شرح معنی الآثار الطحاوي · Book ‹ ( 21 باب غرة الجنين المحكوم بها فيه لمن هي ) · حديث 4965
4695 - حدثنا حسين بن نصر قال ثنا عبد الرحمن بن زياد قال ثنا شعبة عن منصور عن إبراهيم عن عبيد بن نضلة عن المغيرة بن شعبة أن رجلا كانت له امرأتان فضربت إحداهما الأخرى بعمود فسطاط أو بحجر فأسقطت فرفع ذلك إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال الذي يخاصم كيف يعقل أو كيف يودى من لا صاح فاستهل ولا شرب ولا أكل فقال النبي صلى الله عليه و سلم أسجع كسجع الأعراب فجعل رسول الله صلى الله عليه و سلم فيه بغرة فجعله على قومها قال أبو جعفر فذهب قوم إلى أن الغرة الواجبة في الجنين إنما تجب لأم الجنين لأن الجنين لم يعلم أنه كان حيا في وقت وقوع الضربة بأمه وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا بل تلك الغرة المحكوم بها للجنين ثم يرثها من كان يرثه لو كان حيا وكان من الحجة لهم في ذلك ما قد ذكرناه في هذه الآثار أن رسول الله صلى الله عليه و سلم لما قضى على المحكوم عليه بالغرة قال كيف يعقل من لا أكل ولا شرب ولا نطق فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم فيه غرة عبد أو أمة ولم يقل للذي سجع ذلك السجع إنما حكمت بهذا للجناية على المرأة لا في الجنين وقد دل على ذلك أيضا ما رويناه فيما تقدم في هذا الكتاب أن المضروبة ماتت بعد ذلك من الضربة فقضى رسول الله صلى الله عليه و سلم فيها بالدية مع قضائه بالغرة فلو كانت الغرة للمرأة المقتولة إذا لما قضى لها بالغرة ولكان حكمها حكم امرأة ضربتها امرأة فماتت من ضربها فعليها ديتها ولا يجب عليها للضربة أرش فلما حكم رسول الله صلى الله عليه و سلم مع دية المرأة بالغرة ثبت بذلك أن الغرة دية للجنين لا لها فهي موروثة عن الجنين كما يورث ماله لو كان حيا فمات اتباعا لما روي عن رسول الله صلى الله عليه و سلم وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمة الله عليهم أجمعين
عبید بن نضلہ نے مغیرہ شعبہ رضی اللہ عنہ سے رویات کی ہے کہ ایک آدمی کی دو عورتیں تھی ایک نے دوسری کو خیمے کا کھونٹا دے مارا یا پتھر مارا ۔ جس سے اس نے بچہ گرا دیا تو یہ معاملہ جناب نبی اکرمﷺ کی خدمت میں لایا گیا تو جھگڑا کرنے والے نے کہا اس کی کس طرح دیت ہو گی یا کس طرح اس کی دیت ادا کی جائےگی جو نہ چیخا ،نہ چلایا اور نہ ہی اس نے کھایا اور نہ پیا ۔ تو جناب نبی اکرم ﷺ نے فرمایا تو دیہاتیوں کی طرح تک بندی کرتا ہے ، پس جناب رسول اللہ ﷺ نے اس کے لیے ایک غلام یا لونڈی کا فیصلہ فرما کر اس مارنے والی عورت کی قوم پر دیت کو ڈالا ۔ امام طحاوی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہین کہ علماء کی ایک جماعت کا خیال یہ ہےکہ جنین کی وجہ سے جو غلام لازم ہو گا وہ جنین کی ماں کے لئے ہو گا معلوم نہیں کہ ماں کوق مارتے وقت جنین زندہ تھایا مردہ ۔جس غلام کا فیصلہ ہوا وہ جنین کا ہو گا پھر اس کے ورثاء وہیہوں گے جو بچے کے ورثاء ہیں یعنی زندہ ہونے کی صورت میں وارث بنتے ۔ فریق ثانی کی دلیل ان روایات کے ضمن میں پائی جاتی ہے جناب رسول اللہﷺ نے جب غلام دینے کا فیصلہ فرمایا تو اس نے کہا اس کیدیت کس طرح ہو گی جس نے نہ کھایا نہ پیا اور نہ کلام کیا تو جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس میں ایک غلا م یا لونڈی ہے۔ آپؐ نے اس تک بندی والے کہ یہ نہیں فرمایا کہ میں نے یہ حکم اس لئے دیا ہے کہ عورت کو نقصان پہنچایا گیا جنین کی وجہ سے یہ حکم نہیں ہے ۔اس بات پر وہ روایات دلالت کرتی ہیں جو اس کتاب میں پہلے مذکور ہوئیں کہضرب کے بعد مضروبہ عورت مرگئی ۔تو جناب رسول اللہ ﷺ نے غلام کےٖ فیصلہ کے ساتھ ساتھ دیت کا فیصلہ بھی فرمایا۔ اگربالفرض وہ غلام اس مقتولہ عورت کاہوتا تو آپؐ غلام کا فیصلہ نہ فرماتے اور اس کا حال اس عورت جیسا ہوتا جس کو دوسری عورت مارتےاور وہ اس کی ضرب سے مر جائے تو اس (قاتلہ )پر اس کی دیت لازم ہوتی ہے مارنے کی وجہ سے تاوان نہیں ہوا ۔ پس جب جناب رسول اللہ ﷺ نے عورت کی دیت کے باوجود غلام کے ساتھ فیصلہ فرمایا تو اس سے یہ ثابت ہوا کہ غلام اس جنین کی دیت ہے اس عورت کی نہیں ۔ وہ عورت اس بچے کےمال میں اس طرح وارث ہو گی جس طرح اس کے زندہ رہنے کی صورت میں بھی (مرجانے ) کی صورت میں ۔اس کی وارث ہوتی ہے ۔ اس میں جناب رسول اللہ ﷺ سے مروی ہے یہی قول امام ابو حنیفہ ، ابویوسف ، محمد رحمۃاللہ علیہ کا قول ہے ۔
عبيد بن نضلة ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← شُعْبَةُ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ ← حسين بن نصر
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4965
