Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 7 كتاب الطلاق ) ‹ ( 7 باب الرجل يقول لامرأته أنت طالق ليلة القدر متى يقع الطلاق ) · حديث 4544

4286 - حدثنا أبو أمية قال ثنا يزيد بن عبد ربه قال ثنا بقية عن أبي ثوبان قال حدثني عبدة بن أبي لبابة عن زر بن حبيش عن أبي بن كعب قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم ليلة القدر ليلة سبع وعشرين وعلامتها أن الشمس تصعد ليس لها شعاع كأنها طست

زربن حبیش نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لیلتہ القدر ستائیسویں رات ہے اور اس کی علامت یہ ہے کہ ٹھوس ہوتا ہے جیسے تھال ہے یعنی اس کی کوئی شعاع نہیں ہوتی ۔

أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ← عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ، ← أبي ثَوْبَان ← بَقِيَّةُ ← يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ← اَبُوْ اُمَیَّۃَ

Hadith 4544

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 7 كتاب الطلاق ) ‹ ( 7 باب الرجل يقول لامرأته أنت طالق ليلة القدر متى يقع الطلاق ) · حديث 4545

4287 - حدثنا يونس قال ثنا بشر بن بكر عن الأوزاعي قال حدثني عبدة بن أبي لبابة قال حدثني زر بن حبيش قال سمعت أبي بن كعب وبلغه أن بن مسعود قال من قام السنة كلها أصاب ليلة القدر فقال أبي والله الذي لا إله إلا هو إنها لفي رمضان والله الذي لا إله إلا هو إني لأعلم أي ليلة هي أمرنا رسول الله صلى الله عليه و سلم أن نقومها ليلة صبيحة سبع وعشرين

زرین حبیش کہتے ہیں کہ میں نے ابی بن کعب سےسنا۔ ان کو یہ بات پہنچی کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا ہے جو تمام سال قیام کرے گا وہ لیلتہ القدر کو پالے گا ۔ تو ابی رضی اللہ عنہ کہنے لگے مجھے اس اللہ کی قسم ہے جس کے سواء کوئی معبود نہیں بلاشبہ لیلتہ القدر رمضان میں ہے اور اس اللہ کی قسم جس کے سواء کوئی معبود نہیں ۔ میں خوب جانتا ہوں کہ وہ کون سی رات ہے ؟ جناب رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اس رات کو قیام کا حکم دیا جس کی صبح کو ستائیسویں تاریخ ہے ۔

من قام السنة كلها أصاب ليلة القدر ← أبي بن كعب وبلغه أن بن مسعود ← زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ← عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← بِشْرُ بْنُ بَکْرٍ ← يُونُسَ

Hadith 4545

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 7 كتاب الطلاق ) ‹ ( 7 باب الرجل يقول لامرأته أنت طالق ليلة القدر متى يقع الطلاق ) · حديث 4546

4288 - حدثنا أبو أمية قال ثنا محمد بن سابق قال ثنا مالك بن مغول عن عاصم بن أبي النجود عن زر بن حبيش قال قلت لأبي بن كعب إن عبد الله كان يقول في ليلة القدر من قام الحول أدركها فقال رحمة الله على أبي عبد الرحمن أما والذي يحلف به لقد علم أنها لفي رمضان وإنها ليلة سبع وعشرين قال فلما رأيته يحلف لا يستثنى قلت ما علمك بذلك قال بالآية التي أخبرنا بها رسول الله صلى الله عليه و سلم فحسبنا وعددنا فإذا هي ليلة سبع وعشرين يعني أن الشمس ليس لها شعاع قال أبو جعفر فهذا أبي بن كعب رضي الله عنه يخبر عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنها ليلة سبع وعشرين وينفى قول عبد الله من يقم الحول يصبها غير أنه قد روي عن عبد الله في ليلة القدر أنها في رمضان على ما قد حلف عليه أبي رضي الله عنه أن عبد الله قد علمه ولكنه في خلاف ليلة سبع وعشرين

زرین حبیش کہتے ہیں میں نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے کہا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جس نے تمام سال قیام کیا اس نے لیلتہ القدر کو پا لیا ۔ تو ابی فرمانے لگے ۔ اللہ تعالیٰ ابو عبدالرحمن پر رحم کرے خبردار ! اچھی طرح سن لو۔ مجھے اس اللہ کی قسم ہے جس کے نام کی قسم اٹھائی جاتی ہے ۔ وہ یقیناً جانتے ہیں کہ یہ رمضان المبارک میں ہے اور ستائیسویں رات ہے ۔ امام طحاوی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ہیں جو جناب رسول اللہ ﷺ سے اطلاع دے رہے ہیں کہ ستائیسویں کی رات ہے اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے قول کی نفی کر رہے ہیں کہ پورے سال میں قیام کرنے والا لیلتہ القدر کو پانے والا ہے ۔ البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ سے یہ مروی ہے کہ لیلتہ القدر رمضان المبارک میں ہے جیسا کہ ابی رضی اللہ عنہ کہہ رہے ہیں کہ وہ جانتے ہیں کہ وہ رمضان المبارک کی رات ہے ۔ لیکن ان کے ہاں ستائیس کے علاہ ہے ۔ جیسا کہ یہ روایت شاہد ہے ۔ زر کہتے ہیں جب میں ان کو دیکھا کہ وہ ان شاء اللہ کہنے کے بغیر قسم اٹھا رہے ہیں تو میں نے کہا آپ کو اس کا کیسے علم ہوا ؟ اس نشانی کے ذریعہ جس کی اطلاع ہمیں جناب رسول اللہ ﷺ نے دی پس ہم نے گنا اور شمار کیا تو وہ ستائیسویں رات تھی کہ جب سورج نکلتے وقت بلا شعاع تھا۔

قُلْتُ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ: ← زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ← عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، ← مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، ← اَبُوْ اُمَیَّۃَ

Hadith 4546

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 7 كتاب الطلاق ) ‹ ( 7 باب الرجل يقول لامرأته أنت طالق ليلة القدر متى يقع الطلاق ) · حديث 4547

4289 - حدثنا أبو أمية قال ثنا أبو نعيم عن إسرائيل عن أبي إسحاق عن حجير التغلبي عن الأسود عن عبد الله قال التمسوا ليلة القدر في ليلة تسع وعشرة من رمضان صبيحتها صبيحة بدر وإلا ففي ليلة إحدى وعشرين أو في ثلاث وعشرين فأما ما ذكرنا عن عبد الله رضي الله عنه أنها في ليلة تسع عشرة فقد نفاه ما حكاه أبو ذر رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم أنها في العشرين من الشهر الأول والآخر وقد روي عن عبد الله رضي الله عنه أيضا في ذلك ما

اسود نے عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ وہ فرماتے تھے لیلتہ القدر کو انیس رمضان کی رات میں تلاش کرو کہ یہ بدر کی صبح تھی اور نہ اکیس رمضان یا تئیس رمضان میں تلاش کرو۔ باقی اس روایت میں عبداللہ سے انیس رمضان کی جو بات مروی ہے اس کی نفی تو ابو ذر رضی اللہ عنہ والی روایت کر رہی ہے جس کو انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے نقل کیا ہے کہ وہ بیس دنوں یعنی اول عشرہ اور آخری عشرہ میں ہےاور خود عبداللہ رضی اللہ عنہ سے بھی اس سلسلہ میں تصدیقی روایت موجود ہے ۔ ملاحظہ ہو۔

عَبْدُ اللَّهِ ← الْأَسْوَدِ، ← حُجَيْرٍ التَّغْلِبِيِّ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← اَبُوْ اُمَیَّۃَ

Hadith 4547

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 7 كتاب الطلاق ) ‹ ( 7 باب الرجل يقول لامرأته أنت طالق ليلة القدر متى يقع الطلاق ) · حديث 4548

4290 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا الوهبي قال ثنا المسعودي عن سعد بن عمر بن جعدة عن أبي عبيدة عن عبد الله قال سئل رسول الله صلى الله عليه و سلم عن ليلة القدر فقال أيكم يذكر ليلة الصهباوات قال عبد الله أنا والله بأبي أنت وأمي يا رسول الله وبيدي تمرات أتسحر بهن وأنا مستتر بمؤخرة رحلي من الفجر وذلك حين يطلع الفجر ففي هذا الحديث أن رسول الله صلى الله عليه و سلم لما سئل عن ليلة القدر أخبرهم أي ليلة هي وأنها ليلة الصهباوات فوصفها عبد الله رضي الله عنه بما وصفها به من ضوء القمر عند طلوع الفجر وذلك لا يكون إلا في آخر الشهر فقد دل ذلك أيضا على ما قال أبي رضي الله عنه وفي كتاب الله عز و جل ما يدل أن ليلة القدر في شهر رمضان خاصة قال الله عز و جل حم والكتاب المبين إنا أنزلناه في ليلة مباركة إنا كنا منذرين فيها يفرق كل أمر حكيم فأخبر الله عز و جل أن الليلة التي يفرق فيها كل أمر حكيم فهي ليلة القدر وهي الليلة التي أنزل فيها القرآن ثم قال شهر رمضان الذي أنزل فيه القرآن فثبت بذلك أن تلك الليلة في شهر رمضان واحتجنا إلى أن نعلم أي ليلة هي من لياليه فكان الذي يدل على ذلك ما قد رويناه عن بلال عن النبي صلى الله عليه و سلم انها ليلة أربع وعشرين والذي روي عن أبي بن كعب رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم أنها ليلة سبع وعشرين وقد روي عن معاوية أيضا عن النبي صلى الله عليه و سلم مثل ما روي عن أبي رضي الله عنه في ذلك عن النبي صلى الله عليه و سلم

ابو عبیدہ نے عبداللہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ سے لیلتہ القدر کے متعلق سوال کیا گیا تو فرمایا ۔ تم میں سے کسی کو صہباوات کی رات یاد ہے ۔ عبداللہ کہنے لگے اللہ کی قسم میرے ماں ، باپ آپ پر قربان ہوں مجھے یاد ہے یا رسول اللہ ﷺ میرے ہاتھ میں کچھ کھجوریں تھیں جن سے میں سحری کر رہا ہوں اور میں اپنے کجاوے کے پچھلے حصہ کی آڑ میں صبح سے بچاؤ کے لئے چھپ رہا ہوں اور یہ طلوع فجر کا وقت ہے ۔ اس روایت میں جناب رسول اللہ ﷺ سے جب لیلتہ القدر کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ ﷺ نے ان کو خبر دی کہ وہ کون سی رات ہے اس کو لیلتہ الصہباوات سے تعبیر فرمایا ۔ تو عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس کی چاند کی روشنی اس طرح مہینے کے آخر میں ہوتی ہے پس یہ روایت تو اسی بات پر دلالت کر رہی ہے جس پر ابی رضی اللہ عنہ کی روایت دلالت کرتی ہے ۔ قرآن مجید کی آیات اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ لیلتہ القدر خاص طور پر رمضان کے اندر ہے جیسے قول تعالیٰ ( حم الکتب المبین انا انز لنہ فی لیلۃ مبرکۃ انا کنا منذرین فیھا یفرق کل امر حکیم ) ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی ہے کہ وہ رات جس میں ہر حکمت والا معاملہ طے ہوتا ہے وہ لیلتہ القدر ہے اور یہی وہ رات ہے جس میں قرآن مجید اتارا گیا ۔ پھر فرمایا گیا ( شھر رمضان الذی انزل فیہ القران ۔۔۔) اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ وہ رات رمضان المبارک میں ہے اب اس بات کی ضرورت پیش آئی کہ یہ معلوم کیا جائے کہ وہ کون سی رات ہے ؟ اس پر سب سے پہلی دلالت وہ روایت ہے جو بلال رضی اللہ عنہ نے جناب رسول اللہ ﷺ سے نقل کی ہے کہ وہ چوبیس کی رات ہے ۔ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی جو روایت جناب نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے وہ ستائیسویں شب سے متعلق ہے اور معاویہ رضی اللہ عنہ نے جناب نبی اکرم ﷺ سے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ جیسی روایت جناب نبی اکرم ﷺ سے نقل کی ہے ۔

والله بأبي أنت وأمي ← عَبْدُ اللَّهِ ← ليلة القدر فقال أيكم يذكر ليلة الصهباوات ← سئل رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي عُبَيْدَةَ ← سعد بن عمر بن جعدة ← الْمَسْعُودِيِّ ← الوهبي ← بن أبي داود

Hadith 4548

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 7 كتاب الطلاق ) ‹ ( 7 باب الرجل يقول لامرأته أنت طالق ليلة القدر متى يقع الطلاق ) · حديث 4549

4291 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا عبيد الله بن معاذ قال ثنا أبي قال ثنا شعبة عن قتادة قال سمعت مطرف بن عبد الله يحدث عن معاوية بن أبي سفيان عن النبي صلى الله عليه و سلم في ليلة القدر قال ليلة سبع وعشرين [ ص 94 ] فهذا منتهى ما وقفنا عليه من علم ليلة القدر أي ليلة هي مما دلنا عليه كتاب الله عز و جل وسنة رسول الله صلى الله عليه و سلم فأما ما روي بعد ذلك عن الصحابة رضي الله عنهم وتابعيهم فمعناه داخل في المعاني التي ذكرنا وإنما إحتجنا إلى ذكر ما روي في ليلة القدر لما قد أختلف فيه أصحابنا رحمهم الله في قول الرجل لامرأته أنت طالق في ليلة القدر متى يقع به الطلاق فقال أبو حنيفة رحمه الله إن قال لها ذلك قبل شهر رمضان لم يقع الطلاق حتى يمضي شهر رمضان لما قد أختلف في موضع ليلة القدر من ليالي شهر رمضان على ما قد ذكرنا في هذا الباب مما روي أنها في الشهر كله ومما قد روي أنها في خاص منه قال رحمه الله فلا أحكم بوقوع الطلاق إلا بعد مضي الشهر لأني أعلم بذلك أنه قد مضى الوقت الذي أوقع الطلاق فيه وأن الطلاق قد وقع قال رحمه الله وإن قال ذلك لها في شهر رمضان في أوله أو في آخره أو في وسطه لم يقع الطلاق حتى يمضي ما بقي من ذلك الشهر وحتى يمضي شهر رمضان أيضا كله من السنة القابلة قال رحمه الله لأنه قد يجوز أن تكون فيما مضى من هذا الشهر الذي هو فيه فلا يقع الطلاق حتى يمضي شهر رمضان كله من السنة الجائية وقد يجوز أن تكون فيما بقي من ذلك الشهر الذي هو فيه فيقع الطلاق فيها فيكون كمن قال لامرأته قبل شهر رمضان أنت طالق ليلة القدر فيكون الطلاق لا يحكم به عليه إلا بعد مضي شهر رمضان قال رحمه الله فلما اشكل ذلك لم أحكم بوقوع الطلاق إلا بعد علمي بوقوعه ولا أعلم ذلك إلا بعد مضي شهر رمضان الذي هو فيه وشهر رمضان الجائي بعده فهذا مذهب أبي حنيفة رحمه الله في هذا الباب وقد كان أبو يوسف رحمه الله قال مرة بهذا القول أيضا وقال مرة أخرى إذا قال لها ذلك القول في بعض شهر رمضان لم يحكم بوقوع الطلاق حتى يمضي مثل ذلك الوقت من شهر رمضان من السنة الجائية قال لأن ذلك إذا كان فقد كمل حول منذ قال ذلك القول وهي في كل حول فعلمنا بذلك وقوع الطلاق قال أبو جعفر وهذا قول عندي ليس بشيء لأنه لم يقل لنا إن كل حول يكون ففيه ليلة القدر على أن ذلك الحول ليس فيه شهر رمضان بكماله من سنة واحدة وإنما قيل لنا إنها في شهر رمضان من كل سنة هكذا دلنا عليه كتاب الله عز و جل وقاله لنا رسول الله صلى الله عليه و سلم على ما قد ذكرناه فيما تقدم من هذا الباب فلما كان ذلك كذلك أحتمل أن يكون إذا قال لها في بعض شهر رمضان أنت طالق ليلة القدر أن تكون ليلة القدر فيما مضى من ذلك الشهر فيكون إذا مضى حول من حينئذ إلى مثله من شهر رمضان من السنة الجائية لا ليلة قدر فيه ففسد بما ذكرنا قول أبي يوسف رحمه الله الذي وصفنا وثبت على هذا الترتيب ما ذهب إليه أبو حنيفة رضي الله عنه وقد كان أبو يوسف رحمه الله قال مرة أخرى إذا قال لها القول في بعض شهر رمضان إن الطلاق لا يقع حتى يمضي ليلة سبع وعشرين وذهب في ذلك فيما نرى والله أعلم إلى أن ما روي عن النبي صلى الله عليه و سلم فيه أنها في ليلة من شهر رمضان بعينها هو حديث بلال وحديث أبي بن كعب فإذا مضت ليلة سبع وعشرين علم أن ليلة القدر قد كانت فحكم بوقوع الطلاق وقبل ذلك فليس يعلم كونها فكذلك لم يحكم بوقوع الطلاق وهذا القول تشهد له الآثار التي رويناها في هذا الباب عن النبي صلى الله عليه و سلم

قتادہ نے مطرف بن عبداللہ سے نقل کیا وہ معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے وہ جناب رسول اللہ ﷺ سے لیلتہ القدر کے متعلق نقل کرتے ہیں کہ وہ ستائیسویں رات ہے۔ یہ ان روایات میں سے آخری روایت ہے جو لیلتہ القدر کے متعلق معلومات کے سلسلہ میں ہمیں میسر و مہیا ہوئیں ۔ کہ وہ کون سی رات ہے؟ قرآن مجید اور سنت رسول اللہ ﷺ سے یہی کچھ معلوم ہوا ہے البتہ جو صحابہ کرام اور تابعین سے منقول ہے اس کا مفہوم تقر یباً اس سے ملتا جلتا ہے۔ یہاں ہمیں لیلۃ القدر کے متعلق تفصیل کی اس لئے ضرورت پیش آئی کہ ہمارے علماء کا اس سلسلہ میں باہمی اختلاف کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو کہے انت طالق في لیلتہ القدر تو اس عورت کو کب طلاق ہوگی۔ امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا قول یہ ہے کہ اگر یہ بات رمضان سے پہلے کہی تو جب تک رمضان کا مہینہ گزرے گا طلاق واقع نہ ہوگی کیونکہ اس میں اختلاف ہے کہ لیلتہ القدر رمضان کی کون سی رات میں ہے جیسا ہم نے اس سلسلہ میں بیان کر دیا کہ بعض روایات سے اس کا تمام ماہ میں دائر ہونا معلوم ہوتا ہے اور بعض روایات سے خاص راتوں میں پایا جانا معلوم ہوتا ہے۔ امام صاحب فرماتے ہیں طلاق کے وقوع کا اس وقت حکم لگاؤں گا جبکہ مہینہ گزر جائے گا کیونکہ مجھے اس سے پختہ طور پر معلوم ہو جائے گا کہ وہ وقت گزر گیا کہ جس میں اس نے طلاق واقع کی اور طلاق واقع ہو گئی ۔ امام صاحب فرماتے ہیں اگر اس نے کہا في شهر رمضان - ابتداء یا انتہا میں یا درمیان میں تو طلاق اس وقت تک واقع نہ ہوگی جب تک مہینے کا بقیہ حصہ نہ گزر جائے اور تمام رمضان گزرے جو آئندہ سال آرہا ہے۔ امام صاحب فرماتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ مہینے کا جو حصہ گزرا وہ اس میں گزر چکی تو اس کو طلاق سارا رمضان گزرنے تک نہ ہوگی جو کہ آئندہ سال آرہا ہے کیونکہ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ رات مہینے کا جو حصہ باقی ہے اس میں ہوتو اس میں طلاق واقع ہو جائے۔ اس صورت میں اس شخص کی طرح ہو گا۔ جس نے اپنی بیوی کو رمضان سے پہلے کہا: - انت طالق ليلة القدر تو اس کے متعلق طلاق کا فیصلہ ماہ رمضان گزرنے کے بعد ہو سکے گا۔ امام صاحب فرماتے ہیں جب اس میں اشکال پیدا ہوگیا تو میں اس کے متعلق طلاق کے واقع ہونے کا فیصلہ اس وقت ہی کروں گاجب مجھے معلوم ہو جائے گا کہ طلاق واقع ہو گئی ہے اور اس کا مجھے علم نہیں جب تک کہ پورا رمضان نہ گزر جائے جس میں ليلة القدر پائی جاتی ہے اور وہ رمضان جو کہ اس کے بعد آنے والا ہے وہ بھی۔ یہ تو امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا اس سلسلہ میں مذہب ہے۔ امام ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ بعض اوقات تو وہ بھی یہی فرماتے ہیں اور بعض اوقات یہ فرماتے ہیں جب اس نے یہ بات رمضان المبارک کے بعض دنوں میں کہی تو اس پر طلاق کا اس وقت حکم کیا جائے گا جب آئندہ سال کے رمضان سے اتنے دن گزر جائیں۔ ابو یوسف کہتے ہیں کہ اس کی وجہ یہ ہے کیونکہ یہ رات مکمل سال میں ہے اور جب اس قول پر پورا سال گزرگیا تو ہم نے یقین سے جان لیا کہ وہ رات اس میں آگئی پس طلاق واقع ہوجائے گی۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں میرے نزدیک یہ قول کچھ وزن نہیں رکھتا کیونکہ ہمیں یہ نہیں کہا گیا کہ لیلۃ القدر تمام سال میں اس طور پر کہ جس میں رمضان کا مہینہ ایک سال میں مکمل نہ آتا ہو۔ بلکہ ہمیں یہ بتلایا گیا کہ ہر سال کے رمضان المبارک میں یہ رات پائی جاتی ہے۔ کتاب وسنت کی دلالت اس پر ہے جیسا کہ اس باب میں ہم پہلے ذکر کر آئے۔ پس جب یہ اسی طرح ہے۔ تو متکلم کا کلام جب کہ اس نے رمضان المبارک کا کچھ حصہ گزرنے پر کیا" انت طلاق ليلة القدر " میں احتمال ہوالیلة القدراس مہینہ کے گزشتہ دنوں میں اور اس وقت سے لے کر اگلے سال کے رمضان تک ہو جس میں لیلة القدر نہیں ۔ حالانکہ ذکورہ بات سے یہ بات غلط ثابت ہوتی ہے۔ اس ترتیب سے امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا قول ثابت ہوگیا۔ امام ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ کا دوسرا قولہ ہے کہ امام ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ بعض اوقات یہ کہتے ہیں کہ اگر رمضان المبارک کے کسی حصہ میں اس کو یہ بات کہے تو جب تک ، ستائیسویں شب نہ گزرنے پائے طلاق واقع نہ ہوگی۔ ہمارے نزدیک انہوں نے ہی یہ مسلک اس روایت کی بنیاد پراپنایا ہے کہ جس میں لیلتہ القدر رمضان المبارک کی ایک مخصوں رات ہے جیسا کہ حضرت ابی بن کعب اور بلال رضی اللہ عنہ کی روایات میں وارد ہے اس بناء پر جب ستائیس رمضان گزر جائے گی تو لیلتہ القدرگز رچکی جس سے طلاق کو مشروط کیا تھا۔ فلہذا اس کو طلاق پڑ جائے گی اور وقوع طلاق کا فیصلہ کردیا جائے گا اور اس سے پہلے چونکہ اس کے گزرنے کاعلم نہیں ہوا پس وقوع طلاق کا حکم نہ دیا جائے گا۔ اس قول کی شاہد وہ روایات ہیں جو ہم گزشتہ اوراق میں جناب رسول اللہ ﷺ سے نقل کر آئے ہیں۔ ليلة القدر کے متعلق تفصیل کی وجہ یہاں ہمیں لیلة القدر کے متعلق تفصیل کی اس لئے ضرورت پیش آئی کہ ہمارے علماء کا اس سلسلہ میں باہمی اختلاف کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو کہے انت طالق في ليلة القدر تو اس عورت کو کب طلاق ہوگئی۔ امام ابوحنیفہ کا قول: اگر یہ بات رمضان سے پہلے کی تو جب تک رمضان کا مہینہ نہ گزرے گا طلاق واقع ہوگی کیونکہ اس میں اختلاف ہے کہ لیلة القدر رمضان کی کون یارات میں ہے جیسا ہم نے اس سلسلہ میں بیان کر دیا کہ بعض روایات سے اس کا تمام ماہ میں دائر ہو اور بعض روایات سے خاص راتوں میں پایا جانا معلوم ہوتا ہے۔ امام صاحب فرماتے ہیں طلاق کے وقوع کو اس وقت حکم لگاؤں گا جبکہ مہینہ گزر جائے گا کیونکہ مجھے اس سے پختہ طور پر معلوم ہو جائے گا کہ وہ وقت گزر گیا کہ جس میں اس سے طلاق واقع کی اور طلاق واقع ہو گئی ۔

مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ ← مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← أَبِي ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، ← بن أبي داود

Hadith 4549

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter