شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 7 كتاب الطلاق ) ‹ ( 3 باب الإقراء قال أبو جعفر اختلف الناس في الإقراء التي تجب على المرأة إذا طلقت فقال قوم هي الحيض وقال ) · حديث 4413
4163 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال أخبرني يونس عن بن شهاب قال أخبرني قبيصة بن أبي ذؤيب أنه سمع زيد بن ثابت يقول الطلاق إلى الرجل والعدة إلى المرأة إن كان الرجل حرا وكانت المرأة أمة فثلاث تطليقات والعدة عدة الأمة حيضتان وإن كان عبدا وامرأته حرة طلق طلاق العبد تطليقتين واعتدت عدة الحرة ثلاث حيض فلما جاء هذا الاختلاف عنهم ثبت أنه لا يحتج في ذلك بقول أحد منهم لأنه متى احتج في ذلك بقول بعضهم احتج مخالف عليه بقول مثله فارتفع ذلك كله أن يكون فيه حجة لأحد الفريقين على الفريق الآخر وكان من حجة من جعل الأقراء الحيض على مخالفه أن قال فإذا كانت الأقراء الأطهار فإذا طلق الرجل [ ص 63 ] المرأة وهي طاهرة فحاضت بعد ذلك بساعة فحسب ذلك لها قرء مع قرءين متتابعين كانت عدتها قرأين وبعض قرء وإنما قال الله عز و جل ثلاثة قروء فكان من حجة من ذهب إلى أن الأقراء الأطهار في ذلك أن قال فقد قال الله عز و جل الحج أشهر معلومات فكان ذلك على شهرين وبعض شهر فكذلك جعلنا الأقراء الثلاثة على قرأين وبعض قرء فكان من حجتنا عليهم في ذلك أن الله عز و جل قال في الأقراء ثلاثة قروء ولم يقل في الحج ثلاثة أشهر وإن قال في ذلك ثلاثة أشهر فأجمعوا أن ذلك على شهرين وبعض شهر ثبت بذلك ما قال المخالف لنا ولكنه إنما قال أشهر ولم يقل ثلاثة فأما ما حصره بالثلاثة فقد حصره بعدد معلوم فلا يكون أقل من ذلك العدد كما أنه لما قال واللائي يئسن من المحيض من نسائكم إن ارتبتم فعدتهن ثلاثة أشهر واللائي لم يحضن فحصر ذلك بالعدد فلم يكن ذلك على أقل من ذلك العدد فكذلك لما حصر الأقراء بالعدد فقال ثلاثة قروء فلم يكن ذلك على أقل من ذلك العدد وكان من حجة من ذهب إلى أن الأقراء الأطهار أيضا أن قال لما كانت الهاء تثبت في عدد المذكر فيقال ثلاثة رجال وتنتفي من عدد المؤنث فيقال ثلاث نسوة فقال الله تعالى ثلاثة قروء فأثبت الهاء ثبت أنه أراد بذلك مذكرا وهو الطهر لا الحيض فكان من الحجة عليهم في ذلك أن الشيء إذا كان له إسمان أحدهما مذكر والآخر مؤنث فإن جمع بالمذكر أثبتت الهاء وإن جمع بالمؤنث أسقطت الهاء من ذلك أنك تقول هذا ثوب وهذه ملحفة فإن جمعت بالثوب قلت ثلاثة أثواب وإن جمعت بالملحفة قلت ثلاث ملاحف وكذلك هذه دار وهذا منزل لشيء واحد فكان الشيء قد يكون واحدا يسمى باسمين مختلفين أحدهما مذكر والآخر مؤنث فإذا جمع بالمذكر فعل فيه كما يفعل في جمع المذكر فأثبتت الهاء وإن جمع بالمؤنث فعل فيه كما يفعل في جمع المؤنث فأسقطت الهاء فكذلك الحيضة والقرء هما أسمان بمعنى واحد وهو الحيضة فإن جمع بالحيضة سقطت الهاء فقيل ثلاث حيض وإن جمع بالقرء ثبتت الهاء فقيل ثلاثة قروء وذلك كله أسمان لشيء واحد فانتفى بذلك ما ذكرنا مما احتج به المخالف لنا وأما وجه هذا الباب من طريق النظر فإنا قد رأينا الأمة جعل عليها في العدة نصف ما جعل على الحرة فكانت الأمة إذا كانت ممن لا تحيض كان عليها نصف عدة الحرة إذا كانت ممن لا تحيض وذلك شهر ونصف فإذا كانت ممن تحيض جعل عليها باتفاقهم حيضتان وأريد بذلك نصف ما على الحرة ولهذا قال عمر رضي الله عنه بحضرة أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم لو قدرت أن أجعلها حيضة ونصفا لفعلت فلما كان ما على هذه الأمة هو الحيض لا الأطهار وذلك نصف ما على الحرة ثبت أن ما على الحرة أيضا هو من جنس ما على الأمة وهو الحيض لا الأطهار فثبت بذلك قول الذين ذهبوا في القرء إلى أنها الحيض وانتفى قول مخالفهم وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمهم الله وقد روي عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في عدة الأمة ما
قبیصہ بن ابی ذؤیب نے بتلایا کہ میں نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کوفرماتے سنا طلاق کا اعتبار مرد کے لحاظ سے ہوگا اور عدت کا اعتبار عورت کے لحاظ سے ہوگا اگر مردآزاد ہے اور عورت لونڈی ہے تو وہ تین طلاق سے مغلظہ ہوگی اور لونڈی کی عدت دو حیض ہے (تو دو حیض کے بعد وہ فارغ ہو جائے گی ) اور اگر خاوند غلام ہے اور اس کی بیوی آزاد ہے تو وہ دو طلاق سے مغلظہ ہو جائے گی اور عدت آزاد عورتوں کی طرح تین حیض گزارے گی۔ جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مختلف روایات منقول ہیں اگر کوئی فریق ایک صحابی کے قول سے دلیل پکڑ لے گا تو دوسرا ان کے دوسرے قول سے دلیل دے گا۔ اس سے دونوں قول مرتفع ہوجائیں گے اور فریقین میں سے کسی کے پاس دوسرے فریق کے خلاف حجت نہ رہے گی۔ مثلا فریق اول کی یہ دلیل کہ اقراءسے مراد حیض ہے کیونکہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی کو طہر میں طلاق دی پھر تھوڑی دیر بعد اس کو حیض آگیا تو یہ حیض اور دو اور حیض سے اس کی عدت پوری ہو جائے گی کیونکہ اللہ تعالی نے فرمایا ثلاثۃ قروء جبکہ طہر سے عدت شمار کرنے میں تین کا عدد پورا نہیں ہوتا کیونکہ طلاق والا طہر شمار کریں تب بھی کم رہے اور شکار نہ کریں تو زیادہ ہونے کی وجہ سے تین نہ بنے۔ جبکہ آیت میں ثلاثہ کا لفظ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ عدت طہر سے شمار ہوگی نہ حیض سے پورے نہ بھی ہوں تب بھی شرعی اطلاق میں ثلاثۃ کا اطلاق اس طرح ہوتا رہتا ہے کہ تین سے کم پر بھی بولا جاتا ہے۔ قرآن مجید میں الله تعالی نے فرمایا :”الحج اشهر معلومات اور یہ اطلاق جمع کے مطابق تین ماہ ہونے چاہئیں حالانکہ وہ دو ماہ اور تیسرے ماہ کا بعض حصہ ہے۔ اسی طرح ہم نے قروء کے دو حیض اور تیسرے کا اکثر حصہ پرتین کا لفظ بول دیا۔ اللہ تعالی نے اقراء میں تو خاص تین کا لفظ استعمال فرمایا جبکہ میں ثلاثہ اشہر نہیں فرمایا۔ اگر ثلاثہ اشہر فرمایا جاتا تو پھر بالاتفاق معنی دو ماہ اور تیسرے کا کچھ حصہ بن جاتا۔ مگر یہاں تو صرف جمع بولا گیا جس میں احتمال معنی سے یہ مراد لی گئی۔ مگر یہاں تین کے عدد میں محصور کرنا اس پر دلالت کرتا ہے کہ اس سے معلوم عدد مراد ہے جو کہ تین سے کم نہ ہو۔ جیسا کہ اس آیت میں فرمایا:والئی یسن من المحیض من نسائکم ان ارتبتم فعدتھن ثلثۃ اشھر والئی لم یحضن ) (الطلاق:4) تو آئمہ اور نابالغہ کی عدت کوتین ماہ میں محصور کیا گیا جس میں کمی نہیں ہوسکتی بالکل اسی طرح ثلاثہ قروء میں تین سے کم پراطلاق درست نہ ہوگا اور معدود مؤنث ہوتو عدد میں ھانہ آئے گی۔ مثال :ثلاث نسوة۔ – ثلاثہ میں ھا موجود ہوتو اس کی تمیز مذکر آئے گی ثلاثہ یسوۃ ۔ اب آیت پر غور کرنے سے معلوم ہوا کہ ثلاثہ قروء ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ قروء کالفظ مذکر ہے اور اس کے معانی میں سے طہر کا معنی ظاہرا ًاور معناً اس کے موافق ہے کیونکہ حیض کا لفظ مونث ہے۔ پس طہر مراد ہے اور اس سے عدت شمار ہوگی۔ اس سلسلہ میں ان کے خلاف دلیل یہ ہے کہ جب کسی چیز کے دو نام ہوں جن میں ایک مذکر اور دوسرا مونث ہو۔ اگر لفظ مذکر سے جمع بنائیں تو ها کو سلامت رکھیں گے اور مونث سے جمع کی صورت میں هاساقط ہوگی۔ مثلا "هذا ثوب هذه ملحفة، اگر ثوب کو جمع پڑھیں تو ثلاثۃ اثواب کہیں گے اور ملحفہ کو جمع بنائیں تو ثلاث ملحفات کہیں گے۔ اس طرح لفظ دار ، منزل هذه دار هذا منزل ایک چیز پر بولے جاتے ہیں۔ پس ایک چیز سے بعض اوقات دو نام ہوتے ہیں اور وہ تذکیر و تا نیث کے لحاظ سے مختلف ہوتے ہیں۔ مذکر کی جمع مذکر کے مطابق اور مونث کی جمع اس کے مطابق لائیں گے۔ مثلاها کوساقط کردیں گے۔ بالکل اسی طرح حیض وقروء کا لفظ ہے کہ بی دو اسماء ہیں معنی تو ایک ہےمگر ان کی جمع مختلف ہیں اور وہ اختلاف لفظ کی وجہ سے ہے مثلا ثلاث حیض ، قرؤ۔ تو اس استعال سے ثابت ہوا ہر مفرد اپنی جمع رکھتا ہے اس کے معنی کی جمع سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ اس سے ہمارے مخالف کے دلائل کا جواب ہوگیا۔ البتہ بطورنظر اس بات کی صورت یہ بنے گی کہ ہم نے غور کیا کہ لونڈی کی عدت آزاد عورت کی عدت کے مقابلے میں آدھی مقرر کی گئی ہے۔ جبکہ لونڈی ان عورتوں میں سے ہو جن کو حیض آتا ہے۔ تو اس کی عدت اس آزاد عورت کی عدت کا نصف ہے جس کو حیض نہیں آتا اور ڈیڑھ ماہ ہے اور اگر اس کو حیض آتا ہو تو بالا اتفاق اس لونڈی کی عدت دوحیض ہے اور اس سے مراد آزاد عورت کی عدت کا نصف ہے۔ اسی وجہ سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام کی موجودگی میں فرمایا کہ اگر میں اس کو ڈیڑھ حیض کرنے پر قادر ہوتا تو ڈیڑھ حیض کر دیتا ( مگر یہ قدرت الہی کا مسئلہ ہے)۔ پس جب لونڈی کی عدت حیض سے شمار ہوئی طہر سے نہیں اور عدت آزاد عورت کی عدت کا نصف ہے۔ تو اس سے ثابت ہوگیا کہ آزاد عورت کی عدت لونڈی کی عدت کی ہم جنس ہوگی اور وہ حیض سے طہر نہیں۔ پس اس سے فریق اول کا قول ثابت ہو گیا جو کہ حیض سے عدت کو شمار کرتے ہیں اور مخالف کے قول کی نفی ہوگئی اور امام ابوحنیفہ، ابو یوسف ، محمد رحمتہ اللہ علیہ پر کاقول ہے۔
قَبِيصَةَ بْنِ أَبِي ذُؤَيْبٍ، ← بن شِهَابٍ ← يُونُسَ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4413
