلفوا في هذا هذا الاختلاف فذهب كل فريق إلى ما ذكرنا واحتج لقوله بما وصفنا وجب أن نكشف كل قول منها وما ذكرنا من حجة قائله لنستخرج من هذه الأقاويل قولا صحيحا فنظرنا في ذلك فابتدأنا بقول الذي نفى أن يكون لهم في الآية شيء بحق القرابة وأنه إنما جعل لهم فيها ما جعل لحاجتهم وفقرهم كما جعل للمسكين واليتيم فيها ما جعل لحاجتهما وفقرهما فإذا ارتفع الفقر عنهم جميعا ارتفعت حقوقهم من ذلك فوجدنا رسول الله صلى الله عليه و سلم قد قسم سهم ذوي القربى حين قسمه فأعطى بني هاشم وبني المطلب وعمهم بذلك جميعا وقد كان فيهم الغني والفقير فثبت بذلك أنه لو كان ما جعل لهم في ذلك هو لعلة الفقر لا لعلة القرابة إذا لما دخل أغنياؤهم في فقرائهم فيما جعل لهم من ذلك ولقصد إلى الفقراء منهم دون الأغنياء فأعطاهم كما فعل في اليتامى فلما أدخل أغنياءهم في فقرائهم ثبت بذلك أنه قصد بذلك إلى أعيان القرابة لعلة قرابتهم لا لعلة فقرهم وأما ما ذكروا من حديث فاطمة رضي الله عنها حيث سألت رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يخدمها خادما من السبي الذي كان قدم عليه فلم يفعل ووكلها إلى ذكر الله عز و جل والتسبيح فهذا ليس فيه عندنا دليل لهم على ما ذكروا لأن رسول الله صلى الله عليه و سلم لم يقل لها حين سألته لا حق لك فيه ولو كان ذلك كذلك لبين ذلك لها كما بينه للفضل بن العباس وربيعة بن الحارث حسن سألا أن [ ص 237 ] يستعملهما على الصدقة ليصيبا منها فقال لهما إنما هي أوساخ الناس وأنها لا تحل لمحمد ولا لأحد من أهل بيته وقد يجوز أيضا أن يكون لم يعطها الخادم حينئذ لأنه لم يكن قسم فلما قسم أعطاها حقها من ذلك وأعطى غيرها أيضا حقه فيكون تركه إعطاءها إنما كان لأنه لم يقسم ودلها على تسبيح الله وتحميده وتهليله الذي يرجو لها به الفوز من الله تعالى والزلفى عنده وقد يجوز أن يكون قد أخدمها من ذلك بعد ما قسم ولا نعلم في الآثار ما يدفع شيئا من ذلك وقد يجوز أن يكون منعها من ذلك إن كان منعها منه لأنها ليست قرابة ولكن أقرب من القرابة لأن الولد لا يقال هو من قرابة أبيه إنما يقال ذلك لمن غيره أقرب إليه منه ألا ترى إلى قول الله عز و جل قل ما أنفقتم من خير فللوالدين والأقربين فجعل الوالدين غير الأقربين لأنهم أقرب من الأقربين فكما كان الوالد يخرج من قرابة ولده فكذلك الولد يخرج من قرابة والده وقد قال محمد بن الحسن رحمة الله عليه نحوا مما ذكرنا في رجل قال قد أوصيت بثلث مالي لقرابة فلان أن والديه وولده لا يدخلون في ذلك لأنهم أقرب من القرابة وليسوا بقرابة واحتج في ذلك بهذه الآية التي ذكرناها فهذا وجه آخر فارتفع بما ذكرنا أن يكون لهم أيضا بحديث فاطمة رضي الله عنها هذا حجة في نفي سهم ذوي القربى وأما ما احتجوا به في حديث أبي بكر وعمر رضي الله عنهما من فعلهما وأن أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم لم ينكروا ذلك عليهما فإن هذا مما يسع فيه اجتهاد الرأي فرأياهما ذلك واجتهدا فكان ما أداهما إليه اجتهادهما هو ما رأيا في ذلك فحكما به وهو الذي كان عليهما وهما في ذلك مثابان مأجوران وأما قولهم ولم ينكر ذلك عليهما أحد من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم فكيف يجوز أن ينكر ذلك عليهما أحد وهما إمامان عدلان رأيا رأيا فحكما به ففعلا في ذلك الذي كلفا ولكن قد رأى في ذلك غيرهما من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم بخلاف ما رأيا فلم يعنفوهما فيما حكما به من ذلك إذ كان الراي في ذلك واسعا والاجتهاد للناس جميعا فأدى أبا بكر وعمر رضي الله عنهما رأيهما في ذلك إلى ما رأيا وحكما وأدى غيرهما ممن خالفهما اجتهاده في ذلك إلى ما رآه وكل مأجور في اجتهاده في ذلك مثاب مؤد للفرض الذي عليه ولم ينكر بعضهم على بعض قوله لأن ما خالف إليه هو رأي والذي قاله مخالفه هو رأي أيضا ولا توقيف مع واحد منهما لقوله من كتاب ولا سنة ولا إجماع [ ص 238 ] والدليل على أن أبا بكر وعمر رضي الله عنهما قد كانا خولفا فيما رأيا من ذلك قول بن عباس رضي الله عنهما قد كنا نرى أنا نحن هم قرابة رسول الله صلى الله عليه و سلم فأبى ذلك علينا قومنا فأخبر أنهم رأوا في ذلك رأيا أباه عليهم قومهم وأن عمر دعاهم إلى أن يزوج منه أيمهم ويكسو منه عاريهم قال فأبينا عليه إلا أن يسلمه لنا كله فدل ذلك أنهم قد كانوا على هذا القول في خلافة عمر بعد أبي بكر وأنهم لم يكونوا نزعوا عما كانوا رأوا من ذلك لرأي أبي بكر ولا رأي عمر رضي الله عنهما فدل ما ذكرنا أن حكم ذلك كان عند أبي بكر وعمر وعند سائر أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم كحكم الأشياء التي تختلف فيها التي يسع فيها اجتهاد الرأي وأما قولهم ثم أفضى الأمر إلى علي رضي الله عنه فلم يغير شيئا من ذلك عما كان وضعه عليه أبو بكر وعمر رضي الله عنهما قالوا فذلك دليل على أنه قد كان رأي في ذلك أيضا مثل الذي رأيا فليس ذلك كما ذكروا لأنه لم يكن بقي في يد علي مما كان وقع في يد أبي بكر وعمر من ذلك شيء لأنهما لما كان ذلك وقع في أيديهما أنفذاه في وجوهه التي رأياها في ذلك الذي كان عليهما ثم افضى الأمر إلى علي رضي الله عنه فلم يعلم أنه سبي أحدا ولا ظهر على أحد من العدو ولا غنم غنيمة يجب فيها خمس لله لأنه إنما كان شغله في خلافته كلها بقتال من خالفه ممن لا يسبي ولا يغنم وإنما يحتج بقول علي رضي الله عنه في ذلك لو سبي وغنم ففعل في ذلك مثل ما كان أبو بكر وعمر فعلا في الأخماس وأما إذا لم يكن سبي ولا غنم فلا حجة لأحد في تغيير ما كان فعل قبله من ذلك ولو كان بقي في يده من ذلك شيء مما كان غنمه من قبله فحرمه ذوي قرابة رسول الله صلى الله عليه و سلم لما كان في ذلك أيضا حجة تدل على مذهبه في ذلك كيف كان لأن ذلك إنما صار إليه بعد ما نفذ فيه الحكم من الإمام الذي كان قبله فلم يكن له إبطال ذلك الحكم وإن كان هو يرى خلافه لأن ذلك الحكم مما يختلف فيه العلماء ولو كان علي رضي الله عنه رأى في ذلك ما كان أبو بكر وعمر رضي الله عنهما رأياه في قرابة رسول الله صلى الله عليه و سلم من قد خالفه لقول بن عباس رضي الله عنهما كنا نرى أنا نحن هم فأبى ذلك علينا قومنا فهذه جوابات الحجج التي احتج بها الذين نفوا سهم ذوي القربى أن يكون واجبا لهم بعد رسول الله صلى الله عليه و سلم ولا في حياته وأنهم كانوا في ذلك كسائر الفقراء فبطل هذا المذهب فثبت أحد المذاهب الأخر فأردنا أن ننظر في قول من جعله لقرابة الخليفة من بعد رسول الله صلى الله عليه و سلم وجعل سهم رسول الله صلى الله عليه و سلم للخليفة من بعده هل لذلك وجه فرأينا رسول الله صلى الله عليه و سلم قد كان فضل بسهم الصفي وبخمس الخمس وجعل له مع ذلك في الغنيمة سهم كسهم رجل من المسلمين ثم رأيناهم قد أجمعوا أن سهم الصفي ليس لأحد بعد رسول الله صلى الله عليه و سلم وأن حكم رسول الله في ذلك خلاف حكم الإمام من بعده فثبت بذلك أيضا أن حكمه في خمس الخمس خلاف حكم الإمام من بعده ثبت أن حكمه فيما وصفناه خلاف حكم الإمام من بعده ثبت أن حكم قرابته في ذلك خلاف حكم قرابة الإمام من بعده قلب أحد القولين من الآخرين فنظرنا في ذلك فإذا الله عز و جل قال وأعلموا أنما غنمتم من شيء فأن لله خمسه وللرسول ولذي القربى واليتامى والمساكين وابن السبيل فكان سهم رسول الله صلى الله عليه و سلم جاريا له ما كان حيا إلى أن مات وانقطع بموته وكان سهم اليتامى والمساكين وابن السبيل بعد وفاة رسول الله صلى الله عليه و سلم كما كان قبل ذلك ثم اختلفوا في سهم ذوي القربى فقال قوم هو لهم بعد وفاة رسول الله صلى الله عليه و سلم كما كان لهم في حياته وقال قوم قد انقطع عنهم بموته وكان الله عز و جل قد جمع كل قرابة رسول الله صلى الله عليه و سلم في قوله ولذي القربى فلم يخص أحدا منهم دون أحد ثم قسم ذلك النبي صلى الله عليه و سلم فأعطى منهم بني هاشم وبني المطلب خاصة وحرم بني أمية وبني نوفل وقد كانوا محصورين معدودين وفيمن أعطى الغني والفقير وفيمن حرم كذلك فثبت أن ذلك السهم كان للنبي صلى الله عليه و سلم فجعله في أي قرابته شاء فصار بذلك حكمه حكم سهمه الذي كان يصطفى لنفسه فكما كان ذلك مرتفعا بوفاته غير واجب لأحد من بعده كان هذا أيضا كذلك مرتفعا بوفاته غير واجب لأحد من بعده وهو قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمة الله عليهم أجمعين

سعید بن المسیب نے جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہﷺ نے قرابت داروں کا حصہ تقسیم فرمایا تو بنو ہاشم اور بنو مطلب کو عنایت فرمایا ۔ مگر بنو امیہ اور بنو نوفل کو نہ دیا ۔ چنانچہ میں اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ جناب رسول اللہﷺ کیخدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہﷺ ! بنو ہاشم کو اللہ تعالی نے آپ کی وجہ سے فضیلت دی تو ہمارا اور بنو مطلب کا کیا فرق ہے ؟ حالانکہ ہم اوروہ نسب کے لحاظ سے ایک ہیں ۔ جناب نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ۔بنو مطلب نےدور جاہلیت اور اسلام میں مجھ سے جدائی اختیار نہیں کی ۔ جب جناب رسول اللہﷺ نے بعض قرابت داروں کو یہ حصہ عنایت فرمایا اور دوسروں کو محروم فرمایا جبکہ وہ قرابت میں برابر تھے ۔ پس اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ اللہ تعالی نے جن قرابت داروں کا جو حصہ مقرر فرمایا ہت اس سے تمام قرابت دار مراد نہیں بلکہ بعض خاص لوگ مراد ہیں اور وہ جناب رسول اللہ ﷺ کے چناؤ پر موقوف تھا ۔ کہ ان میں سے جس کو چاہیں عنایت فرما دیں ۔ پس جب آپ کا وصال ہو گیا اور یہ رائے سے انتخاب کا سلسلہ ختم ہو گیا تو ان رشتہ داروں کا جو حصہ مقرر کیا گیا تھا وہ بھی ختم ہوگیا جس طرح آپ کا اپنے لئے مال غنیمت میں سے حسہ کا چناؤ بھی وفات کے بعد ختم ہو گیا ۔ یہ قول امام ابو حنیفہ ۔ ابو یوسف ، محمد رحمتہ اللہ علیہ کا ہے ۔ فریق ثالث نے اس قول کی مخالفت کی کہ ذوی القربی وہ ہیں جن کا حصہ مقرر کیا گیا وہ بنو ہاشم ،بنو مطلب ہیں ۔ ان کو جناب رسول اللہ ﷺ نے جتنا دیا وہ اللہ تعالی کے مقرر کرنے سے دیا اور اس وقت ان کے علاوہ آپ بنو امیہ اور بنو نوفل کو نہ دے سکتے تھے ۔ کیونکہ وہ آیت کے حکم میں داخل نہ تھے ۔ بنو ہاشم ہوں یا بنو مطلب وہ خصوصی قرابت رسول اللہﷺ کی وجہ سے داخل ہوئے ۔ جب اس مسئلہ میں فقہا ء کے درمیان اس قدر اختلاف پایا گیا اور ان میں سے ہر فریق نے اپنے مؤقف کو پیش کر کے اس پر دلائل پیش کئے جو کہ سابقہ سطور میں ہم بیان کر آئے ۔ اب ہم ان اقوال اور ان کے دلائل کی حقیقت منکشف کرنا چاہتے ہیں تا کہ ان میں سے صیح ترین کو نکال سکیں ۔ چنانچہ ہم نے غور و فکر کر کے فریق اول کے قول کی حقیقت اور اس کا جواب انہوں نے آیت کریمہ میں قرابت داروں کے حصہ کی نفی کرتے ہوئے حاجت اور مسکنت کو حصہ کا باعث قرار دیا ۔ کہ جس طرح مساکین اور یتامی کو ان کی حاجات اور فقر کے باعث حصہ دیا جاتا ہے اور فقر کے ختم ہونےپر حصہ ختم ہو جاتا ہے اور ان کے حقوق بھی ختم ہو جاتے ہیں یہاں بھی اس طرح ہو گا ۔ مگر ہمیں غور کرنے پر معلوم ہوا کہ جناب رسول اللہﷺ نے تقسیم کے وقت قرابت داروں کو بلا تفریق عنی و فقیر دیا اور وہ قرابت دار صرف بنو ہاشم اور بنو مطلب تھے ۔ اس سے ثابت ہو گیا کہ اگر ان کا حصہ فقر و احتیاج کی وجہ سے ہوتا قرابت داری سے نہ ہو تو اس کی تقسیم میں صرف فقراء آتے مالدار شریک نہ ہوتے اور نہ ان کو حصہ دیا جاتا صرف محتاجوں کو دیا جاتا ۔ جیسا کہ یتامی کے سلسلے میں کہا گیا ہے تو جب آپ ﷺ نے فقراء کے علاوہ مالداروں کوبھی داخل فرمایا تو اس سے ثابت ہوا کہ یہ حصہ قرابت داری کی وجہ سے تھا نہ کہ کسی اور وجہ سے ۔ فریق اول نے اپنی دلیل میں روایت فاطمہ رضی اللہ عنہا نقل کی ہے کہ جناب رسول اللہﷺ نے ان قیدیوں میں سے ایک غلام طلب کیا جو آپ کے پاس آئے تھے ۔ آپؐ نے عنایت نہ فرمایا بلکہ ان کو ذکر و تسبیح کی طرف متوجہ کیا ۔ اس روایت میں ان کے مؤقف کی کوئی دلیل نہیں ہے ۔ ان کے سوال پر آپﷺ نے یہ ہر گز نہیں فرمایا کہ اس میں تمہارا حق نہیں بنتا ۔اگر یہ بات ہوتی تو آپ ان کو بھی اس طرح فرماتے جیسا کہ فضل بن عباس اور ربیعہ بن حارث رضی اللہ عنہا کو فرمایا تھا کہ یہ صدقہ کا مال لوگوں کی میل کچیل ہے یہ محمد ﷺ اور ان کے اہل بیت میں سے کسی کے لئے درست نہیں ۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کے مطالبہ پر اس لئے نہ دیا ہو کہ اس وقت ابھی تقسیم نہ ہوا ہو ۔ جب تقسیم ہوا تو ان کا حق ان کو دے دیا گیا اور دوسری کو بھی ان کا حق عنایت فرمایا تو نہ دینے کی وجہ عدم استحقاق نہیں عدم تقسیم ہے اور آپ نے ان کی تسلی کے لئے اللہ تعالی کی حمد وتسبیح کا راستہ بتلایا کیونکہ ان کلمات سے آپ قرب خداوندی اور اس میں کامیابی کی امید رکھتے تھے ۔ممکن ہے تقسیم کے بعد ان کو عنایت فرمایا ہو ۔ کیونکہ روایات میں اس کے خلاف کوئی روایت میسر نہیں آئی ۔ شاید ان کو اس لئے غلام عنایت نہ فرمایا کہ وہ قرابت والوں میں شامل نہ تھیں ۔ کیونکہ بیٹے بیٹی کو قرابت والا نہیں کہا جاتا ۔ بلکہ باپ کی طرف سے دوسرے رشتہ داروں کو کہا جاتا ہے ۔ اللہ تعالی کا یہ ارشاد اس پر شاہد ہے ۔ "ما انفقتم من خیر فللو الدین والا قربین "(البقرہ215)تو ماں باپ پر اقربین کا غیر قرار دیا کیونکہ وہ تو اقرب القربی ہیں تو جس طرح قرابت سے والدین نکل جاتے ہیں اس طرح اولاد والد کے لئے اس قرابت سے نکل جاتی ہے ۔ امام محمد بن حسن رحمتہ اللہ علیہ نے اس شخص کے متعلق لکھا ہے کہ جو یہ کہے میں نے اپنے مال کے ثلث کی اپنے قربت داروں کو وصیت کی تو اس کی اس وصیت میں اس کے ماں و باپ اور اولاد شامل نہ ہو گی ۔ کیونکہ وہ قرابت سے زیادہ قریب ہیں ۔ قرابت دار نہیں ہیں ۔ امام محمد رحمتہ اللہ علیہ نے دلیل مین اسی آیت کا حوالہ دیا ہے ۔ ان وجوہات سے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا والی روایت قرابت داروں کے حصہ کینفی پر استدلال کی مکمل نفی ہو گئی حضرت ابر بکر صدیق اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کے عمل اور صحابہ کرام کے انکار کرنے سے استدلال کیا گیا ہے کہ انہوں نے اجتہاد کیا اور اس کے مطابق درست فیصلہ کیا جو باعث اجر وثواب ہے ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ بات درست ہے کہ کسی نے انکار نہیں کیا اور انکار کرتے بھی کیسے جبکہ وہ دونوں امام عادل تھے اور اجتہاد میں ان کی ایک رائے تھی جس پر انہوں نے فیصلہ کیاوہ اسی کے مکلف بنائے گئے تھے ۔ دیگر صحابہ کرام کی رائے ان کے خلاف تھی مگر انہوں نے ان پر سختی نہیں کی کیونکہ اس میں اجتہاد کی گنجائش تھی اور اجتہاد کامعاملہ تمام لوگوں کے لئے برابر تھا ۔ چنانچہ حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما نے ایک رائے کو اختیار کر کے فیصلہ کیا لیکن دیگر حضرات نے دوسری رائے کو پسند کیا جو ان کے اجتہاد کا تقاضا تھا اور بلا شبہ یہ تمام حضرات اپنے اجتہاد کا ثواب پائیں گے ۔ انہوں نے اپنی ذمہ داری کو نبھایا اور پورا کیا اس وجہ سے انہوں نے ایک دوسرے پر اعتراض نہیں کیا کیونکہ ہر ایک کی اجتہادی رائے ہے جس میں قرآن و سنت اور اجتماع سے صریح نص میسر نہیں ہے ۔ اس بات کی واضح دلیل کہ ان دونوں حضرات کی رائے کی مخالفت کی گئی وہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ ہمارے خیال میں ہم جناب رسول اللہﷺ کے قرابت دار ہیں مگر ہماری قوم نے اس بات کا انکار کر دیا ۔ اس میں ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ اس سلسلے میں ان کی قوم (قریش)نے ان کی رائے سے اختلاف کرحمتہ اللہ علیہ کیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو اس بات کی دعوت دی کہ وہ اس حصے میں سے ان کی بیوگان کا نکاح کر دیں گے اور ان میں سے بلا لباس لوگوں کو کپڑے پہنا دیں گے ۔مگر بقول ابن عباس رضی اللہ عنہ ہم نے اس میں سے اس بات کو اس شرط پر تسلیم کرنے کے لئے کہا کہ وہ تمام مال ہمیں دیں ۔ مگر انہوں نے اس سے انکار کیا ۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے بعد حضرت عمررضی اللہ عنہ کے زمانے میں بھی اس بات پر قائم تھے اور انہوں نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ و عمر رضی اللہ عنہ کی رائے کی وجہ سے اپنی رائے کونہ چھوڑا۔ پس مذکورہ بالا بات سے یہ ثابت ہو گیا کہ حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہم اور دیگر صحابہ کرام کے ہاں یہ ان اشیاء میں سے تھی جب میں اختلاف کیا جا سکتا ہے اور ان میں اجتہاد کی گنجائش ہے۔ یہ کہنا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں اس طریق کار میں کوئی تبدیلی نہیں کی جو کہ حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہم نے وضع کیا تھا اس سے ثابت ہوا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تائے وہی تھی جو ان دونوں حضرات کی رائے تھی ۔ مگر یہ کہنا درست نہیں کیونکہ جو کچھ حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہم کے پاس تھا وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قبضہ میں نہ تھا ۔ کیونکہ جو کچھ ان کو حاصل ہوا انہوں نے اپنی رائے کے مطابق جہاں مناسب خیال کیا اس کو خرچ کیا اور جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خلافت حاصل ہوئی تو یہ بات معلوم نہیں کہ انہوں نے کسی کو قیدی بنایا اور کسی دشمن پر کامیابی حاصل کی ۔ نہ تو انہوں نے ایسی غنیمت حاصل کی جسمیں خمس لازم ہوتا کیونکہ پورا دور خلافت ان کے خلاف لڑائی میں گزرا جن سے نہ قید یبنایا جا سکتا تھا اور نہ مال غنیمت حاصل ہوتا اور اس پر عمل کرتے جو حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہا نے خمس غنیمت کے سلسلے میں کیا لیکن جب قیدی اور غلام ہی نہ تھے تو کوئی شخص اس بات کو دلیل نہیں بنا سکتا کہ پہلے سے جاری عمل میں تبدیلی ترک کی گئی ۔ بلکہ اگر ان کے پاس پہلے سے بچا ہوا مال غنیمت ہوتا پھر وہ اس کو جناب رسول اللہﷺ کے قرابت والوں پر (خرچ کو ) نا درست قرار دیتے تب بھی یہ فریق اول کی دلیل نہ بنتی اور یہ دلیل بن بھی کیسے سکتی ہے کیونکہ یہ مال تو اس وقت ملا جبکہ ان سے پہلے امام کا حکم اس میں لاگو ہو چکا تو ان کو اس کے باطل کرنے کا اختیار نہ تھا۔ خواہ ان کی رائے اس خلاف ہی کیوں نہ ہو ۔ کیونکہ یہ ان احکامات سے ہے جس مین علماء کی رائے مختلف ہے اور اگر بالفرض حضرت علی رضی اللہ عنہ کی رائے قرابت رسول اللہﷺ کے متعلق وہی رائے ہو جو حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہا کی تھی ۔ کچھ ایسے لوگ تھےجو قول ابن عباس رضی اللہ عنہ کی وجہ سے کہ ہم قرابتدار ہیں اور حقدار ہیں مگر ہماری قوم نے اس کا انکار کر دیا ۔جن حضرات نے قرابت داروں کے حصہ کی نفی کی ہے ان کے دلائل کےجوابات ذکر کر دئیے ۔ ان کا خیال باطل ٹھہرا کہ وہ تمام فقراء کی طرح ہیں اور ان کا کوئی حصہ قرابت رسول اللہﷺ کی وجہ سے آپ کی زندگی میں اور وفات کے بعد کسی طور پر واجب نہیں ۔ اب پچھلے دومذاہب میں سے ایک ثابت ہو گا پس اب ان کے قول کی طرف ہم غور کرتے ہیں کہ جو یہ کہتے ہیں کہ یہ حصہ جناب رسول اللہﷺ کی وفات کےبعد خلیفہ کی طرف منتقل ہو جائے گا ۔ اس کی وجہ تلاش کی جو کہ مل گئی ۔ مال غنیمت کے سلسلہ میں آپ کو یہ خصوصیت حاسل تھی کہ منتخب شئی اور خمس کا خمس اور اس کے ساتھ ساتھ غنیمت ایک عام مسلمان کو جو حصہ ملتا تھا وہ بھی آپ کا الگ رکھا جاتا تھا ۔ پھر دوبارہ غور سے معلومہو اکہ اس بات پر تو تمام کا اتفاق ہے کہ منتخب حصہ تو آپ کے بعد کسی کونہ ملے گا وہ خصوصیت رسول اللہﷺ ہے اور اس میں جناب رسول اللہﷺ کا حکم دوسرے خلفاء کے خلاف ہے اس سے یہ بھی ثابت ہو گیا کہ آپ کا حکم غنیمت کے سلسلہ میں مختلف ہے پس اس سے ثابت ہوا کہ آپ کی قرابت کا حکم بھی بعد والے حکمرانوں کی قرابت سے مختلف ہے پس ایک قول ثابت ہوا ۔ ثابت قول یہ ہے ۔ ہم نے اس سلسلہ میں غور کیا کہ اللہ تعالی نے فرمایا "واعلمو ا انما غنمتم من شئی فان للہ خمسہ وللرسول والذی القربی والیتامی والمساکین وابن السبیل "(الانفال 41)پس جناب رسول اللہ ﷺ کا حصہ زندگی میں جاری رہے گا اور وفات کے بعد سے منقطع ہو گیا اور یتامی اور مساکین اور مسافروں کا حصہ وفات رسول اللہﷺ کے بعد بھی اسی طرح جاری رہے گا ۔ ذوی القربی کا حصہ وفات رسول اللہ ﷺ کے بعد بھی اس طرح قائم رہے گا جس طرح آپ کی حیات مبارکہ میں تھا ۔ ذوی القربی کا حصہ آپ کی وفات کے بعد منقطع ہو گیا اور اللہ تعالی نے تمام قرابت رسول اللہﷺ کو ایک کلمہ میں اکٹھا ذکر کر دیا اور وہ " ولذی القربی "(الحشر :7) ان میں سے کسی کو چھوڑ کر دوسرے کو مخصوص نہیں فرمایا ۔ پھر جناب نبی اکرم ﷺ نے اس کی تقسیم فرمائی اوار بنو ہاشم اور بنو مطلب کو خاص کر کے عنایت فرمایا ۔ دوسرے دنوں میں بنی امیہ ۔ بنی نو فلکو محروم رکھا حالانکہ وہ گنے چنے افراد تھے اور جن کو دیا ان کو بلا تفریق مالدار اور محتاج ہر ایک کو دیا اور جن کو محروم کیا ان کے فقراء کو بھی نہیں دیا ۔ اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ آپ ﷺ کو اس سلسلہ میں اختیار تھا کہ اس کو اپنے قرابت والوں میں سے جس کے لئے چاہیں مقرر فرما دیں ۔ اس سے اس کا حکم بھی اس حصے کی طرح بن گیا جس کو آپ مال غنیمت میں سے اپنے لئے منتخب فرماتے تھے ۔ پس جس طرح وہ ذات مبارکہ سے مخصوص حصہ وفات سے منقطع ہو گیا ۔بعد والےخلیفہ کو درست نہیں ۔ یہ حصہ ذوی القربی جس کو دینے میں آپ کو مکمل اختیا ر تھا ۔ وہ بھی آپ کی وفات اور کسی کو دینا ضروری نہ ہو گا ۔ امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف ، محمد رحمتہ اللہ علیہ کا یہی قول ہے ۔

جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← علي بن شيبة البغداديان ← محمد بن بحر بن مطر

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5096

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 8 باب النفل بعد الفراغ من قتال العدو وإحراز الغنيمة ) · حديث 5097

4821 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا أبو عاصم عن ثور بن يزيد عن سليمان بن موسى عن زياد بن جارية عن حبيب بن مسلمة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم نفل في بدأته الربع وفي رجعته الثلث قال أبو جعفر فذهب قوم إلى أن الإمام له أن ينفل من الغنيمة ما أحب بعد إحرازه إياها قبل أن يقسمها كما كان له قبل ذلك واحتجوا في ذلك بهذا الحديث وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا ليس للإمام أن ينفل بعد إحراز الغنيمة إلا من الخمس فأما من غير الخمس فلا لأن ذلك قد ملكته المقاتلة فلا سبيل للإمام عليه وقالوا قد يحتمل أن يكون ما كان النبي صلى الله عليه و سلم ينفله في الرجعة هو ثلث الخمس بعد الربع الذي نفله كان في البدأة فلا يخرج مما قلنا فقال لهم الآخرون إن الحديث إنما جاء أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان ينفل في البدأة الربع وفي الرجعة الثلث وكما كان الربع الذي كان ينفله في البدأة هو الربع قبل الخمس فكذلك الثلث الذي ينفله في الرجعة هو الثلث أيضا قبل الخمس وإلا لم يكن لذكر الثلث معنى قيل لهم بل له معنى صحيح وذلك أن المذكور من نفله في البدأة هو الربع مما يجوز له النفل منه فكذلك نفله في الرجعة هو الثلث مما يجوز له النفل منه وهو الخمس وقال أهل المقالة الأولى فقد روى حديث حبيب هذا بلفظ يدل على ما قلنا فذكروا ما

زیاد بن جاریہ نے حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہﷺ شروع میں چوتھا حصہ اور واپسی پر تیسرا حصہ لیتے تھے ۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ علماء کی ایک جماعت کی رائے یہ ہے کہ امام کو مال غنیمت جمع کرنے کے بعد اور تقسیم سے پہلے جس قدر چاہے لینے کا حق ہے جس طرح کہ اس سے پہلے لینے کا حق حاصل ہے ۔انہوں نے مندرجہ بالا روایت سے استدلال کیا ہے ۔ دوسروں نے کہا امام کو مال غنیمت جمع کرنے کے بعد اس میں سے صرف پانچواں حصہ لینے کا اختیار ہے ۔ اس کے علاوہ وہ نہیں لے سکتا کیونکہ یہ مال مجاہدین کی ملکیت ہے ۔ فلہذا امام کا اس میں کوئی دخل نہیں ۔ فریق اول کے استدلال کا جواب یہ ہے کہ کہا جائے گا کہ مذکورہ روایت میں جو مذکور ہے اس میں احتمال یہ ہے کہ آپ ﷺ جو واپسی پرلیتے تھے وہ پانچویں حصہ کا تہائی ہو اور شروع میں چوتھائی حصہ لیتے ہوں اور یہ بھی ہمارے اس قول میں داخل ہے ان کو جواب میں کہا جائے گا کہ حدیث میں تو واضح طور پر تیسرا حصہ واپسی پر اور چوتھا حصہ شروع میں لینے کا ذکر وارد ہے اور ابتدا ء میںآپ جو لیتے تھے وہ چوتھا حصہ ہوتا اور وہ خمس سے پہلےہوتا اس طرح واپسی پر تیسرا حصہ لیتے وہ خمس سے پہلے ہوتا ۔ ورنہ تہائی کے ذکر کا کوئی مفہوم نہیں ۔ فریق ثانی کا کہنا ہے کہ اس روایت کا یہ مفہوم نہیں بلکہ اس کا درست مطلب یہ ہے کہ ابتداء میں جس چوتھے کا ذکر ہے جو اس مال میں سے تھا جس کو آپ کے لئے لینا جائز تھا اور وہ خمس تھا اور اسی طرح تیسرے سے بھی اسی مال کا ثلث مراد ہے جس کا لینا آپ کے لئے درست تھا او ر وہ خمس تھا ۔ آپ کی تاویل تو تب چل سکتی ہے جبکہ یہ روایت انہی الفاظ سے ہو جو اوپر مکور ہوئی ۔ حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کی روایت ان الفاظ سے بھی مذکور ہے جو ہمارے استدلال کی موئد ہے ۔ روایت ملاحظہ ہو ۔

حَبِيبِ بْنِ مَسْلَمَةَ ← زِيَادِ بْنِ جَارِيَةَ ← سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، ← ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5097

chevron_left Previous
1…101112…33
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter