Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 10 باب وطء النساء في أدبارهن ) · حديث 4310

حدثنا بذلك فهد قال ثنا علي بن معبد قال ثنا عبد الله عن ميمون بن مهران فقد يضعف ما هو أكثر من هذا بأقل من قول ميمون ولقد أنكره نافع ابتداء على من رواه عنه أيضا

عبداللہ نے میمون بن مہران سے اسی طرح نقل کیا ہے ۔ میمون نے تو بہت بڑی بات کہی ہے اس سے کم درجہ کی بات سے وہ روایت جو اس سے بھی زیادہ سخت ہو وہ ضعیف ہو جاتی ہے ۔ مزید یہ کہ ابتداء میں نافع نے خود ان روایات کا انکار کیا جنہوں نے ان کی طرف نسبت کر کے یہ روایت بیان کی ۔ روایات سے انکار ملاحظہ ہو۔

عَبْدُ اللَّهِ ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، ← بذلك فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4310

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 10 باب وطء النساء في أدبارهن ) · حديث 4311

4067 - حدثنا يزيد بن سنان قال ثنا زكريا بن يحيى كاتب العمري قال ثنا المفضل بن فضالة عن عبد الله بن عياش عن كعب بن علقمة عن أبي النضر أنه أخبره أنه قال لنافع مولى عبد الله بن عمر إنه قد أكثر عليك القول أنك تقول عن بن عمر أنه أفتى أن تؤتى النساء في أدبارهن قال نافع كذبوا علي ولكن سأخبرك كيف الأمر إن بن عمر عرض المصحف يوما وأنا عنده حتى بلغ نساؤكم حرث لكم فأتوا حرثكم أنى شئتم فقال يا نافع هل تعلم من أمر هذه الآية قلت لا قال إنا كنا معشر قريش نحبي النساء فلما دخلنا المدينة ونكحنا نساء الأنصار أردنا منهن مثل ما كنا نريد فإذا هن قد كرهن ذلك وأعظمنه وكانت نساء الأنصار قد أخذن بحال اليهود وإنما يؤتين على جنوبهن فأنزل الله عز و جل نساؤكم حرث لكم فأتوا حرثكم أنى شئتم ففي هذا الحديث إنكار نافع لما قد روي عنه عن بن عمر رضي الله عنهما من إباحة وطء النساء في أدبارهن وإخبار منه عن بن عمر أن تأويل قوله نساؤكم حرث لكم فأتوا حرثكم أنى شئتم ليس على ما تأوله أهل المقالة الأولى ولكن على إباحة وعلى النساء بأركان فروجهن وقد روي عن أم سلمة رضي الله عنها أيضا نحو من ذلك

ابوالعضر بیان کرتے ہیں کہ میں نے نافع مولیٰ عبدالله بن عمر رضی اللہ عنہ کو کہا تیری طرف نسبت کر کے بہت سے لوگ بیان کرتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ روایت بیان کرتے ہو کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فتوی دیا کہ عورتوں کے ساتھ دبر میں جماع ہوسکتا ہے تو نافع کہنے لگے جن لوگوں نے میری طرف نبت کی انہوں نے مجھ پر جھوٹ بولاگر میں تمہیں اصل بات کی خبر دیتا ہوں ابن عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک دن مصحف پیش کیا گیا وہ تلاوت کر رہے تھے۔ یہاں تک کہ اس آیت پر پہنچے ( نسا وکم حرث لکمص فاتوا حرثکم انی شئتم و قدھوا لانفسکم ، وتقو اللہ اعلموا انکم ملقوۃ و بشر المومنین ) (البقرہ:2۳۳) پھر کہنے لگے اے نافع ! کیا تمہیں اس آیت کا شان نزول معلوم ہے ؟ میں نے نفی میں جواب دیا تو فرمانے لگے ہم قریشی لوگ عورتوں کو اوندھا کر کے ان سے جماع کرتے تھے جب ہم مدینہ منورہ میں داخل ہوئے تو ہم (میں سے بعض) نے انصاری عورتوں سے نکاح کیا ہم نے ان سے اسی طرح جماع کرنے کا ارادہ کیا جس طرح ہم اپنی قریشی عورتوں سے کرتے تھے۔ انہوں نے اس کو ناپسند کیا اور بہت بڑا گناہ خیال کیا۔ انصار کی عورتیں یہود کی حالت کو اپنانے والی تھیں ان سے پہلو کے بل لٹا کر جماع کیا جاتا تھا۔ (اسی کو انہوں نے لازم سمجھا ) تو اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمادی: نساؤكم حرث لكم ناتوا حرثکم انی شنتم (البقرہ:۲۲۳) اس روایت سے نافع رحمتہ اللہ علیہ انکار صاف طور پر ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اور آیت نساؤكم حرث لكم الایه کی تفسیر حقیقی بھی بتلائی کہ فریق اول کی تاویل درست نہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کو گھٹنوں کے بل بٹھا کر شرمگاہوں میں ان سے وطی درست ہے اور مباح ہے۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ کا قول: اس روایت اور مفہوم کی تائید ام سلمہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے بھی ہوتی ہے۔ روایت ام سلمہ رضی اللہ عنہ یہ ہے ۔

أَبِي النَّضْرِ ← كَعْبُ بْنُ عَلْقَمَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَيَّاشٍ، ← الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، كَاتِبُ الْعُمَرِيِّ ← يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4311

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 10 باب وطء النساء في أدبارهن ) · حديث 4312

4068 - حدثنا فهد قال ثنا موسى بن إسماعيل أبو سلمة التبوذكي قال ثنا وهيب قال ثنا عبد الله بن عثمان بن خثيم عن عبد الرحمن بن سابط قال أتيت حفصة بنت عبد الرحمن فقلت لها إني أريد أن أسألك عن شيء وأنا أستحي منك فقالت سل يا بن أخي عن ما بدا لك قلت عن إتيان النساء في أدبارهن قالت حدثتني أم سلمة أن الأنصار كانوا لا يجبون وكان المهاجرون يحبون وكانت اليهود تقول من جبى خرج ولده أحول فلما قدم المهاجرون المدينة نكحوا نساء الأنصار فنكح رجل من المهاجرين المرأة من الأنصار فجبا فأبت وأتت أم سلمة فذكرت لها ذلك فلما دخل رسول الله صلى الله عليه و سلم ذكرت ذلك له أم سلمة فاستحيت الأنصارية وخرجت فقال النبي صلى الله عليه و سلم أدعيها فدعتها فقال نساؤكم حرث لكم فأتوا حرثكم أنى شئتم صماما واحدا فقد أخبرت أم سلمة رضي الله عنها بتأويل هذه الآية أيضا وبتوقيف النبي صلى الله عليه و سلم إياه بقوله صماما واحدا فذلك دليل أن حكم ضد ذلك الصمام بخلاف حكم ذلك الصمام ولولا ذلك لما كان لقوله صماما واحدا معنى وقد روى عن بن عباس رضي الله عنهما في تأويل هذه الآية ما يرجع معناه إلى هذا المعنى أيضا

عبدالرحمن بن سابط کہتے ہیں کہ میں حفصہ بنت عبدالرحمن کی خدمت میں آیا اور میں نے انہیں کہا میں آپ سے ایک بات دریافت کرنا چاہتا ہوں مگر مجھے پوچھتے حیاء آتی ہے۔ وہ کہنے لگیں جو چاہے دریافت کرواے بھتیجے ! میں نے کہا عورتوں سے دیر میں جماع کا کیا حکم ہے؟ وہ کہنے لگیں مجھے ام سلمہ رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ انصاری لوگ اپنی عورتوں کو الٹا لٹا کر ان سے جماع نہ کرتے تھے اور مہاجرین عورتوں کو اوندھالٹا کر جماع کرتے تھے یہود مدینہ کہتے تھے کہ جس نے عورت کو اوندھالٹا کر جماع کیا اس کی اولاد بھینگی پیدا ہوگی جب مہاجر ین مدینہ منورہ آئے تو انہوں نے بعض انصاری عورتوں سے نکاح کئے تو مہاجرین میں سے ایک مرد نے ایک انصاریہ سے نکاح کیا اور اس نے اپنی بیوی کو اوندھا کرنا چاہا مگر اس نے انکار کیا اور وہ جناب ام سلمہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور ان سے اپنی بات بیان کی پس جب جناب رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تو ام سلمہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات آپ کی خدمت میں پیش کی۔ انصاریہ عورت حیاء کی وجہ سے باہرنکل گئی جناب نبی اکرم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا اس کو بلاؤ :- ام سلمہ رضی اللہ عنہ نے اس کو بلایا تو آپ نے یہ آیت پڑھی: نساؤكم حرث لكم فأتوا حرثکم انی شنتم يعنی فقط ایک سوراخ (فرج) میں وہ جماع کرسکتا ہے۔ روایت اس بات کی واضح دلیل ہے اس خاص سوراخ (فرج) کا حکم اس سوراخ کے علاوہ مختلف ہے اگر ان دونوں کا حکم یکساں ہوتا تو صماما واحدا کہنے کا کوئی معنی نہ تھا ۔

أتيت حفصة بنت عبد الرحمن فقلت لها إني أريد ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ← وُهَيْبٌ، ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ أَبُو سَلَمَةَ التَّبُوذَكِيُّ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4312

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 10 باب وطء النساء في أدبارهن ) · حديث 4313

4069 - حدثنا ربيع الجيزي قال ثنا أبو الأسود قال أخبرنا بن لهيعة عن يزيد بن أبي حبيب أن عامر بن يحيى المعافري حدثه أن حنش بن عبد الله الشيباني حدثه أنه سمع بن عباس أن ناسا من حمير أتوا إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم يسألونه عن النساء فأنزل الله عز و جل نساؤكم حرث لكم فأتوا حرثكم أنى شئتم قال النبي صلى الله عليه و سلم إيتها مقبلة ومدبرة إذا كان ذلك في الفرج ثم جاءت الآثار متواترة بالنهي عن إتيان النساء في أدبارهن فمن ذلك ما

حنش بن عبداللہ شیبانی نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے حمیری لوگ جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے اور آپ سے عورتوں کے سلسلہ میں سوالات کئے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ۔ نساؤکم حرث لکم فاتوا احرتکم انی شئتم ( البقرۃ 223) تو جناب نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ان کو اوندھا چت لٹا کر یا سیدھا لٹا کر جماع درست ہے جبکہ شرمگاہ ( فرج ) میں ہو۔

أَنَّهُ ← أن حنش بن عبد الله الشيباني ← يزيد بن أبي حبيب أن عامر بن يحيى المعافري ← بن لهيعة ← أَبُو الْأَسْوَدِ، ← ربيع الجيزي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4313

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 10 باب وطء النساء في أدبارهن ) · حديث 4314

4070 - حدثنا يونس قال أخبرنا سفيان عن بن الهاد عن عمارة بن خزيمة بن ثابت عن أبيه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال إن الله لا يستحيي من الحق لا تأتوا النساء في أدبارهن

عمارہ بن خزیمہ بن ثابت نے اپنے والد سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ حق سے حیاء نہیں کرتے عورتوں سے دبر میں وطی مت کرو۔

أَبِيهِ ← عُمَارَۃَ بْنِ خُزَیْمَۃَ بْنِ ثَابِتِ ← بْنِ الْهَادِ ← سُفْيَانَ، ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4314

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 10 باب وطء النساء في أدبارهن ) · حديث 4315

4071 - حدثنا روح بن الفرج قال ثنا يحيى بن عبد الله بن بكير قال حدثنا الليث بن سعد قال حدثني عمر مولى عفرة بنت رباح أخت بلال مؤذن رسول الله صلى الله عليه و سلم عن عبد الله بن علي بن السائب عن عبد الله بن الحصين عن عبد الله بن حرمي الخطمي عن خزيمة بن ثابت أن النبي صلى الله عليه و سلم قال فذكر مثله

عبداللہ بن حصین نے عبداللہ بن حرمی خطمی سے انہوں نے خزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ سے انہوں نے کہا کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے فرمایا پھر اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4315

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 10 باب وطء النساء في أدبارهن ) · حديث 4316

4072 - حدثنا روح قال ثنا إبراهيم بن محمد الشافعي قال حدثني محمد بن علي قال كنت مع محمد بن كعب القرظي فسأله رجل فقال يا أبا حمزة ما ترى في إتيان النساء في أدبارهن فأعرض أو سكت فقال هذا شيخ قريش فسأله يعني عبد الله بن علي بن السائب فقال عبد الله اللهم قذرا ولو كان حلالا قال حرمي ولم يكن سمع في ذلك شيئا قال ثم أخبرني عبد الله بن علي أنه لقي عمرو بن أبي أحيحه بن الجلاح فسأله عن ذلك فقال أشهد لسمعت خزيمة بن ثابت الذي جعل رسول الله صلى الله عليه و سلم شهادته شهادة رجلين يقول أتى رجل النبي صلى الله عليه و سلم فقال يا رسول الله آتي امرأتي من دبرها فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم نعم قالها مرتين أو ثلاثا قال ثم فطن رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال في أي الخرطتين أو في أي الخرزتين أما من دبرها في قبلها فنعم وأما في دبرها فإن الله تعالى نهاكم أن تأتوا النساء في أدبارهن

محمد بن علی نے نقل کیا کہ میں محمد بن کعب قرطی کے ساتھ تھا کہ ان سے ایک آدی نے سوال کیا۔ اے ابو حمزہ ! عورتوں کے ساتھ دبر میں وطی کا کیا حکم ہے تو انہوں نے اس سے منہ موڑ لیا یا سکوت اختیار کیا پھر کہنے لگے ۔ یہ قریش کے شیخ ہیں ان سے دریافت کرو یعنی عبداللہ بن علی بن ساب سے تو عبداللہ کہنے لگے اگر یہ حلال بھی ہوتا تب بھی گندگی تھی حرمی کہنے لگے انہوں نے اس سلسلہ میں کوئی چیز نہیں سنی تھی تو انہوں نے کہا۔ پھر مجھے عبداللہ بن علی نے بتلایا کہ میں عمرو بن ابی احیحہ بن جلاح سے ملا اور ان سے اس سلسلے میں سوال کیا وہ کہنے لگے میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے ان خزیمہ بن ثابت انصاری سے سنا ہے جن کی گواہی کو جناب رسول اللہ ﷺ نے دو آدمیوں کے برابر قرار دیا دہ فرماتے تھے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک آدمی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ﷺ کیامیں اپنی عورت کے ساتھ دبر کی طرف سے وطی کر سکتا ہوں؟ آپ نے فرمایا ہاں۔ یہ نعم کا کلمہ دو یا تین مرتبہ فرمایا۔ خزیمہ کہتے ہیں پھر جناب رسول اللہ ﷺ اس کے سوال کا مطلب بھانپ گئے تو آپ ﷺ نے فرمایا تم دونوں سوراخوں میں سے کس سوراخ کی بات کرتے ہو اگر پشت کی طرف سے جا کر فرج میں جماع کرو تو یہ درست ہے اور اگر پشت سے دبر میں جماع کرو تو الله تعالی نے اس سے منع فرمایا کہ تم اپنی عورتوں سے لواطت کرو۔(جب حلال بیوی سے لواطت حرام ہے تو مردسے تو پہلے ہی حرام ہے۔ فلجدر)

محمد بن علي ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّافِعِيُّ، ← رَوْحٌ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4316

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 10 باب وطء النساء في أدبارهن ) · حديث 4317

4073 - حدثنا عبد الرحمن بن الجارود قال ثنا سعيد بن عفير قال حدثني الليث بن سعد قال حدثني عبيد الله بن عبد الله بن الحسين الأنصاري ثم الوائلي عن حرمي بن عبد الله الوائلي عن خزيمة بن ثابت عن النبي صلى الله عليه و سلم قال لا تأتوا النساء في أدبارهن

حرمی بن عبداللہ وائلی نے خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا عورتوں کے ساتھ دبر میں وطی مت کرو۔

«لَا تَأْتُوا النِّسَاءَ فِي أَدْبَارِهِنَّ» ← النبي صلى الله عليه و سلم ← خُزَیْمَۃَ بْنِ ثَابِتٍ ← حرمي بن عبد الله الوائلي ← عبيد الله بن عبد الله بن الحسين الأنصاري ثم الوائلي ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ ← عبد الرحمن بن الجارود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4317

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 10 باب وطء النساء في أدبارهن ) · حديث 4318

4074 - حدثنا بكر بن إدريس قال ثنا أبو عبد الرحمن المقرئ قال ثنا حيوة بن لهيعة قال أخبرنا حسين مولى محمد بن سهل عن سعيد بن أبي هلال عن عبد الله بن علي عن حرمي بن علي الخطمي عن خزيمة بن ثابت عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

حرمی بن علی خطمی نے خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح کی روایت کی ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← خُزَیْمَۃَ بْنِ ثَابِتٍ ← حرمي بن علي الخطمي ← عبد الله بن علي ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ← حسين مولى محمد بن سهل ← حيوة بن لهيعة ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ← بكر بن إدريس

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4318

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 10 باب وطء النساء في أدبارهن ) · حديث 4319

4075 - حدثنا صالح بن عبد الرحمن قال ثنا أبو عبد الرحمن فذكر بإسناده مثله

صالح بن عبدالرحمن نے ابو عبدالرحمن سے نقل کیا پھر انہوں نے اپنی سند سے اسی طرح روایت بیان کی ہے ۔

أبو عبد الرحمن فذكر بإسناده مثله ← صالح بن عبد الرحمن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4319

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 10 باب وطء النساء في أدبارهن ) · حديث 4320

4076 - حدثنا ربيع الجيزي قال ثنا أبو زرعة قال أخبرنا حيوة قال أخبرنا حسان فذكر بإسناده مثله

ابو زرعہ کہتے ہیں ہمیں حیوہ نے انہوں نے حسان سے روایت کی پھر اس نے اپنی اسناد سے روایت نقل کی ہے ۔

حسان فذكر بإسناده مثله ← حَيْوَةُ، ← أَبُو زُرْعَةَ ← ربيع الجيزي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4320

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 10 باب وطء النساء في أدبارهن ) · حديث 4321

4077 - حدثنا ربيع الجيزي قال ثنا أبو الأسود قال أنا بن لهيعة عن حسان مولى سهل بن عبد العزيز عن سعيد فذكر بإسناده مثله

حسان سے مولیٰ سہل بن عبدالعزیز سے انہوں نے سعید سے پھر سعید نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت بیان کی ہے ۔

سعيد فذكر بإسناده مثله ← حسان مولى سهل بن عبد العزيز ← بن لهيعة ← أَبُو الْأَسْوَدِ، ← ربيع الجيزي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4321

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter