Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 1 باب الإمام يريد قتال أهل الحرب هل عليه قبل ذلك أن يدعوهم أم لا ) · حديث 4966

4696 - حدثنا أبو بشر عبد الملك بن مروان الرقي قال ثنا محمد بن يوسف الفريابي قال ثنا سفيان بن سعيد الثوري عن علقمة بن مرثد عن بن بريدة عن أبيه قال كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا أمر رجلا على سرية قال له إذا لقيت عدوك من المشركين فأدعهم إلى إحدى ثلاث خصال أو خلال فأيتهن أجابوك إليها فاقبل منهم وكف عنهم أدعهم إلى الإسلام فإن أجابوك فأقبل منهم وكف عنهم ثم أدعهم إلى التحول من دارهم إلى دار المسلمين وأخبرهم أنهم إن فعلوا ذلك أن عليهم ما على المهاجرين ولهم ما لهم فإن هم أبوا فأخبرهم أنهم كأعراب المسلمين يجري عليهم حكم الله الذي يجري على المؤمنين ولا يكون لهم في الفيء والغنيمة شيء إلا أن يجاهدوا مع المسلمين فإن هم أبوا أن يدخلوا في الإسلام فسلهم إعطاء الجزية فإن أجابوا فاقبل منهم وكف عنهم فإن أبوا فاستعن بالله وقاتلهم قال علقمة فحدثت به مقاتل بن حيان فقال حدثني مسلم بن هيصم عن النعمان بن مقرن عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

علقمہ بن مرثد نے ابن بریدہ سے انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہﷺ کسی چھوٹے دستے پر کسی کو امیر مقرر فرماتے جب تم اپنے مشرک دشمنوں کے مقابل ہو جاؤ تو ان کو تین باتوں میں سے ایک کی طرف بلاؤ( آپؐ نے لفظ خلال یا خصال فرمایا دونوں کا ایک ہی معنی ہے ) وہ ان میں سے جس بات کو تسلیم کر لیں تم ان کی طرف سے قبول کر لو اور ہاتھ روک لو ۔ان کو اسلام کی دعوت دو اگر وہ تسلیم کر لیں تو ان سے قبول کر لو اور ہاتھ روک لو ۔ پھر ان کو اپنے علاقہ سے مسلمانوں کے ملک کی طرف ہجرت کی دعوت دو اور ان کو بتلاؤ کہ اگر وہ ایسا کر لیں تو ان پر وہی لازم ہو گا جو مہاجرین پر ہے اور انہیں وہی کچھ (حقوق ) حاصل ہوں گے جو ان کو حاصل ہیں اور اگر وہاں سے ہجرت کرنے پر آمادہ نہ ہوں تو وہ دیہاتی مسلمانوں کی طرح ہوں گے ۔ ان پر اللہ تعالی کا وہ حکم جاری ہوگا جو عام مؤمنوں پر جاری ہوتا ہے ۔ مگر ان کے لئے غنیمت اور مال فئی میں کوئی حصہ نہ ہوگا البتہ اس صورت میں کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ جہاد میں شرکت کریں ۔ اگر وہ اسلام لانے سے انکار کریں تو انہیں جزیہ دینے کی دعوت دو اگر وہ اس کو تسلیم کر لیں تو ان کی یہ بات قبول کر لو اور ان سے ہاتھ روک لو ۔ اگر وہ اس سے انکار کر دیں تو اللہ تعالی سے مدد چاہو اور ان سے لڑو ۔ حضرت علقمہ کہتے ہیں کہ میں نے یہ بات مقاتل بن حیان سے بیان کی تو انہوں نے فرمایا کہ مجھ سے مسلم بن ہیصم نے نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے اس طرح نقل کی ہے ۔

أَبِيهِ ← بن بريدة ← عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ← سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّوْرِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ← أَبُو بِشْرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ الرَّقِّيُّ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4966

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 1 باب الإمام يريد قتال أهل الحرب هل عليه قبل ذلك أن يدعوهم أم لا ) · حديث 4967

4697 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو حذيفة قال ثنا سفيان فذكر بإسناده مثله غير أنه لم يذكر حديث علقمة عن مقاتل عن مسلم بن هيصم

ابو حذیفہ سفیان سے اپنی کی اسناد کے ساتھ اس طرح روایت کی ہےالبتہ انہوں نے روایتمیں علقمہ کی روایت کو عن مقاتل عن مسلم بن ہیصم کا تذکر نہیں کیا ۔

مُسْلِمُ بْنُ هَيْصَمٍ ← مُقَاتِلٍ، ← سفيان فذكر بإسناده مثله غير أنه لم يذكر حديث علقمة ← أَبُو حُذَيْفَةَ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4967

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 1 باب الإمام يريد قتال أهل الحرب هل عليه قبل ذلك أن يدعوهم أم لا ) · حديث 4968

4698 - حدثنا فهد أبو صالح ح وحدثنا روح بن الفرج قال ثنا يحيى بن عبد الله بن بكير قال كل واحد منهما حدثني الليث بن سعد قال حدثني جرير بن حازم عن شعبة بن الحجاج عن علقمة بن مرثد الحضرمي فذكر بإسناده مثله

شعبہ بن حجاج نےعلقمہ بن مرثد حضری سے پھر انہوں نے اپنی سند سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔

علقمة بن مرثد الحضرمي فذكر بإسناده مثله ← شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← کُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا ← يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُكَيْرٍ، ← وحدثنا روح بن الفرج ← فهد أبو صالح

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4968

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 1 باب الإمام يريد قتال أهل الحرب هل عليه قبل ذلك أن يدعوهم أم لا ) · حديث 4969

4699 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال أنا يعقوب بن عبد الرحمن عن أبي حازم عن سهل بن سعد الساعدي أن النبي صلى الله عليه و سلم لما وجه علي بن أبي طالب إلى خيبر وأعطاه الراية فقال علي لرسول الله صلى الله عليه و سلم أقاتلهم حتى يكونوا مثلنا قال أنفذ على رسلك حتى تنزل بساحتهم ثم أدعهم إلى الإسلام وأخبرهم بما يجب عليهم من حق الله عز و جل فوالله لأن يهدي الله بك رجلا واحدا خير لك من أن تكون لك حمر النعم

ابو حازم ے سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب نبی اکرمﷺ نے جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خیبر کی طرف بھیجا اور انکو جھنڈا عنایت فرمایا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جناب رسول اللہﷺ کی خدمت میں عرض کیا میں ان سے لڑو ں یہاں تک کہ وہ ہماری طرح نہ ہو جائیں ۔ جناب نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ تم اپنے طریقے پر چلتے رہو یہاں تک کہ تم ان کے میدان میں جا اترو ۔ پھر ان کو اسلام کی دعوت دو اور ان کو بتلاؤ کہ ان پر اللہ تعالی کا کیا حق لازم ہے ۔ اللہ کی قسم ! اگر اللہ تعالی تمہاری وجہ سے کسی ایک آدمی کو بھی ہدایت نصیب کر دے تو تمہارے لئے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے ۔

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، ← أَبِي حَازِمٍ ← يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4969

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 1 باب الإمام يريد قتال أهل الحرب هل عليه قبل ذلك أن يدعوهم أم لا ) · حديث 4970

4700 - حدثنا محمد بن النعمان السفطي قال ثنا الحميدي قال ثنا سفيان عن عمرو بن ذر عن بن أخي أنس بن مالك عن عمه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم بعث علي بن أبي طالب إلى قومهم يقاتلهم ثم بعث في أثره يدعوه وقال له لا تأته من خلفه وأئته من بين يديه قال وأمر رسول الله صلى الله عليه و سلم عليا أن لا يقاتلهم حتى يدعوهم

عمر بن ذر نے انس بن مالک کے بھتیجے سے وہ اپنے چچا انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ایک قوم کی طرف جہاد کے لئے روانہ فرمایا پھر ان کے پیچھے کسی کو بلانے کے لئے بھیجا اور فرمایا کہ ان کے پیچھے کی بجائے ان کے سامنے کی طرف سے آنا ۔ راوی کہتے ہیں کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حکم فرمایا۔ کہ جب تک ان (کفار ) کو دعوت اسلام نہ دے لیں ان سے اس وقت تک لڑائی نہ کریں

عَمِّہٖ ← بن أخي أنس بن مالك ← عَمْرُو بْنُ ذَرٍّ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← محمد بن النعمان السفطي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4970

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 1 باب الإمام يريد قتال أهل الحرب هل عليه قبل ذلك أن يدعوهم أم لا ) · حديث 4971

4701 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا محمد بن كثير قال ثنا سفيان عن بن أبي نجيح عن أبيه عن بن عباس رضي الله عنهما قال ما قاتل رسول الله صلى الله عليه و سلم قوما حتى يدعوهم

ابن ابی نجیح نے اپنے والد سے انہوں نے ابن عطاس رضی اللہ عنہسے نقل کیا کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے کسی قوم کو دعوت اسلام دینے کے بغیر ان سے لڑائی نہیں کی ۔

ما قاتل رسول الله صلى الله عليه و سلم قوما حتى يدعوهم ← بْنِ عَبَّاسٍ ← أَبِيهِ ← بن أَبِي نَجِيحٍ، ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4971

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 1 باب الإمام يريد قتال أهل الحرب هل عليه قبل ذلك أن يدعوهم أم لا ) · حديث 4972

4702 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا عيسى بن إبراهيم قال ثنا عبد الواحد بن زياد قال ثنا الحجاج قال ثنا عبد الله بن أبي نجيح فذكر بإسناده مثله

حجاج نے عبداللہ بن نجیح سے پھر انہوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح نقل کی ہے

عبد الله بن أبي نجيح فذكر بإسناده مثله ← الْحَجَّاجِ، ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4972

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 1 باب الإمام يريد قتال أهل الحرب هل عليه قبل ذلك أن يدعوهم أم لا ) · حديث 4973

4703 - حدثنا صالح بن عبد الرحمن قال ثنا حجاج بن إبراهيم قال ثنا يحيى بن زكريا بن أبي زائدة قال ثنا حجاج عن بن أبي نجيح فذكر بإسناده مثله

حجاج نے ابن ابی نجیح سے پھر انہوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح نقل کی ہے۔

بن أبي نجيح فذكر بإسناده مثله ← حجاج، ← يَحْيَی بْنُ زَکَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ← حَجَّاجُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← صالح بن عبد الرحمن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4973

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 1 باب الإمام يريد قتال أهل الحرب هل عليه قبل ذلك أن يدعوهم أم لا ) · حديث 4974

4704 - حدثنا حسين بن نصر قال ثنا يوسف بن عدي قال ثنا حفص بن غياث عن حجاج فذكر بإسناده مثله قال أبو جعفر فذهب قوم إلى أن الإمام وأهل السرايا إذا أرادوا قتال العدو دعوهم قبل ذلك إلى مثل ما روينا عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في حديث بريدة واحتجوا في ذلك بهذه الآثار وقالوا إن قاتلهم الإمام أو أحد من أهل سراياه من غير هذا الدعاء فقد أساءوا في ذلك وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا لا بأس بقتالهم والغارة عليهم وإن لم يدعوا قبل ذلك واحتجوا في ذلك بما

حفص بن غیاث نے حجاج سے پھر انہوں نے اپنی سند سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔ امام طحاوی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں بعض علماء اس طرف گئے ہیں کہ امام یا امیر لشکر جب دشمن سے قتال کا ارادہ کریں گے توان کو اسلام کی طرف دعوت دیں جیسا کہ روایت بریدہ رضی اللہ عنہ میں نقل کیا گیا ہے اور انہوں نے ان روایات سے استدلال کیاہے اور انہوں نے استدلال میں یہ بات کہی ہے کہ اگر امام ان سے لڑائی کرے یا چھوٹےلشکر کا کوئی آدمی لڑائی کرے اور دعوت نہ دی ہو تو وہ گنہگار ٹھہریں گے ۔ فریق ثانی کا کہنا ہےکہ کفار سے بلا دعوت قتال میں کوئی حرج نہیں اور ان پر شب خون مارنے میں بھی کوئی حرج نہیں خواہ ان کی دعوت نہ دی گئی ہو انہوں نے مندرجہ ذیل روایات سے استدلال کیا ہے ۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4974

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 1 باب الإمام يريد قتال أهل الحرب هل عليه قبل ذلك أن يدعوهم أم لا ) · حديث 4975

4705 - حدثنا سليمان بن شعيب قال ثنا يحيى بن حسان قال أخبرنا عيسى بن يونس عن صالح بن أبي الأخضر عن الزهري عن عروة بن الزبير عن أسامة بن زيد قال قال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم أغر على ابني صباحا ثم حرق

عروہ بن زبیر نے حضرت اسامہبن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہےکہ جناب رسول ا للہﷺ نے مجھے فرمایامقام ابنی پر صبح کے وقت لوٹ ڈالو پھرجلا ڈالو۔

أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← صَالِحِ بْنِ أَبِي الأَخْضَرِ ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← يَحْيَی بْنُ حَسَّانَ ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4975

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 1 باب الإمام يريد قتال أهل الحرب هل عليه قبل ذلك أن يدعوهم أم لا ) · حديث 4976

4706 - حدثنا محمد بن الحجاج قال ثنا خالد بن عبد الرحمن ح وحدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا حجاج وعبيد الله بن محمد التيمي ح وحدثنا بن أبي داود قال ثنا أبو الوليد ح

اگلی حدیث کی ایک سند یہ بھی ہے ۔

أَبُو الْوَلِيدِ، ← وحدثنا بن أبي داود ← حجاج وعبيد الله بن محمد التيمي ← وحدثنا محمد بن خزيمة ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَجَّاجِ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4976

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 1 باب الإمام يريد قتال أهل الحرب هل عليه قبل ذلك أن يدعوهم أم لا ) · حديث 4977

وحدثنا بن مرزوق قال ثنا بشر بن عمر قالوا حدثنا حماد بن سلمة عن ثابت البناني عن أنس بن مالك قال كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يغير على العدو عند صلاة الصبح فيستمع فإن سمع أذانا أمسك وإلا أغار حدثنا بن مرزوق قال ثنا بشر بن عمر قال ثنا حماد بن سلمة عن الحجاج عن عمرو بن مرة عن زاذان عن جابر بن عبد الله عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

ثابت بنانی نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ اپنے دشمن پر صبح کے وقت حملہ آور ہوتے تھے اگر اذان کی آواز سنتے تو رک جاتے ورنہ حملہ کر دیتے ۔زاذان نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے انہوںنے جناب نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح روایت کی ہے ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← بِشْرُ بْنُ عُمَرَ؛ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4977

chevron_left Previous
1234…33
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter