شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 9 كتاب الأيمان والنذور ) ‹ ( 2 باب الرجل يحلف أن لا يكلم رجلا شهرا كم عدد ذلك الشهر من الأيام ) · حديث 4674
4415 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا بن وهب قال أخبرني بن أبي الزناد عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة قالت وقولهم إن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال إن الشهر تسع وعشرون لا والله ما كذلك قال أنا والله أعلم بما قال في ذلك إنما قال حين هجرنا لأهجركن شهرا فجاء حتى ذهب تسع وعشرون ليلة فقلت يا نبي الله إنك أقسمت شهرا وإنما غبت تسعا وعشرين ليلة فقال إن شهرنا هذا كان تسعا وعشرين ليلة فثبت بذلك أن يمينه كانت مع رؤية الهلال وقد روي عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه من هذا شيء
ہشام نے اپنے والد سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ صحابہ کرام کا یہ کہنا کہ مہینہ انتیس دن کا ہوتا ہے اللہ کی قسم آپ ﷺ نے اس طرح نہیں فرمایا۔ اللہ کی قسم مجھے خبر ہے جو آپ نے اس سلسلے میں فرمایا بلاشبہ آپ ﷺ نے ہمیں چھوڑتے وقت فرمایا میں ایک ماہ تمہیں چھوڑے رکھوں گا اور ہوا یہ کہ انتیس راتیں گزریں تھیں کہ آ پ تشریف لے آئے تو میں نے کہا اے اللہ کے نبی ﷺ آپ نے تو ایک ماہ کی قسم اٹھائی تھی اور آپ ہم سے انتیس راتیں غائب رہے اس پر آپ نے فرمایا ہمارا یہ مہینہ انتیس راتوں کا ہے ۔ اس سے یہ بات ثابت ہو ئی کہ آپ کی قسم چاند دیکھتے ہی تھی اور حضرت عم رضی اللہ عنہ سے بھی اس سلسلہ میں مروی ہے ۔
وقولهم ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← بن أبي الزناد ← بن وَهْبٍ ← ربيع المؤذن
Hadith 4674
