شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 10 باب وطء النساء في أدبارهن ) · حديث 4334
بما حدثنا بن أبي داود قال ثنا بن أبي مريم قال أخبرنا بن لهيعة عن محمد بن يزيد بن المهاجر عن محمد بن كعب القرظي أنه كان لا يرى بأسا بإتيان النساء في أدبارهن ويحتج في ذلك بقوله عز و جل أتأتون الذكران من العالمين وتذرون ما خلق لكم ربكم من أزواجكم بل أنتم قوم عادون أي من أزواجكم مثل ذلك إن كنتم تشتهون قيل لهم ومن يوافق محمد بن كعب على هذا التأويل قد قال مخالفوه وتذرون ما خلق لكم ربكم من أزواجكم مما قد أحل لكم من جماعهن في فروجهن وهذا التأويل عندنا أولى من التأويل الأول لموافقته لما جاء عن النبي صلى الله عليه و سلم مما قد ذكرنا ولئن وجب أن نقلد في هذا القول محمد بن كعب فإن تقليد سعيد بن المسيب أولى
یزید بن مہاجر نے محمد بن کعب قرظی کے متعلق نقل کیا کہ وہ عورتوں کے ساتھ دبر میں جماع کرنے میں کوئی حرج خیال نہ کرتا تھا اور الله تعالی کے ارشاد: (اتاتون الذکران من العلمین و تذرون ما خلق لکم ربکم من ازواجکم ، بل انتم قوم عدون (الشعرا :166165) سے استدلال کرتے ہوئے کہا کہ تا کہ تم اپنی بیویوں سے اسی جیسی چیز چھوڑتے ہو جو الله تعالی نے تمہارے لئے پیدا کی ہے اگر تم خواہش رکھتے ہو۔ اس آیت سے اس کا جواز ثابت ہورہا ہے۔ محمد بن کعب قرظی کی یہ تاویل فاسد ہے۔ مردوں کے متعلق جس چیز سے منع کیا تو کیا عورتوں سے تعلق اسی کو ثابت کرنا تھا۔ هذا شئی عجیب اس آیت کی تاویل یہ ہے کہ اس چیز کو چھوڑتے ہوجو تمہارے رب نے تمہارے لئے تمہاری بیویوں میں رکھی ہے وہ ان کے ساتھ (فرج) شرمگاہ میں جماع ہے جو کہ حلال کیا گیا اورنسل آدم کے بڑھنے کا ذریعہ بنایا گیا ہے یہ تاویل ہمارے ہاں مخالفت والی روایات کے موافق ہونے کی وجہ سے درست و اولیٰ ہے اور اگر اس بات کو تقلیداً ماننا ہے تو محمد بن کعب کی تقلید سے سعید بن المسيب راس التابعین کی تقلید بہتر ہے۔
محمد بن يزيد بن المهاجر ← بن لهيعة ← بن اَبِیْ مَرْیَمَ ← بن أبي داود ← بِمَا
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4334
