شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 7 كتاب الطلاق ) ‹ ( 4 باب المطلقة طلاقا بائنا ماذا لها على زوجها في عدتها ) · حديث 4440
4190 - حدثنا بن مرزوق قال أخبرنا بشر بن عمر قال ثنا عبد الرحمن بن القاسم عن أبيه قال قالت عائشة ما لفاطمة من خبر في أن تذكر هذا الحديث يعني قولها لا نفقة ولا سكنى فهذه عائشة رضي الله عنها لم تر العمل بحديث فاطمة أيضا وقد صرف ذلك سعيد بن المسيب إلى خلاف المعنى الذي صرفه إليه أهل المقالة الأولى
قاسم نے اپنے والد سے وہ کہتے ہیں کہ عائشہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگیں فاطمہ کی اس بات کے نقل کرنے میں کوئی فائدہ نہیں یعنی اس کا یہ قول کہ نہ نفقہ ہے اور نہ سکنیٰ۔ یہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ بھی فاطمہ کی روایت پر عمل کو پسند نہیں کرتیں بلکہ سعید بن المسیب نے اس کا دوسرا معنی بیان کیا ہے جس سے فریق اول کا اعتراض ہی سر سے اٹھ جاتا ہے ۔
أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، ← بِشْرُ بْنُ عُمَرَ؛ ← بن مرزوق
Hadith 4440
