Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 7 باب من سكر أربع مرات ما حده ) · حديث 4831

4564 - حدثنا أبو أمية قال ثنا قبيصة بن عقبة قال ثنا سفيان عن الأعمش فذكر بإسناده مثله

سفیان سے اعمش سے پھر انہوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔

الأعمش فذكر بإسناده مثله ← سُفْيَانَ، ← قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ← اَبُوْ اُمَیَّۃَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4831

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 7 باب من سكر أربع مرات ما حده ) · حديث 4832

4565 - وحدثنا أبو أمية قال ثنا محمد بن سابق قال ثنا زائدة ح

محمد بن سابق نے زائدہ سے روایت نقل کی ہے ۔

زَائِدَۃَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، ← وحدثنا أبو أمية

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4832

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 7 باب من سكر أربع مرات ما حده ) · حديث 4833

وحدثنا علي بن شيبة قال ثنا عبيد الله ح

علی بن شیبہ نے عبید اللہ سے روایت نقل کی ہے ۔

عُبَيْدِ اللَّهِ ← وحدثنا علي بن شيبة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4833

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 7 باب من سكر أربع مرات ما حده ) · حديث 4834

وحدثنا أبو أمية أيضا قال ثنا عبيد الله قال ثنا زائدة قال محمد بن سابق في حديثه قال ثنا سليمان عن الأعمش وقال عبيد الله في حديثه عن الأعمش فذكر بإسناده مثله قال سليمان فحدثت به إبراهيم فقال حدثني الأسود عن عائشة مثله

ابوامیہ نے کہا ہمیں عبید اللہ نے اور اس نے کہا ہمیں زائدہ نے بیان کیا اور محمد بن سابق نے کہا ہمیں سلیمان نے اعمش سے بیان کیا اور عبید اللہ نے اپنی روایت میں عن الاعمش کہا ہے پھر اپنی اسناد سے روایت بیان کی ہے ۔ سلیمان کہتے ہیں کہ میں نے یہ روایت ابراہیم کو بیان کی تو انہوں نے کہا مجھے اسود نے عائشہ رضی اللہ عنہ سے اسی جیسی روایت بیان کی ہے ۔

عَائِشَۃَ مِثْلَہُ ← الْأَسْوَدِ، ← سليمان فحدثت به إبراهيم فقال ← الأعمش فذكر بإسناده مثله ← الأعمش وقال عبيد الله في حديثه ← سُلَیْمَانَ ← محمد بن سابق في حديثه ← زَائِدَۃَ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← وحدثنا أبو أمية أيضا

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4834

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 7 باب من سكر أربع مرات ما حده ) · حديث 4835

4566 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا أبو عاصم عن سفيان عن أبي إسحاق عن عمرو بن غالب قال دخل الأشتر على عائشة فقالت أردت قتل بن أختي فقال لقد حرص على قتلي وحرصت على قتله فقالت أما إني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول فذكرت مثله فهذه الآثار التي ذكرنا تعارض الآثار الأول لأن النبي صلى الله عليه و سلم قد منع في هذه الآثار أن يحل الدم إلا بإحدى الثلاث الخصال المذكورة فيها غير أنه قد يحتمل أن تكون هذه الآثار التي ذكرنا ناسخة للآثار الأول فنظرنا في ذلك هل نجد شيئا من الآثار يدل عليه

عمرو بن گالب کہتے ہیں کہ اشتر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آیا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم میرے بھانجے کو قتل کرنا چاہتے ہو اس نے کہا وہ میرے قتل کا خواہاں ہے اور میں اس کے قتل کا ۔ تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ۔ میں نے تو جناب رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا اور اسی طرح میں نے نقل کر دیا۔ یہ آثار پہلی روایات جن کو فریق اول سے دلیل بنایا اس کے خلاف ہیں کیونکہ تین باتوں کے علاوہ کسی مسلمان کی جان لینے کی اجازت نہیں ۔ اب ایک ہی صورت ہے کہ ان آثار کو ان کا ناسخ تسلیم کیا جائے ۔ آثار کو دیکھنے سے ایسے شواہد میسر آگئے ۔ روایات ملاحظہ ہوں۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَمَا إِنِّي ← لقد حرص على قتلي وحرصت على قتله ← أردت قتل بن أختي ← دخل الأشتر على عائشة ← عَمْرِو بْنِ غَالِبٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4835

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 7 باب من سكر أربع مرات ما حده ) · حديث 4836

4567 - فإذا بن أبي داود قد حدثنا قال ثنا أصبغ بن الفرج قال ثنا حاتم بن إسماعيل عن شريك عن محمد بن إسحاق عن محمد بن المنكدر عن جابر بن عبد الله قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم من شرب الخمر فاجلدوه ثم إن عاد فاجلدوه ثم إن عاد فاجلدوه ثم إن عاد فاجلدوه قال فثبت الجلد ودرئ القتل

محمد بن منکدر نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شراب پئے اسے کوڑے مارو۔ پھر اگر وہ دوبارہ کرے تو اسے کوڑے لگاؤ ۔ پھر دوبارہ شراب نوشی کرے تو اسے کوڑے مارو پھر اگر یہ دوبارہ شراب نوشی کرے تو اسے کوڑے مارو ، پس کوڑے مارنا باقی رہا اور قتل کرنا موقوف کر دیا گیا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← شَرِيکٍ ← حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ، ← فإذا بن أبي داود قد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4836

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 7 باب من سكر أربع مرات ما حده ) · حديث 4837

4568 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب قال أخبرني عمرو بن الحارث أن محمد بن المنكدر حدثه أنه بلغه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال في شارب الخمر إن شرب الخمر فاجلدوه ثلاثا ثم قال في الرابعة فاقتلوه فأتي ثلاث مرات برجل قد شرب الخمر فجلده ثم أتي به الرابعة فجلده ووضع القتل عن الناس

محمد بن منکدر نے بیان کیا کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے شراب پینے والے کے متعلق فرمایا۔ اگر وہ شراب نوشی کرے تو اس کو کوڑے مارو۔ یہ تین مرتبہ کہا پھر چوتھی مرتبہ میں فرمایا ۔ کہ اس کو قتل کر دو۔ پھر ایک آدمی کو تین مرتبہ شراب نوشی کی حالت میں لایا گیا۔ تو انہوں نے اسے کوڑے لگائے پھر اسے چوتھی مرتبہ لایا گیا تو اس کو کوڑے لگائے اور قتل کو ہٹا لیا۔

أنه بلغه ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4837

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 7 باب من سكر أربع مرات ما حده ) · حديث 4838

4569 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال أخبرني يونس عن بن شهاب عن قبيصة بن ذؤيب الكعبي أنه حدثه أنه بلغه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم فذكر مثله سواء فثبت بما ذكرنا أن القتل بشرب الخمر في الرابعة منسوخ فهذا وجه هذا الباب من طريق الآثار ثم عدنا إلى النظر في ذلك لنعلم ما هو فرأينا العقوبات التي تجب بانتهاك الحرمات مختلفة فمنها حد الزنا وهو الجلد في غير الإحصان فكان من زنى وهو غير محصن فحد ثم زنى ثانية كان حده كذلك أيضا ثم كذلك حده في الرابعة لا يتغير عن حده في أول مرة وكان من سرق ما يجب فيه القطع فحده قطع اليد ثم إن سرق ثانية فحده قطع الرجل ثم إن سرق ثالثة ففي حكمه اختلاف بين الناس فمنهم من يقول تقطع يده ومنهم من يقول لا تقطع فهذه حقوق الله التي تجب فيما دون الأنفس وأما حدود الله التي تجب في الأنفس وهي القتل في الردة والرجم في الزنا إذا كان الزاني محصنا فكان من زنى ممن قد أحصن رجم ولم ينتظر به أن يزني أربع مرات وكان من إرتد عن الإسلام قتل ولم ينتظر به أن يرتد أربع مرات وأما حقوق الآدميين فمنها أيضا ما يجب فيما دون النفس فمن ذلك حد القذف فكان من قذف مرات فحكمه فيما يجب عليه بكل مرة منها فهو حكم واحد لا يتغير ولا يختلف ما يجب في قذفه إياه في المرة الرابعة وما يجب عليه بقذفه إياه في المرة الأولى فكانت الحدود لا تتغير في انتهاك الحرم وحكمها كلها حكم واحد فما كان منها جلد في أول مرة فحكمه كذلك أبدا وما كان منها قتل قتل الذي وجب عليه ذلك الفعل أول مرة ولم ينتظر به أن يتكرر فعله أربع مرات فلما كان ما وصفنا كذلك وكان من شرب الخمر مرة فحده الجلد لا القتل كان في النظر أيضا عقوبته في شربه إياها بعد ذلك أبدا كلما شربها الجلد لا القتل ولا تزيد عقوبته بتكرر أفعاله كما لم تزد عقوبة من وصفنا بتكرر أفعاله فهذا الذي وصفنا هو النظر وهو قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمة الله عليهم أجمعين

ابن شہاب نے قبیصہ بن ذویب کعبی سے بیان کیا کہ ان کو جناب رسول اللہ ﷺ سے یہ بات پہنچی ہے پھر برابر اسی طرح ذکر کیا ہے۔ مندرجہ بالا روایات سے ثابت ہواکہ قتل کا حکم چوتھی مرتبہ شراب نوشی کرنے والے سے منسوخ ہے۔ آثارکو سامنے رکھ کر تو اس باب کا یہی حکم ہے۔ اب ہم نظر کی طرف رجوع کرتے ہیں تا کہ ہم حقیقت جان لیں۔ حرمات کی توہین کرنے کی سزائیں مختلف ہیں۔ ان میں ایک حد زنا ہے وہ غیرشادی شدہ کے لئے کوڑے۔ پس جو زنا کرے اور وہ غیر شادی شدہ ہو تو اس کو حد لگائی جائے گی۔ پھر دوسری مرتبہ زنا کرنے سے بھی اسی طرح حد لگائی جائے گی پھر اسی طرح چوتھی بار بھی اس کی حد یہی ہوگی۔ پہلی مرتبہ والی حد تبدیل نہ ہو گی۔ اسی طرح جو شخص اتنی چوری کرے جس سے ہاتھ کا ٹنالا زم ہوتو اس کی حد ہاتھ کاٹنا ہے پھر اگر اس نے دوسری مرتبہ چوری کی تو اس کی حد پاؤں کاٹنا ہے۔ پھر اگر اس نے تیسری مرتبہ چوری کی تو اس کے متعلق اختلاف ہے بعض علماء کہتے ہیں کہ اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا اور دوسروں نے کہا کہ اس کا ہاتھ کاٹا جائے ہے یہ وہ حقوق ہیں جو نفس سے کم میں لازم ہوتے ہیں۔ البتہ وہ حقوق جو نفس کے سلسلے میں ازم و واجب ہیں وہ قتل ہے جو ارتداد کی صورت میں رجم زنا کی صورت میں جبکہ وہ شادی شدہ ہو لازم ہوتا ہے۔ پس جب زانی شادی شدہ ہو تو اس کو سنگسارکیا جائے گا اور اس بات کا انتظار نہ کیا جائے گا کہ وہ چار مرتبہ زنا کرے اور (پھر اس کو قتل کیا جائے ) اسی طرح جواسلام سے پھر جائے تو اسے کیا جائے گا اور اس بات کا انتظار نہ کیا جائے گا کہ وہ چار بار ارتداد اختیارکرے ۔ جہاں تک انسانی حقوق ہیں تو ان میں بھی بعض تو نفس سے کم میں واجب ہوتے ہیں ان میں ایک حد قذف ہے۔ تو جو شخص بے گناہ پر بار بار الزام بازی کرے تو ہر بار ایک ہی حکم ہو گا اس میں تبدیلی نہ ہوگی قذف سے چوتھی بار لازم ہونے والی سزا اور پہلی مرتبہ لازم ہونے والی سزا ایک دوسرے سے مختلف نہ ہوگی۔ پس اس سے یہ ثابت ہوا کہ شرعی احکام کی مخالفت پر جوسزائیں مقرر ہیں ان میں تبدیلی نہیں ہوتی۔ ان کا حکم ایک ہی رہتا ہے۔ جو کے پہلی مرتبہ کسی جرم کی سزا میں کوڑے لگائے جائیں گیتو اسے اس جرم کے اعادہ کی صورت میں دوبارہ بھی کوڑے ہی لگائے جائیں گے اور جس کی سزا قتل ہے تو اسے اس جرم کی سزا میں پہلی بار قتل کیا جائے گا اس کے چار مرتبہ اس فعل کے کرنے کا انتظار نہ کیا جائے گا جب حدود کے سلسلہ میں یہ اسی طرح ہے جس طرح ہم نے بیان کی۔ تو جو شخص ایک مرتبہ شراب نوشی کرے اس کی سزا کوڑے ہیں قتل نہیں تو تقاضا قیاس یہی ہے کہ اس کی سزا ہمیشہ یہی ہے کہ جب بھی وہ شراب نوشی کرے اس کو کوڑے مارے جائیں قتل نہ کیا جائے اور تکرار فعل کی وجہ سے سزامیں اضافہ نہ ہو۔ جیسا کہ ان لوگوں کی سزا میں تکرار فعل سے اضافہ نہیں ہوتا جن کا ہم نے تذکرہ کیا ہے قیاس کا تقاضا اسی طرح ہے اور یہی امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف ، محمد رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے ۔

قَبِيصَةُ بْنُ ذُؤَيْبٍ الْكَعْبِيُّ ← بن شِهَابٍ ← يُونُسَ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4838

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter