شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 1 باب الإمام يريد قتال أهل الحرب هل عليه قبل ذلك أن يدعوهم أم لا ) · حديث 4966
4696 - حدثنا أبو بشر عبد الملك بن مروان الرقي قال ثنا محمد بن يوسف الفريابي قال ثنا سفيان بن سعيد الثوري عن علقمة بن مرثد عن بن بريدة عن أبيه قال كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا أمر رجلا على سرية قال له إذا لقيت عدوك من المشركين فأدعهم إلى إحدى ثلاث خصال أو خلال فأيتهن أجابوك إليها فاقبل منهم وكف عنهم أدعهم إلى الإسلام فإن أجابوك فأقبل منهم وكف عنهم ثم أدعهم إلى التحول من دارهم إلى دار المسلمين وأخبرهم أنهم إن فعلوا ذلك أن عليهم ما على المهاجرين ولهم ما لهم فإن هم أبوا فأخبرهم أنهم كأعراب المسلمين يجري عليهم حكم الله الذي يجري على المؤمنين ولا يكون لهم في الفيء والغنيمة شيء إلا أن يجاهدوا مع المسلمين فإن هم أبوا أن يدخلوا في الإسلام فسلهم إعطاء الجزية فإن أجابوا فاقبل منهم وكف عنهم فإن أبوا فاستعن بالله وقاتلهم قال علقمة فحدثت به مقاتل بن حيان فقال حدثني مسلم بن هيصم عن النعمان بن مقرن عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله
علقمہ بن مرثد نے ابن بریدہ سے انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہﷺ کسی چھوٹے دستے پر کسی کو امیر مقرر فرماتے جب تم اپنے مشرک دشمنوں کے مقابل ہو جاؤ تو ان کو تین باتوں میں سے ایک کی طرف بلاؤ( آپؐ نے لفظ خلال یا خصال فرمایا دونوں کا ایک ہی معنی ہے ) وہ ان میں سے جس بات کو تسلیم کر لیں تم ان کی طرف سے قبول کر لو اور ہاتھ روک لو ۔ان کو اسلام کی دعوت دو اگر وہ تسلیم کر لیں تو ان سے قبول کر لو اور ہاتھ روک لو ۔ پھر ان کو اپنے علاقہ سے مسلمانوں کے ملک کی طرف ہجرت کی دعوت دو اور ان کو بتلاؤ کہ اگر وہ ایسا کر لیں تو ان پر وہی لازم ہو گا جو مہاجرین پر ہے اور انہیں وہی کچھ (حقوق ) حاصل ہوں گے جو ان کو حاصل ہیں اور اگر وہاں سے ہجرت کرنے پر آمادہ نہ ہوں تو وہ دیہاتی مسلمانوں کی طرح ہوں گے ۔ ان پر اللہ تعالی کا وہ حکم جاری ہوگا جو عام مؤمنوں پر جاری ہوتا ہے ۔ مگر ان کے لئے غنیمت اور مال فئی میں کوئی حصہ نہ ہوگا البتہ اس صورت میں کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ جہاد میں شرکت کریں ۔ اگر وہ اسلام لانے سے انکار کریں تو انہیں جزیہ دینے کی دعوت دو اگر وہ اس کو تسلیم کر لیں تو ان کی یہ بات قبول کر لو اور ان سے ہاتھ روک لو ۔ اگر وہ اس سے انکار کر دیں تو اللہ تعالی سے مدد چاہو اور ان سے لڑو ۔ حضرت علقمہ کہتے ہیں کہ میں نے یہ بات مقاتل بن حیان سے بیان کی تو انہوں نے فرمایا کہ مجھ سے مسلم بن ہیصم نے نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے اس طرح نقل کی ہے ۔
أَبِيهِ ← بن بريدة ← عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ← سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّوْرِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ← أَبُو بِشْرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ الرَّقِّيُّ،
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4966
