شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 7 كتاب الطلاق ) ‹ ( 7 باب الرجل يقول لامرأته أنت طالق ليلة القدر متى يقع الطلاق ) · حديث 4508
4250 - حدثنا محمد بن حميد وفهد بن سليمان قالا ثنا سعيد بن أبي مريم قال أخبرنا محمد بن جعفر بن أبي كثير قال أخبرني موسى بن عقبة عن أبي إسحاق الهمداني عن سعيد بن جبير عن بن عمر قال سئل رسول الله صلى الله عليه و سلم وأنا أسمع عن ليلة القدر فقال هي في كل رمضان ففي هذا الحديث أنها في كل رمضان فقال قوم هذا دليل على أنها قد تكون في أوله وفي وسطه كما قد تكون في آخره وقد يحتمل قوله صلى الله عليه و سلم في كل رمضان هذا المعنى ويحتمل أنها في كل رمضان تكون إلى يوم القيامة مع أن أصل هذا الحديث موقوف كذلك رواه الأثبات عن أبي إسحاق
سعید بن جبیر سے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ سے لیلتہ القدر کے متعلق دریافت کیا گیا اور میں خود سن رہا تھا آپ ﷺ نے فرمایا وہ تمام رمضان میں ہوتی ہے ۔ اس حدیث سے معلوم ہو رہا ہے کہ لیلتہ القدر تمام رمضان میں ہے اسی وجہ سے ایک جماعت کا قول یہ ہے کہ رمضان کی ابتداء درمیان اور کبھی آخر میں ہوئی ہے ۔ یہ پہلا احتمال ہے ۔ لیلتہ القدر قیامت تک آنے والے ہر رمضان میں ہے ( یہ نہیں ہو سکتا کہ کسی میں ہو اور کسی میں نہ ہو ) یہ روایت موقوف ہے جیسا کہ ثقہ روات نے اس کو ابو اسحاق سے روایت کیا ہے ۔
لَيْلَةِ الْقَدْرِ ← أسمع ← سئل رسول الله صلى الله عليه و سلم ← بن عُمَرَ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← اَبِیْ اِسْحَاقَ الْھَمْدَانِیِّ ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي کَثِيرٍ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← محمد بن حميد وفهد بن سليمان
Hadith 4508
