Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 12 باب انتهاب ما ينثر على القوم مما يفعله الناس في النكاح ) · حديث 4352

4102 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا شعيب بن الليث قال ثنا الليث عن يزيد بن أبي حبيب عن أبي الخير عن الصنابحي عن عبادة بن الصامت قال بايعنا رسول الله صلى الله عليه و سلم على أن لا ينتهب

ابو الخیر ضا سجی نے عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ہم نے جناب رسول اللہ ﷺ کی اس شرط پر بیعت کی کہ ہم لوٹ مار نہیں کریں گے ۔

بايعنا رسول الله صلى الله عليه و سلم على أن لا ينتهب ← عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← الصُّنَابِحِیّ، ← أَبِي الْخَيْرِ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← اللَّيْثُ ← شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، ← ربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4352

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 12 باب انتهاب ما ينثر على القوم مما يفعله الناس في النكاح ) · حديث 4353

4103 - حدثنا فهد قال ثنا أحمد بن يونس قال ثنا زهير قال ثنا حميد الطويل عن الحسن عن عمران بن حصين قال قال النبي صلى الله عليه و سلم من انتهب فليس منها

حسن نے عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے لوٹ مار کی وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← الْحَسَنِ، ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← زُهَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4353

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 12 باب انتهاب ما ينثر على القوم مما يفعله الناس في النكاح ) · حديث 4354

4104 - حدثنا علي بن عبد الرحمن قال ثنا علي بن الجعد قال ثنا أبو جعفر الرازي عن الربيع بن أنس وحميد عن أنس قال إنما نهى النبي صلى الله عليه و سلم عن النهبة وقال من انتهب فليس منا

ابو جعفر رازی نے ربیع بن انس اور حمید نے انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے لوٹ سے منع فرمایا اور فرمایا جس نے لوٹ مار کی وہ ہم سے نہیں ۔

النُّهْبَةِ وَقَالَ مَنِ انْتَهَبَ فَلَيْسَ مِنَّا. ← إنما نهى النبي صلى الله عليه و سلم ← أَنَسٍ، ← الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ وَحُمَيْدٍ ← أبو جعفر الرازي ← عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ← علي بن عبد الرحمن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4354

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 12 باب انتهاب ما ينثر على القوم مما يفعله الناس في النكاح ) · حديث 4355

4105 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو عامر عن بن أبي ذئب عن مولى لجهينة عن عبد الرحمن بن زيد بن خالد الجهني عن أبيه أن النبي صلى الله عليه و سلم نهى عن الخليسة والنهبة

عبدالرحمن بن زید بن خالد جہنی نے اپنے والد سے نقل کیا کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے اچکنے اور لوٹ مار کرنے سے منع فرمایا۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ← مَوْلَى لِجُهَيْنَةَ ← بن أَبِي ذِئْبٍ ← أَبُو عَامِرٍ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4355

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 12 باب انتهاب ما ينثر على القوم مما يفعله الناس في النكاح ) · حديث 4356

4106 - حدثنا فهد قال ثنا أبو غسان قال ثنا زهير قال ثنا سماك بن حرب قال أنبأني ثعلبة بن الحكم أخو بني ليث أنه رأى النبي صلى الله عليه و سلم مر بقدور فيها لحم غنم انتهبوها فأمر بها فأكفئت فقال إن النهبة لا تحل

سماک بن حرب کہتے ہیں کہ مجھے ثعلبہ بن حکم جو بنی لیث سے ہیں انہوں نے بتلایا کہ میں جناب نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ کا گزر ایسی ہنڈیا کے پاس سے ہوا جن میں لوٹ مار کی بکری کا گوشت تھا آپ نے حکم فرمایا کہ ان کو الٹ دیا جائے وہ الٹ دی گئیں آپ نے فرمایا لوٹ مار جائز نہیں ۔

ثعلبة بن الحكم أخو بني ليث ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← زُهَيْرٍ ← أبو غسان، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4356

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 12 باب انتهاب ما ينثر على القوم مما يفعله الناس في النكاح ) · حديث 4357

4107 - حدثنا بن مرزوق حدثنا وهب قال ثنا شعبة عن سماك عن ثعلبة بن الحكم قال أصاب الناس على عهد النبي صلى الله عليه و سلم غنما فانتهبوها فقال النبي صلى الله عليه و سلم لا تصلح النهبة ثم أمر بالقدور فأكفئت

سماک نے ثعلبہ بن حکم سے روایت کی لوگوں کو جناب رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ایک لوٹ کی بکری ملی جس کو لوٹا گیا تھا آپ ﷺ نے فرمایا لوٹ مار جائز نہیں پھر تمام ہنڈیوں کے متعلق الٹ دینے کا حکم فرمایا۔ چنانچہ الٹ دی گئیں۔

أصاب الناس على عهد النبي صلى الله عليه و سلم غنما فانتهبوها ← ثَعْلَبَةَ بْنِ الْحَكَمِ ← سِمَاكٍ، ← شُعْبَةُ، ← وَھْبٍ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4357

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 12 باب انتهاب ما ينثر على القوم مما يفعله الناس في النكاح ) · حديث 4358

4108 - حدثنا حسين بن نصر قال ثنا الفريابي قال ثنا إسرائيل قال ثنا سماك فذكر بإسناده مثله

اسرائیل نے سماک سے پھر انہوں نے اپنی سند سے روایت نقل کی ہے ۔

سماك فذكر بإسناده مثله ← اِسْرَائِیْلُ ← الْفِرْيَابِيُّ، ← حسين بن نصر

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4358

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 12 باب انتهاب ما ينثر على القوم مما يفعله الناس في النكاح ) · حديث 4359

4109 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا أسد قال ثنا يحيى بن أبي زكريا بن أبي زائدة قال ثنا أبي وغيره عن سماك فذكر بإسناده مثله قال أبو جعفر فذهب قوم إلى أن الرجل إذا نثر على قوم شيئا وأباحهم أخذه إن أخذه مكروه لهم وحرام عليهم وذهبوا في ذلك إلى أنه من النهبة التي نهى عنها رسول الله صلى الله عليه و سلم في هذه الآثار وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا النهبة التي نهى عنها رسول الله صلى الله عليه و سلم في هذه الآثار هي نهبة ما لم يؤذن في انتهابه فأما ما نثره رجل على قوم وأباحهم انتهابه وأخذه فليس كذلك لأنه مأذون فيه والأول ممنوع منه وقد وجدنا مثل ذلك قد إباحه رسول الله صلى الله عليه و سلم

ابو زائد کہتے ہیں کہ میرے والد اور دوسروں نے سماک سے روایت نقل کی ۔ پھر انہوں نے اپنی سند سے روایت بیان کی ہے ۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ فریق اول کا خیال یہ ہے کہ جب کوئی چیز لوٹ لینے کا کہے تب بھی وہ چیز لوٹنی مکروہ تحریمی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اس لوٹ میں داخل ہے جس کا تذکرہ مندرجہ بالا روایات میں آیا ہے ۔ فریق ثانی کا مؤقف یہ ہے کہ آدمی اگر اپنی چیز لوگوں پر بکھیرے تاکہ لوگ اس کو جتنی ہاتھ آئے لے لیں اس کا لینا درست ہے اس کی شرعاً اجازت ہے ۔ فریق اول کا جواب : ان روایات میں جس لوٹ کی ممانعت کی گئی ہے وہ وہی ہے جو کسی کی اجازت کے بغیر لوٹ مار کرے اس کالینا بلاشبہ ناجائز ہے ۔ یہ خوشی کے موقعہ پر کوئی چیز ذاتی بکھیرنا اور لوگوں پر مباح کرنا اس قسم میں داخل نہیں ۔ مندرجہ ذیل روایات سے اس کی اباحت ظاہر ہوتی ہے آپ ﷺ نے اس کو مباح قرار دیا ہے ۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4359

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 12 باب انتهاب ما ينثر على القوم مما يفعله الناس في النكاح ) · حديث 4360

4110 - حدثنا أبو بكرة وابن مرزوق قالا ثنا أبو عاصم قال ثنا ثور بن يزيد عن راشد بن سعد عن عبد الله بن لحي عن عبد الله بن قرط قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم أحب الأيام إلى الله يوم النحر ثم يوم عرفة فقربت إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم بدنات خمسا أو ستا فطفقن يزدلفن إليه بأيتهن يبدأ فلما وجبت أي سقطت جنوبها قال كلمة خفيفة لم أفهمها فقلت للذي كان إلى جنبي ما قال رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال قال من شاء اقتطع فلما قال رسول الله صلى الله عليه و سلم في هذا الحديث من شاء اقتطع وأباح ذلك دل هذا أن ما إباحه ربه للناس من طعام أو غيره فلهم أن يأخذوا من ذلك وهذا خلاف النهبة التي نهى عنها في الآثار الأول فثبت بما ذكرنا أن النهبة التي في الآثار الأول هي نهبة ما لم يؤذن فيه وأن ما أبيح من ذلك وأذن فيه فعلى ما في هذا الأثر الثاني وقد روي عن النبي صلى الله عليه و سلم حديث منقطع قد فسر حكم النهبة النهي عنها والنهبة المباحة وإنما أردنا بذكره ههنا تفسيره لمعنى هذا المتصل

عبداللہ بن لحی نے عبداللہ بن قرط رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے ہاں نحر کا دن محبوب ترین ایام میں سے ہے ۔ پھر اس کے بعد عرفہ کا دن ہے جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پانچ یا چھ اونٹ پیش کئے گئے تو ان میں سے ہر ایک کھسک کر آپ کے قریب ہونے لگا تاکہ ان میں سے جس سے چاہیں نحر میں ابتداء کریں۔ جب ان کو نحر کر دیا گیا تو وہ اپنے پہلوؤں کے بل گر پڑے تو اس وقت آپ ﷺ نے آہستہ سے ایک بات فرمائی جس کی مجھے سمجھ نہیں آئی ۔ جب جناب رسول اللہ ﷺ نے اس روایت میں " من شاء اقتطع " فرمایا اور اس کو تمام کے لئے مباح کر دیا اس سے یہ ثابت ہو کہ اللہ تعالیٰ نے جو کھانا وغیرہ لوگوں کے لئے مباح کیا ہے اس میں سے لینا جائز ہے یہ وہ لوٹ نہیں جس کا تذکرہ ان آثار میں وارد ہے جن سے فریق اول کا استدلال ہے ۔ جناب نبی اکرم ﷺ سے ایک منقطع روایت وارد ہے ۔ جس میں ممنوعہ اور مباح لوٹ کا تذکرہ ہے ہم اس روایت کو یہاں اس لئے ذکر کریں گے کیونکہ اس کا مفہوم تو اتصال سے ثابت ہے ۔ روایت یہ ہے۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُرْطٍ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ لُحَيٍّ1 ← رَاشِدُ بْنُ سَعْدٍ، ← ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← أبو بكرة وابن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4360

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 12 باب انتهاب ما ينثر على القوم مما يفعله الناس في النكاح ) · حديث 4361

4111 - حدثنا عبد العزيز بن معاوية العتابي قال ثنا عون بن عمارة قال ثنا زياد بن المغيرة عن ثور بن يزيد عن خالد عن معدان عن معاذ بن جبل قال شهد رسول الله صلى الله عليه و سلم ملاك شاب من الأنصار فلما زوجوه قال على الألفة والطير الميمون والسعة في الرزق بارك الله لكم دففوا على رأس صاحبكم فلم يلبث أن جاءت الجواري معهن الأطباق عليها اللوز والسكر فأمسك القوم أيديهم فقال النبي صلى الله عليه و سلم ألا تنتهبون فقالوا يا رسول الله إنك كنت نهيت عن النهبة قال تلك نهبة العساكر فأما العرسات فلا قال فرأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم يجاذبهم ويجاذبونه وقد روي عن جماعة من المتقدمين في ذلك اختلاف أيضا

خالد بن معدان نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے نقل کیا جناب رسول اللہ ﷺ ایک انصاری نوجوان کی شادی میں تشریف لے گئے جب اس کا نکاح کر دیا تو آپ نے فرمایا الفت، نیک فالی، وسعت رزق میسر ہو۔ اللہ تعالیٰ تمہیں برکت دے اپنے دولھا کے پاس دف بجاؤ زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ انصاری بچیاں آ گئیں ان کے پاس تھال تھے جن میں اخروٹ ، شکر تھی لوگوں نے اپنے ہاتھ روک لئے تو جناب نبی اکرم ﷺ نے فرمایا تم لوٹتے کیوں نہیں ؟ انہوں نے کہایا رسول اللہ ﷺ آپ نے لوٹ سے منع فرمایا آپ نے فرمایا وہ لشکروں کو لوٹ ہے ( جس کی ممانعت ہے ) شادیوں کی لوٹ ممنوع نہیں ۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے جناب رسول اللہ ﷺ کو دیکھا آپ تھال لینے میں ان سے کھینچا تانی کر رہے تھے اور وہ آپ سے کھینچا تانی کرتے تھے ۔

مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← مَعْدَانَ، ← خَالِدٌ، ← ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، ← زياد بن المغيرة ← عَوْنُ بْنُ عُمَارَةَ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْعَتَّابِيُّ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4361

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 12 باب انتهاب ما ينثر على القوم مما يفعله الناس في النكاح ) · حديث 4362

4112 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا عثمان بن عمر قال أنا إسرائيل عن أبي حصين عن عبد الله بن يسار أنه كان لابن مسعود صبيان في الكتاب فأراد أن ينتهبوا عليهم فاشترى لهم جوزا بدرهمين وكره أن ينتهبوا مع الصبيان فقد يجوز أن يكون ذلك على الخوف منه عليهم من النهبة لا لغير ذلك

عبداللہ بن یسار کہتے ہیں کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے بچے لکھنے میں مصروف تھے انہوں نے چاہا کہ وہ آپس میں چھیننا جھپٹی کریں تو دو درہم کے اخروٹ خرید کر انہیں دئیے اور خود بچوں کے ساتھ چھیننا جھپٹی میں شرکت کو ناپسند کیا۔

أَبِي حَصِينٍ، ← اِسْرَائِیْلُ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4362

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 12 باب انتهاب ما ينثر على القوم مما يفعله الناس في النكاح ) · حديث 4363

4113 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا الوهبي قال ثنا المسعودي عن الهيثم أنه كان يستحب أن يوضع السكر في الملك ويكره أن ينثر

سعودی نے ہیشم سے بیان کیا کہ وہ اپنے ہاں میٹھی چیز رکھنا اچھا خیال کرتے تھے مگر مٹھائی کو لوٹ کے لئے بکھیرنا نا پسند کرتے تھے ۔

الهيثم أنه كان يستحب أن يوضع السكر في الملك ويكره أن ينثر ← الْمَسْعُودِيِّ ← الوهبي ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4363

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter