Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 8 كتاب العتاق ) ‹ ( 1 باب العبد يكون بين رجلين فيعتقه أحدهما ) · حديث 4589

4331 - حدثنا روح بن الفرج قال ثنا يوسف بن عدي قال ثنا عبد الرحيم بن سليمان الرازي عن حجاج بن أرطأة عن قتادة فذكر بإسناده مثله

حجاج بن ارطاۃ سے قتادہ سے پھر انہوں نے اپنی اسناد سے روایت نقل کی ہے ۔

قتادة فذكر بإسناده مثله ← حجاج بن أرطاة ← عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ، ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ

Hadith 4589

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 8 كتاب العتاق ) ‹ ( 1 باب العبد يكون بين رجلين فيعتقه أحدهما ) · حديث 4590

4332 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا روح قال ثنا سعيد بن أبي عروبة عن قتادة فذكر بإسناده مثله

سعید بن ابی عروبہ نے قتادہ سے پھر انہوں نے اپنی اسناد سے روایت نقل کی ہے ۔

قتادة فذكر بإسناده مثله ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← رَوْحٌ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Hadith 4590

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 8 كتاب العتاق ) ‹ ( 1 باب العبد يكون بين رجلين فيعتقه أحدهما ) · حديث 4591

4333 - حدثنا محمد بن النعمان قال ثنا الحميدي قال ثنا سفيان بن عيينة عن سعيد بن أبي عروبة ويحيى بن صبيح عن قتادة فذكر بإسناده مثله فكان هذا الحديث فيه ما في حديث بن عمر رضي الله عنهما وفيه وجوب السعاية على العبد إذا كان معتقه معسرا وقد روي عن النبي صلى الله عليه و سلم ما قد

سعید بن ابی عروبہ اور یحییٰ بن صبیح نے قتادہ سے پھر انہوں نے اپنی اسناد سے روایت نقل کی ہے ۔ اس روایت کا مضمون ابن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت کے مضمون سے ملتا جلتا ہے اس میں یہ ہے کہ غلام پر کمائی لازم ہے جبکہ اس کا آزاد کرنے والا تنگ دست ہو اور جناب نبی اکرم ﷺ سے مزید روایات بھی ہیں ۔

Hadith 4591

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 8 كتاب العتاق ) ‹ ( 1 باب العبد يكون بين رجلين فيعتقه أحدهما ) · حديث 4592

4334 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا أبو الوليد قال ثنا همام عن قتادة عن أبي المليح عن أبيه أن رجلا أعتق شقصا له في مملوك فأعتقه النبي صلى الله عليه و سلم كله عليه وقال ليس لله شريك

ابو الملیح نے اپنے والد سے نقل کیا کہ ایک آدمی نے اپنے غلام کا ایک حصہ آزاد کر دیا تو جناب نبی اکرم ﷺ نے اس غلام کو مکمل طور پر آزاد کر دیا اور فرمایا اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں ۔

أَبِيهِ ← أَبِي الْمَلِيحِ ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← بن أبي داود

Hadith 4592

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 8 كتاب العتاق ) ‹ ( 1 باب العبد يكون بين رجلين فيعتقه أحدهما ) · حديث 4593

4335 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا أبو عمر الحوضي قال ثنا همام فذكر بإسناده مثله فدل قول النبي صلى الله عليه و سلم ليس لله شريك على أن العتاق إذا وجب به بعض العبد لله انتفى أن يكون لغيره على بقيته ملك فثبت بذلك أن إعتاق الموسر والمعسر جميعا يبرئان العبد من الرق فقد وافق هذا الحديث أيضا حديث أبي هريرة رضي الله عنه وزاد حديث أبي هريرة عليه وعلى حديث بن عمر رضي الله عنهما وجوب السعاية للشريك الذي لم يعتق إذا كان المعتق معسرا فتصحيح هذه الآثار يوجب العمل بذلك ويوجب الضمان على المعتق الموسر لشريكه الذي لم يعتق ولا يوجب الضمان على المعتق المعسر ولكن العبد يسعى في ذلك للشريك الذي لم يعتق وهذا قول أبي يوسف ومحمد رحمة الله عليهما وبه نأخذ فأما أبو حنيفة رضي الله عنه فكان يقول إن كان المعتق موسرا فالشريك بالخيار إن شاء أعتق كما أعتق وكان الولاء بينهما نصفين وإن شاء إستسعى العبد في نصف القيمة فإذا أداها عتق وكان الولاء بينهما نصفين وإن شاء ضمن المعتق نصف القيمة فإذا أداها عتق ورجع بها المضمن على العبد فاستسعاه فيها وكان ولاؤه للمعتق وإن كان المعتق معسرا فالشريك بالخيار إن شاء أعتق وإن شاء إستسعى العبد في نصف قيمته فأيهما فعل فالولاء بينهما نصفان وإحتج في ذلك بما

ابو عمر الحوضی نے ہمام سے روایت کی پھر انہوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت نقل کی ہے اس روایت میں جناب رسول اللہ ﷺ کا ارشاد " لیس اللہ شریک " یہ ظاہر کرتا ہے کہ جب عتاق کے ذریعہ غلام کا بعض حصہ اللہ تعالیٰ کے لئے لازم ہو جائے تو اس کے بقیہ حصہ پر دوسرے کی ملکیت ختم ہو جاتی ہے پس اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ تنگ دست کا آزاد اور خوشحال کا آزاد دونوں ہی غلام کو غلامی سے بری کر دیتے ہیں ۔ پس یہ روایت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت کے موافق ہے اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں اس پر اضافہ ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت میں تو غلام پر سعی کو لازم قرار دیا گیا تاکہ اس شریک کو وہ رقم ادا کرے جس نے آزاد نہیں کیا یہ اس وقت ہے جبکہ آزاد کرنے والا تنگ دست ہو۔ پس ان آثار کی تصحیح کا تقاضا یہ ہے کہ عمل کو لازم قرار دیا جائے اور خوشحال آزاد کرنے والے پر اپنے شریک کا ضمان لازم کیا جائے جس نے آزاد نہیں کیا اور تنگ دست معتق پر ضمان کو لازم نہ کیا جائے لیکن غلام اس دوران آزاد نہ کرنے والے شریک کے لئے کما کر وہ رقم ادا کرے اور یہ امام ابو یوسف ، محمد رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے اور اسی کو اختیار کرتے ہیں ۔ امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا قول یہ ہے کہ اگر آزاد کرنے والا خوشحال ہو تو شریک کو اختیار ہے اگر چاہے تو اس کو آزاد کر دے جیسا دوسرے نے آزاد کیا اور ولاء دونوں میں مشترک رہے گی اور اگر پسند کرے تو نصف قیمت میں غلام کمائی کرے ۔ جب وہ قیمت ادا کر دے گا تو وہ آزاد ہو جائے گا اور ولاء دونوں میں نصفا نصف ہو گی۔ اگر آزاد کرنے والا تنگدست ہو تو شریک کا اختیار ہے اگر چاہے تو آزاد کر دے اور اگر چاہے تو غلام سے نصف قیمت میں کمائی کرائے ان میں جو بھی کرے اس کو اختیار ہے اور ولاء دونوں میں نصفا نصف ہو گی اس کی دلیل یہ روایت ہے جس کو عبدالرحمن بن یزید نے نقل کیا ۔

Hadith 4593

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 8 كتاب العتاق ) ‹ ( 1 باب العبد يكون بين رجلين فيعتقه أحدهما ) · حديث 4594

4336 - حدثنا أبو بشر الرقي قال ثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم عن عبد الرحمن بن يزيد قال كان لنا غلام قد شهد القادسية فأبلى فيها وكان بيني وبين أمي وبين أخي الأسود فأرادوا عتقه وكنت يومئذ صغيرا فذكر ذلك الأسود لعمر بن الخطاب رضي الله عنه فقال أعتقوا أنتم فإذا بلغ عبد الرحمن فإن رغب فيما رغبتم أعتق وإلا ضمنكم ففي هذا الحديث أن لعبد الرحمن بعد بلوغه أن يعتق نصيبه من العبد الذي قد كان دخله عتاق أمه وأخيه قبل ذلك فأبو حنيفة رحمة الله عليه قال فلما كان له أن يعتق بلا بدل كان له أن يأخذ العبد بأداء قيمة ما بقى له فيه حتى يعتق بأداء ذلك إليه ولما كان للذي لم يعتق أن يعتق نصيبه من العبد فضمن الشريك المعتق رجع إلى هذا المضمن من هذا العبد مثل ما كان الذي ضمنه فوجب له أن يستسعي العبد في قيمة ما كان لصاحبه فيه وفيما كان لصاحبه أن يستسعيه فيه فهذا مذهب أبي حنيفة رضي الله عنه في هذا الباب والقول الأول الذي ذهب إليه أبو يوسف ومحمد رحمهما الله أصح القولين عندنا لموافقته لما قد رويناه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم والله أعلم

عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ ہمارا ایک غلام تھا وہ قادسیہ میں حاضر ہوا اور وہاں خوب جو ہر دکھائے وہ میرے اور میری والدہ اور اسود کے درمیان مشترک تھا۔ انہوں نے آزاد کرنے کا ارادہ کیا میں اس وقت چھوٹا تھا ۔ اسود نے یہ بات جناب عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ذکر کی تو انہوں نے فرمایا تم اس کو آزاد کر دو۔ جب عبدالرحمن بالغ ہو گا اگر اس کو بھی آزاد کرنے کی رغبت ہوئی تو وہ آزاد ہو جائے گا ورنہ وہ اپنے حصہ کے مطابق قیمت کا ضمان تم سے لے لے گا۔ اس روایت میں ہے کہ عبدالرحمن بلوغت کے بعد اپنا حصہ غلام سے آزاد کر دے گا جس پر والدہ اور بھائی کی طرف سے عتاق پہلے داخل ہو چکا ہے پس ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں جب اس کو بلا بدل آزاد کرنے کا حق ہے تو اس کو یہ بھی اختیار ہے کہ وہ غلام کو اس قیمت کو ادا کر کے لے لے جو اس کی باقی ہے تاکہ وہ اس قیمت کو ادا کر کے وہ آزاد ہو جائے ۔ جبکہ وہ شخص جس نے آزاد نہیں کیا اس کو حق حاصل ہے کہ وہ غلام میں سے اپنے حصہ کو آزاد کرے تو آزاد کرنے والا شریک کو ضمان دے اگا اور یہ ضمان دینے والا اس مال کے لئے غلام کی طرف رجوع کرے گا جو کہ اس نے بطور ضمان دیا ہے تو اس کے لئے ضروری ہو گیا کہ وہ غلام سے قیمت کے مطابق محنت و مشعت کروائے ۔ جو اس کے مالک کے لئے اس پر واجب ہوئی ہے ۔ مالک کو قیمت ادا کرنے کے لئے اس غلام سے کمائی کروائے اس سلسلہ میں یہ امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا مذہب ہے اور پہلا قول جس کو ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ اور محمد رحمتہ اللہ علیہ نے اختیار کیا ہے وہ دونوں میں سے صحیح ترین قول ہے کیونکہ جناب رسول اللہ ﷺ سے وارد ہونے والی کثیر روایات کے موافق ہے ۔ واللہ اعلم ۔

عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أبو بشر الرقي

Hadith 4594

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter