شرح معنی الآثار الطحاوي · Book ‹ ( 18 باب القسامة هل تكون على ساكني الدار الموجود فيها القتيل أو على مالكها ) · حديث 4941
4671 - حدثنا فهد قال ثنا أبو نعيم قال ثنا سعيد بن عبيد الطائي عن بشير بن يسار أن رجلا من الأنصار يقال له سهل بن أبي حثمة أخبره أن نفرا من قومه إنطلقوا إلى خيبر فتفرقوا فيها فوجدوا أحدهم قتيلا فقالوا للذين وجدوه عندهم قتلتم صاحبنا قالوا والله ما قتلنا ولا علمنا قاتلا فانطلقوا إلى نبي الله صلى الله عليه و سلم فقالوا يا نبي الله أنطلقنا إلى خيبر فوجدنا أحدنا قتيلا فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم الكبر الكبر فقال لهم تأتون بالبينة على من قتل قالوا ما لنا بينة قال أفيحلفون لكم قالوا لا نرضى بأيمان اليهود فكره رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يبطل دمه فوداه بمائة من إبل الصدقة
حضرت بشیر بن یسار سے روایت ہے کہ ایک انصاری آدمی جس کو سہل بن حشمہ کہا جاتا ہے انہوں نے خبر دی کہ میری قوم کا ایک گروہ خیبر کی طرف گیا اور وہاں ایک دوسرے سے الگ ہو گئے ۔ پھر انہوں نے اپنے میں سے ایک آدمی کو وہیں مقتول پایا ۔ تو جن لوگوں کے ہا ں اسے پایا تھا ۔ انہیں کہنے لگے کہ تم نے ہمارے آدمی کو قتل کیا ہے انہوں نےکہا۔اللہ کی قسم ! ہم نے اس کو قتل نہیں کیا اور نہ ہم قاتل کو جانتے ہیں یہ حضرات جناب رسول اللہﷺ کی خدمت میں آئے اور عرض کیا ۔یا نبی اللہ ﷺ ! ہم خیبر کی طرف گئے تو ہم نے اپنے ایک ساتھی کو مقتول پایا ۔ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے بڑا ،بڑا یعنی بڑا بات کرے ۔ پھر آپ نے ان سے فرمایا قاتل کے خلاف گواہ لاؤ ۔ انہوں نے عرض کیا ہمارے پاس گواہ نہیں ۔ آپﷺ نے فرمایا اگر وہ تمہارے سامنے قسمیں اٹھائیں تو ( قبول کر لو گے ) انہوں نے عرضکیا ہم یہودیوں کی قسموں پر اعتبار نہیں کرتے ۔ تو جناب رسول اللہ ﷺ نے ان کےخون کا باطل ہونا نا پسند فرمایا اور صدقے کے اونٹوں میں سے ایک اونٹ سے دیت ادا فرمائی ۔
بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ، ← سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّائِيُّ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← فهد
Hadith 4941
