Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 8 باب المقدار الذي يقطع فيه السارق ) · حديث 4851

4582 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال أخبرني مخرمة بن بكير عن أبيه عن سليمان بن يسار عن عمرة عن عائشة أنها قالت سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول لا يقطع يد السارق إلا في ربع دينار فصاعدا قيل لهم كيف تحتجون بهذا وأنتم تزعمون أن مخرمة لم يسمع من أبيه حرفا وأن ما روي عنه مرسل وأنتم لا تحتجون بالمرسل فمما يذكرون مما ينفون به سماع مخرمة عن أبيه

مخرمہ بن بکیر عن ابیہ عن سلیمان بن یسار نے عمرہ عن عائشہ رضی اللہ عنہ روایت کی ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ میں نے جناب رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ۔ چور کا ہاتھ چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ میں کاٹا جائے ۔ اس روایت کو آپ کس طرح دلیل بناتے ہیں جبکہ مخرمہ رحمتہ اللہ علیہ کے متعلق آپ کا خیال یہ ہے کہ انہوں نے اپنے والد سے کوئی ایک حرف بھی نہیں سنا اور انہوں نے جو روایات نقل کی ہیں وہ مرسل ہیں اور مرسل روایت تو آپ کے ہاں قابل حجت نہیں ۔ مخرمہ کے اپنے والد سے نہ سننے کے متعلق یہ روایت ہے ۔

عَائِشَةَ ← عَمْرَةَ ← سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← أَبِيهِ ← مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ، ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Hadith 4851

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 8 باب المقدار الذي يقطع فيه السارق ) · حديث 4852

ما حدثنا بن أبي داود قال ثنا بن أبي مريم عن خاله موسى بن سلمة قال سألت مخرمة بن بكير هل سمعت من أبيك شيئا فقال لا قالوا فإنه قد روى هذا الحديث عن عمرة كما رواه يونس بن يزيد عن الزهري عنها يحيى بن سعيد أيضا وذكروا في ذلك ما

ابن ابی مریم نے اپنے ماموں موسیٰ بن سلمہ سے نقل کیا کہ میں نے مخرمہ بن بکیر سے پوچھا کہ کیا تم نے اپنے والد سے کچھ سنا ؟ انہوں نے کہا نہیں۔ یہ روایت یونس بن یزید کی طرح یحییٰ بن سعید نے بھی روایت کی ہے ملاحظہ فرمائیں ۔

الزهري عنها يحيى بن سعيد أيضا وذكروا في ذلك ما ← عمرة كما رواه يونس بن يزيد ← فإنه قد روى هذا الحديث ← من أبيك شيئا فقال لا ← سألت مخرمة بن بكير هل ← خاله موسى بن سلمة ← بن اَبِیْ مَرْیَمَ ← بن أبي داود ← مَا

Hadith 4852

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 8 باب المقدار الذي يقطع فيه السارق ) · حديث 4853

4583 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا مسلم بن إبراهيم قال ثنا أبان بن يزيد قال ثنا يحيى بن سعيد عن عمرة عن عائشة أن النبي صلى الله عليه و سلم قال يقطع يد السارق في ربع دينار فصاعدا قيل لهم قد روى هذا الحديث عن يحيى من هو أثبت من أبان فأوقفه على عائشة ولم يرفعه إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم

عن یحییٰ بن سعید نے عمرہ سے انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہ سے کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے فرمایا چور کا ہاتھ چوتھائی دینار اور اس سے زائد میں کاٹا جائے گا۔ اس روایت کو ابان بن یزید سے زیادہ پختہ روات نے یحییٰ بن سعید سے بیان کیا مگر انہوں نے اس کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ پر موقوف بیان کیا جناب رسول اللہ ﷺ سے مرفوع بیان نہیں کیا ملاحظہ فرمائیں۔

عَائِشَةَ ← عَمْرَةَ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Hadith 4853

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 8 باب المقدار الذي يقطع فيه السارق ) · حديث 4854

4584 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب أن مالكا حدثه عن يحيى بن سعيد عن عمرة بنت عبد الرحمن أن عائشة زوج النبي صلى الله عليه و سلم قالت ما طال علي أي ما طال الزمان علي ولا نسيت القطع في ربع دينار فصاعدا

مالک نے یحییٰ بن سعید سے انہوں نے عمرہ بنت عبدالرحمن سے روایت کی کہ حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں ۔ نہ مجھے اتنا عرصہ گزرا اور نہ مجھے بھول ہوئی کہ ہاتھ کاٹنا چوتھائی دینار اور اس سے زائد میں ہے ۔

يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Hadith 4854

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 8 باب المقدار الذي يقطع فيه السارق ) · حديث 4855

