Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 7 كتاب الطلاق ) ‹ ( 5 باب المتوفى عنها زوجها هل لها أن تسافر في عدتها وما دخل ذلك من حكم المطلقة في وجوب الإحداد عليها ) في عدتها · حديث 4474

4218 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال أخبرني يحيى بن عبد الله بن سالم عن سعد بن إسحاق فذكر بإسناده مثله

یحییٰ بن عبداللہ بن سالم نے سعد بن اسحاق سے پھر انہوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔

سعد بن إسحاق فذكر بإسناده مثله ← يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَالِمٍ، ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4474

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 7 كتاب الطلاق ) ‹ ( 5 باب المتوفى عنها زوجها هل لها أن تسافر في عدتها وما دخل ذلك من حكم المطلقة في وجوب الإحداد عليها ) في عدتها · حديث 4475

4219 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب أن مالكا أخبره عن سعد فذكر بإسناده مثله

مالک نے سعد سے پھر انہوں نے اپنی اسناد سے روایت نقل کی ہے ۔

سعد فذكر بإسناده مثله ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4475

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 7 كتاب الطلاق ) ‹ ( 5 باب المتوفى عنها زوجها هل لها أن تسافر في عدتها وما دخل ذلك من حكم المطلقة في وجوب الإحداد عليها ) في عدتها · حديث 4476

4220 - حدثنا علي بن شيبة قال ثنا قبيصة بن عقبة قال ثنا سفيان الثوري عن سعد فذكر بإسناده مثله غير أنه لم يذكر سؤال عثمان إياها ولا تضاد به

سفیان ثوری نے سعد سے پھر انہوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت نقل کی البتہ انہوں نے عثمان رضی اللہ عنہ کے سوال کا تذکرہ نہیں کیا اور نہ ان سے متضاد روایت کی ۔

سَعْدٍ، ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ← علي بن شيبة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4476

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 7 كتاب الطلاق ) ‹ ( 5 باب المتوفى عنها زوجها هل لها أن تسافر في عدتها وما دخل ذلك من حكم المطلقة في وجوب الإحداد عليها ) في عدتها · حديث 4477

4221 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا الوهبي قال ثنا بن إسحاق عن سعد فذكر بإسناده مثله غير أنه قال الفريمة ولم يقل الفريعة وذكر أيضا سؤال عثمان إياها ولم يذكر قضاءه به

ابن اسحاق نے سعد سے روایت کی پھر انہوں نے اپنی سند سے روایت نقل کی البتہ انہوں نے فریعہ کی بجائے فریمہ نام ذکر کیا ۔ البتہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے سوال کا تو تذکرہ کیا مگر ان کے فیصلے کا تذکرہ نہیں کیا۔

أيضا سؤال عثمان إياها ولم يذكر قضاءه به ← الفريمة ولم يقل الفريعة ← بإسناده مثله غير أنه ← سَعْدٍ، ← بن إِسْحَاقَ، ← الوهبي ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4477

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 7 كتاب الطلاق ) ‹ ( 5 باب المتوفى عنها زوجها هل لها أن تسافر في عدتها وما دخل ذلك من حكم المطلقة في وجوب الإحداد عليها ) في عدتها · حديث 4478

4222 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا عمرو بن خالد قال ثنا زهير بن معاوية عن سعد بن إسحاق أو إسحاق بن سعد ثم ذكر بإسناده مثله وقال الفريعة ولا أدري أذكر سؤال عثمان إياها وقضاءه به أم لا قال أبو جعفر فمنع رسول الله صلى الله عليه و سلم الفريعة من الانتقال من منزلها في عدتها وجعل ذلك من إحدادها وقد ذكرنا في حديث أسماء أن النبي صلى الله عليه و سلم قال لها تسكني ثلاثا ثم اصنعي ما شئت حين توفي عنها زوجها وهو جعفر بن أبي طالب رضي الله عنه ففي ذلك أنه ليس عليها أن تحد أكثر من ثلاثة وكل قد أجمع أن ذلك منسوخ لتركهم ذلك واستعمالهم حديث زينب بنت جحش وعائشة وأم سلمة وأم حبيبة وما ذكرنا مع ذلك مما يوجب الإحداد في العدة كلها وكل ما ذكرنا في الإحداد إنما قصد بذكره إلى المتوفي عنها زوجها فاحتمل أن يكون ذلك في العدة التي تجب بعقد النكاح فتكون كذلك المطلقة عليها في ذلك من الإحداد في عدتها مثل ما على المتوفي عنها زوجها واحتمل أن يكون ذلك خصت به العدة من الوفاة خاصة فنظرنا في ذلك إذ كانوا قد تنازعوا في ذلك واختلفوا فقال قائلون لا يجب على المطلقة في عدتها إحداد وقال آخرون بل الإحداد عليها في عدتها كما هو على المتوفي عنها زوجها فراينا المطلقة منهية عن الانتقال من منزلها في عدتها كما نهيت المتوفي عنها زوجها وذلك حق عليها ليس لها تركه كما ليس لها ترك العدة فلما ساوت المتوفي عنها زوجها في وجوب بعض الإحداد عليها ساوتها في وجوب كلتيه عليها فثبت بما ذكرنا وجوب الإحداد على المطلقة في عدتها وقد قال بذلك جماعة من المتقدمين

زہیر بن معاویہ نے سعد بن اسحاق یا اسحاق بن سعد سے روایت نقل کی پھر انہوں نے اپنی سند سے روایت نقل کی ہے اور نام الفریعہ ہی لائے اور مجھے معلوم نہیں کہ عثمان رضی اللہ عنہ کے ان سے سوال کرنے اور پھر اس کے مطابق فیصلہ کرنے کا تذکرہ کیا ہے یا نہیں ۔ یہ روایت فریعہ جو متعدد اسناد سے مروی ہے امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس میں جناب رسول اللہ ﷺ نے فریعہ رضی اللہ عنہ کو مکان سے منتقل ہونے سے روک دیا جبکہ وہ عدت میں تھیں اور اسی مکان میں رہائش کو سوگ کا حصہ قرار دیا ہم نے پہلے اسماء رضی اللہ عنہ کی روایت میں ذکر کیا ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے اس کو فرمایا تین روز وہاں قیام کرو پھر جہاں چاہو جا سکتی ہو جب کہ ان کے خاوند جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ اس سے یہ معلوم ہوتا تھا کہ ان پر سوگ صرف تین روزہ ہے اور تمام ائمہ کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ منسوخ ہے کیونکہ تمام نے اس روایت کو چھوڑ دیا اور زینب بنت حجش رضی اللہ عنہ والی روایت کو اختیار کیا اسی طرح وہ روایت جس کو عائشہ صدیقہ ، ام سلمہ وام حبیبہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اس کو اختیار کیا۔ عدت کے سوگ کے سلسلہ میں جس قدر روایات ہم نے ذکر کی ہیں ۔ یہ اس عورت کی ہیں جس کا خاوند فوت ہو جائے اگرچہ اس میں دو احتمال اور ہیں ۔ ممکن ہے کہ یہی حکم اس عدت کا بھی ہو جو عقد نکاح سے لازم آتی ہے اسی طرح ہے اسی طرح مطلقہ کی عدت کا سوگ ہے جیسا کہ اس عورت کا جس کا خاوند وفات پا جائے ۔ یہ بھی احتمال ہے کہ عدت وفات سے خاص ہو چنانچہ فیصلہ تک پہنچنے کے لئے غور و فکر ضروری ہے کیونکہ اس میں شدید اختلاف ہے ۔ مطلقہ پر ایام عدت میں سوگ نہیں ۔ اس پر بھی عدت میں اسی طرح سوگ لازم ہے جس طرح اس پر لازم ہے جس کا خاوند فوت ہو جائے ۔ چنانچہ ہم نے غور کیا کہ مطلقہ کو ایام عدت میں اپنے مکان سے دوسری جگہ منتقل ہونا ممنوع ہے جیسا کہ اس عورت کو مکان سے منتقل ہونا ممنوع ہے جس کا خاوند فوت ہو جائے اور یہ اس کے خاوند کا حق ہے جو اس پر لازم ہے اس کو اس کا ترک اسی طرح جائز نہیں جیسا کہ عدت کا ترک کرنا جائز نہیں ۔ پس جب متوفی عنہاز وجہا کے ساتھ وہ بعض غم اور سوگ میں برابر ہے تو تمام سوگ میں بھی اس کے برابر ہو گی اس سے ثابت ہوا کہ مطلقہ کو بھی عدت میں سوگ کی کیفیت لازم ہے ۔ متقدمین علماء کی ایک جماعت نے اسی کو اختیار کیا ہے ۔

الفريعة ولا أدري أذكر سؤال عثمان إياها وقضاءه به أم لا ← بإسناده مثله ← سعد بن إسحاق أو إسحاق بن سعد ثم ← زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ← عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4478

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 7 كتاب الطلاق ) ‹ ( 5 باب المتوفى عنها زوجها هل لها أن تسافر في عدتها وما دخل ذلك من حكم المطلقة في وجوب الإحداد عليها ) في عدتها · حديث 4479

4223 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا أسد قال ثنا بن لهيعة قال ثنا أبو الزبير قال سألت جابرا أتعتد المطلقة والمتوفي عنها زوجها أم تخرجان فقال جابر لا فقلت أتتربصان حيث أرادتا فقال جابر لا

ابو الزبیر نے بیان کیا کہ میں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا ۔ کیا مطلقہ اور متوفیٰ ، عنہاز و جہا عدت گزاریں گی یا اپنے گھر سے نکل جائیں گی جابر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا وہ نہ نکلیں گی میں نے کہا کیا وہ دونوں جہاں چاہیں ٹھہر سکتی ہیں آپ نے فرمایا نہیں ۔

جابر: لا. ← جابر لا فقلت أتتربصان حيث أرادتا ← سألت جابرا أتعتد المطلقة والمتوفي عنها زوجها أم تخرجان ← أَبُو الزُّبَيْرِ ← بن لهيعة ← أسد ← ربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4479

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 7 كتاب الطلاق ) ‹ ( 5 باب المتوفى عنها زوجها هل لها أن تسافر في عدتها وما دخل ذلك من حكم المطلقة في وجوب الإحداد عليها ) في عدتها · حديث 4480

4224 - حدثنا روح بن الفرج قال ثنا عبد الله بن محمد الفهمي قال أخبرنا بن لهيعة عن أبي الزبير عن جابر أنه قال في المطلقة إنها لا تعتكف ولا المتوفي عنها زوجها ولا تخرجان من بيوتهما حتى توفيا أجلهما فهذا جابر بن عبد الله قد روى عن النبي صلى الله عليه و سلم في إذنه لخالته في الخروج في جداد نخلها في عدتها ما قد ذكرناه فيما تقدم من هذا الكتاب ثم قد قال هو بخلاف ذلك فهذا دليل على ثبوت نسخ ذلك عنده وفي حديث جابر رضي الله عنه أيضا الذي ذكرناه عنه من قوله تسويته بين المطلقة والمتوفي عنها زوجها في ذلك فلما كانتا في عدتهما سواء في بعض الإحداد كانتا كذلك في كل الإحداد وقد كان قبل ذلك في بعض العدة على ما ذكرنا في حديث أسماء ثم نسخ ذلك وجعل الإحداد في كل العدة فيحتمل أن يكون ما أمرت به خالة جابر رضي الله عنه كان والإحداد إنما هو في الثلاثة الأيام من العدة ثم نسخ ذلك وجعل الإحداد في كل العدة وقد روي في ذلك أيضا عن المتقدمين ما قد

ابو الزبیر نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے مطلقہ کے سلسلہ میں فرمایا وہ اعتکاف نہ کرے گی اور نہ وہ عورت اعتکاف کرے گی جس کا خاوند فوت ہو چکا ہو اور وہ عدت کے پورا ہونے تک گھروں سے نہ نکلیں گی ۔ یہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ ہیں جن کی روایت شروع باب ہم نقل کر آئے جناب رسول اللہ ﷺ نے ان کی خالہ کو ایام عدت میں کھجوریں توڑنے کے لئے اپنے باغ میں جانے کی اجازت مرحمت فرمائی تھی جبکہ اس روایت میں جابر رضی اللہ عنہ خود اس کے خلاف فتویٰ دے رہے ہیں اور یہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ روایت منسوخ ہے ۔ نیز انہی جابر رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہم ذکر کر آئے کہ انہوں مطلقہ اور اس عورت کو جو بیوہ ہو اس سلسلے میں برابر قرار دیا ۔ پس جب دونوں عدت کے سلسلہ میں بعض سوگ میں برابر ہیں تو تمام سوگ میں کیونکر برابر نہ ہوں گی اور شروع میں اسی طرح تھا کہ بعض عدت میں سوگ تھا جیسا کہ ہم نے اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہ کی روایت کے حوالہ سے ذکر کیا ہے پھر یہ بات منسوخ ہو گئی اور سوگ کو پوری عدت میں لازم کر دیا گیا ۔ اس سے جابر رضی اللہ عنہ نے اپنی خالہ سے جو روایت نقل کی ہے اس میں احتمال پیدا ہوا کہ بھی عدت کے تین دن سوگ والے معاملے کے ساتھ ہو پھر تین دن کے منسوخ ہونے سے یہ بھی منسوخ ہو گیا اور سوگ پوری عدت میں لازم کر دی گئی اور یہ بات بھی متقدمین سے مروی ہے ۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← بن لهيعة ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَهْمِيُّ ← رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4480

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 7 كتاب الطلاق ) ‹ ( 5 باب المتوفى عنها زوجها هل لها أن تسافر في عدتها وما دخل ذلك من حكم المطلقة في وجوب الإحداد عليها ) في عدتها · حديث 4481

4225 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا بشر بن عمر قال ثنا شعبة قال ثنا منصور ح

شعبہ نے منصور سے اسی طرح روایت کی ہے ۔

مَنْصُورٌ، ← شُعْبَةُ، ← بِشْرُ بْنُ عُمَرَ؛ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4481

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 7 كتاب الطلاق ) ‹ ( 5 باب المتوفى عنها زوجها هل لها أن تسافر في عدتها وما دخل ذلك من حكم المطلقة في وجوب الإحداد عليها ) في عدتها · حديث 4482

وحدثنا علي بن شيبة قال ثنا قبيصة قال ثنا سفيان عن منصور عن مجاهد عن سعيد بن المسيب أن عمر رد نسوة من ذي الحليفة توفي عنهن أزواجهن فخرجن في عدتهن

منصور نے مجاہد سے انہوں نے سعید بن المسیب رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ذوالحنیفہ سے ان عورتوں کو واپس کر دیا جن کے خاوند فوت ہو چکے تھے اور وہ اپنے ایام عدت میں نکل کر حج کرنا چاہتیں تھیں۔

مُجَاهِدٍ ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← قَبِيصَةُ، ← علي بن شيبة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4482

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 7 كتاب الطلاق ) ‹ ( 5 باب المتوفى عنها زوجها هل لها أن تسافر في عدتها وما دخل ذلك من حكم المطلقة في وجوب الإحداد عليها ) في عدتها · حديث 4483

4226 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا بشر بن بكر قال حدثني الأوزاعي قال حدثني يحيى بن أبي كثير قال حدثني محمد بن عبد الرحمن بن ثوبان أن عمر بن الخطاب وزيد بن ثابت قالا في المتوفي عنها زوجها وبها فاقة شديدة فلم يرخصا لها أن تخرج من بيتها إلا في بياض نهارها وتصيب من طعامهم ثم ترجع إلى بيتها فتبيت فيه

محمد بن عبدالرحمن بن ثوبان کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہ دونوں نے بیوہ جس کو شدید فاقہ تھا صرف دن کے اوقات میں گھر سے نکلنے کی اجازت دی تاکہ وہ لوگوں کے کھانے میں کھانا پالے اور پھر لوٹ کر اپنے گھر میں رات گزارے ۔

زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ← محمد بن عبد الرحمن بن ثوبان أن عمر بن الخطاب ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← بِشْرُ بْنُ بَکْرٍ ← ربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4483

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 7 كتاب الطلاق ) ‹ ( 5 باب المتوفى عنها زوجها هل لها أن تسافر في عدتها وما دخل ذلك من حكم المطلقة في وجوب الإحداد عليها ) في عدتها · حديث 4484

4227 - حدثنا علي بن شيبة قال ثنا قبيصة قال ثنا سفيان عن عبيد الله وابن أبي ليلى وموسى بن عقبة عن نافع عن بن عمر أنه قال المتوفي عنها زوجها لا تبيت في غير بيتها

نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ بیوہ عورت ایام عدت میں اپنے گھر کے علاوہ اور کہیں رات نہ گزارے ۔

الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا لاَ تَبِيتُ فِي غَيْرِ بَيْتِهَا. ← بن عمر أنه ← نَافِعٍ ← عبيد الله وابن أبي ليلى وموسى بن عقبة ← سُفْيَانَ، ← قَبِيصَةُ، ← علي بن شيبة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4484

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 7 كتاب الطلاق ) ‹ ( 5 باب المتوفى عنها زوجها هل لها أن تسافر في عدتها وما دخل ذلك من حكم المطلقة في وجوب الإحداد عليها ) في عدتها · حديث 4485

4228 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا الوهبي قال ثنا بن إسحاق عن يزيد بن قسيط عن مسلم بن السائب عن أمه قالت لما توفي السائب ترك زرعا بقناة فجئت بن عمر فقلت يا أبا عبد الرحمن إن السائب توفي وترك ضيعة من زرع بقناة وترك غلمانا صغارا ولا حيلة لهم وهي لنا دار ومنزل أفأنتقل إليها فقال لا تعتدي إلا في البيت الذي توفي فيه زوجك اذهبي إلى ضيعتك بالنهار وارجعي إلى بيتك بالليل فبيتي فيه فكنت أفعل ذلك

مسلم بن سائب نے اپنی والدہ سے روایت نقل کی کہ جب سائب کی وفات ہو گئی اور انہوں نے مقام قتادہ میں کھیتی وراثت میں چھوڑی اور چھوٹے چھوٹے بچے چھوڑے جن کا بظاہر کوئی ذریعہ نہ تھا میں ابن عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور سائب کی وفات اور ان بچوں اور کھیتی کا تذکرہ کیا جو کہ ہمارے لئے گھر اور مکان کی حیثیت رکھتا تھا ۔ میں نے پوچھا کیا میں وہاں منتقل ہو جاؤں تو انہوں نے فرمایا تم اپنے اسی گھر میں عدت گزارو جہاں تمہارے خاوند نے وفات پائی ہے دن کے وقت اپنی زمین پر جاؤ اور رات کو اپنے مکان پر لوٹ آؤ اور یہیں رات گزارو۔ چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا۔

أُمِّهِ2، ← مُسْلِمُ بْنُ السَّائِبِ، ← يَزِيدَ بْنِ قُسَيْطٍ، ← بن إِسْحَاقَ، ← الوهبي ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4485

chevron_left Previous
12345
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter