شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 7 كتاب الطلاق ) ‹ ( 4 باب المطلقة طلاقا بائنا ماذا لها على زوجها في عدتها ) · حديث 4428
4178 - حدثنا روح بن الفرج قال ثنا أحمد بن صالح قال ثنا عبد الرزاق قال أخبرنا بن جريج قال أخبرني عبد الرحمن بن عاصم عن ثابت أن فاطمة بنت قيس أخبرته وكانت عند رجل من بني مخزوم فأخبرته أنه طلقها ثلاثا وخرج إلى بعض المغازي وأمر وكيلا له أن يعطيها بعض النفقة فاستقلتها فانطلقت إلى إحدى نساء النبي صلى الله عليه و سلم فدخل النبي صلى الله عليه و سلم وهي عندها فقالت يا رسول الله هذه فاطمة بنت قيس طلقها فلان فأرسل إليها بعض النفقة فردتها وزعم أنه شيء تطول به قال صدق وقال النبي صلى الله عليه و سلم انتقلي إلى أم شريك فاعتدي عندها ثم قال إن أم شريك يكثر عوادها ولكن انتقلي إلى عبد الله بن أم مكتوم فإنه أعمى فانتقلت إلى عبد الله فاعتدت عنده حتى أنقضت عدتها
عبدالرحمن بن عاصم نے ثابت سے روایت کی کہ فاطمہ بنت قیس نے مجھے بتلایا کہ وہ بنی مخزوم کے آیک آدمی کی بیوی تھیں اس نے فاطمہ کو تین طاق دے دیں اور کسی غزوہ میں چلے گئے اور اپنے وکیل کو کہا کہ ان کو کچھ خرچہ دیتے رہو۔ فاطمہ نے وہ قلیل خیال کیا ۔ تو فاطمہ ازواج مطہرات میں سے ایک کے ہاں گئیں اچانک جناب رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے جبکہ فاطمہ ابھی وہاں موجود تھیں اس زوجہ نے کہا یا رسول اللہ ﷺ یہ فاطمہ بنت قیس ہیں ان کے خاوند نے ان کو طلاق دے دی ہے اور تھوڑا سا خرچہ اس کی طرف بھیجا وہ بھی اس نے واپس کر دیا ہے اور ان کا خیال یہ ہے کہ یہ معمولی خرچہ بھی محض امتنان و احسان ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا انہوں نے درست کہا اور آ ﷺ نے فاطمہ کو مخاطب کر کے فرمایا تم ام شریک کے مکان پر منتقل ہو جاؤ اور عدت گزارو پھر فرمایا: ام شریک کے ہاں آنے جانے والے بہت ہیں لیکن تم ابن مکتوم رضی اللہ عنہ کے مکان میں منتقل ہو جاؤ وہ نابینا ہیں چنانچہ فاطمہ عبداللہ کے ہاں منتقل ہو گئیں اور وہیں اپنی عدت آخر تک گزاری ۔
عبد الرحمن بن عاصم ← بن جُرَيْجٍ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ← رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ
Hadith 4428