4585 - حدثنا محمد بن إدريس المكي قال ثنا الحميدي عن سفيان قال ثنا أربعة عن عمرة عن عائشة لم يرفعه عبد الله بن أبي بكر وزريق بن حكيم الإيلي ويحيى وعبد ربه ابنا سعيد والزهري أحفظهم كلهم إلا أن في حديث يحيى ما قد دل على الرفع ما نسيت ولا طال علي القطع في ربع دينار فصاعدا

حمیدی نے سفیان سے نقل کیا کہ عمرہ عن عائشہ رضی اللہ عنہ والی ہمیں چار نے بیان کی مگر کسی نے مرفوع نقل نہیں کی وہ چار یہ ہیں۔ ایک عبداللہ بن ابی بکر، دوم زریق بن حکیم ایلی، سوم یحییٰ اور عبدربہ ( جو دونوں سعید کے بیٹے ہیں ) چہارم زہری اور زہری ان میں سب سے زیادہ حافظہ والے ہیں مگر یحییٰ بن سعید کی روایت میں ایک لفظ ایسا ہے جو اس روایت کے رفع پر دلالت کرتا ہے ۔ وہ یہ ہے کہ نہ تو میں بھولی اور نہ ہی زیادہ عرصہ گزرا کہ چور کا ہاتھ ربع دینار اور اس سے زائد میں کاٹا جائے گا۔

عَمْرَةَ ← أَرْبَعَةٌ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← محمد بن إدريس المكي

Hadith 4855

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 8 باب المقدار الذي يقطع فيه السارق ) · حديث 4856

4586 - حدثنا يونس قال أخبرنا أنس بن عياض عن يحيى بن سعيد قال حدثتني عمرة أنها سمعت عائشة تقول القطع في ربع دينار فصاعدا فكان أصل حديث يحيى عن عمرة هو ما ذكرنا مما رواه عنه أهل الحفظ والإتقان مالك وابن عيينة لا كما رواه أبان بن يزيد فقد عاد حديث يحيى بن سعيد عن عمرة عن عائشة رضي الله عنها إلى نفسها إما لتقويمها ما قد خولف في توقيته ولم يثبت فيه عنها عن النبي صلى الله عليه و سلم شيء وأما ما إستدل به بن عيينة على أن حديث عائشة رضي الله عنها مما رواه يحيى بن سعيد عن عمرة عنها مرفوع بقولها ما طال علي ولا نسيت فإن ذلك عندنا لا دلالة فيه على ما ذكر وقد يجوز أن يكون معناها في ذلك ما طال علي ولا نسيت ما قطع فيه رسول الله صلى الله عليه و سلم مما كانت قيمته عندها ربع دينار وقيمته عند غيرها أكثر من ذلك فيعود معنى حديثها هذا إلى معنى ما قد روينا عنها قبل هذا من ذكرها ما كان النبي صلى الله عليه و سلم يقطع فيه ومن تقويمها إياه بربع دينار فإن قالوا فقد رواه أبو بكر بن عمرو بن حزم عن عمرة عن عائشة رضي الله عنها مثل ما رواه أبان بن يزيد عن عمرة عن عائشة رضي الله عنها وذكروا في ذلك ما

یحییٰ بن سعید نے عمرہ سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا کہ ربع دینار اور اس سے زائد میں ہاتھ کاٹا جائے گا۔ یحییٰ نے عمرہ سے اصل روایت اس طرح نقل کی جس قدر ہے وہ وہی ہے جس کو حفاظ حدیث نے بیان کیا وہ حفاظ امام مالک ابن عیینہ رحمتہ اللہ علیہ جیسے ثقہ لوگ ہیں نہ اس طرح جیسا کہ ابان بن یزید نے روایت کی ہے۔ اب روایت یحییٰ بن سعيد عن عمره عن عائشہ رضی اللہ عنہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ پر موقوف ہے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی طرف لوٹ آئی یا تواس چیز کی قیمت لگانے میں جس کی قیمت میں اختلاف کیا گیا (یعنی ڈھال ) یا پھر اس مقدار کے مقرر کرنے جس کے مقرر کرنے میں اختلاف کیا گیا تو اس سلسلہ میں اس روایت میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے کوئی بات مرفوع جناب رسول اللہ ﷺ سے ثابت نہیں ہوتی۔ البتہ ابن عیینہ کا یہ کہنا کہ: اطال على ولانسیت کے لفظوں سے مرفوع ہونا معلوم ہوتا ہے۔ تو ہمارے ہاں ! اس میں اس قسم کی کوئی دلالت نہیں پائی جاتی کیونکہ عین ممکن ہے کہ اس کا مطلب یہ ہو کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے چوتھائی دینار قیمت کی چیز چوری کرنے پر ہاتھ کا نا اس واقعہ کو پیش آئے طویل عرصہ نہیں ہوا اور نہ ہی مجھے یہ واقعہ بھولا اور اس ڈھال کی قیمت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے ہاں چوتھائی حصہ دینار ہو اور اس کی قیمت دوسروں کے ہاں اس سے زیادہ ہو۔ اب اس روایت کا مطلب بھی اس روایت کی طرف لوٹ گیا جو ہم نے ان سے روایت کی ہے اور اس میں انہوں نے ذکر کیا کہ جناب رسول اللہ ﷺ کس چیز کی چوری پر ہاتھ کاٹتے تھے اور اس کی قیمت ربع دینار سے لگائی۔ اس کی ایک سند ایسی جو اعتراض سے بری ہے۔ ملاحظہ ہو۔ اس روایت کو ابوبکر بن عمرو بن حزم نے عمرہ عن عائشہ رضی اللہ عنہ ذکر کیا اور وہ بالکل ابان بن یزید عن عمرہ عن عائشہ رضی اللہ عنہ کی روایت کی طرح ہے۔ روایت یہ ہے۔

حدثتني عمرة ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← أَنَسَ بْنَ عِيَاضٍ ← يُونُسَ

Hadith 4856

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 8 باب المقدار الذي يقطع فيه السارق ) · حديث 4857

4587 - حدثنا محمد بن إدريس المكي قال ثنا الحميدي قال ثنا عبد العزيز بن أبي حازم قال حدثني بن الهاد عن أبي بكر بن محمد بن عمرو بن حزم عن عمرة بنت عبد الرحمن عن عائشة عن النبي صلى الله عليه و سلم قال لا يقطع يد السارق إلا في ربع دينار فصاعدا

ابو بکر بن محمد بن عمرو بن حزم عن عمرہ بنت عبدالرحمن عن عائشہ رضی اللہ عنہ انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے کہ چور کا ہاتھ کاٹا نہ جائے گا مگر یہ کہ ربع دینار اور اس سے زائد ( قیمت والی چیز ) میں ۔

لا يقطع يد السارق إلا في ربع دينار فصاعدا ← النبي صلى الله عليه و سلم ← عَائِشَةَ ← عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ← بْنِ الْهَادِ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ← الْحُمَيْدِيُّ، ← محمد بن إدريس المكي

Hadith 4857

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 8 باب المقدار الذي يقطع فيه السارق ) · حديث 4858

4588 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا أبو عامر قال ثنا عبد الله بن جعفر عن يزيد بن الهاد فذكر بإسناده مثله

عبداللہ بن جعفر نے یزید بن ھاد سے پھر انہوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔

يزيد بن الهاد فذكر بإسناده مثله ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو عَامِرٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Hadith 4858

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 8 باب المقدار الذي يقطع فيه السارق ) · حديث 4859

4589 - حدثنا محمد بن خزيمة وفهد قالا ثنا عبد الله بن صالح قال حدثني الليث قال حدثني بن الهاد فذكر بإسناده مثله

عبداللہ بن صالح نے لیث سے انہوں نے ابن الہاد سے پھر انہوں نے اپنی سند سے روایت نقل کی ہے ۔

بن الهاد فذكر بإسناده مثله ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← محمد بن خزيمة وفهد

Hadith 4859

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 8 باب المقدار الذي يقطع فيه السارق ) · حديث 4860

4590 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا عمرو بن عون قال أخبرنا هشيم عن محمد بن إسحاق عن أبي بكر بن محمد بن عمرو بن حزم عن عمرة عن عائشة عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله قيل لهم قد روى هذا كما ذكرتم ولكنه لا يجب على أصولكم أن تعارضوا بهذا الحديث ما روى الزهري ولا ما روى يحيى وعبد ربه ابنا سعيد لأن أبا بكر بن محمد بن عمرو بن حزم ليس له من الإتقان ولا من الحفظ ما لواحد من هؤلاء ولا لمن روى هذا الحديث أيضا عن أبي بكر بن محمد وهو بن الهاد ومحمد بن إسحاق عندكم من الإتقان للرواية والحفظ ما لمن روى حديث الزهري ويحيى وعبد ربه ابني سعيد عنهم وقد خالف أيضا أبا بكر بن محمد فيما روى عن عمرة من هذا ابنه عبد الله بن أبي بكر

ابو بکر بن محمد بن عن عمرو بن حزم عن عمرہ عن عائشہ رضی اللہ عنہ انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔ اس روایت کو اسی طرح روایت کیا گیا جیسا کہ تم نے ذکر کیا مگر تمہارے اصول کے مطابق1 ۔ روایت سند کے لحاظ سے روایت زہری اور یحییٰ و عبدر بہ بن سعید کی روایات کا مقابلہ نہیں کر سکتی ۔ کیونکہ ابو بکر بن عمر و بن حزم کا حفظ و اتقان ان میں سے کسی کے برابر نہیں ہے ۔ 2۔ اور نہ ابو بکر سے روایت کرنے والے مثلاً ابن الہاد، محمد بن اسحاق وغیرہ و حفظ و اتقان میں زہری اور ابنائے سعید سے روایت کرنے والوں کے ہم پلہ ہیں ۔ 3۔ ابو بکر بن محمد نے جو روایت عن عمرہ نقل کی ہے ان کے بیٹے عبداللہ بن ابی بکر نے اس کے خلاف روایت کی ہے ۔ ملاحظہ ہو۔

عَائِشَةَ ← عَمْرَةَ ← أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← هُشَيْمٌ ← عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ← بن أبي داود

Hadith 4860

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 8 باب المقدار الذي يقطع فيه السارق ) · حديث 4861

4591 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب أن مالكا حدثه عن عبد الله بن أبي بكر عن عمرة قالت قالت عائشة القطع في ربع دينار فصاعدا وقد خالفه في ذلك أيضا رزيق بن حكيم فرواه عن عمرة مثل ما رواه عبد الله بن أبي بكر ويحيى وعبد ربه عنها قال فإن كان هذا الأمر يؤخذ من جهة كثرة الرواة فإن من روى حديث عمرة عنها بخلاف ما رواه عنها أبو بكر بن محمد أكثر عددا وإن كان يؤخذ من جهة الإتقان في الرواة والحفظ فإن لمن روى حديث عمرة عنها من يحيى وعبد ربه من الإتقان في الرواية والضبط لها ما ليس لأبي بكر بن محمد فإن قالوا فقد رواه أبو سلمة بن عبد الرحمن وغيره عن عمرة مثل ما رواه عنها أبو بكر بن محمد فذكروا في ذلك ما

عبداللہ بن ابی بکر عن عمرہ وہ کہتی ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہاتھ کاٹنا ربع دینار اور اس سے زائد میں ہے ۔ زریق بن حکیم نے عمرہ سے ابو بکر کے خلاف اور عبداللہ بن ابی بکر ، یحییٰ ، عبدربہ کی روایت کے موافق روایت کی ہے ۔ پس اگر کثرت روات کے اعتبار سے دیکھیں تو عمرہ سے ابو بکر بن محمد کے خلاف روایت کرنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے اور اگر رواۃ میں اتقان و حفظ کا لحاظ کرتے ہو تو تب بھی یحییٰ و عبدربہ جیسا حافظہ و پختگی ابو بکر بن محمد وغیرہ میں نہیں پائی جاتی ۔

بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Hadith 4861

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 8 باب المقدار الذي يقطع فيه السارق ) · حديث 4862

4592 - حدثنا علي بن شيبة قال ثنا عبيد الله بن صالح قال حدثني يحيى بن أيوب عن جعفر بن ربيعة عن العلاء بن الأسود بن حارثة وأبي سلمة بن عبد الرحمن وكثير بن حنيش أنهم تنازعوا في القطع فدخلوا على عمرة يسألونها فقالت قالت عائشة قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لا قطع إلا في ربع دينار قيل لهم أما أبو سلمة فلا نعلم لجعفر بن ربيعة منه سماعا ولا نعلمه لقيه أصلا فكيف يجوز لكم أن تحتجوا بمثل هذا على مخالفكم وتعارضوا به ما قد رواه عن عمرة من قد ذكرنا وإن إحتجوا في ذلك أيضا بحديث الزهري فإنه

ابو سلمہ بن عبدالرحمن اور کثیر بن حنیش دونوں نے قطع ید کے متعلق تنازعہ کیا۔ چنانچہ ددنوں عمرہ کی خدمت میں دریافت کے لئے گئے تو انہوں نے بیان کیا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے ۔ ربع دینار سے کم میں ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا ۔ جعفر بن ربیعہ کا ابو سلمہ سے سماع و ملاقات ہی ثابت نہیں پھر منقطع روایت کو اپنے مخالف پر بطور حجت کیسے پیش کرتے ہو اور پھر ایسے رواۃ سے معارضہ کرتے ہو جن کی اسناد متصل ہیں ۔ روایت زہری سے آخری استدلال روایت یہ ہے ۔

عَائِشَةَ ← كثير بن حنيش أنهم تنازعوا في القطع فدخلوا على عمرة يسألونها ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← العلاء بن الأسود بن حارثة ← جَعْفَرِ بْنِ رَبِیعَۃَ، ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← عبيد الله بن صالح ← علي بن شيبة

Hadith 4862

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter