Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 7 كتاب الطلاق ) ‹ ( 4 باب المطلقة طلاقا بائنا ماذا لها على زوجها في عدتها ) · حديث 4428

4178 - حدثنا روح بن الفرج قال ثنا أحمد بن صالح قال ثنا عبد الرزاق قال أخبرنا بن جريج قال أخبرني عبد الرحمن بن عاصم عن ثابت أن فاطمة بنت قيس أخبرته وكانت عند رجل من بني مخزوم فأخبرته أنه طلقها ثلاثا وخرج إلى بعض المغازي وأمر وكيلا له أن يعطيها بعض النفقة فاستقلتها فانطلقت إلى إحدى نساء النبي صلى الله عليه و سلم فدخل النبي صلى الله عليه و سلم وهي عندها فقالت يا رسول الله هذه فاطمة بنت قيس طلقها فلان فأرسل إليها بعض النفقة فردتها وزعم أنه شيء تطول به قال صدق وقال النبي صلى الله عليه و سلم انتقلي إلى أم شريك فاعتدي عندها ثم قال إن أم شريك يكثر عوادها ولكن انتقلي إلى عبد الله بن أم مكتوم فإنه أعمى فانتقلت إلى عبد الله فاعتدت عنده حتى أنقضت عدتها

عبدالرحمن بن عاصم نے ثابت سے روایت کی کہ فاطمہ بنت قیس نے مجھے بتلایا کہ وہ بنی مخزوم کے آیک آدمی کی بیوی تھیں اس نے فاطمہ کو تین طاق دے دیں اور کسی غزوہ میں چلے گئے اور اپنے وکیل کو کہا کہ ان کو کچھ خرچہ دیتے رہو۔ فاطمہ نے وہ قلیل خیال کیا ۔ تو فاطمہ ازواج مطہرات میں سے ایک کے ہاں گئیں اچانک جناب رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے جبکہ فاطمہ ابھی وہاں موجود تھیں اس زوجہ نے کہا یا رسول اللہ ﷺ یہ فاطمہ بنت قیس ہیں ان کے خاوند نے ان کو طلاق دے دی ہے اور تھوڑا سا خرچہ اس کی طرف بھیجا وہ بھی اس نے واپس کر دیا ہے اور ان کا خیال یہ ہے کہ یہ معمولی خرچہ بھی محض امتنان و احسان ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا انہوں نے درست کہا اور آ ﷺ نے فاطمہ کو مخاطب کر کے فرمایا تم ام شریک کے مکان پر منتقل ہو جاؤ اور عدت گزارو پھر فرمایا: ام شریک کے ہاں آنے جانے والے بہت ہیں لیکن تم ابن مکتوم رضی اللہ عنہ کے مکان میں منتقل ہو جاؤ وہ نابینا ہیں چنانچہ فاطمہ عبداللہ کے ہاں منتقل ہو گئیں اور وہیں اپنی عدت آخر تک گزاری ۔

عبد الرحمن بن عاصم ← بن جُرَيْجٍ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ← رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ

Hadith 4428

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 7 كتاب الطلاق ) ‹ ( 4 باب المطلقة طلاقا بائنا ماذا لها على زوجها في عدتها ) · حديث 4429

4179 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا وهب قال ثنا سعيد عن أبي بكر بن أبي الجهم قال دخلت أنا وأبو سلمة على فاطمة بنت قيس فحدثت أن زوجها طلقها طلاقا بائنا وأمر أبا حفص بن عمرو أن يرسل إليها بنفقتها خمسة أوساق فأتت النبي صلى الله عليه و سلم فقالت إن زوجي طلقني ولم يجعل لي السكنى ولا النفقة فقال صدق فاعتدي في بيت بن أم مكتوم ثم قال إن بن أم مكتوم رجل يغشى فاعتدي في بيت أم فلان

ابو بکر بن جہم کہتے ہیں کہ میں اور ابو سلمہ ساتھ مل کر فاطمہ بنت قیس کے ہاں گئے انہون نے بیان کیا کہ ان کے خاوند نے ان کو طلاق بائنہ دے دی اور ابو حفص نے حکم دیا کہ اس کی طرف اس کا نفقہ پانچ وسق بھیج دیا جائے فاطمہ خود جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئیں اور کہنے لگیں میرے خاوند نے مجھے طلاق دے دی اور میرے لیے سکنیٰ اور نفقہ بھی مقرر نہیں کیا آپ ﷺ نے فرمایا اس نے درست کیا ہے پس تم ابن مکتوم رضی اللہ عنہ کے گھر میں عدت گزارو۔ پھر فرمایا۔ ابن مکتوم رضی اللہ عنہ کے ہاں لوگوں کی آمدو رفت ہے تم ام فلاں کے ہاں عدت گزارو۔

وَأَبُو سَلَمَةَ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ ← دَخَلْتُ ← أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ ← سَعِيدٌ، ← وَھْبٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Hadith 4429

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 7 كتاب الطلاق ) ‹ ( 4 باب المطلقة طلاقا بائنا ماذا لها على زوجها في عدتها ) · حديث 4430

4180 - حدثنا فهد قال حدثني محمد بن سعيد قال أنا شريك عن أبي بكر بن صخيرة قال دخلت أنا وأبو سلمة على فاطمة بنت قيس وكان زوجها قد طلقها ثلاثا فقالت أتيت النبي صلى الله عليه و سلم فلم يجعل لي سكنى ولا نفقة

ابو بکر بن صخیرہ کہتے ہیں کہ میں اور ابو سلمہ فاطمہ بنت قیس کے پاس گئے اس کے خاوند نے اسے تین طلاقیں دے دیں فاطمہ کہنے لگی میں جناب نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں گئی آپ نے میرے لئے رہائش و نفقہ مقرر نہ فرمایا۔

وأبو سلمة على فاطمة بنت قيس وكان زوجها قد طلقها ثلاثا ← دَخَلْتُ ← أبي بكر بن صخيرة ← شَرِيکٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ ← فهد

Hadith 4430

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 7 كتاب الطلاق ) ‹ ( 4 باب المطلقة طلاقا بائنا ماذا لها على زوجها في عدتها ) · حديث 4431

4181 - حدثنا فهد قال ثنا أبو اليمان قال أخبرنا شعيب عن الزهري قال أخبرني عبيد الله بن عبد الله بن عتبة عن فاطمة بنت قيس عن رسول الله صلى الله عليه و سلم نحوه قال أبو جعفر فذهب قوم إلى هذه الآثار فقلدوها وقالوا لا تجب النفقة ولا السكنى إلا لمن كانت عليه الرجعة وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا كل مطلقة فلها في عدتها السكنى إلا لمن كانت حتى تنقضي عدتها وسواء كان الطلاق بائنا أو غير بائن فأما النفقة فإنما تجب لها أيضا إن كان الطلاق غير بائن وأما إذا كان الطلاق بائنا فهم مختلفون في ذلك فقال بعضهم لها النفقة أيضا مع السكنى حاملا كانت أو غير حامل وممن قال ذلك أبو حنيفة وأبو يوسف ومحمد رحمة الله عليهم أجمعين وقال بعضهم لا نفقة لها إلا أن تكون حاملا واحتجوا في دفع حديث فاطمة بنت قيس بما

عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے جناب رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں : بعض علماء نے ان آثار سے استدلال کرتے ہوئے اس عورت کے متعلق جس کو طلاق بائنہ مل جائے یہ کہا کہ اس کو سکنی اور نفقہ نہ ملے گا وہ صرف طلاق رجعی والی عورت کو دیا جائے گا۔ دوسروں نے کہا کہ ہر مطلقہ کو سکنیٰ دیا جائے گا اور یہ اختتام عدت تک ہو گا خواہ طلاق بائن ہو یا رجعی ۔ البتہ نفقہ اس عورت کو ملے گا جو طلاق رجعی والی ہے جب بائن ہو گی تو اس میں اختلاف ہے بعض نفقہ کے قائل ہیں خواہ وہ حاملہ یا غیر حاملہ ۔ جن کا علماء کا یہ قول ہے ان میں ابو حنیفہ ، ابو یوسف ، محمد رحمتہ اللہ علیہ اجمعین شامل ہیں۔ بعض نے کہا صرف حاملہ کو نفقہ ملے گا اس سلسلہ میں انہوں نے مندرجہ ذیل روایات سے استدلال کیا ہے تاکہ روایت فاطمہ رضی اللہ عنہ کا جواب ہو جائے ۔

فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبٌ، ← أَبُو الْيَمَانِ، ← فهد

Hadith 4431

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 7 كتاب الطلاق ) ‹ ( 4 باب المطلقة طلاقا بائنا ماذا لها على زوجها في عدتها ) · حديث 4432

4182 - أخبرنا أبو بكرة قال ثنا أبو أحمد محمد بن عبد الله بن الزبير قال ثنا عمار بن رزيق عن أبي إسحاق قال كنت عند الأسود بن يزيد في المسجد الأعظم ومعنا الشعبي فذكروا المطلقة ثلاثا فقال الشعبي حدثتني فاطمة بنت قيس أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لها لا سكنى لك ولا نفقة قال فرماه الأسود بحصاة قال ويلك أتحدث بمثل هذا قد رفع ذلك إلى عمر بن الخطاب فقال لسنا بتاركي كتاب ربنا وسنة نبينا صلى الله عليه و سلم بقول امرأة لا ندري لعلها كذبت قال الله تعالى لا تخرجوهن من بيوتهن ولا يخرجن الآية

ابو اسحاق کہتے ہیں کہ میں اسود بن یزید کے ساتھ مسجد اعظم میں موجود تھا ہمارے ساتھ شعبی بھی تھے انہوں نے مطلقہ ثلاثہ کا تذکرہ کیا شعبی کہنے لگے مجھے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ جناب رسول اللہ ﷺ مجھے فرمایا تمہیں نہ رہائش ملے گی نہ نفقہ یہ بات سن کر اسود نے شعبی کو ایک کنکری ماری اور کہا کیا تم ایسی روایت بیان کرتے ہو۔ حالانکہ یہ معاملہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پیش ہوا تو انہوں نے فرمایا ہم ایک عورت کے کہنے پر اپنے رب کی کتاب اور اپنے پیغمبر کی سنت ترک نہیں کر سکتے ہم نہیں جانتے کہ شاید اس نے غلط کہا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے تو فرمایا ہے لا تخرجو ھن من بیوتھن ولا یخرجن ( الطلاق ۔1)

الشعبي حدثتني فاطمة بنت قيس ← معنا الشعبي فذكروا المطلقة ثلاثا ← كنت عند الأسود بن يزيد في المسجد الأعظم ← أَبِي إِسْحَاقَ ← عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ ← أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ← أَبُو بَکْرَةَ

Hadith 4432

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 7 كتاب الطلاق ) ‹ ( 4 باب المطلقة طلاقا بائنا ماذا لها على زوجها في عدتها ) · حديث 4433

4183 - حدثنا بن مرزوق قال أخبرنا محمد بن كثير قال أخبرنا سفيان عن سلمة عن الشعبي عن فاطمة عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه لم يجعل لها حين طلقها زوجها سكنى ولا نفقة فذكرت ذلك لإبراهيم فقال قد رفع ذلك إلى عمر بن الخطاب فقال لا ندع كتاب ربنا عز و جل وسنة نبينا صلى الله عليه و سلم لقول امرأة لها السكنى والنفقة

شعبی نے فاطمہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ آپ ﷺ نے اس کا نفقہ و سکنی مقرر نہیں فرمایا جب اس کو اس کے خاوند نے طلاق دے دی یہ بات میں نے ابراہیم نخعی کو ذکر کی تو انہوں نے فرمایا یہ معاملہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پہنچا تو انہوں نے فرمایا۔ ہم اپنے رب کی کتاب اور اس کے پیغمبر ﷺ کی سنت کو ایک عورت کی خاطر نہیں چھوڑ سکتے ۔ اس کو سکنیٰ اور نفقہ دونوں ملیں گے ۔

قد رفع ذلك إلى عمر بن الخطاب ← فَاطِمَةَ، ← الشَّعْبِيِّ، ← سَلَمَةَ، ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← بن مرزوق

Hadith 4433

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 7 كتاب الطلاق ) ‹ ( 4 باب المطلقة طلاقا بائنا ماذا لها على زوجها في عدتها ) · حديث 4434

4184 - حدثنا فهد قال ثنا عمر بن حفص بن غياث قال أنا أبي قال أنا الأعمش عن إبراهيم عن عمر وعبد الله أيهما كانا يقولان المطلقة ثلاثا لها النفقة والسكنى وكان الشعبي يذكر عن فاطمة بنت قيس عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال ليس لها نفقة ولا سكنى

ابراہیم نے عمر اور عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ وہ دونوں مطلقہ ثلاثہ کے لئے نفقہ و سکنٰی دونوں کا حکم فرماتے تھے حالانکہ شعبی خود فاطمہ سے اور وہ جناب نبی اکرم ﷺ سے نقل کرتے تھے کہ آپ ﷺ نے فرمایا اس کو نفقہ و سکنیٰ نہ ملے گا۔

فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، ← عمر وعبد الله أيهما كانا يقولان المطلقة ثلاثا لها النفقة والسكنى وكان الشعبي يذكر ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبِي ← عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، ← فهد

Hadith 4434

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 7 كتاب الطلاق ) ‹ ( 4 باب المطلقة طلاقا بائنا ماذا لها على زوجها في عدتها ) · حديث 4435

4185 - حدثنا نصر بن مرزوق وسليمان بن شعيب قالا ثنا الخصيب بن ناصح قال ثنا حماد بن سلمة عن حماد عن الشعبي عن فاطمة بنت قيس أن زوجها طلقها ثلاثا فأتت النبي صلى الله عليه و سلم فقال لا نفقة ولا سكنى قال فأخبرت بذلك النخعي فقال قال عمر بن الخطاب وأخبر بذلك لسنا بتاركي آية من كتاب الله تعالى وقول رسول الله صلى الله عليه و سلم لقول امرأة لعلها أوهمت سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول لها السكنى والنفقة

شعبی نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ اس کے خاوند نے اس کو تین طلاق دے دیں وہ جناب نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی تو آپ نے فرمایا تمہیں خرچہ و رہائش نہ ملے گی ۔ شعبی کہتے ہیں میں نے یہ بات ابراہیم نخعی کو بتلائی تو وہ فرمانے لگے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو اس کی اطلاع دی گئی تو انہوں نے فرمایا ہم اللہ تعالیٰ کی کتاب اور قول رسول اللہ ﷺ کو ایک عورت کی بات پر چھوڑنے والے نہیں شاید اس کو وہم ہو گیا ہو، میں نے تو جناب رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا اس کو رہائش و نفقہ دونوں ملیں گے ۔

فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، ← الشَّعْبِيِّ، ← حَمَّادٌ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← الْخَصِيبُ بْنُ نَاصِحٍ ← نصر بن مرزوق وسليمان بن شعيب

Hadith 4435

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 7 كتاب الطلاق ) ‹ ( 4 باب المطلقة طلاقا بائنا ماذا لها على زوجها في عدتها ) · حديث 4436

4186 - حدثنا نصر قال حدثني الخصيب قال حدثني أبو عوانة عن الأعمش عن عمارة بن عمير عن الأسود أن عمر بن الخطاب وعبد الله بن مسعود قالا في المطلقة ثلاثا لها السكنى والنفقة قالوا فهذا عمر رضي الله عنه قد أنكر حديث فاطمة هذا ولم يقبله وقد أنكره عليها أيضا أسامة بن زيد

اسود سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم دونوں نے کہا مطلقہ مغلظہ ثلاثہ کو سکنی اور نفقہ ملے گا ۔ اس روایت کا جس طرح عمر بن خطاب نے انکار کیا اسی طرح اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے بھی اس کا انکار کیا۔

في المطلقة ثلاثا لها السكنى والنفقة ← الأسود أن عمر بن الخطاب وعبد الله بن مسعود ← عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← الخصيب ← نَصْرٌ

Hadith 4436

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 7 كتاب الطلاق ) ‹ ( 4 باب المطلقة طلاقا بائنا ماذا لها على زوجها في عدتها ) · حديث 4437

4187 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا شعيب بن الليث قال ثنا الليث عن جعفر بن ربيعة عن عبد الرحمن بن هرمز عن أبي سلمة بن عبد الرحمن قال كانت فاطمة بنت قيس تحدث عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه قال لها اعتدي في بيت بن أم مكتوم وكان محمد بن أسامة بن زيد يقول كان أسامة إذا ذكرت فاطمة من ذلك شيئا رماها بما كان في يده قال أبو جعفر فهذا أسامة بن زيد قد أنكر من ذلك أيضا ما أنكره عمر رضي الله عنه وقد أنكرت ذلك أيضا عائشة رضي الله عنها

ابو سلمہ بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ فاطمہ بنت قیس نے جناب رسول اللہ ﷺ سے بیان کیا کہ آپ نے اس کو فرمایا تم ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے گھر میں عدت گزارو ۔ محمد بن اسامہ کہا کرتے تھے کہ اسامہ کے سامنے جب فاطمہ بنت قیس اس بات کا تذکرہ کرتیں تو آپ اس کو جو چیز ہاتھ میں ہوتی مار دیتے ۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں جس طرح کہ عمر رضی اللہ عنہ نے اس روایت کا انکار کیا اسی طرح اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے بھی انکار کیا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے بھی انکار کی روایت ملاحظہ ہو۔

كان محمد بن أسامة بن زيد ← لها اعتدي في بيت بن أم مكتوم ← كانت فاطمة بنت قيس تحدث ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ، ← جَعْفَرِ بْنِ رَبِیعَۃَ، ← اللَّيْثُ ← شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، ← ربيع المؤذن

Hadith 4437

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 7 كتاب الطلاق ) ‹ ( 4 باب المطلقة طلاقا بائنا ماذا لها على زوجها في عدتها ) · حديث 4438

4188 - حدثنا يونس قال ثنا أنس بن عياض عن يحيى بن سعيد قال سمعت القاسم بن محمد وسليمان بن يسار يذكران أن يحيى بن سعيد بن العاص طلق بنت عبد الرحمن بن الحكم فانتقلها عبد الرحمن بن الحكم فأرسلت عائشة إلى مروان وهو أمير المدينة أن أتق الله وأردد المرأة إلى بيتها فقال مروان في حديث سليمان إن عبد الرحمن غلبني وقال في حديث القاسم أما بلغك حديث فاطمة بنت قيس فقالت عائشة لا يضرك أن لا تذكر حديث فاطمة بنت قيس فقال مروان إن كان بك الشر فحسبك ما بين هذين من الشر

قاسم بن محمد اور سلیمان بن یسار بیان کرتے تھے کہ یحییٰ بن سعید بن عاص نے عبدالرحمن بن حکم کی بیٹی کو طلاق دے دی عبدالرحمن بن حکم نے اس کو منتقل کر لیا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے مروان کی طرف پیغام بھیجا مروان اس وقت مدینہ منوری کا امیر تھا کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور عورت کو اس کے گھر بھیج دو۔ مروان کہنے لگا ۔ یہ سلیمان کی روایت میں ہے ۔ کہ عبدالرحمن مجھ پر غالب آ گیا ہے اور قاسم کی روایت میں ہے " اما بلغک حدیث فاطمہ بنت قیس ؟ " تو عائشہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر تو حدیث فاطمہ کا تذکرہ نہ کرے تو تیرا کچھ نہ بگڑے گا مروان کہنے لگا۔ اگر آپ کا مقصد شر ہے تو پھر تمہیں اسی شر پر اکتفا کر لینا چاہیے جو ان دونوں کے درمیان ہے ۔

سليمان بن يسار يذكران ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← أَنَسَ بْنَ عِيَاضٍ ← يُونُسَ

Hadith 4438

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 7 كتاب الطلاق ) ‹ ( 4 باب المطلقة طلاقا بائنا ماذا لها على زوجها في عدتها ) · حديث 4439

4189 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب أن مالكا أخبره عن يحيى بن سعيد فذكر بإسناده مثله

مالک نے یحییٰ بن سعید سے خبر دی پھر انہوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔

يحيى بن سعيد فذكر بإسناده مثله ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Hadith 4439

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter