Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 13 باب الرجل يقتل رجلا كيف يقتل ) · حديث 4915

4645 - حدثنا فهد قال ثنا يحيى بن عبد الحميد الحماني قال ثنا قيس عن بن أبي ليلى عن الحكم عن مقسم عن بن عباس قال لما قتل حمزة ومثل به قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لئن ظفرت بهم لأمثلن بسبعين رجلا منهم فأنزل الله عز و جل وإن عاقبتم فعاقبوا بمثل ما عوقبتم به ولئن صبرتم لهو خير للصابرين فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم بل نصبر

مقسم نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ حضرت حمزہ قتل ہو گئے اور ان کا مثلہ کر دیا گیا تو جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں ان کے ستر آدمیوں کا مثلہ کروں گا۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ و ان عاقبتم فعاقبوا بمثل ماعوقبتم بہ ولئن صبر تم لھو خیر للصاہرین " ( النحل 126) تو جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بلکہ ہم صبر کریں گے ۔

لما قتل حمزة ومثل به ← بْنِ عَبَّاسٍ ← مِقْسَمٍ، ← الْحَكَمِ ← بن أَبِي لَيْلَى ← قَيْسٍ ← يحيى بن عبد الحميد الحماني ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4915

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 13 باب الرجل يقتل رجلا كيف يقتل ) · حديث 4916

4646 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا الحجاج بن المنهال ح وحدثنا الحسن بن عبد الله بن منصور قال ثنا الهيثم بن جميل قالا ثنا صالح المري عن سليمان التيمي عن أبي عثمان النهدي عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم وقف على حمزة حين أستشهد فنظر إلى أمر لم ينظر قط إلى أمر أوجع لقلبه منه فقال يرحمك الله إن كنت لوصولا للرحم فعولا للخيرات ولولا حزن من بعدك لسرني أن أدعك حتى تحشر من أفواج شتى وأيم الله لأمثلن بسبعين منهم مكانك فنزل عليه جبرائيل عليه السلام والنبي صلى الله عليه و سلم واقف بعد بخواتيم سورة النحل وإن عاقبتم فعاقبوا بمثل ما عوقبتم به ولئن صبرتم لهو خير للصابرين إلى آخر السورة فصبر رسول الله صلى الله عليه و سلم وكفر عن يمينه فإنما نزلت هذه الآية في هذا المعنى لا في المعنى الذي ذكرت وقد روي عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه قال لا قود إلا بالسيف

ابو عثمان نہدی نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ شہادت کے بعد حضرت جس نے آپ کے قلب اطہر کو دکھی کر دیا تو آپ نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ تم پر رحمت فرمائے تم صلہ رحمی کرنے والے ، خوب بھلائی کے کام کرنے والے تھے اگر مجھے تمہارے بعد والوں کے غم کا خطرہ نہ ہوتا تو مجھے یہ بات اچھی لگی تھی کہ میں تمہیں چھوڑ دیتا یہاں تک کہ تمہارا حشر ( جانوروں کی ) مختلف افواج سے ہوتا اور اللہ کی قسم تمہارے بجائے ان میں سے میں ستر آدمیوں کا مثلہ کروں گا ۔ اسی وقت جبرائیل علیہ السلام آئے جبکہ آپ ابھی کھڑے تھے ۔ سورۃ نحل کی یہ اختتامی آیات لائے ۔ " وان عاقبتم فعاقبوا بمعل ماعوقبتم بہ ولئن صبرتم لھو خیر للصابرین " ( النحل : 126) تو آپ ﷺ نے صبر کیا اور قسم کا کفارہ ادا کیا۔ اس آیت کا تو یہ مفہوم ہے نہ کہ وہ جو آپ نے بیان فرمایا بلکہ جناب رسول اللہ ﷺ سے مروی ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ← سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، ← صالح المري ← الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ، ← وحدثنا الحسن بن عبد الله بن منصور ← الْحَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4916

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 13 باب الرجل يقتل رجلا كيف يقتل ) · حديث 4917

4647 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا أبو عاصم قال ثنا سفيان الثوري عن جابر عن أبي عازب عن النعمان قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لا قود إلا بالسيف فدل هذا الحديث أن القود لكل قتيل ما كان لا يكون إلا بالسيف وقد جاء عن رسول الله صلى الله عليه و سلم ما قد دل على ما ذكرنا أيضا

ابو عازب نے حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قصاص صرف تلوار سے ہے ۔ یہ روایت دلالت کرتی ہے کہ ہر مقتول کا قصاص تلوار سے ہوگا اور جناب رسول اللہ ﷺ سے اور بھی روایات آئی ہیں جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں جیسے یہ دو روایتیں ہیں ۔

النُّعْمَانِ ← أَبِي عَازِبٍ ← جَابِرٍ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← أَبُو عَاصِمٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4917

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 13 باب الرجل يقتل رجلا كيف يقتل ) · حديث 4918

4648 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا أسد قال ثنا سليمان بن حرب عن بن أبي أنيسة عن أبي الزبير عن جابر أن النبي صلى الله عليه و سلم أتي بجراح فأمرهم أن يستأنوا بها سنة

ابو الزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب نبی اکرم ﷺ کے پاس زخمی لائے گئے آپ نے حکم فرمایا کہ ان کے زخموں کے ٹھیک ہونے کا سال بھر انتظار کرو۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← بن أبي أنيسة ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← أسد ← ربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4918

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 13 باب الرجل يقتل رجلا كيف يقتل ) · حديث 4919

4649 - حدثنا روح بن الفرج قال ثنا مهدي بن جعفر قال ثنا عبد الله بن المبارك عن عنبسة بن سعيد عن الشعبي عن جابر عن النبي صلى الله عليه و سلم قال لا يستقاد من الجرح حتى يبرأ فلو كان يفعل بالجاني كما فعل كما قال أهل المقالة الأولى لم يكن للإستيناء معنى لأنه يجب على القاطع قطع يده إن كانت جنايته قطعا برأ من ذلك المجني عليه أو مات فلما ثبت الإستيناء لينظر ما يئول إليه الجناية ثبت بذلك أن ما يجب فيه القصاص هو ما يئول إليه الجناية لا غير ذلك فإن طعن طاعن في يحيى بن أبي أنيسة وأنكر علينا الاحتجاج بحديثه فإن علي بن المديني قد ذكر عن يحيى بن سعيد أنه أحب إليه في حديث الزهري من محمد بن إسحاق وقد

شعبی نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے نقل کیا کہ آپ ﷺ نے فرمایا زخم کا قصاص زخموں کے درست ہونے تک نہ لیا جائے ۔ اسی طرح قاتل کے ساتھ کرنا ضروری تھا جیسا اس نے مقتول کے ساتھ کیا تو پھر زخمیوں کو مہلت دینے کا کوئی معنی نہیں۔ کیونکہ ہاتھ کاٹنے والے پر اس کے ہاتھ کا کاٹنا ضروری ہے۔ اگر اس کا جرم ہاتھ کاٹنا ہے تو زخمی اس سے بری ہو یا مر جائے اس کا تو کچھ تعلق نہیں ۔ پس جب یہ بات ثابت ہو گئی کہ اس کو مہلت دی جائے تاکہ جنایت کا انجام معلوم ہو تو اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ قصاص اسی میں ہے جس پر جنایت انجام پذیر ہو گی ۔ کسی اور صورت میں نہ ہو گی ۔ آ پنے 4918 روایت پیش کی ہے ۔ اسی کا راوی یحییٰ بن ابی انیسہ مطعون ہے اس کی روایت سے استدلال درست نہیں۔

جَابِرٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← عَنْبَسَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← مَهْدِيُّ بْنُ جَعْفَرٍ، ← رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4919

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 13 باب الرجل يقتل رجلا كيف يقتل ) · حديث 4920

4650 - حدثنا إسماعيل بن يحيى المزني قال ثنا محمد بن إدريس الشافعي قال أخبرنا عبد الوهاب بن عبد المجيد الثقفي عن خالد الحذاء عن أبي قلابة عن أبي الأشعث عن شداد بن أوس قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم إن الله كتب الإحسان على كل شيء فإذا قتلتم فأحسنوا القتلة وإذا ذبحتم فأحسنوا الذبح وليحد أحدكم شفرته وليرح ذبيحته فأمر النبي صلى الله عليه و سلم الناس بأن يحسنوا القتلة وأن يريحوا ما أحل الله لهم ذبحه من الأنعام فما أحل لهم قتله من بني آدم فهو أحرى أن يفعل به ذلك فإن قال قائل لا يستأنى برء الجراح وخالف ما ذكرنا في ذلك من الآثار فكفى به جهلا في خلافه كل من تقدمه من العلماء وعلى ذلك فإنا نفسد قوله من طريق النظر وذلك أنا رأينا رجلا لو قطع يد رجل خطأ فبرأ منها وجبت عليه دية اليد ولو مات منها وجبت عليه دية النفس ولم يجب عليه في اليد شيء ودخل ما كان يجب في اليد فيما وجب في النفس فصار الجاني كمن قتل وليس كمن قطع وصارت اليد لا يجب لها حكم إلا والنفس قائمة ولا يجب لها حكم إذا كانت النفس تالفة فصار النظر على ذلك أن يكون كذلك إذا قطع يده عمدا فإن برأ فالحكم لليد وفيها القود وإن مات منها فالحكم للنفس وفيها القصاص لا في اليد قياسا ونظرا على ما ذكرنا من حكم الخطأ ويدخل أيضا على من يقول إن الجاني يقتل كما قتل أن يقول إذا رماه بسهم فقتله أن ينصب الرامي فيرميه حتى يقتله وقد نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن صبر ذي الروح فلا ينبغي أن يصبر أحد لنهي النبي صلى الله عليه و سلم عن ذلك ولكن يقتل قتلا لا يكون معه شيء من النهي ألا ترى أن رجلا لو نكح رجلا فقتله بذلك أنه لا يجب للولي أن يفعل بالقاتل كما فعل ولكن يجب له أن يقتله لأن نكاحه إياه حرام عليه فكذلك صبره إياه فيما وصفنا حرام عليه ولكن له قتله كما يقتل من حل دمه بردة أو بغيرها هذا هو النظر وهو قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمة الله عليهم أجمعين غير أن أبا حنيفة رضي الله عنه كان لا يوجب القود على من قتل بحجر وسنبين قوله هذا والحجة له في باب شبه العمد إن شاء الله تعالى

ابوالاشعث نے حضرت شداد بن او س رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ بلاشبہ اللہ تعالی نے احسان کو ہر چیز میں لازم قرار دیا۔ پس جب تم قتل کرو تو اچھے انداز سے قتل کرواور جب کسی (جانور) کو ذبح کروتو اچھی طرح ذبح کرواور مناسب ہے کہ تم میں سے ہر ایک اپنی چھری کو تیز کر لے اور اپنے ذبیحہ کوآرام پہنچائے۔ جناب نبی اکرم ﷺ نے لوگوں کو حکم فرمایا کہ اچھے طریقے سے قتل کریں اور جن جانوروں کا ذبح کرنا اللہ تعالی نے ان کے لئے جائز رکھا ہے ان سے یہ سلوک کرنا نہایت مناسب ہے۔ اگر کوئی معترض کہے کہ زخم کے درست ہونے کا انتظار کرنے کی کیا حاجت ہے۔ گزشت صفحات میں ہم صحیح روایات ذکر کر آئے اس سے ان کی مخالفت لازم آئے گی اور اس کی جہالت کے لئے اتنی بات کافی ہے کہ وہ علماء متقدمین کا مخالف ہے بلکہ قیاس کے اعتبار سے بھی اس کی بات غلط ہے۔ ملاحظہ کریں ۔ ہم نے غور کر کے دیکھا کہ اگر کوئی شخص غلطی سے کسی دوسرے آدمی کا ہاتھ کاٹ دے اور وہ درست ہو جائے تو اس پر ہاتھ کی دیت لازم ہوتی ہے اور اگر وہ اس کی وجہ سے مر جائے تو اس پر ایک جان کی دیت لازم ہوتی ہے اور ہاتھ کے سلسلہ میں بھی لازم نہیں آتا۔ ہاتھ کے سلسلہ میں لازم ہونے والی سزا نفس وجان کی چٹی میں لازم ہونے والی سزامیں داخل ہوجاتی ہے اور جرم کرنے والا قاتل کی طرح ہوتا ہے۔ وہ ہاتھ کاٹنے والے کی طرح نہیں رہتا۔ ہاتھ کا حکم صرف اس صورت میں لازم ہوتا ہے جبکہ انسانی جان باقی ہو اور اگر اس کی جان ضائع ہو جائے تو ہاتھ کاٹنے کا حکم واجب نہیں ہوتا تو اس پر قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ جب وہ جان بوجھ کر ہاتھ کاٹے تو حکم اسی طرح ہو اگر وہ درست ہو جائے تو ہاتھ کاٹنے کا حکم لگے گا اور اس میں دیت ہے اور اگر اس سے مر جائے نفس کا حکم ہوگا اور اس میں قصاص لازم ہوگا ہاتھ کا بدلہ نہ ہوگا۔ خطاء کے سلسلہ میں ہم نے جو کچھ ذکر کیا ہے۔ اس پر قیاس کا تقاضا یہی ہے۔ جناب اگر آپ کہتے ہیں کی طرح قتل کرنالازم ہے تو آپ اس آدمی کے متعلق کیافرمائیں گے جس نے کسی کو تیر مار کر ہلاک کر دیا تو کیا آپ تیر مارنے والے کو کھڑا کر کے تیر مارنے کا حکم دیں گے حالانکہ جناب نبی اکرم ﷺ نے کھڑا کر کے کسی بھی جاندار کوتیر مارنے کی صاف ممانعت فرمائی ہے۔ اس موقعہ پرتو آپ یہی فرمائیں گے کہ جس طریقے پر اس کو قتل کی ممانعت نہ کی گئی ہو اس طریقے قتل کیا جائے۔ ذرا غور کرو کہ اگر کوئی مرد کسی مرد سے بدفعلی کرے اور اس کی وجہ سے اس کو ہلاک کر دے تو مقتول کے ولی کو اس بات کا حق حاصل نہیں ہے کہ وہ قاتل کے ساتھ وہی فعل کرے جو اس نے کیا بلکہ قاتل پر لازم ہے کہ وہ اس کو صرف قتل کرے ۔ کیونکہ قاتل کے ساتھ بھی بد فعلی کرنا بھی حرام ہے اور اسے باندھ کر اس کو ہلاک کرنا بھی حرام ہے جیسا کہ ہم نے پہلے بیان کیا صرف اس کو قتل کرنے کی حق حاصل ہے۔ جس طرح اس شخص کوقتل کیا جاتا ہے جس کا خون مرتد ہونے یاکسی اور وجہ سے مباح ہو چکا ہو۔ قیاس کا یہی تقاضا ہے اور امام ابوحنیفہ ، ابو یوسف ، محمد رحمتہ اللہ علیہ کا یہی قول ہے۔ البتہ امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کے ہاں پتھر سے ہلاک کرنے والے پر بدلہ واجب نہیں۔ ہم آپ کے اس قول اور دلیل کو باب شبہ میں ان شاء اللہ بیان کریں گے۔

شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، ← أَبِي الأَشْعَثِ ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِدْرِيسَ الشَّافِعِيِّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَحْيَى الْمُزَنِيُّ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4920

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter