شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 6 باب الرجل يقتل قتيلا في دار الحرب هل يكون له سلبه أم لا ) · حديث 5086
4810 - حدثنا يونس وربيع المؤذن قالا ثنا بشر بن بكر قال حدثني الأوزاعي قال أخبرني الزهري عن القاسم بن محمد عن بن عباس رضي الله عنهما قال كنت جالسا عنده فأقبل رجل من أهل العراق فسأله عن السلب فقال السلب من النفل وفي النفل الخمس فهذا بن عباس رضي الله عنهما قد جعل في السلب الخمس وجعله من الأنفال وقد كان علم من رسول الله صلى الله عليه و سلم ما قد ذكرناه في أول هذا الباب من تسليمه إلى الزبير سلب القتيل الذي كان قتله فدل ذلك أن ما تقدم من رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم بدر لم يكن عند بن عباس رضي الله عنهما منسوخا وأن ما قضى به من سلب القتيل الذي قتله الزبير إنما كان يقول كان قد تقدم منه أو لمعنى غير ذلك فهذا حكم هذا الباب من طريق تصحيح معاني الآثار وأما وجه النظر في ذلك فإنا قد رأينا الإمام لو بعث سرية وهو في دار الحرب وتخلف هو وسائر العسكر عن المضي معها فغنمت تلك السرية غنيمة كانت تلك الغنيمة بينهم وبين سائر أهل العسكر وإن لم يكونوا تولوا معهم قتالا ولا تكون هذه السرية أولى بما غنمت من سائر أهل العسكر وإن كانت قاتلت حتى كان عن قتالها ما غنمت ولو كان الإمام نفل تلك السرية لما بعثها الخمس مما غنمت كان ذلك لها على ما نفلها إياه الإمام وكان ما بقي مما غنمت بينها وبين سائر أهل العسكر فكانت السرية المبعوثة لا تستحق مما غنمت دون سائر أهل العسكر إلا ما خصها به الإمام دونهم فالنظر على ذلك أن يكون كذلك كل من كان من أهل العسكر في دار الحرب لا يستحق أحد منهم شيئا مما تولى أخذه من أسلاب القتلى وغيرها إلا كما يستحق منه سائر أهل العسكر إلا أن يكون الإمام نفله من ذلك شيئا فيكون ذلك له بتنفيل الإمام لا بغير ذلك فهذا هو النظر في هذا الباب أيضا وهو قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمة الله عليهم أجمعين وقد
زہری نے قاسم بن محمد سے انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ امیں ان کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک عراقی آیا اور اس نے سامان مقتول کے متعلق پوچھا ۔ تو انہوں نے فرمایا اس کا سامان مال غنیمت ہے اور مال غنیمت میں خمس ہے یہ ابن عباس رضی اللہ عنہ ہیں جو سامان کے متعلق خمس کا حکم لگا رہے ہیں اور اس کے سامان کو مال غنیمت قرار دے رہے ہیں حالانکہ وہ جناب رسول اللہﷺ کے متعلق یہ جان چکے تھے کہ آپ ﷺ نے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کو اس مقتول کا سامان عنایت فرمایا جس کو انہوں نے قتل کیا تھا ۔ اس سے یہ دلالت مل گئی کہ جناب رسول اللہﷺ نے بدر کے دن جو کچھ کیا وہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کے ہاں منسوخ نہ تھا اور جس مقتول کو زبیر رضی اللہ عنہ نے قتل کیا تھا اس کا سامان ان کو اس بات کے پیش نظر دیا گیا جو ہم نے ذکر کیا یا اس کا کچھ اور مطلب تھا ۔ معانی آثار کو درست کرنے کا یہی طریقہ ہے ۔ قیاس کے لحاظ سے اس کی وضاحت اس طرح ہے کہ اگر امام کوئی لشکر روانہ کرے اور وہ لشکر دارلحرب میں ہو اور امام اور بقیہ لشکر اس چھوٹے لشکر کے ساتھ شریک نہ ہو ۔ پھر وہ لشکر مال غنیمت لے آئیں تو یہ غنیمت انے اور باقی لشکر کے مابین تقسیم ہو گی ۔ خواہ وہ لڑائی میں ان کے ساتھ شریک نہ تھے اور یہ چھوٹا لشکر اس مال غنیمت کا دوسروں سے زیادہ حقدار نہ ہو گا اگرچہ جنگ فقط انہی نے لڑی ہے اور ان کی وجہ سے مال غنیمت ملا ہے اور اگر امام اس لشکر کو روانہ کرتے وقت غنیمت میں سے پانچواں حصہ ان کے لئے مقرر کر دے تو ان کو وہ ملے گا جو امام نے ان کے لئے مقرر کیا اور باقی مال ان کےاور باقی لشکر کے درمیان تقسیم ہو گا جو اس نے مقتول افراد کے سامان وغیرہ سے حاصل کیا بلکہ وہ بقی لشکر کی طرح استحقاق رکھتا ہے البتہ یہ امام اس کے لئے اس میں کچھ حصہ مقرر فرما دے فلہذا یہ اسے امام کے مقرر کرنے سے ملے گا نہ کہ کسی اور وجہ سے۔ اس باب میں قیاس کا تقاضہ یہی ہے ۔ حضرت امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف ، محمد رحمۃاللہ علیہ کا مذہب یہی ہے ۔
بْنِ عَبَّاسٍ ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← بِشْرُ بْنُ بَکْرٍ ← يونس وربيع المؤذن
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5086
