Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · Book ‹ ( 18 باب القسامة هل تكون على ساكني الدار الموجود فيها القتيل أو على مالكها ) · حديث 4941

4671 - حدثنا فهد قال ثنا أبو نعيم قال ثنا سعيد بن عبيد الطائي عن بشير بن يسار أن رجلا من الأنصار يقال له سهل بن أبي حثمة أخبره أن نفرا من قومه إنطلقوا إلى خيبر فتفرقوا فيها فوجدوا أحدهم قتيلا فقالوا للذين وجدوه عندهم قتلتم صاحبنا قالوا والله ما قتلنا ولا علمنا قاتلا فانطلقوا إلى نبي الله صلى الله عليه و سلم فقالوا يا نبي الله أنطلقنا إلى خيبر فوجدنا أحدنا قتيلا فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم الكبر الكبر فقال لهم تأتون بالبينة على من قتل قالوا ما لنا بينة قال أفيحلفون لكم قالوا لا نرضى بأيمان اليهود فكره رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يبطل دمه فوداه بمائة من إبل الصدقة

حضرت بشیر بن یسار سے روایت ہے کہ ایک انصاری آدمی جس کو سہل بن حشمہ کہا جاتا ہے انہوں نے خبر دی کہ میری قوم کا ایک گروہ خیبر کی طرف گیا اور وہاں ایک دوسرے سے الگ ہو گئے ۔ پھر انہوں نے اپنے میں سے ایک آدمی کو وہیں مقتول پایا ۔ تو جن لوگوں کے ہا ں اسے پایا تھا ۔ انہیں کہنے لگے کہ تم نے ہمارے آدمی کو قتل کیا ہے انہوں نےکہا۔اللہ کی قسم ! ہم نے اس کو قتل نہیں کیا اور نہ ہم قاتل کو جانتے ہیں یہ حضرات جناب رسول اللہﷺ کی خدمت میں آئے اور عرض کیا ۔یا نبی اللہ ﷺ ! ہم خیبر کی طرف گئے تو ہم نے اپنے ایک ساتھی کو مقتول پایا ۔ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے بڑا ،بڑا یعنی بڑا بات کرے ۔ پھر آپ نے ان سے فرمایا قاتل کے خلاف گواہ لاؤ ۔ انہوں نے عرض کیا ہمارے پاس گواہ نہیں ۔ آپﷺ نے فرمایا اگر وہ تمہارے سامنے قسمیں اٹھائیں تو ( قبول کر لو گے ) انہوں نے عرضکیا ہم یہودیوں کی قسموں پر اعتبار نہیں کرتے ۔ تو جناب رسول اللہ ﷺ نے ان کےخون کا باطل ہونا نا پسند فرمایا اور صدقے کے اونٹوں میں سے ایک اونٹ سے دیت ادا فرمائی ۔

بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ، ← سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّائِيُّ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← فهد

Hadith 4941

شرح معنی الآثار الطحاوي · Book ‹ ( 18 باب القسامة هل تكون على ساكني الدار الموجود فيها القتيل أو على مالكها ) · حديث 4942

4672 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب أن مالكا حدثه عن أبي ليلى بن عبد الله بن عبد الرحمن عن سهل بن أبي حثمة أنه أخبره رجال من كبراء قومه أن عبد الله بن سهل ومحيصة خرجا إلى خيبر من جهد أصابهم فأتى محيصة فأخبر أن عبد الله بن سهل قتل وطرح في فقير أو عين فأتى يهودا فقال أنتم والله قتلتموه فقالوا والله ما قتلناه فأقبل حتى قدم على قومه فذكر لهم ذلك ثم أقبل هو وأخوه حويصة وهو أكبر منه وعبد الرحمن بن سهل فذهب محيصة ليتكلم وهو الذي كان بخيبر فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم لمحيصة كبر كبر يريد السن فتكلم حويصة قبل ثم تكلم محيصة فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم إما أن يدوا صاحبكم وإما أن يؤذنوا بحرب فكتب إليهم رسول الله صلى الله عليه و سلم في ذلك فكتبوا إنا والله ما قتلناه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم لحويصة ومحيصة وعبد الرحمن أتحلفون وتستحقون دم صاحبكم قالوا لا قال أفتحلف لكم يهود قالوا ليسوا بمسلمين فوداه رسول الله صلى الله عليه و سلم من عنده فبعث إليهم بمائة ناقة حتى أدخلت عليهم الدار قال أبو يوسف رحمه الله فقد علمنا أن خيبر كانت للمسلمين لأنهم إفتتحوها وكانت اليهود عمالهم فيها فلما وجد فيها هذا القتيل جعل رسول الله صلى الله عليه و سلم القسامة فيه على اليهود السكان لا على المالكين قال فكذلك نقول كل قتيل وجد في دار أو أرض فيها ساكن مستأجر أو مستعير فالقسامة في ذلك والدية على الساكن لا على ربها المالك وكان أبو حنيفة ومحمد بن الحسن رحمهما الله يقولان الدية والقسامة في ذلك على المالك لا على الساكن وكان من حجتهما على أبي يوسف رحمه الله أن ذلك القتيل لم يذكر لنا في هذا الحديث أنه وجد بخيبر بعد ما إفتتحت أو قبل ذلك فقد يجوز أن يكون أصيب فيها بعد ما إفتتحت فيكون ذلك كما قال أبو يوسف رحمه الله ويجوز أن يكون أصيب في حال ما كانت صلحا بين النبي صلى الله عليه و سلم وبين أهلها فإن كان موجودا في حال ما كانت صلحا قبل أن تفتتح فلا حجة لأبي يوسف رحمه الله في هذا الحديث وفي حديث أبي ليلى بن عبد الله بن عبد الرحمن ما يدل أنها كانت يومئذ صلحا وذلك أنه فيه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال للأنصار رضي الله عنهم إما أن يدوا صاحبكم وإما أن يؤذنوا بحرب ولا يقال هذا إلا لمن كان في أمان وعهد في دار هي صلح بين أهلها وبين المسلمين وقد بين ذلك سليمان بن بلال في حديثه عن يحيى بن سعيد

سہل بن ابی حشمہ کہتے ہیں مجھےقوم کے بوڑھے لوگوں نے خبر دی کہ عبداللہ بن سہل اور محیصہ رضی اللہ عنہا تنگدستی کی وجہ سے خیبر کی طرف چلے گئے ۔محیصہ رضی اللہ عنہ( اپنے ٹھکانے پر) پر آئے تو ان کو اطلاع ملی کہ عبداللہ کو قتل کر کے ایک اجاڑ کنوئیں یا چشمے میں ڈال دیا گیا ہے ۔ محیصہ رضی اللہ عنہ یہود کے پاس آئے اور فرمایااللہ کی قسم ! تم نے اس کو قتل کیا ہے ۔ تو انہوں نے جواب دیا ۔ اللہ کی قسم ہم نے اس کو قتل نہیں کیا۔ محیصہ رضی اللہ عنہ وہاں سے چل کر اپنی قوم کے پاس (مدینہ میں ) آئے اور ان کو اس بات کا تذکرہ کیا پھر وہ اور اس کا بڑا بھائی حویصہ اور عبدالرحمن بن سہل رضی اللہ عنہم جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پہنچے ۔ امام ابو یوسف رحمۃاللہ علیہ کا قول ہے کہ یہ بات معلوم ہے کہ خیبر مسلمانوں کا تھا کیونکہ وہ اس کو فتح کر چکے تھے اور یہودی بطور عمال وہاں رہتے تھے ۔جب خیبر میں مقتول پایا گیا تو جناب رسول اللہﷺ نے وہاں کے رہنے والے یہود پر قسامت کو لازم کیا ۔ مالکوں پرلازم نہیں کیا ۔ پس یہی حکم ہر اس مقتول کا ہو گا جو کسی گھر میں پایا جائے یا کسی زمین میں پایا جائے اس میں رہائشی لوگ خواہ مستاجر ہون یا مستغیر ہوں اس کے متعلق قسامت کی یہی حکم ہو گا ۔ رہائشی کے ذمہ دیت لازم ہوگی مکان و زمین کے مالکپر نہ ہو گی ۔ فریق ثانی امام ابوحنیفہ رحمۃاللہ علیہ و محمد رحمۃاللہ علیہ کا قول یہ ہےکہ دیت و قسامت مالک پر ہوگی مکین پر نہ ہو گی ۔ امام ابو یوسف رحمۃاللہ علیہ کی دلیل کا جواب یہ ہے کہ وہ مقتول جس کا تذکرہ روایت میں پایا جاتا ہے اس کے متعلق اس روایت میں یہ مذکور نہیں کہ یہ واقعہ فتح خیبر کے بعد کا ہے یا پہلے ۔ یہ بھی امکان ہے فتح کے بعد یہ واقعہ پیش آیا ہو اس صورت میں تو امام ابو یوسف رحمۃاللہ علیہ کی دلیل بن سکتی ہے اور اگر یہ واقعہ فتح سے پہلے کا ہے تو پھر اس روایت میں امام ابو یوسف رحمۃاللہ علیہ کی کوئی دلیل نہیں ۔ امام ابو یوسف رحمۃاللہ علیہ کی طرف سے اس کا جواب یہ ہے کہ ابو لیلی بن عبداللہ بن عبد الرحمن کی روایت میں ایسی دلالت پائی جاتی ہے جس سے اس کا ایام صلح میں پیش آنا ثابت ہوتا ہے اور اس طرح کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے انصار کو فرمایا (اما ان یدو اصاحبکم واما ان یوذوابحرب )اور یہ کلمات اسی کو کہےجاتے ہیں جن کے ساتھ صلح ہو۔ اور سلیمان بن بلال نے یحیی بن سعید سے اس کو واضح طور پر نقل کیا ہے ۔

بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Hadith 4942

شرح معنی الآثار الطحاوي · Book ‹ ( 18 باب القسامة هل تكون على ساكني الدار الموجود فيها القتيل أو على مالكها ) · حديث 4943

4673 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا عبد الله بن مسلمة القعنبي قال ثنا سليمان بن بلال عن يحيى بن سعيد أن عبد الله بن سهل بن زيد ومحيصة بن مسعود بن زيد الأنصاري من بني حارثة خرجا إلى خيبر في زمن رسول الله صلى الله عليه و سلم وهي يومئذ صلح وأهلها يهود فتفرقا لحاجتهما فقتل عبد الله بن سهل فوجد في شربه مقتولا فدفنه صاحبه ثم أقبل إلى المدينة فمشى أخو المقتول عبد الرحمن بن سهل ومحيصة وحويصة فذكروا لرسول الله صلى الله عليه و سلم شأن عبد الله بن سهيل وكيف قتل [ ص 200 ] فزعم بشير بن يسار وهو يحدث عمن أدرك من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال لهم تحلفون خمسين يمينا وتستحقون دم قتيلكم أو صاحبكم فقالوا يا رسول الله ما شهدنا ولا حضرنا قال أفتبرئكم يهود بخمسين يمينا فقالوا يا رسول الله كيف نقبل أيمان قوم كفار فزعم بشير أن رسول الله صلى الله عليه و سلم عقله فبين لنا هذا الحديث أنها كانت في وقت وجود عبد الله بن سهل فيها قتيلا دار صلح ومهادنة فانتفى بذلك أن يلزم أبا حنيفة ومحمدا شيء مما أحتج به عليهما أبو يوسف رحمة الله عليه من هذا الحديث لأن فتح خيبر إنما كان بعد ذلك قال أبو يوسف رحمة الله عليه والنظر يدل على ما قلنا أيضا وذلك أنا رأينا الدار المستأجرة والمستعارة في يد مستأجرها ومستعيرها لا في يد ربها ألا ترى أنهما وربها لو أختلفا في ثوب وجد فيها أن القول فيه قولهما لا قول رب الدار فكذلك ما وجد فيها من القتلى فهم موجودون فيها وهي في يد مستأجرها ويد مستعيرها لا في يد ربها فما وجب بذلك من قسامة ودية فهي على من هي في يده لا على من ليست في يده وإن كان ملكها له فكان من حجة محمد بن الحسن رحمه الله في ذلك أن قال رأيت إجماعهم قد دل على أن القسامة تجب على المالك لا على الساكن وذلك أن رجلا وإمرأته لو كانت في أيديهما دار يسكنانها وهي للزوج فوجد فيها قتيل كانت القسامة والدية على عاقلة الزوج خاصة دون عاقلة المرأة وقد علمنا أن أيديهما عليهما وأن ما وجد فيها من ثياب فليس أحدهما أولى به من الآخر إلا لمعنى ليس من قبل الملك واليد في شيء فلو كانت القسامة يحكم بها على من الدار في يده لحكم بها على المرأة والرجل جميعا لأن الدار في أيديهما ولأنهما سكناها فلما كان ما يجب في ذلك على الزوج خاصة دون المرأة إذ هو المالك لها كانت القسامة والدية في كل المواضع الموجود فيها القتلى على مالكها لا على ساكنها

سلیمان بن بلال نے یحیی بن سیع سے نقل کیا کہ عبداللہ بن سہل بن زید اور محیصہ بن مسعود بن زید انصاری یہ قبیلہ بنی حارثہ سے تھےیہ جناب رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں خیبر کی طرف گئے اور یہ صلح کا زمانہ تھا ۔ وہان یہود ی رہتے تھے ۔ یہ دونوں اپنی ضروریات کی و جہ سے الگ الگ ہو گئے پھر عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ کو قتل کر دیا گیا اور وہ اپنے گھاٹ پر مقتول پائے گئے ان کے ساتھی نے ان کو دفن کر دیا اور پھر وہ مدینہ طیبہ آئے ان مقتول کے بھائی عبدالرحمن بن سہل اور حضرت محیصہ اور حویصہ رضی اللہ عنہم تینوں جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ کا واقعہ ذکر کیا اور بتایا کہ وہ کیسے قتل ہوئے بشیر بن یسار جو ان صحابہ کرام سے نقل کرتے ہیں جن سے ان کی ملزاقات ہوئی وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ان کو فرمایا کہ تم پچاس قسمیں اٹھاتے ہو اور اپنے مقتول کے خون کے حقدار ٹھہرتے ہو آپ نے قتیلکم فرمایاصاحبکم فرمایا ۔ انہون نے جواب دیا یا رسول اللہ ﷺ ہم نے نہ دیکھا اور نہ موجود تھے آپ نے فرمایا کیا تم سےپچاس قسمیں اٹھا کر یہودی بری الذمہ ہو سکتے ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا یا رسول اللہﷺ ہم کافروں کی قسموں کا کیسے اعتبار کر سکتے ہیں ؟ بشیر بن یسار راوی کا خیال یہ ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے اس کی دیت دی ۔ اس روایت نے ہمارے لئے وضاحت کر دی کہ جب عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ کے قتل کا واقعہ پیش آیا اس وقت خیبر فتح ہو چکا تھا اور یہ زمانہ صلح تھا اس سے فریق اول کی طرف سے امام ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ کے خلاف پیش آنے والا اعتراض رفع ہو گیا اور امام ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ قیاس کی تائید بھی ہمارے ساتھ ہے ۔ہم دیکھتے ہیں کہ جو گھر اجرت یا بطورادھار لیا گیا ہو وہ کرائی دار یا ادھار لینے والے کے پاس ہوتا ہے مالک کے پاس نہیں ہوتا ۔ کیا تم غور نہیں کرتے کہ اگر وہ دونوں اور مالک مکان کسی کپڑے میں جھگڑا کریں جو وہاں ملا ۔ تو ان دونوں کا قول معتبر ہو گا مالک مکان کی بات نہ مانی جائے گی اسی طرح جو مقتول وہاں پائے جائیں گے اور وہ گھر کرایہ دار یا ادھار والے کے قبضہ میں ہو مالک کے قبضہ میں نہ ہو تو اب جو قسم یا دیت لازم ہو گی وہ ان پر ہو گی جن کے قبضہ میں مکان ہے اس پر نہیں کہ جس کا قبضہ نہیں اگرچہ وہ اس کے ملک میں ہے ۔ امام محمدرحمتہ اللہ علیہ نے اس سلسلہ میں دلیل دیتے ہوئے فرمایا کہ اس کے متعلق علماء کا اجماع ہے کہ قسم مالک پر واجب ہوتی ہے رہائش پذیر نہیں وہ اس طرح کہ اگر ایک مکان خاوند اور اس کی بیوی کے پاس ہو اور وہ مکان خاوند کا ہو پھر وہاں کوئی پقتول پایا جا ئے تو قسم اور دیت صرف خاوند کے رشتہ داروں پر ہو گی عورت کے رشتہ داروں پر نہیں ہو گی ۔حالانکہ کہ ہم جانتے ہیں کہ وہ مکان دونوں کے قبضہ میں ہے اور اگر وہاں کپڑا پایا جائے تو ا ن میں سے ایک دوسرے کی نسبت زیادا حقدار نہ مانا جائے گا ۔ البتہ یہ اپنے مقام پر ہے کہ جو چیزیں اس کے ملک اورقبضے میں ہو گی تو اس کا حقدار ہو گا ۔پس اگر قسم اس شخص پر ڈالی جاتی ہے جس کے قبضہ میں مکان ہے تو عورت اور مرد دونوں پر آتی کیونکہ مکان تو دونوں کے قبضہ میں ہے اور اس کے ساتھ دونوں وہاں رہائش پذیر ہیں تو جب اس صورت میں جو کچھ بھی لازم ہوتا ہے وہ صرف خاوند ہر لازم ہوتا ہے عورت پر نہیں کیونکہ وہی مالک ہے ۔ تو جہاں بھی مقتول پایا جائے قسم اور دیت مالک پر ہو گی وہاں کے رہائش پذیر لوگوں پر نہیں ۔

يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Hadith 4943

شرح معنی الآثار الطحاوي · Book ‹ ( 19 باب القسامة كيف هي قال أبو جعفر اختلف الناس في القتيل الموجود في محلة قوم كيف القسامة الواجبة فيه فقال ) · حديث 4944

4674 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال أخبرنا وهب بن جرير قال ثنا شعبة عن الحكم عن الحارث بن الأزمع أنه قال لعمر أما تدفع أموالنا أيماننا ولا أيماننا عن أموالنا قال لا وعقله

حارث بن ازمع نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو کہا کہ کیا ہمارے مال ہماری قسموں کو دار نہیں کرتے اور کیا ہماری قسمیں ہمارے مالوں کی وجہ سے دفع نہیں ہوتیں آپ نے فرمایا نہیں اور آپ نے ان پر دیت کو لازم کر دیا ۔

لا وعقله ← أموالنا ← لعمر أما تدفع أموالنا أيماننا ولا أيماننا ← الحارث بن الأزمع أنه ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Hadith 4944

شرح معنی الآثار الطحاوي · Book ‹ ( 19 باب القسامة كيف هي قال أبو جعفر اختلف الناس في القتيل الموجود في محلة قوم كيف القسامة الواجبة فيه فقال ) · حديث 4945

4675 - حدثنا فهد قال ثنا أبو غسان قال ثنا زهير بن معاوية قال ثنا أبو إسحاق عن الحارث بن الأزمع قال قتل قتيل بين وادعة وحي آخر والقتيل إلى وادعة أقرب فقال عمر لوادعة يحلف خمسون رجلا منك بالله ما قتلنا ولا نعلم قاتلا ثم أغرموا الدية فقال له الحارث نحلف وتغرمنا فقال نعم

حضرت حارث بن ازمع کہتے ہیں کہ بنو وداعہ اور ایک دوسرے قبیلے کے درمیان ایک شخص قتل ہو گیا وہ مقتول بنو وداعہ کے زیادہ قریب تھا تو حضرت عمررضی اللہ عنہ نے وداعہ قبیلہ کو کہا تم میں سے پچاس آدمی قسم اٹھائیں کہ ہم نے قتل نہیں کیا اور نہ ہم قاتل کو جانتے ہیں پھر تم دیت ادا کرو ۔ حارث نے کہا ہم قسم بھی کھائیں اور دیت بھی ادا کریں ؟آپ نے فرمایا ہاں ۔

الْحَارِثِ بْنِ الأَزْمَعِ ← اَبُوْ اِسْحَاقِ ← زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ← أبو غسان، ← فهد

Hadith 4945

شرح معنی الآثار الطحاوي · Book ‹ ( 19 باب القسامة كيف هي قال أبو جعفر اختلف الناس في القتيل الموجود في محلة قوم كيف القسامة الواجبة فيه فقال ) · حديث 4946

4676 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا يوسف بن عدي قال ثنا عثمان بن مطر عن أبي جرير عن الشعبي عن الحارث الوادعي قال أصابوا قتيلا بين قريتين فكتبوا في ذلك إلى عمر بن الخطاب فكتب عمر أن قيسوا بين القريتين فأيهما كان إليه أدنى فخذوا خمسين قسامة فيحلفون بالله ثم غرمهم الدية قال الحارث فكنت فيمن أقسم ثم غرمنا الدية فهذه القسامة التي حكم بها أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم وقد وافق ذلك ما قد رويناه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في غير هذا الموضع أنه قال لو يعطى الناس بدعواهم لأدعى ناس دماء رجال وأموالهم ولكن اليمين على المدعي عليه فسوى رسول الله صلى الله عليه و سلم في ذلك بين الأموال والدماء وحكم فيها بحكم واحد فجعل اليمين في ذلك كله على المدعي عليه فثبت بذلك أن معنى حديث سهل أيضا على ما قد تأولناه عليه وقد دل على ذلك أيضا ما قد ذكرناه في الباب الذي قبل هذا عن سعيد بن عبيد عن بشير بن يسار عن سهل بن أبي حثمة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم دعاهم بالبينة فلما ذكروا أن لا بينة لهم قال أفيحلفون لكم فدل ما ذكرنا أن ما كان من حكم رسول الله صلى الله عليه و سلم من ذلك هو هذا وكان ما زاد عليه مما في حديث يحيى بن سعيد وأبي ليلى بن عبد الله ليس على الحكم ولكن على المعنى الذي تأولناهما عليه ثم هذا الزهري قد علم بقضاء رسول الله صلى الله عليه و سلم بالقسامة فمما روي عنه في ذلك ما قد

حارث وداعی بیان کرتے ہیں کہ ایک مقتول لوگوں نے دو بستیوں کے درمیان پایا تو انہوں نے اس سلسلہ میں حضرت عمررضی اللہ عنہ کی طرف لکھا ۔ تو حضرت عمررضی اللہ عنہ نے لکھا کہ دونوں کے مابین فاصلہ کی پیمائش کرو جو ان میں سے قریب تر ہو اس میں سے پچاس آدمیوں سے قسم لو ۔ وہ اللہ تعالی کے نام کی قسم اٹھائیں پھر تاوان دیت ان سے وصول کرو ۔ یہ قسامت جس کے متعلق اصحاب رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ کیا یہ اس روایت کے موافق ہے جس کو ہم نے 4926میں نقل کیا کہ ( لو یعطی الناس بد عواھم لادعی ناس دماء رجال واموالھم تکن الیمین علی المدعا علیہ )تو اس میں جناب رسول اللہ ﷺ نے اموال و دماء میں برابری فرمائی ہے اور ان کا ایک ہی حکم دیا ہے ان دونوں میں قسم کو مدعی علیہ پر ہی ڈالا گیا ہے اس سے ثابت ہوا کہ حدیث سہل رضی اللہ عنہ کا معنی بھی ہی ہے جو ہم نے تاویل بیان کی ہے اور اس پر مزید دلالت و روایت بھی کر رہی ہے جس کو ہم نے بشرین یسار عن سہل بن ابی حشمہ رضی اللہ عنہ نقل کیا ہے جناب رسول اللہ ﷺ ان کو دلیل لانے کا حکم فرمایا جب انہوں نے دلیل سے اپنی عاجزی ظاہر کی ۔ تو آپ نے فرمایا کیا وہ تمہارے لئے قسمیں اٹھا دیں ؟مذکورہ باتیں دلالت کرتی ہیں کہ جناب رسول اللہﷺ کا حکم تو اس سلسلہ میں یہی ہت بقیہ یحیی بن سعید اور اب یعلی کی روایت میں اضافہ پایا جاتا ہے وہ فیصلہ نہیں لیکن ان کا مفہوم وہی ہے جو ہم نے بیان کیا ۔ پھر امام زہری رحمتہ اللہ علیہ کو جناب رسول اللہ ﷺ کے قسامت کے سلسلہ میں فیصلے کا علم تھا جیسا کہ اس روایت میں ہے ۔

عُمَرَ، ← أصابوا قتيلا بين قريتين فكتبوا في ذلك إلى عمر بن الخطاب ← الحارث الوادعي ← الشَّعْبِيِّ، ← أَبِي جَرِيرٍ، ← عثمان بن مطر ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Hadith 4946

شرح معنی الآثار الطحاوي · Book ‹ ( 19 باب القسامة كيف هي قال أبو جعفر اختلف الناس في القتيل الموجود في محلة قوم كيف القسامة الواجبة فيه فقال ) · حديث 4947

4677 - حدثنا يونس قال ثنا أيوب بن سويد عن الأوزاعي عن بن شهاب عن أبي سلمة وسليمان بن يسار عن أناس من الأنصار من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم أن القسامة كانت في الجاهلية فأقرها رسول الله صلى الله عليه و سلم على ما كانت عليه وقضى بها رسول الله صلى الله عليه و سلم بين أناس في قتيل أدعوه على اليهود

ابن شہاب نے ابوسلمہ اور سیلمان بن یسار سے انہوں نے انصار میں سے بعض اصحاب رسول اللہ ﷺ سے نقل کیا ہے کہ زمانہ جاہلیت میں قسامت کا رواج تھا چنانچہ جناب رسول اللہ ﷺ نے قسامت کا ہی فیصلہ اس مقتول کے متعلق فرمایا جس کا دعوی یہود کے خلاف تھا ۔

أَبِي سَلَمَةَ وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ← بن شِهَابٍ ← الْاَوْزَاعِیُّ ← اَیُّوْبُ بْنُ سُوَیْدٍ ← يُونُسَ

Hadith 4947

شرح معنی الآثار الطحاوي · Book ‹ ( 19 باب القسامة كيف هي قال أبو جعفر اختلف الناس في القتيل الموجود في محلة قوم كيف القسامة الواجبة فيه فقال ) · حديث 4948

4678 - حدثنا سليمان بن شعيب قال ثنا بشر بن بكر قال ثنا الأوزاعي قال ثنا الزهري قال ثنا أبو سلمة بن عبد الرحمن وسليمان بن يسار عن أناس من الأنصار من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله ثم قال الزهري في القسامة أيضا ما قد

زہری نے ابو سلمہ بن عبدالرحمن اور سیلمان بن یسار سے اور انہوں نے انصار کے ان لوگوں سے جنہوں نے صحبت رسول اللہﷺ کو پایا اسی طرح نقل کیا ہے ۔پھر زہری نے قسامت کے سلسلہ میں فرمایا ۔

أبو سلمة بن عبد الرحمن وسليمان بن يسار، ← الزُّهْرِيِّ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← بِشْرُ بْنُ بَکْرٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ

Hadith 4948

شرح معنی الآثار الطحاوي · Book ‹ ( 19 باب القسامة كيف هي قال أبو جعفر اختلف الناس في القتيل الموجود في محلة قوم كيف القسامة الواجبة فيه فقال ) · حديث 4949

4679 - حدثنا أبو بشر الرقي قال ثنا أبو معاوية الضرير عن بن أبي ذئب عن الزهري أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قضى بالقسامة على المدعي عليهم فدل ذلك على أن القسامة على المدعي عليهم لا على المدعين على ما بين الزهري في حديثه هذا وإنما كان أخذ القسامة عن أبي سلمة بن عبد الرحمن وسليمان بن يسار عن أناس من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم فكان هذا مما أخذه عنهم وقد وافق ذلك ما رويناه عن عمر رضي الله عنه مما فعله وحكم به بحضرة سائر أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم ورضي عنهم فلم ينكره عليه منهم منكر وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمة الله عليهم أجمعين

ابن ابی الذئب نے زہری رحمتہ اللہ علیہ سے نقل کیاکہ جناب رسول اللہ ﷺ نے مدعا علیہم پر قسامت کا فیصلہ فرمایا ۔قسامت مدعا علیہم کے ذمہ ہے مدعی پر نہیں جیسا کہ زہری کے اس قول سے معلوم ہو رہا ہے ۔ تو زہری نے ابو سلمہ بن عبدالرحمن اور سلیمان بن یسار سے اور انہوں نے اصحاب رسول اللہﷺ سے یہ حکم قسامت اخذ کیا اور یہ بات اس اثر فاروقی کے عین مطابق ہے جس کو انہوں نے کیا اور اس کے مطابق جناب رسول ا للہ ﷺ کے بہت سے اصحاب کے ہوتے ہوئے انہوں نے فیصلہ کیا اور ان کے سامنے کسی نے انکار نہیں کیا ۔یہی امام ابو حنیفہ ،ابو یوسف ،محمد رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے

الزُّهْرِيِّ، ← بن أَبِي ذِئْبٍ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ الضَّرِيرُ ← أبو بشر الرقي

Hadith 4949

شرح معنی الآثار الطحاوي · Book ‹ ( 20 باب ما أصابت البهائم في الليل والنهار ) · حديث 4950

4680 - حدثنا يونس قال ثنا أيوب بن سويد عن الأوزاعي عن الزهري عن حرام بن محيصة عن البراء بن عازب أن ناقة لرجل من الأنصار دخلت حائطا فأفسدت فيه فقضى النبي صلى الله عليه و سلم على أهل الحائط لحفظها بالنهار وعلى أهل المواشي ما أفسدت مواشيهم بالليل

حرام بن محیصہ نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک انصاری کی اونٹنی ایک احاطے میں داخل ہوئی اور اس سے اس میں نقصان کر دیا تو جناب رسول اللہ ﷺ نے باغ والون کے متعلق فیصلہ فرمایا کہ وہ دن کو اپنے باغ کی حفاظت کریں اور مویشی والے اس نقصان کا تاوان ادا کریں جو رات کے وقت ان کے جانور کر جائیں

حَرَامِ بْنِ مُحَيِّصَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← اَیُّوْبُ بْنُ سُوَیْدٍ ← يُونُسَ

Hadith 4950

شرح معنی الآثار الطحاوي · Book ‹ ( 20 باب ما أصابت البهائم في الليل والنهار ) · حديث 4951

4681 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب أن مالكا حدثه عن بن شهاب عن حرام بن سعد بن محيصة أن ناقة للبراء بن عازب دخلت حائطا لرجل فأفسدت فيه فقضى رسول الله صلى الله عليه و سلم أن على أهل الحوائط حفظها بالنهار وأن ما أفسدت المواشي بالليل ضمان على أهلها قال أبو جعفر فذهب قوم إلى هذه الآثار فقالوا ما أصابت البهائم نهارا فلا ضمان على أحد فيه وما أصابت ليلا ضمن أرباب تلك البهائم واحتجوا في ذلك بهذه الآثار وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا لا ضمان على أرباب المواشي فيما أصابت مواشيهم في الليل والنهار إذا كانت منفلتة واحتجوا في ذلك بما قد

حرام بن سعد بن محیصہ کہتے ہیں کہ براء عازب رضی اللہ عنہ کی اونٹنی ایک آدمی کے باغ میں رات کو داخل ہوئی اور اس نے اس میں نقصان کر دیا تو جناب رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ فرمایاباغ والے دن کو باغ کی حفاظت کریں اور رات کو جو مویشی نقصان کر جائیں اس ضمان مویشیوں کے مالکوں پر ہو گا ۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتےہیں کہ علماء کی ایک جماعت نے ان آثار کو اختیار کیا اور انہوں نے کہا کہ دن کے وقت مویشی جو نقصان کریں اس کا کسی پر ضمان نہ ہو گا اور جو نقصان وہ رات کو کریں تو ان جانوروں کے مالکوں پر ضمان آئے گا انہوں نے ان روایات سے استدلال کیا ہے ۔ دوسرے علماء کا موقف یہ ہے کہ مویشی مالکوں پر ضمان نہیں خواہ ان کے مویشی دن کو نقصان کریں یا رات کو جب وہ جانور کھلے چھوڑئے ہوئے ہوں انہوں نے مندرجہ ذیل روایات سے استدلال کیا ہے

بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Hadith 4951

شرح معنی الآثار الطحاوي · Book ‹ ( 20 باب ما أصابت البهائم في الليل والنهار ) · حديث 4952

4682 - حدثنا فهد قال ثنا الحضر بن محمد الحراني قال ثنا عباد بن عباد قال ثنا مجالد عن الشعبي عن جابر بن عبد الله قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم السائمة عقلها جبار والمعدن جبار

شعی نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا چرنے والے جانور کا تاوان معاف ہے اور کان گرنے سے جو لوگ مر جائیں ان کا تاوان معاف ہے

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← الشَّعْبِيِّ، ← مجالد ← عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ، ← الحضر بن محمد الحراني ← فهد

Hadith 4952

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter