Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 6 باب حد الخمر ) · حديث 4790

4527 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا مسدد بن مسرهد قال ثنا يحيى قال ثنا سعيد بن أبي عروبة عن الداناج عن حضين بن المنذر الرقاشي أبي ساسان عن علي قال جلد رسول الله صلى الله عليه و سلم في الخمر أربعين وأبو بكر أربعين وكملها عمر ثمانين وكل سنة

حصین بن منذر قاشی ابو ساسان حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے شراب نوشی پر چالیس کوڑے لگائے اور ابو بکر رضی اللہ عنہ نے چالیس کوڑے لگائے اور عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو اسی مار کر مکمل کر دیا اور یہ سب سنت ہے ۔

عَلِيٍّ، ← حضين بن المنذر الرقاشي أبي ساسان ← الداناج ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← يَحْيَى ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4790

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 6 باب حد الخمر ) · حديث 4791

4528 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا مسلم بن إبراهيم قال ثنا عبد العزيز بن المختار الأنصاري قال ثنا عبد الله بن الداناج قال ثنا حضين بن المنذر الرقاشي قال شهدت عثمان بن عفان وقد أتي بالوليد بن عقبة وقد صلى بأهل الكوفة الصبح أربعا وقال أزيدكم قال فشهد عليه حمران ورجل آخر قال فشهد أحدهما أنه رآه يشربها وشهد الآخر أنه رآه يقيئها قال فقال عثمان إنه لم يقئها حتى شربها فقال عثمان لعلي أقم عليه الحد فقال علي لابنه الحسن أقم عليه الحد قال فقال الحسن ول حارها من تولى قارها قال فقال علي لعبد الله بن جعفر أقم عليه الحد فأخذ السوط فجعل يجلده وعلي يعد حتى بلغ أربعين ثم قال له أمسك ثم قال إن النبي صلى الله عليه و سلم جلد أربعين وجلد أبو بكر أربعين وجلد عمر ثمانين وكل سنة وهذا أحب إلي قال أبو جعفر فذهب قوم إلى أن الحد الذي يجب على شارب الخمر هذا أربعون واحتجوا في ذلك بهذه الآثار وخالفهم في ذلك آخرون وأدعوا فساد هذا الحديث وأنكروا أن يكون علي رضي الله عنه قال من ذلك شيئا لأنه قد روي عنه ما يخالف ذلك ويدفعه وهو ما

حصن بن منذر قاشی نے بیان کیا کہ میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں موجود تھا کہ ولید بن عقبہ کو لایا گیا اس نے اہل کوفہ کو صبح کی نماز چار رکعت پڑھائی اور کہا کیا اور اضافہ کروں ۔ راوی کہتے ہیں ان کے خلاف حمران اور ایک آدمی نے گواہی دی ۔ ایک نے گواہی دی کہ اس نے ان کو شراب پیتے دیکھا اور دوسرے نے گواہی دی کہ میں نے اس کو شراب کی قے کرتے دیکھا ۔ تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا اس نے شراب کی قے تبھی کی جبکہ اس نے پی ہے ۔ پھر حضرت عثمان نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو کہا اس پر حد قائم کرو۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے حسن رضی اللہ عنہ کو کہا اس پر حد قائم کرو۔ پس حضرت حسن رضی اللہ عنہ کہنے لگے ۔ اس کی مشقت کا ذمہ دار اسی کو بناؤ جو اس کی راحت کا ذمہ دار ہے ۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ بعض علماء کا قول یہ ہے کہ شراب پینے والے کی حد چالیس کوڑے ہے اور انہوں نے مذکورہ بالا آثار کو اپنا مستدل بنایا ہے ۔ دوسرے علماء نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ شراب نوشی کی کوئی حد مقرر نہیں کی گئی جیسا کہ آئندہ روایات سے ثابت ہو گااور دعویٰ ہے کہ اس روایت میں سقم ہے کیونکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اس کے خلاف روایات وارد ہیں جن کو ہم نقل کر رہے ہیں ۔ راوی کہتا ہے پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کو کہا اس پر حد کو قائم کرو۔ چنانچہ انہوں نے کوڑا پکڑا اور اس کو کوڑے لگانے لگے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ شمار کرتے جا رہے تھے ۔ یہاں تک کہ چالیس تک پہنچ گئے تو فرمایا بس کر دو پھر فرمایا جناب نبی اکرم ﷺ نے چالیس کوڑے لگائے اور ابو بکر نے چالیس لگائے اور عمر رضی اللہ عنہ نے اسی لگائے اور یہ دونوں سنت ہیں یہ مجھے زیادہ پسند ہے یعنی چالیس۔

حُضَيْنُ بْنُ الْمُنْذِرِ الرَّقَاشِيُّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الدَّانَاجِ ← عبد العزيز بن المختار الأنصاري ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4791

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 6 باب حد الخمر ) · حديث 4792

4529 - حدثنا سليمان بن شعيب قال ثنا الخصيب بن ناصح قال ثنا عبد العزيز بن مسلم عن مطرف عن عمير بن سعيد النخعي قال قال علي من شرب الخمر فجلدناه فمات وديناه لأنه شيء صنعناه

عمیر بن سعید نے نخعی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جو شراب پئے گا ہم اس کو کوڑے لگائیں گے پھر وہ مر گیا تو ہم اس کی دیت ادا کریں گے کیونکہ یہ کام ہم نے کیا ہے ۔

علي من شرب الخمر فجلدناه فمات وديناه لأنه شيء صنعناه ← عُمَيْرِ بْنِ سَعْيدٍ النَّخَعِيِّ ← مُطَرِّفٍ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ← الْخَصِيبُ بْنُ نَاصِحٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4792

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 6 باب حد الخمر ) · حديث 4793

4530 - حدثنا فهد قال ثنا محمد بن سعيد الأصبهاني قال أخبرنا شريك عن أبي حصين عن عمير بن سعيد عن علي قال ما حددت أحدا حدا فمات فيه فوجدت في نفسي شيئا إلا الخمر فإن رسول الله صلى الله عليه و سلم لم يسن فيها شيئا فهذا علي رضي الله عنه يخبر أن رسول الله صلى الله عليه و سلم لم يكن سن في شرب الخمر حدا ثم الرواية عن علي رضي الله عنه في حديث شارب الخمر فعلى خلاف ما في الحديث الأول أيضا من اختياره الأربعين على الثمانين

عمیر بن سعید نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ میں نے کسی شخص کو کوئی حد نہیں لگائی جس سے وہ مر گیا ہو تو اس کی وجہ سے میں دل میں کچھ غم محسوس کروں سوائے حد شراب کے کیوں کہ اس میں جناب رسول اللہ ﷺ نے کوئی طریق مقرر نہیں فرمایا۔ ذرا غور فرمائیں یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ خبر دے رہے ہیں کہ شراب نوشی میں جناب رسول اللہ ﷺ نے کوئی حد مقرر نہیں فرمائی ۔ پھر دوسری بات یہ ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی یہ روایت پہلی روایت جو شروع باب میں گزری اس کے خلاف ہے اس میں اسی کوڑوں کا مارنا ثابت ہو رہا ہے جبکہ شروع باب والی روایت اسی پر چالیس کوڑوں پر ترجیح دینا مذکور ہے ۔

عَلِيٍّ، ← عُمَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ ← أَبِي حَصِينٍ، ← شَرِيکٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَصْبَهَانِيُّ ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4793

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 6 باب حد الخمر ) · حديث 4794

4531 - حدثنا علي بن شيبة قال ثنا أبو نعيم قال ثنا سفيان عن عطاء بن أبي مروان عن أبيه قال أتى علي بالنجاشي قد شرب الخمر في رمضان فضربه ثمانين ثم أمر به إلى السجن ثم أخرجه من الغد فضربه عشرين ثم قال إنما جلدتك هذه العشرين لإفطارك في رمضان وجرأتك على الله

عطاء بن ابی مروان نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک نجاشی آدمی لایا گیا جس نے رمضان المبارک کے مہینے میں شراب پی تھی ۔ ا پنے اس کو اسی کوڑے لگائے پھر اس کو قید خانے میں ڈالنے کا حکم فرمایا دوسرے دن اس کو نکالا تو بیس کوڑے اور لگائے پھر فرمایا میں نے تمہیں بیس کوڑے اس لئے لگائے کہ تم نے رمضان المبارک میں روزہ توڑا اور اللہ تعالیٰ پر جرات کی ہے ۔

أَبِيهِ ← عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَرْوَانَ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← علي بن شيبة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4794

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 6 باب حد الخمر ) · حديث 4795

4532 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا أبو عامر قال ثنا سفيان عن أبي مصعب عن أبيه أن رجلا شرب الخمر في رمضان ثم ذكر نحوه

ابو مصعب نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ ایک آدمی نے شرب پی اس کے بعد انہوں نے پہلی روایت جیسی روایت نقل کی ۔

نَحْوَهُ ← أبيه أن رجلا شرب الخمر في رمضان ثم ← أَبِي مُصْعَبٍ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو عَامِرٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4795

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 6 باب حد الخمر ) · حديث 4796

4533 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب قال أخبرني أسامة بن زيد الليثي أن بن شهاب حدثه أن حميد بن عبد الرحمن بن عوف حدثه أن رجلا من كلب اسم قبيلة من العرب يقال له وبرة أخبره أن أبا بكر الصديق كان يجلد في الشراب أربعين وكان عمر يجلد فيها أربعين قال فبعثني خالد بن الوليد إلى عمر بن الخطاب فقدمت عليه فقلت يا أمير المؤمنين إن خالدا بعثني إليك قال فيم قلت إن الناس قد تخاوفوا العقوبة وانهمكوا في الخمر فما ترى في ذلك فقال عمر لمن حوله ما ترون فقال علي بن أبي طالب نرى يا أمير المؤمنين ثمانين جلدة فقبل ذلك عمر فكان خالد أول من جلد ثمانين ثم جلد عمر بن الخطاب ناسا بعده

حمید بن عبدالرحمن بن عوف نے بیان کیا کہ ایک کلبی آدمی نے جس کو وبرہ کہا جاتا تھا ۔ اس نے بتلایا کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ شراب نوشی کرنے والے کو چالیس کوڑے مارتے اور عمر رضی اللہ عنہ بھی اس پر چالیس کوڑے مارتے ۔ راوی کہتے ہیں مجھے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بھیجا چنانچہ میں ان کی خدمت میں آیا اور میں نے کہا اے امیر المومنین ! مجھے خالد رضی اللہ عنہ نے بھیجا ہے انہوں نے پوچھا کس لئے بھیجا ہے ؟ میں نے کہا انہوں نے پوچھا ہے کہ لوگ سزا سے ڈرتے ہیں اور شراب نوشی میں منہمک ہو گئے ہیں۔ آپ اس سلسلے میں کیا فرماتے ہیں ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے ارگرد والوں سے دریافت کیا تمہاری کیا رائے ہے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا امیر المومنین ! اسی کوڑے ہیں ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس بات کو قبول فرمایا۔ تو سب سے پہلے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اسی کوڑے لگائے ۔ پھر اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کچھ لوگوں کو کوڑے لگائے ۔

أَنَّ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← أسامة بن زيد الليثي أن بن شهاب ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4796

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 6 باب حد الخمر ) · حديث 4797

4534 - حدثنا علي بن شيبة قال ثنا روح بن عبادة قال ثنا أسامة بن زيد الليثي فذكره بإسناده مثله غير أنه قال فأتيت عمر فوجدت عنده عليا وطلحة والزبير أو عبد الرحمن بن عوف وهم متكئون في المسجد فذكر مثل ما في حديث يونس غير أنه زاد في كلام علي أنه قال إذا سكر هذى وإذا هذى إفترى وعلى المفتري ثمانون وتابعه أصحابه ثم ذكر الحديث أفلا ترى أن عليا رضي الله عنه لما سئل عن ذلك ضرب أمثال الحدود كيف هي ثم استخرج منها حدا برأيه فجعله كحد المفتري ولو كان عنده في ذلك شيء موقت عن النبي صلى الله عليه و سلم لأغناه عن ذلك ولو كان عند أصحابه رضي الله عنهم في ذلك أيضا عن النبي صلى الله عليه و سلم شيء إذا لأنكروا عليه أخذ ذلك من جهة الاستنباط وضرب الأمثال فدل ما ذكرنا منه ومنهم أنه لم يكن عندهم في ذلك عن رسول الله صلى الله عليه و سلم شيء فكيف يجوز أن يقبل بعد هذا عن علي رضي الله عنه ما يخالف هذا

روح بن عبادہ نے اسامہ بن زید لیثی سے پھر انہوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔ البتہ یہ فرق ہے فاتیت عمر فوجدت عندہ علیا ۔ اس روایت میں غور کرو کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا تو انہوں نے حدود کی مثال بیان کر کے پھر اس سے اپنی رائے اور اجتہاد سے اس کی سزا نکالی اور اس کی حد مفتری جیسی قرار دی ۔ اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس کوئی مقررہ چیز ہوتی جو جناب رسول اللہ ﷺ سے منقول ہوتی تو وہ ان کو اس اجتہاد سے مستغنی کرنے والی تھی اور اسی طرح اگر عشرہ مبشرہ رضی اللہ عنہ کے پاس اور چیز ہوتی تو پھر علی رضی اللہ عنہ ے اس کے خلاف قبول نہ کرتے ( پس ثابت ہوا کہ اس میں کوئی مقرر حد نہ تھی تبھی انہوں نے قبول کر لی ) کہ میں عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو وہاں میں نے علی رضی اللہ عنہ اور طلحہ رضی اللہ عنہ زبیر رضی اللہ عنہ یا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو پایا وہ مسجد میں تکیہ لگائے بیٹھے تھے پھر اسی طرح روایت نقل کی جو یونس کی روایت میں ہے البتہ اس میں علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے کلام میں یہ اضافہ ہے : اذا سکر ھذی افتریٰ و علی المفتری ثمانون کہ جب نشہ میں ہوتا ہے تو ہذیان بکتا ہے اور افتراء پر دازی کرتا ہے اور مفتریٰ پر اسی کوڑے ہیں ۔ ان کے ساتھیوں نے ان کی اتباع کی پھر حدیث کو اسی طرح ذکر کیا۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4797

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 6 باب حد الخمر ) · حديث 4798

4535 - حدثنا فهد قال ثنا محمد بن سعيد الأصبهاني قال أخبرنا محمد بن فضيل عن عطاء بن السائب عن أبي عبد الرحمن السلمي عن علي قال شرب نفر من أهل الشام الخمر وعليهم يومئذ يزيد بن أبي سفيان وقالوا هي حلال وتأولوا ليس على الذين آمنوا وعملوا الصالحات جناح فيما طعموا الآية فكتب فيهم إلى عمر فكتب عمر أن أبعث بهم إلي قبل أن يفسدوا من قبلك فلما قدموا على عمر إستشار فيهم الناس فقالوا يا أمير المؤمنين نرى أنهم قد كذبوا على الله وشرعوا في دينهم ما لم يأذن به الله فاضرب أعناقهم وعلي ساكت فقال ما تقول يا أبا الحسن قال أرى أن تستتيبهم فإن تابوا ضربتهم ثمانين ثمانين لشربهم الخمر وإن لم يتوبوا ضربت أعناقهم فإنهم قد كذبوا على الله وشرعوا في دينهم ما لم يأذن به الله فاستتابهم فتابوا فضربهم ثمانين ثمانين ففي هذا الحديث أن عليا رضي الله عنه لما سأله عمر رضي الله عنه عن حدهم أجابه أنه ثمانون ولم يقل إن شئت جعلته أربعين وإن شئت جعلته ثمانين فهذا ينفي ما في حديث الداناج مما ذكر فيه عن علي رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم في الأربعين ومن اختياره هو من بعد ذلك وقد روي أن السوط الذي ضرب به الوليد كان له طرفان فكانت الضربة ضربتين

ابوعبدالرحمن سلمی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ اہل شام کی ایک جماعت نے شراب پی اس وقت ان کے حاکم حضرت یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ تھے اور ان لوگوں نے کہانی حلال ہے اور اس آیت کی تاویل کی: ليس على الذين آمنوا وعملوا الصالحات جناح فيما طعموا (المائدہ:۹۳) پس انہوں نے ان کے معاملے کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس لکھ بھیجا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جواب میں لکھا کہ ان کو میرے پاس بھیج دو۔ اس سے پہلے کہ تمہارے جانب والے لوگوں کو بگاڑیں ۔ پس جب وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آئے تو آپ نے ان کے متعلق صحابہ کرام سے مشورہ کیا توانہوں نے کہا اے امیر المومنین!ہمارے خیال میں انہوں نے الله تعالی پر جھوٹ بولا ہے اور اپنے دین میں اس بات کو جائز قرار دیا ہے جس کی اللہ تعالی نے اجازت نہیں دی۔ پس ان کی گردنیں اڑادیں۔ اس موقعہ پر حضرت علی رضی اللہ عنہ خاموش تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا اے ابو الحسن تم کیا کہتے ہو؟ انہوں نے کہا میرا خیال یہ ہے کہ ان کو توبہ کرنے کیلئے کہا جائے پھر اگر توبہ کر لیں تو ان پر شراب کی حد اسی کوڑے مارو اور اگر توبہ نہ کریں تو ان کی گردنیں اڑادیں کیونکہ انہوں نے الله تعالی پر جھوٹ بولا ہے اور اپنے دین میں اس چیز کو جائز قرار دیا ہے جس کی الله تعالی نے اجازت نہیں دی پس ان کو توبہ کرنے کے لئے کہا گیا اور انہوں نے توبہ کر لی پھر ان کو اسی اسی کوڑے مارے گئے۔ اس روایت میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ان کی حد کے متعلق پوچھا تو انہوں نے اسی کوڑے بتلائے اور انہوں نے یہ نہیں کہا کہ اگر آپ پسند کریں تو چالیس لگائیں اور اگر پسند کریں تو اسی لگائیں۔ تو یہ بات ابن داناج والی روایت میں جو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نقل کی گئی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے چالیس کوڑے لگائے ہی اس کی نفی کر رہی ہے اور یہ ہی ثابت کر رہی ہے کہ یہ بات آپ نے اس کے بعد اختیار کی ہے نیز یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے ولیدکو جس کوڑے سے حد گالی ده دوشاخوں والا تھا تو ایک ضرب دو کا کام دیتی تھیں۔

عَلِيٍّ، ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَصْبَهَانِيُّ ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4798

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 6 باب حد الخمر ) · حديث 4799

4536 - حدثنا سليمان بن شعيب قال ثنا الخصيب بن ناصح قال ثنا سفيان عن عمرو بن دينار عن محمد بن علي أن عليا جلد الوليد أربعين بسوط له طرفان

عمرو بن دینا نے محمد بن علی سے روایت کی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ولید کو چالیس کوڑے ایسے کوڑے سے لگائے جس کی دو شاخیں تھیں۔

محمد بن علي أن عليا جلد الوليد أربعين بسوط له طرفان ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْخَصِيبُ بْنُ نَاصِحٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4799

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 6 باب حد الخمر ) · حديث 4800

4537 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا بن أبي مريم قال ثنا بن لهيعة قال حدثني أبو الأسود عن عروة أن عليا جلد الوليد بن عقبة بسوط له ذنبان أربعين جلدة في الخمر قال وذلك في زمن عثمان بن عفان رضي الله عنه ففي هذا الحديث أن عليا رضي الله عنه ضربه ثمانين لأن كل سوط من تلك الأسواط سوطان فاستحال أيضا أن يكون علي رضي الله عنه يقول إن الأربعين أحب إلي من الثمانين ثم يجلد هو ثمانين فهذا دليل أيضا على فساد حديث الداناج وقد روى آخرون عن علي رضي الله عنه خلاف ذلك كله

عروہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ولید بن عقبہ کو ایسے کوڑے سے حد لگائی جس کی دو دمیں تھیں یہ شراب کے سلسلہ میں چالیس کوڑے لگائے اور یہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت کا زمانہ تھا۔ اس روایت سے ثابت ہو گیا کہ آپ نے اس کو اسی کوڑے لگائے کیونکہ دو دموں والا کوڑا ایک دو کے قائم مقام ہے تو اس کی چالیس ضربات اسی بن جائیں گی۔ پس اس سے یہ ثابت ہو گیا کہ داناج والی روایت کے یہ الفاظ کہ مجھے اسی کی ہنست چالیس زیادہ محبوب ہیں یہ لفظ حضرت علی رضی اللہ عنہ نہیں کہہ سکتے ۔ پس اس روایت کے سقم ہم نے ظاہر کر دئیے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے دیگر حضرات نے بھی روایت داناج کے خلاف روایت کی ہے ۔

عُرْوَةَ ← أَبُو الْأَسْوَدِ، ← بن لهيعة ← بن اَبِیْ مَرْیَمَ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4800

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 6 باب حد الخمر ) · حديث 4801

4538 - حدثنا فهد قال ثنا حسين بن عبد الله ح

فہد نے حسین بن عبداللہ سے روایت کی ہے ۔

حُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4801

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter