Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 6 باب الرجل يقتل قتيلا في دار الحرب هل يكون له سلبه أم لا ) · حديث 5074

4798 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا يوسف قال ثنا المبارك عن بن لهيعة عن عبيد الله بن أبي جعفر عن الأعرج عن أبي قتادة أنه قتل رجلا من المشركين فنفله رسول الله صلى الله عليه و سلم سلبه ودرعه فباعه بخمس أواق

اعرج نے حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ میں ایک مشرک کو قتل کیا جناب رسول اللہﷺ نے اس کی زرہ اور سامان مجھے غنیمت کے طور پر عنایت فرمائی میں نے اس کو پانچ اوقیہ چاندی کے بدلے فروخت کر دیا ۔

الْأَعْرَجِ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ← بن لهيعة ← المبارك ← يُوسُفُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5074

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 6 باب الرجل يقتل قتيلا في دار الحرب هل يكون له سلبه أم لا ) · حديث 5075

4799 - حدثنا أبو بكرة وابن مرزوق قالا ثنا أبو داود عن حماد بن سلمة عن إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة عن أنس أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال يوم حنين من قتل قتيلا فله سلبه فقتل أبو طلحة يومئذ عشرين رجلا فأخذ أسلابهم

اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہﷺ نے حنین کے دن فرمایا ۔ جس نے کسی مشرک کو قتل کیا تو اسے اس کا سامان ملے گا ۔ حضرت ابو طلحہ نے اس دن بیس مشرکوں کو قتل کیا اور ان کا سامان حاصل کیا ۔

أَنَسٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أبو بكرة وابن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5075

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 6 باب الرجل يقتل قتيلا في دار الحرب هل يكون له سلبه أم لا ) · حديث 5076

4800 - حدثنا يزيد بن منان قال ثنا عمر بن يونس قال ثنا عكرمة بن عمار قال حدثني إياس بن سلمة قال حدثني سلمة بن الأكوع قال غزونا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم هوازن فقتلت رجلا منهم ثم جئت بجمله أقوده عليه رحله وسلاحه فاستقبلني رسول الله صلى الله عليه و سلم والناس معه فقال من قتل الرجل فقالوا بن الأكوع فقال له سلبه أجمع

ایاس بن سلمہ کہتے ہیں کہ مجھے حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم جناب رسول اللہﷺ کی معیت میں ہوازن سے لڑائی کی ۔ تو میں نے ان کے ایک آدمی کو قتل کیا ۔ پھر میں اس کے اونٹ کو کھینچ لایا اس پر اس کا کجاوہ اور اسلحہ بھی تھا جناب رسول اللہﷺ لو گوں کے ساتھ مجھے سامنے سے ملے اور فرمایا ۔ کس نے اس آدمی کو قتل کیا ہے تو لوگون نے کہا ابن اکوع تو آپؐ نے فرمایا اسے اس کا سامان ملے گا ۔

سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ← إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، ← يزيد بن منان

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5076

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 6 باب الرجل يقتل قتيلا في دار الحرب هل يكون له سلبه أم لا ) · حديث 5077

4801 - حدثنا فهد قال ثنا أبو نعيم قال ثنا أبو عميس عن بن الأكوع عن أبيه قال أتى رسول الله صلى الله عليه و سلم عين من المشركين وهو في سفر فجلس يتحدث عند أصحابه ثم أنسل فقال نبي الله اطلبوه فاقتلوه فسبقتهم إليه فقتلته وأخذت سلبه فنفلني إياه قال أبو جعفر فذهب قوم إلى أن كل من قتل قتيلا في دار الحرب فله سلبه وأحتجوا في ذلك بهذه الآثار وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا لا يكون السلب للقاتل إلا أن يكون الإمام قال من قتل قتيلا فله سلبه فإن كان قال ذلك ليحرض الناس على القتال في وقت يحتاج فيه إلى تحريضهم على ذلك فهو كما قال وإن لم يقل من ذلك شيئا فمن قتل قتيلا فسلبه غنيمة وحكمه حكم الغنائم وكان من الحجة لهم فيما احتج به عليهم أهل المقالة الأولى من الآثار التي رويناها أن قول خالد بن الوليد وعوف بن مالك قضى رسول الله صلى الله عليه و سلم بالسلب للقاتل فقد يجوز أن يكون ذلك لقول كان تقدم منه قبل ذلك جعل به سلب كل مقتول لمن قتله وكذلك ما ذكر فيه من هذه الآثار جعل رسول الله صلى الله عليه و سلم السلب للقاتل فقد يجوز أن يكون لهذا المعنى أيضا ومما يدل على أن السلب لا يجب للقاتل ما

ابن سلمہ بن اکوع نے اپنے والد سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ جناب رسول اللہﷺ کے پاس مشرکین کا ایک جاسوس آیا جبکہ آپؐ حالت سفر میں تھے وہ آپؐ کے صحابہ کرام کے پاس باتیں کرتا رہا پھر کھسک گیا تو جناب رسول اللہﷺ نے فرمایا اس کو تلاش کر کے قتل کر دو میں نے اس کو سب سے پہلے آلیا اور اس کو قتل کر دیا اور اس کے سامان کو لے لیا تو آپؐ نے وہ مجھے زائد دے دیا ۔بؑض علماء کا خیال یہ ہے کہ جس نے دارالحرم میں کسی کافر کو قتل کیا اس کو اس کا تمام سامان ملے گا اور انہوں نے مندرجہ بالا آثار سے دلیل پیش کی ہے ۔ مقتول کا سامان قاتل کو نہ ملے گا البتہ اگر امام اور کمانڈر اس کا اعلان کر دے تو پھر مل جائے گا اگر اس نے لوگوں کو قتال پر برانگیختہ کرنے کو کہا تو جس طرح اس نے اعلان کیا اسی طرح کیا جائے گا ۔ اگر ایسا اعلان نہ کیا ہو تو پھر سلب مال غنیمت ہو گا اور اس کا حکم عام غنائم جیسا ہو گا ۔ ان کی دیل گزشتہ روایات میں بھی موجود ہیں جن کو فریق اول نے اپنی دلیل میں پیش کیا کہ حضرت خالد بن ولید اور عوف بن مالک رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جناب رسول اللہﷺ نے سامان کا فیصلہ قاتل کے حق میں کیا ۔ عین ممکن ہے کہ آپ کا یہ فعل اس لئے ہو کہ آپ نے پہلے اعلان کر دیا تھا ہر قاتل کو مقتول کا سامان ملے گا اور ان آثار میں قاتلوں کو مقتول کا سامان اس بناء پر دیا گیا ہو۔ مقتول کا سامان قاتل کو دینا ضروری نہیں اس کی دلیل یہ روایت ہے ۔

أَبِيهِ ← بن الأكوع ← أَبُو عُمَيْسٍ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5077

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 6 باب الرجل يقتل قتيلا في دار الحرب هل يكون له سلبه أم لا ) · حديث 5078

4802 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا إبراهيم بن حمزة الزبيري قال ثنا يوسف بن ماجشون قال حدثني صالح بن إبراهيم عن أبيه عن عبد الرحمن بن عوف قال إني لقائم يوم بدر بين غلامين حديثة أسنانهما تمنيت لو أني بين أضلع منهما فغمزني أحدهما فقال يا عم أتعرف أبا جهل فقلت ما حاجتك إليه يا بن أخي قال أخبرت أنه يسب رسول الله صلى الله عليه و سلم والذي نفسي بيده لئن رأيته لا يفارق سوادي سواده حتى يموت الأعجل منا فعجبت لذلك فغمزني الآخر فقال مثلها فلم أنشب أن نظرت إلى أبي جهل يترجل في الناس فقلت ألا تريان هذا صاحبكم الذي تسألان عنه فابتدراه فضرباه بسيفيهما حتى قتلاه ثم أتيا رسول الله صلى الله عليه و سلم فأخبراه فقال أيكما قتله فقال كل واحد منهما أنا قتلته فقال أمسحتما سيفيكما قالا لا قال فنظر في السيفين فقال كلاكما قتله وقضى بسلبه لمعاذ بن عمرو بن الجموح والرجلان معاذ بن عمرو بن الجموح والآخر معاذ بن عفراء أفلا ترى أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قد قال لهما في هذا الحديث أنتما قتلتماه ثم قضى بالسلب لأحدهما دون الآخر ففي هذا دليل أن السلب لو كان واجبا للقاتل بقتله إياه لكان قد وجب سلبه لهما ولم يكن النبي صلى الله عليه و سلم ينتزعه من أحدهما فيدفعه إلى الآخر ألا ترى أن الإمام لو قال من قتل قتيلا فله سلبه فقتل رجلان قتيلا أن سلبه لهما نصفين وأنه ليس للإمام أن يحرمه أحدهما ويدفعه إلى الآخر لأن كل واحد منهما له فيه من الحق مثل ما لصاحبه وهما أولى به من الإمام فلما كان للنبي صلى الله عليه و سلم في سلب أبي جهل أن يجعله لأحد قاتليه دون الآخر دل ذلك أنه كان أولى به منهما لأنه لم يكن قال يومئذ من قتل قتيلا فله سلبه وقد

صالح بن ابراہیم نے اپنے والد سے انہوں نے عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ میں بدر کے روز دو نو عمر بچوں کے درمیان کھڑا تھا میں تمنا کر رہا تھاس کاش کہ میں دو مضبوط آدمیوں کے درمیان ہوتا ۔ ان میں سے ایک نے مجھے اشارہ کیا اور کہا اے چچا کیا آپ ابو جہل کو پہچانتے ہیں ؟ میں نے کہا اے بھتیجے تمہیں اس سے کیا کام ؟ اس نے کہا مجھے اچلاع ملی ہے کہ وہ جناب رسول اللہﷺ کو گالیاں دیتا ہے مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ۔ اگر میں دیکھ لوں تو میرا جسم اس کے جسم سے جدا نہ ہو گا یہاں تک کہ ہم میں سے جلدی کرنے والا مر نہ جائے گا ۔ مجھے اس کی بات پر تعجب ہوا ۔ پھر مجھے دوسرے نے اشارہ کیا اور اس جیسی بات کہی زیادہ نہ گزرنے پائی تھی کہ میری نظر ابو جہل پر پڑی وہ لوگوں کے درمیان ٹہل رہا تھا میں نے کہا کیا تم دونوں دیکھ رہے ہو یہی وہ شخص ہے جس کے متعلق تم مجھ سے پوچھ رہے تھے ۔ پس دونوں نے اس کی طرف جلدی کی اور اپنی تلواروں سے اسے قتل کر دیا پھر دونوں جناب رسول اللہﷺ کی خدمت میں آئے اور اس بات کی اطلاع دی آپ نے استفسار فرمایا تم دونوں میں سے کس نے قتل کیا ؟ہر ایک نے کہا اس کو میں نے قتل کیا ۔ آپ نے فرمایا کیا تم دونوں نے اپنی تلواروں کو پونچھ ڈالا ہے ؟دونوں نے کہا نہیں آپ نے ان دونوں کی تولاروں کو ملاحظہ فرمایا اور ارشاد فرمایا دونوں نے اسے قتل کیا ہے اور اس کے سامان کا فیصلہ معاذ بن عمر و بن جموح کے حق میں فرمایا اور یہ دونوں جوان معاذ بن عمرو بن جموح اور دوسرا معاذ بن عفراء تھے ۔ ذرا غور کرو کہ جناب رسول اللہﷺ نے دونوں کو فرمایا کیا تم دونوں نے اسے قتل کیا ؟ پھر سامان کا فیصلہ ایک کے حق میں فرمایا ۔ اس میں اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ اگر مقتول کا سامان قاتل کو دینا لازم ہوتا تو پھر سامان دونوں کو ملتا اور یہ تو ہو نہیں سکتا کہ جناب رسول اللہﷺ نے ایک حصہ چھین کر دوسرے کو دے دیا ہو۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← أَبِيهِ ← صَالِحِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← يوسف بن ماجشون ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5078

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 6 باب الرجل يقتل قتيلا في دار الحرب هل يكون له سلبه أم لا ) · حديث 5079

4803 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا بن أبي مريم قال أخبرني بن أبي الزناد قال ثنا عبد الرحمن بن الحارث عن سليمان بن موسى عن مكحول عن أبي سلام عن أبي أمامة الباهلي عن عبادة بن الصامت رضي الله عنه قال خرج رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى بدر فلقي العدو فلما هزمهم الله تعالى أتبعتهم طائفة من المسلمين يقتلونهم وأحدقت طائفة برسول الله صلى الله عليه و سلم واستولت طائفة بالعسكر والنهب فلما نفى الله العدو ورجع الذين طلبوهم قالوا لنا النفل نحن طلبنا العدو وبنا نفاهم الله وهزمهم وقال الذين أحدقوا برسول الله صلى الله عليه و سلم ما أنتم بأحق منا بل هو لنا نحن أحدقنا برسول الله صلى الله عليه و سلم لا ينال منه العدو غرة وقال الذين استولوا على العسكر والنهب والله ما أنتم بأحق به منا نحن حويناه واستوليناه فأنزل الله تبارك وتعالى يسألونك عن الأنفال قل الأنفال لله والرسول إلى قوله إن كنتم مؤمنين فقسمه رسول الله صلى الله عليه و سلم بينهم عن فواق أفلا ترى أن رسول الله صلى الله عليه و سلم لم يفضل في ذلك الذين تولوا القتل على الآخرين فثبت بذلك أن سلب المقتول لا يجب للقاتل بقتله صاحبه إلا بجعل الإمام إياه له على ما فيه صلاح المسلمين من التحريض على قتال عدوهم وقد

حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ جناب رسول اللہﷺ بدر کی طرف نکلے پھر دشمن سے مقابلہ ہو گیا ۔ جب اللہ تعالی نے دشمن کو شکست دے دی تو مسلمانوں کی ایک جماعت نے کفار کا پیچھا کیا اور ایک جماعت جناب رسول اللہﷺ کی حفاظت کرنے اور ایک جماعت کفار کے لشکر پر غلبہ پانے اور مال غنیمت جمع کرنے میں مصرو ف تھی ۔ اس روایت سے معلوم ہو رہا ہے کہ جناب رسول اللہﷺ نے کسی کو فضیلت نہیں دی ، نہ ان لوگوں کو جنہوں نے مشرکین کو قتل کیا اور نہ دوسروں کو پس اس سے ثابت ہو گیا کہ مقتول کا سامان قاتل کو دینا لازم نہیں ہاں امام مقرر کر دے تو وہ لڑائی پر ابھارنت کے لئے ایسا کرنا درست ہے ۔

عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، ← أَبِي سَلَّامٍ ← مَكْحُولٌ ← سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، ← بن أبي الزناد ← بن اَبِیْ مَرْیَمَ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5079

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 6 باب الرجل يقتل قتيلا في دار الحرب هل يكون له سلبه أم لا ) · حديث 5080

4804 - حدثنا فهد قال ثنا حجاج بن المنهال قال ثنا حماد بن سلمة عن بديل بن ميسرة العقيلي عن عبد الله بن شقيق عن رجل من بلقين قال أتيت النبي صلى الله عليه و سلم وهو بوادي القرى فقلت يا رسول الله لمن المغنم قال لله سهم ولهؤلاء أربعة أسهم فقلت فهل أحد أحق بشيء من المغنم من أحد قال لا حتى السهم يأخذه أحدكم من جنبه فليس هو بأحق به من أخيه

بدیل بن میسرہ عقیلی نے عبداللہ بن شفیق سے مقام بلقین کے ایک آدمی سے نقل کیا کہ میں جناب رسول اللہﷺ کی خدمت میں آیا جبکہ آپؐ وادی القری میں تھے ۔ میں سوال کیا یا رسول اللہﷺ ! غنیمت کس کا حق ہے ؟ آپ نے فرمایا ایک حصہ اللہ تعالی کا اور چار حصے ان غازیوں کے ۔ میں نے پوچھا کیا کوئی شخص عنیمت میں سے کسی چیز کا دوسرے سے زیادہ حقدار ہے ؟آپ نے فرمایا نہیں ۔ یہاں تک کہ وہ تیر جو دشمن کے جسم سے قاتل نکالے اس کابھی وہ دوسرے مسلمان سے زیادہ حقدار نہیں ہے ۔

أتيت النبي صلى الله عليه و سلم وهو بوادي القرى فقلت ← رجل من بلقين ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، ← بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ الْعُقَيْلِيِّ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5080

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 6 باب الرجل يقتل قتيلا في دار الحرب هل يكون له سلبه أم لا ) · حديث 5081

4805 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا يوسف بن عدي قال ثنا عبد الله بن المبارك عن خالد الحذاء عن عبد الله بن شقيق عن رجل من بلقين عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله قال أبو جعفر أفلا ترى أن رسول الله صلى الله عليه و سلم جعل الغنيمة خمسا منها لله تعالى وأربعة أخماس لأصحابه وبين في ذلك فقال حتى لو أن أحدكم رمي بسهم في جنبه فنزعه لم يكن أحق به من أخيه فدل ذلك أن كل ما تولاه الرجل في القتال وكل ما تولى غيره ممن هو حاضر القتال أنهما فيه سواء فإن قال قائل إن الذي ذكرتموه من سلب أبي جهل ومما ذكرتموه في حديث عبادة إنما كان ذلك في يوم بدر قبل أن يجعل الأسلاب للقاتلين ثم جعل رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم حنين الأسلاب للقاتلين فقال من قتل قتيلا فله سلبه فنسخ ذلك ما تقدمه قيل له ما دل ما ذكرت على نسخ شيء مما تقدمه لأن ذلك القول الذي كان من رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم حنين قد يجوز أن يكون أراد به من قتل قتيلا في تلك الحرب لا غير ذلك كما قال يوم فتح مكة من ألقى سلاحه فهو آمن فلم يكن ذلك على كل من ألقى سلاحه في غير تلك الحرب ولما ثبت أن حكم ما كان قبل حنين أن الأسلاب لا تجب للقاتلين ثم حدث في يوم حنين هذا القول من رسول الله صلى الله عليه و سلم فاحتمل أن يكون ناسخا لما تقدم واحتمل أن لا يكون ناسخا له لم نجعله ناسخا له حتى نعلم ذلك يقينا ومما قد دل أيضا على أن ذلك القول ليس بناسخ لما كان قبله من الحكم أن يونس

خالد حذاء نے عبد اللہ بن شفیق سے انہوں نے مقام بلقین کی ایک آدمی سے بیان کیا انہوں نے جناب رسول اللہﷺ سے اسی طرح نقل کیا ۔ امام طحاوی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں :ان روایات میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے غنیمت کو پانچ حصوں میں تقسیم فرمایا پانچوں حصہ اللہ تعالی کا اور چار حصے غازیوں کے لئے اور اس میں واضح کر دیا کہ دشمن کے جسم سے کھینچے جانے والے تیر کا بھی دوسرےغازی سے زیادہ حقدار نہیں ۔ اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ لڑائی میں جو کچھ لڑنے والا خود پاتا ہے یس اس کے علاوہ دوسرا پا لیتا ہےجو لڑائی کے وقت موجود ہو تو حق میں دونوں برابر ہیں ۔ تم نے جو کچھ سامان ابو جہل اور حدیث عبادہ کے سلسلہ میں ذکر کیا یہ بدر کے دن کی بات ہے جبکہ قتال کرنے والوں کے لئے سامان کی بات مقرر نہ کی گئی تھی ۔ پھر جناب رسول اللہﷺ نے حنین کے روز سامان کو قاتلین کے لئے یہ اعلان کر کے مقرر کردیا (من قتیلا فلہہ سلبہہ)تو اس ارشاد سے پہلی بات منسوخ ہو گئی آپ نے جو روایت ذکر کی ہے اس میں ماسبق کے نسخ کی کوئی دلالت موجود نہیں ۔ کیونکہ حنین کے دن کا یہ ارشاد خاص اسی لڑائی سے متعلق ہو سکتا ہے ۔ عموم پر دلالت نہیں جیسا کہ فتح مکہ کے دن ارشاد فرمایا ( من القی سلامہہ فھو امن ) ہتھیار پھینک دینے والا مامون ہو گا ۔ حالانکہ یہ حکم فتح مکہ کت ساتھ خاص ہے اور کسی لڑائی کا نہیں ہے ۔ جب یہ بات ثابت ہو چکی کہ حنین سے پہلے حکم یہی تھا کہ سامان قاتلین کو دینا ضروری نہ تھا پھر حنین کے دن جناب رسول اللہﷺ کی طرف سے یہ نیا حکم صادر ہوا تو اس میں ایک احتمال تو یہ ہے کہ ماقبل کا ناسخ ہو اور یہ بھی احتمال ہے کہ ناسخ نہ ہو ۔ ہم اس کو اس وقت تک ناسخ قرار نہ دیں گے جب تک کہ یقین سے نہ جان لیں گے ۔یہ قول ماقبل کے حکم کا ناسخ نہیں کیونکہ یونس بن مالک کی روایت دلالت کرتی ہے سامان مقتول کا قاتل کو دینا واجب نہیں

أبو جعفر أفلا ترى ← رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله ← رجل من بلقين ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5081

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 6 باب الرجل يقتل قتيلا في دار الحرب هل يكون له سلبه أم لا ) · حديث 5082

4806 - حدثنا قال ثنا سفيان عن أيوب عن بن سيرين عن أنس بن مالك أن البراء بن مالك أخا أنس بن مالك بارز مرزبان الضرارة فطعنه طعنة فكسر القربوس وخلصت إليه فقتله فقوم سلبه ثلاثين ألفا فلما صلينا الصبح غدا علينا عمر فقال لأبي طلحة إنا كنا لا نخمس الأسلاب وإن سلب البراء قد بلغ مالا ولا أرانا إلا خامسيه فقومناه ثلاثين ألفا فدفعنا إلى عمر رضي الله عنه ستة آلاف فهذا عمر رضي الله عنه يقول إنا كنا لا نخمس الأسلاب ثم خمس سلب البراء فدل ذلك أنهم كانوا لا يخمسون ولهم أن يخمسوا وأن الأسلاب لا يجب للقاتلين دون أهل العسكر وقد حضر عمر رضي الله عنه ما كان من قول رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم حنين من قتل قتيلا فله سلبه فلم يكن ذلك عنده على كل من قتل قتيلا في تلك الحرب خاصة وقد كان أبو طلحة حضر ذلك أيضا بحنين وقضى له رسول الله صلى الله عليه و سلم بأسلاب القتلى الذين قتلهم فلم يكن ذلك عنده موجبا بخلاف ما أراد عمر رضي الله عنه في سلب المرزبان وقد كان أنس بن مالك رضي الله عنه حاضرا ذلك أيضا من رسول الله بحنين ومن عمر في يوم البراء فكان ذلك عنده على ما رأى عمر على خلاف ذلك فهؤلاء أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم ورضي الله عنهم لم يجعلوا قول النبي صلى الله عليه و سلم يوم حنين من قتل قتيلا فله سلبه على النسخ للحكم المتقدم لذلك في يوم بدر

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کے بھائی براء بن مالک رضی اللہ عنہ نے مززبان ضرارہ سے مقابلہ کیا ۔ انہوں نے اس کو ایک نیزہ مارا جو زین کو اگلی جانب کو توڑتا ہوا اس کو جا لگا جس سے وہ ہلاک ہو گیا اس سامان کی قیمت تیس ہزار لگی ۔ جب ہم صبح کی نماز پڑھ چکے تو ہمارے پاس حضرت عمر رضی اللہ عنہ آئے اور ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کو کہنے لگے ۔ ہم مقتول کے سامان کا خمس نہیں لیا کرتے مگر برائ کا سامان ایک بڑی مقدار مال کو پہنچ گیا ہے ہمارا خیلا ہے کہ اس کا خمس لیں ہم نے اس کی قیمت کا اندازہ تیس ہزار لگایا۔ پس ہم نے چھ ہزار حضرت عمر کو دے دیا ۔یہہ عمر رضی اللہ عنہ فرما رہے ہیں ہم سامان مقتول کا خمس نہیں لیتے پھر براء کے سامان سے خمس وصول کیا ۔ اس سے ثابت ہو گیا کہ سامان مقتول کا خمس نہ تھا اور وہ خمس لے بھی سکتے تھے کیونکہ وہ سامان قاتلین کو دینا لازم نہ تھا کہ اس میں کسی اور لشکری کو شریک نہ کیا جائے حالانکہ کہ صرف حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی حنین کے روز جب (من قتل قتیلا فلہہ سلبہہ ) فرمایا گیا موجود تھے ۔ تو ان کے نزدیک اس ارشاد کا مطلب یہ نہیں تھا کہ یہ فقط حنین کی لڑائی کےلئے ہے اور حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ خود حنین میں موجود تھے اور جناب رسول اللہﷺ نے ان کے لئے ان تمام مقتولین کے سامان کا فیصلہ فرمایا ۔ جو ان کے ہاتھ سے مارے گئے ۔ وہ سامان ان کے ہاں لازم نہ تھا ۔ بخلاف اس کے جس کا ارادہ فاروق رضی اللہ عنہ نے مرزبان کے سامان میں کیا اور غزہ حنین میں تو حضرت انس رضی اللہ عنہ خود موجود تھے ۔ جناب رسول اللہ ﷺ نے جو حنین کے روز فرمایا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے جو براء رضی اللہ عنہ کے دن پیش آیا وہ ان کے ہاں بھی اس ارشاد کے خلاف تھا ۔ پس ان اصحاب رسول اللہﷺ نے یوم حنین والے ارشاد (من قتل قتیلا فلہہ سلبہہ )کو یوم بدر والے حکم کا ناسخ قرار نہیں دیا ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← بن سِيرِينَ ← أَيُّوبَ، ← سُفْيَانَ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5082

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 6 باب الرجل يقتل قتيلا في دار الحرب هل يكون له سلبه أم لا ) · حديث 5083

4807 - وحدثنا بن أبي داود قال ثنا عبد الله بن يوسف قال ثنا يحيى بن حمزة قال حدثني عبد الرحمن بن ثابت بن ثوبان أن أباه أخبره أنه سأل مكحولا أيخمس السلب فقال حدثني أنس بن مالك أن البراء بن مالك بارز رجلا من عظماء فارس فقتله فأخذ البراء سلبه فكتب فيه إلى عمر فكتب عمر إلى الأمير أن أقبض إليك خمسه وأدفع إليه ما بقي فقبض الأمير خمسه فهذا مكحول قد ذهب أيضا في الأسلاب إلى ما ذكرنا وقد

عبدالرحمن بن ثابت بن ثوبان نے بیان کیا کہ ان کے والد نے ان کو بتلایا کہ انہوں نے مکحول سے پوچھا کیا مقتول کے سامان سے قاتل خمس ادا کرے گا تو انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی کہ براء بن مالک رضی اللہ عنہ نے ایک فارسی سردار کا مقابلہ کر کے اس کو قتل کر دیا ۔ حضرت براء نے اس کا سامان لے لیا تو اس سلسلہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو لکھا گیا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے امیر لشکر کی طرف لکھا کہ ان سے خمس لے لو اور بقیہ ان کے حوالے کر دو امیر نے خمس لے لیا ۔ عبدالرحمن بن ثابت بن ثوبان نے بیان کیا کہ ان کے والد نے ان کو بتلایا کہ انہوں نے مکحول سے پوچھا کیا مقتول کے سامان سے قاتل خمس ادا کرے گا تو انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے یہ روایت بیان کی کہ براء بن مالک رضی اللہ عنہ نے ایک فارسی سردار کا مقابلہ کر کے اس کو قتل کردیا ۔ حضرت براء رضی اللہ عنہ نے اس کا سامان لے لیا تو اس سلسلہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو لکھا گیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ امیر لشکر کی طرف لکھا کہ ان سے خمس لے لو اور بقییہ ان کے حوالے کر دو ۔

عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ ← يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5083

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 6 باب الرجل يقتل قتيلا في دار الحرب هل يكون له سلبه أم لا ) · حديث 5084

4808 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب أن مالكا حدثه عن بن شهاب عن القاسم بن محمد قال سمعت رجلا يسأل بن عباس عن الأنفال فقال بن عباس الفرس من النفل ثم عاد لمسألته فقال بن عباس ذلك أيضا ثم قال الرجل الأنفال التي قال الله في كتابه ما هي قال القاسم فلم يزل يحاله حتى كاد يخرجه

زہری نے قاسم بن محمد سے نقل کیا کہ میں نے ایک آدمی سے سنا جو ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مال غنیمت کے متعلق پوچھ رہا تھا ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا ۔ اس کا سامان اور گھوڑا وہ مال غنیمت میں سے ہے اس نے پھر سوال دہرایا تو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے پھر بھی یہی جواب دیا آدمی نے پھر کہا وہ مال غنیمت جس کے متعلق اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں فرمایا ۔ اس کی حقیقت کیا ہے ؟ قاسم کہنے لگے وہ سوال کو بار بار دہراتا رہا یہاں تک کہ قریب تھا کہ وہ اس کو باہر نکال دیں ۔

القاسم فلم يزل يحاله حتى كاد يخرجه ← الله في كتابه ما هي ← الرجل الأنفال التي ← بن عباس ذلك أيضا ثم ← بن عباس الفرس من النفل ثم عاد لمسألته ← الأَنْفَالِ} ← رجلا يسأل بن عباس ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← بن شِهَابٍ ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5084

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 6 باب الرجل يقتل قتيلا في دار الحرب هل يكون له سلبه أم لا ) · حديث 5085

4809 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو عامر قال ثنا مالك عن الزهري عن القاسم بن محمد أن رجلا سأل بن عباس عن الأنفال فقال السلب والفرس من الأنفال

زہری نے قاسم بن محمد سے بیان کیا کہ ایک آدمی نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مال غنیمت کے متعلق سوال کیا تو آپ نے فرمایا ۔ اس کا سامان اور گھوڑا مال غنیمت میں سے ہے ۔

الأنفال فقال السلب والفرس من الأنفال ← القاسم بن محمد أن رجلا سأل بن عباس ← الزُّهْرِيِّ، ← مَالِكٍ، ← أَبُو عَامِرٍ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5085

chevron_left Previous
1…91011…33
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter