Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 6 باب حد الخمر ) · حديث 4802

وحدثنا صالح بن عبد الرحمن قال ثنا عبد الغفار بن داود وعثمان بن صالح قالوا حدثنا بن لهيعة عن خالد بن يزيد عن سعيد بن أبي هلال عن نبيه بن وهب عن محمد بن علي بن أبي طالب عن علي بن أبي طالب عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه جلد رجلا في الخمر ثمانين غير أن صالحا قال في حديثه جلد رجلا من بني حارث بن الخزرج وهذا عندنا أيضا فاسد لا يثبت عن علي رضي الله عنه لما قد رواه عنه سعيد من قوله إن رسول الله صلى الله عليه و سلم مات ولم يسن في الخمر حدا وأنهم جعلوه بعده ثمانين بالتمثيل الذي قد ذكرناه عنه في هذا الباب ولا يجوز عندنا والله أعلم عن علي رضي الله عنه أن يكون يحتاج في إستخراج حد الخمر من ذلك وعنده فيه عن النبي صلى الله عليه و سلم ما في هذا الحديث وقد جاءت الآثار متواترة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم لم يكن يقصد في حد الشارب إلى عدد من الضرب معلوم حتى لقد بين في بعض ما روي عنه نفي ذلك مثل ما رويناه عن علي رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم مات ولم يسن فيه حدا فمما روي في ذلك ما

محمد بن علی نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے ایک شخص کو شراب کی وجہ سے اسی کوڑے مارے ۔ صالح کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ انہوں نے بنی حارث بن خزرج کے ایک آدمی کو کوڑے مارے ۔ ہمارے نزدیک یہ روایت بھی درست نہیں کیونکہ یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں ۔ عدم ثبوت کی وجہ یہ ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سعید نے ان کا یہ قول نقل کیا ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کی وفات ہو گئی اور آپ نے شراب کی کوئی حد مقرر نہیں فرمائی اور صحابہ کرام نے اس کو مشابہت کی وجہ سے اسی کوڑے قرار دیا جیسا پہلے ذکر کر آئے دوسری بات یہ ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو چنداں ضرورت نہ تھی اگر جناب نبی اکرم ﷺ سے شراب کی مقرر حد ہوتی جیسا کہ اس روایت سے ظاہر ہوتا ہے ۔ ایک بات یہ بھی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے شراب پینے کی حد کے سلسلے میں کسی معلوم و مقرر تعداد کا ارادہ نہیں فرمایا۔ بلکہ بعض روایات تو اس کی نفی کرتی ہیں جیسا کہ ہم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے انتقال فرمایا اور ا س کوئی حد مقرر نہیں فرمائی ۔ من جملہ ان روایات میں سے یہ بھی ہے ۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، ← نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ، ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ← خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ ← بن لهيعة ← عبد الغفار بن داود وعثمان بن صالح ← صالح بن عبد الرحمن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4802

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 6 باب حد الخمر ) · حديث 4803

4539 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب قال أخبرني أسامة بن زيد الليثي عن بن شهاب حدثه عن عبد الرحمن بن أزهر قال كأني أنظر إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم الآن وهو في الرحال يلتمس رحل خالد بن الوليد يوم حنين فبينما هو كذلك أتي برجل قد شرب الخمر فقال للناس اضربوه فمنهم من ضربه بالنعال ومنهم من ضربه بالعصا ومنهم من ضربه بالميتحة يريد الجريدة الرطبة ثم أخذ رسول الله صلى الله عليه و سلم ترابا من الأرض فرمى به في وجهه

حضرت عبدالرحمن بن ازہر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ گویا وہ منظر اب بھی میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ حنین کے دن کجاوے میں تشریف فرما تھے اور خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا کجاوہ تلاش کر رہے تھے آپ اسی حال میں تھے کہ آپ کے پاس ایک شرابی لایا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا اس کو مارو۔ پھر تو کچھ لوگ جوتوں سے مار رہے تھے اور کچھ لاٹھیوں سے ۔ کچھ کھجور کی تر شاخوں سے ۔ پھر جناب رسول اللہ ﷺ نے زمین سے مٹی اٹھا کر اس کے چہرے پر پھینکی۔

عبد الرحمن بن أزهر ← بن شِهَابٍ ← أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ اللَّيْثِيِّ، ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4803

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 6 باب حد الخمر ) · حديث 4804

4540 - حدثنا علي بن شيبة قال ثنا روح بن عبادة قال ثنا أسامة بن زيد قال حدثني بن شهاب قال حدثني عبد الرحمن بن أزهر الزهري قال رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم حنين يتخلل الناس أي يدخل بينهم يسأل عن منزل خالد بن الوليد فأتي بسكران فأمر من كان عنده فضربوه بما كان في أيديهم ثم حثى عليه التراب أي رمى بيده عليه التراب ثم أتى أبو بكر بسكران فتوخى الذي كان من ضربهم عند رسول الله صلى الله عليه و سلم فضربه أربعين أفلا ترى أن أبا بكر إنما كان ضرب بعد النبي صلى الله عليه و سلم أربعين على التحري منه لضرب النبي صلى الله عليه و سلم الذي كان لأن النبي صلى الله عليه و سلم لم يكن وقفهم في ذلك على شيء بينه

ابن شہاب نے عبدالرحمن بن ازہر زہری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ میں نے جناب رسول اللہ ﷺ کو حنین کے دن دیکھا کہ لوگوں کے درمیان داخل ہو کر خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے خیمہ کو پوچھ رہے تھے ۔ اسی حالت میں آپ کے پاس ایک نشہ والا آدمی لایا گیا آپ ﷺ نے اپنے قریب صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو فرمایا ( کہ اس کو مارو ) تو انہوں نے جو کچھ ان کے ہاتھ میں تھا اس سے مارنا شروع کیا۔ پھر اپ نے اس پر مٹی پھینکی ۔ پھر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک نشہ والا لایا گیا تو آپ نے اس کو بلایا جو ان لوگوں میں سے تھا جس نے آپ کے سامنے شراب نوشوں کو مارا تھا ۔ پس اس نے اس کو چالیس کوڑے مارے ۔ اس روایت کو ملاحظہ نہیں کرتے کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے جناب رسول اللہ ﷺ کے بعد آپ کے مارنے پر غور کیا اور چالیس کوڑے مر وائے ۔ کیونکہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ان کو اس سلسلہ میں کسی معین مقدار سے آگاہ نہیں فرمایا تھا۔ جیسا یہ روایات بھی دلالت کرتی ہیں ۔

عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَزْهَرَ الزُّهْرِيُّ ← بن شِهَابٍ ← أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← علي بن شيبة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4804

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 6 باب حد الخمر ) · حديث 4805

4541 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا وهب قال ثنا شعبة بن التياح عن أبي الوداك عن أبي سعيد قال لا أشرب نبيذ الجر بعد إذ أتي رسول الله صلى الله عليه و سلم بنشوان فقال يا رسول الله ما شربت خمرا إنما شربت نبيذ تمر وزبيب في دباء فأمر به النبي صلى الله عليه و سلم فنهر بالأيدي وخفق بالنعال

ابو الوداک نے ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جب سے جناب نبی اکرم رضی اللہ عنہ کے پاس ایک نشہ والا لایا گیا اس وقت سے میں گھڑے میں بنایا گیا نبیذ نہیں پیتا۔ اس آدمی نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میں نے شراب نہیں پی۔ میں نے کدو کے برتن میں کھجور اور کشمش کا بنا ہوا نبیذ پیا ہے ۔ تو جناب نبی اکرم ﷺ نے اس کے بارے میں حکم دیا تو اس کو مکوں اور جوتوں سے پیٹا گیا۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِي الْوَدَّاكِ، ← شعبة بن التياح ← وَھْبٍ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4805

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 6 باب حد الخمر ) · حديث 4806

4542 - حدثنا نصر بن مرزوق قال ثنا سعيد بن أبي مريم قال أخبرنا نافع بن يزيد قال حدثني بن الهاد عن محمد بن إبراهيم حدثه عن أبي سلمة بن عبد الرحمن عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أتي بشارب فقال اضربوه فمنهم من ضربه بيده وبثوبه وبنعله

ابو سلمہ بن عبدالرحمن نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک نشہ والا لایا گیا تو آپ ﷺ نے حکم فرمایا اس کو مارو۔ تو کسی نے ہاتھ اور کسی نے کپڑے اور کسی نے جوتے سے مارا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← بْنِ الْهَادِ ← نَافِعُ بْنُ یَزِیدَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← نَصْرُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4806

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 6 باب حد الخمر ) · حديث 4807

4543 - حدثنا يونس قال أخبرنا أنس بن عياض عن يزيد بن الهاد عن محمد بن إبراهيم عن أبي سلمة عن أبي هريرة عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله

ابو سلمہ نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح کی روایت کی ہے ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← یَزِیْدُ بْنُ الْھَادِ ← أَنَسَ بْنَ عِيَاضٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4807

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 6 باب حد الخمر ) · حديث 4808

4544 - حدثنا فهد قال ثنا أبو بكر بن أبي شيبة قال ثنا محمد بن بشر قال ثنا محمد بن عمرو قال ثنا أبو سلمة بن عبد الرحمن ومحمد بن إبراهيم والزهري عن عبد الرحمن بن أزهر قال أتي رسول الله صلى الله عليه و سلم بشارب يوم حنين فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم للناس قوموا إليه فقام الناس فضربوه بنعالهم

ابو سلمہ بن عبدالرحمن اور محمد بن ابراہیم اور زہری نے عبدالرحمن بن ازہر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک شرابی کو حنین کے روز لایا گیا تو جناب رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو فرمایا اس کی طرف اٹھو پس لوگ کھڑے ہو کر جوتوں سے اس کو مارنے لگے ۔

أتى رسول الله صلى الله عليه و سلم بشارب يوم حنين ← عبد الرحمن بن أزهر ← أبو سلمة بن عبد الرحمن ومحمد بن إبراهيم والزهري ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4808

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 6 باب حد الخمر ) · حديث 4809

4545 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا المعلى بن الأسد قال ثنا وهيب عن أيوب عن عبد الله بن أبي مليكة عن عقبة بن الحارث قال أتي بالنعمان إلى النبي صلى الله عليه و سلم وهو سكران قال فشق على النبي صلى الله عليه و سلم مشقة شديدة قال فأمر من كان في البيت أن يضربوه قال فضربوه بالنعال والجريد قال عقبة كنت فيمن ضربه

عبداللہ بن ابی ملیکہ نے عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کے پاس نعمان کو نشہ کی حالت میں لایا گیا تو آپ کو سخت گرانی ہوئی ۔ پھر آپ نے فرمایا کہ گھر میں موجود افراد اس کو ماریں تو انہوں نے اس کو جوتوں اور کھجور کی شاخوں سے مارا۔ عقبہ کہتے ہیں کہ میں بھی مارنے والوں میں شامل تھا۔

عقبة كنت فيمن ضربه ← فضربوه بالنعال والجريد ← فأمر من كان في البيت أن يضربوه ← فشق على النبي صلى الله عليه و سلم مشقة شديدة ← أتي بالنعمان إلى النبي صلى الله عليه و سلم وهو سكران ← عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← أَيُّوبَ، ← وُهَيْبٌ، ← المعلى بن الأسد ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4809

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 6 باب حد الخمر ) · حديث 4810

4546 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا سليمان بن حرب قال ثنا وهيب فذكر بإسناده مثله غير أنه قال بالنعمان أو بن النعمان

سلیمان بن حرب نے وہیب سے پھر انہوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت کی ہے ۔ البتہ انہوں نے نعمان کہا یا ابن النعمان کہا۔

بالنعمان أو بن النعمان ← وهيب فذكر بإسناده مثله غير أنه ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4810

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 6 باب حد الخمر ) · حديث 4811

4547 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا عفان قال ثنا وهيب فذكر بإسناده مثله فدل ما ذكرنا ان رسول الله صلى الله عليه و سلم لم يوقفهم في حد الخمر على ضرب معلوم كما وقفهم في حد الزنا لغير المحصن وفي حد القذف فان قال قائل فقد روي عن أبي سعيد أن رسول الله صلى الله عليه و سلم ضرب في الخمر بنعلين أربعين أربعين فجعل عمر رضي الله عنه بكل نعل سوطا قيل له قد صدقت قد

عفان نے وہیب سے روایت کی پھر انہوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت کی ہے ۔ تو ہم نے جو کچھ ذکر کیا وہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ان کو شراب نوشی کی حد کے سلسلہ میں مقررہ تعداد میں مارنے سے آگا ہ نہیں فرمایا جیسا کہ غیر شادی شدہ زانی کی حد اور قذف ( الزام تراشی ) کی حد کے متعلق مطلع فرمایا تھا۔ اگر کوئی کہے کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے شراب کے سلسلہ میں چالیس چالیس جوتے مارے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ہر جوتے کو کوڑا قرار دیا ، تو اسے کہا جائے گا کہ تم نے یہ بات درست کہی ۔ جیسا کہ یہ روایت دلالت کر رہی ہے ۔

وهيب فذكر بإسناده مثله فدل ما ذكرنا ← عَفَّانُ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4811

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 6 باب حد الخمر ) · حديث 4812

4548 - حدثنا بذلك محمد بن بحر هو بن مطر قال ثنا يزيد بن هارون قال أخبرنا المسعودي عن زيد العمي عن أبي الصديق أو أبي نضرة عن أبي سعيد الخدري عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثل ذلك وليس في هذا الحديث أيضا ما يدل أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قصد بذلك الضرب إلى ثمانين قد يجوز أن يكون قصد إلى ضرب غير معلوم فضرب الناس فكان ضربهم في جملته ثمانين فتوخى عمر رضي الله عنه ذلك لما أراد أن يوقف الناس في ذلك على شيء معلوم فجعل مكان كل نعل سوطا والدليل على ذلك أيضا

ابو الصدیق یا ابو نضرہ نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے انہوں نے جناب رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح کی روایت کی ہے ۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أبي الصديق أو أبي نضرة ← زَيْدٍ الْعَمِّيِّ ← الْمَسْعُودِيِّ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← بذلك محمد بن بحر هو بن مطر

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4812

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 6 باب حد الخمر ) · حديث 4813

4549 - أن عبد الله بن محمد بن حشيش حدثنا قال ثنا مسلم بن إبراهيم قال ثنا هشام عن قتادة عن أنس أن النبي صلى الله عليه و سلم جلد في الخمر بالجريد والنعال وجلد أبو بكر أربعين فلما ولي عمر دعا الناس فقال ما ترون في حد الخمر فقال له عبد الرحمن بن عوف أرى أن تجعله كأخذ الحدود وتجعل فيه ثمانين فلو كان عمر رضي الله عنه قد علم أن ما في حديث أبي سعيد الذي ذكرناه توقيفا من رسول الله صلى الله عليه و سلم الناس على حد الخمر أنه ثمانون إذا لما إحتاج في ذلك إلى شورى ولكنه إنما شاور ليستنبطوا وقتا معلوما في ذلك لا يجاوزه إلى ما هو أكثر منه ولا ينقصه إلى أقل منه وقد

قتادہ نے انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے شراب پینے والے کو کھجور کی چھڑی اور جوتے اور مارا اور ابو بکر رضی اللہ عنہ نے چالیس کوڑے لگوائے ۔ جب عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو انہوں نے لوگوں کو بلایا اور سوال کیا کہ تم شرابی کی حد کتنی خیال کرتے ہو؟ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا میری رائے میں اس کو بھی ہم حدود کی طرح کر دیں اور اسی کوڑے اس میں مقرر کر دیں ۔ اگر عمر رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوتا جو کہ روایت ابو سعید رضی اللہ عنہ میں ہم نے ذکر کیا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو شراب کی حد کے سلسلہ میں واقفیت کرائی ہے کہ وہ اسی کوڑے ہے تو عمر رضی اللہ عنہ کو شوریٰ سے مشورہ کی ضرورت نہ تھی ۔ لیکن آپ نے مشورہ کیا تاکہ لوگ اس سے ایک معلوم مقدار جان لیں اس سے زیادہ اور کم کی طرف تجاوز نہ کر سکیں۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← هِشَامٍ ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← أن عبد الله بن محمد بن حشيش

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4813

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter