Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 8 باب العزل ) · حديث 4265

4025 - حدثنا محمد بن عمرو بن يونس قال ثنا أسباط عن مطرف عن أبي إسحاق عن أبي الوداك عن أبي سعيد الخدري قال لما افتتح رسول الله صلى الله عليه و سلم خيبر أصبنا نساء فكنا نطؤهن فنعزل عنهن فقال بعضنا لبعض أتفعلون هذا ورسول الله صلى الله عليه و سلم إلى جنبكم لا تسألونه قال فسألوه عن ذلك فقال ليس من كل الماء يكون الولد إن الله إذا أراد أن يخلق شيئا لم يمنعه شيء فلا عليكم ألا تعزلوا

ابو الوداک نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے جب جناب رسول اللہ ﷺ نے خیبر فتح کر لیا تو ہمیں کچھ قیدی عورتیں حاصل ہوئیں ہم ان سے وطی کرتے ہوئے عزل کرتے تھے ہم نے ایک دوسرے سے کہا کہ تم ایسا کرتے ہو حالانکہ جناب رسول اللہ ﷺ تمہارے پاس موجود ہیں تم جناب رسول اللہ ﷺ سے اس سلسلہ میں کیوں نہیں پوچھ لیتے ۔ ابو سعید کہتے ہیں کہ انہوں نے دریافت کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا ہر پانی سے بچہ پیدا نہیں ہوتا بیشک اللہ تعالیٰ جب کسی چیز کو پیدا کرنا چاہتا ہے تو اسے کوئی چیز روک نہیں سکتی فلہذا اگر تم عزل نہ بھی کرو تو مضائقہ نہیں ۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الْوَدَّاكِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← مُطَرِّفٍ ← أَسْبَاطٍ ← محمد بن عمرو بن يونس

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4265

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 8 باب العزل ) · حديث 4266

4026 - حدثنا ربيع المؤذن قال حدثنا بن وهب قال وأخبرني بن أبي الزناد عن أبيه قال حدثني محمد بن يحيى بن حبان أن بن محيريز حدثه أن أبا سعيد حدثه أن بعض الناس كلموا رسول الله صلى الله عليه و سلم في شأن العزل وذلك لشأن غزوة بني المصطلق فأصابوا سبايا وكرهوا أن يلدن منهم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم ما عليكم أن لا تعزلوا فإن الله قد قدر ما هو خالق إلى يوم القيامة

ابن محیریز نے بیان کیا کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ بعض صحابہ کرام نے عزل کے سلسلہ میں جناب نبی اکرم ﷺ سے بات کی اور غزوہ بنو مصطلق کی وجہ سے اس کی ضرورت پیش آئی کیونکہ وہاں سے قیدی عورتیں حاصل ہوئیں تھیں انہوں نے ان عورتوں سے ہم بستر ہونا پسند کیا تو جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر تم عزل نہ کرو تو تو بھی کوئی حرج نہیں بے شک اللہ تعالیٰ نے قیامت تک جس کو پیدا کرنا ہے اس کو مقدر فرما دیا ہے ۔

أن أبا سعيد ← محمد بن يحيى بن حبان أن بن محيريز ← أَبِيهِ ← بن أبي الزناد ← بن وَهْبٍ ← ربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4266

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 8 باب العزل ) · حديث 4267

4027 - حدثنا بن أبي داود قال حدثني بن أبي مريم قال أخبرني بن أبي الزناد قال حدثني أبي عن يحيى بن يحيى بن حبان أن بن محيرز حدثه أن أبا سعيد أخبرهم ثم ذكر مثله

ابن محیریز نے بیان کیا کہ ابو سعید رضی اللہ عنہ نے ہمیں بتلایا پھر اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔

مِثْلَہُ ← ثُمَّ ← أن أبا سعيد ← يحيى بن يحيى بن حبان أن بن محيرز ← أَبِي ← بن أبي الزناد ← بن اَبِیْ مَرْیَمَ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4267

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 8 باب العزل ) · حديث 4268

4028 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب أن مالكا حدثه عن ربيعة بن عبد الرحمن عن محمد بن يحيى بن حبان فذكر بإسناده مثله

ربیعہ بن عبدالرحمن نے محمد بن یحییٰ بن حبان سے پھر اپنی سند سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔

محمد بن يحيى بن حبان فذكر بإسناده مثله ← رَبِیعَہَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4268

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 8 باب العزل ) · حديث 4269

4029 - حدثنا نصر بن مرزوق قال ثنا الخصيب قال ثنا وهيب عن موسى بن عقبة عن محمد بن يحيى بن حبان عن بن المحيريز عن أبي سعيد الخدري أنهم أصابوا سبايا يوم أوطاس فأرادوا أن يستمتعوا منهن ولا تحملن فسألوا النبي صلى الله عليه و سلم عن ذلك فقال لا عليكم أن لا تفعلوا فإن الله عز و جل قد كتب من هو خالق إلى يوم القيامة

ابن محیریز نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ اوطاس کے دن ہمیں کچھ قیدی عورتیں ملیں پس صحابہ کرام نے ان سے اس طور پر نفع اٹھانے کا ارادہ کیا کہ وہ حاملہ نہ ہوں تو انہوں نے جناب رسول اللہ ﷺ سے اس سلسلہ میں دریافت کیا پس آپ ﷺ نے فرمایا تمہیں ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں بیشک اللہ تعالیٰ نے قیامت تک پیدا ہونے والوں کو لکھ دیا ہے ۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← بن المحيريز ← مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← وُهَيْبٌ، ← الخصيب ← نَصْرُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4269

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 8 باب العزل ) · حديث 4270

4030 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا أبو اليمان قال أخبرنا شعيب بن أبي حمزة عن الزهري قال أخبرني عبد الله بن محيريز الجمحي أن أبا سعيد الخدري أخبره أنه بينا هو جالس عند النبي صلى الله عليه و سلم إذ جاءه رجل من الأنصار فقال يا رسول الله إنا نصيب سبيا ونحب الأثمان فكيف ترى في العزل فقال النبي صلى الله عليه و سلم أو أنكم لتفعلون ذلك لا عليكم أن لا تفعلوا ذلكم فإنها ليست نسمة كتب الله أن تخرج إلا هي خارجة

ابن محیریزجمحی کہتے ہیں کہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ میں جناب نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں بیٹھا تھا اسی اثنا میں آپ کے پاس ایک انصاری آدمی آیا اور اس نے کہا یا رسول اللہ ﷺ ہم نے قیدی پائے ہیں ہمیں ان کی قیمتیں پسند ہیں پس آپ عزل کے متعلق کیا حکم فرماتے ہیں ؟ جناب نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کیا تم ایسا کرنا چاہتے ہو؟ اگر تم ایسا نہ بھی کرو تو بھی کوئی گناہ نہیں کیونکہ جس جان کا پیدا ہونا لکھا جا چکا ہے وہ ضرور نکلے گی۔

عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَيْرِيزٍ الجُمَحِيُّ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، ← أَبُو الْيَمَانِ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4270

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 8 باب العزل ) · حديث 4271

4031 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو داود عن شعبة عن أنس بن سيرين قال سمعت معبد بن سيرين يحدث عن أبي سعيد رضي الله عنه قال سألنا رسول الله صلى الله عليه و سلم عن العزل فقال لا عليكم ألا تفعلوه فإنما هو القدر

ابن سیرین نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ہم نے جناب رسول اللہ ﷺ سے عزل کے متعلق سوال کیا تو آپ نے فرمایا تم پر ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں وہ تو تقدیر الہی ہے ( اگر بچہ مقدر ہو گا تو پیدا ہو جائے گا )

العزل فقال لا عليكم ألا تفعلوه فإنما هو القدر ← سألنا رسول الله صلى الله عليه و سلم ← اَبِیْ سَعِیْدٍ ← مَعْبَدِ بْنِ سِيرِينَ ← أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4271

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 8 باب العزل ) · حديث 4272

4032 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو داود عن شعبة عن أبي إسحاق السبيعي قال سمعت أبا الوداك يحدث عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه قال لما اصبنا سبى خيبر سألنا رسول الله صلى الله عليه و سلم عن العزل فقال ليس من كل الماء يكون الولد فإذا أراد الله أن يخلق شيئا لم يمنعه شيء

ابو الوراک نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ جب ہمیں خیبر کے قیدی ملے تو ہم نے جناب رسول اللہ ﷺ سے عزل کے متعلق سوال کیا تو آپ نے فرمایا ہر پانی سے لڑکا پیدا نہیں ہوتا جب اللہ تعالیٰ پیدا کرنے کا ارادہ فرماتے ہیں تو اس کے لئے کوئی چیز رکاوٹ نہیں بنتی ۔

الْعَزْل ← لما اصبنا سبى خيبر سألنا رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبَا الْوَدَّاكِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ السَّبِيعِيِّ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4272

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 8 باب العزل ) · حديث 4273

4033 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا مؤمل قال ثنا سفيان عن أبي إسحاق عن أبي الوداك عن أبي سعيد قال أصبنا سبيا يوم خيبر فكنا نعزل عنهن نريد الفداء فقلنا لو سألنا رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم ذكر مثله

ابو الوداک نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ ہم نے خیبر کے روز قیدی عورتیں پائیں ہم ان سے عزل کرتے تھے ہم ان کو فروخت کر کے فدیہ چاہتے تھے تو ہم نے جناب رسول اللہ ﷺ سے اس سلسلہ میں سوال کیا پھر اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِي الْوَدَّاكِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← سُفْيَانَ، ← مُؤَمَّلٍ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4273

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 8 باب العزل ) · حديث 4274

4034 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا أبو ظفر قال ثنا جرير بن حازم عن محمد بن سيرين عن أبي العالية عن أبي سعيد قال تذاكرنا العزل فخرج علينا رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال لا عليكم ألا تفعلوا فإنما هو القدر

ابن سیرین نے ابو العالیہ سے انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ ہم نے عزل کا مذاکرہ کیا تو جناب رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لائے اور فرمایا تمہیں ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔ اولاد تو تقدیر کا معاملہ ہے ۔

لا عليكم الا تفعلوا فإنما هو القدر ← تذاكرنا العزل فخرج علينا رسول الله صلى الله عليه و سلم ← اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِي الْعَالِيَةِ ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← أَبُو ظَفَرٍ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4274

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 8 باب العزل ) · حديث 4275

4035 - حدثنا أبو بكرة وابن مرزوق قالا ثنا أبو داود قال ثنا شعبة عن أبي الفيض قال سمعت عبد الله بن مرة عن أبي سعيد الزرقي أن رجلا من أشجع سأل رسول الله صلى الله عليه و سلم عن العزل فقال ما يقدر الله في الرحم يكن

عبداللہ بن مرہ کہتے ہیں کہ میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا کہ اشجع کے ایک آدمی نےجناب رسول اللہ ﷺ سے عزل کے متعلق دریافت کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے رحم میں جس کا پیدا کرنا مقصود کر دیا وہ ہو کر رہے گا۔

أبي سعيد الزرقى ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، ← أَبِي الْفَيْضِ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أبو بكرة وابن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4275

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 8 باب العزل ) · حديث 4276

4036 - حدثنا فهد قال ثنا أبو غسان قال ثنا جعفر بن أبي المغيرة عن عبد الله بن أبي الهذيل عن جرير رضي الله عنه قال أتى النبي صلى الله عليه و سلم رجل فقال ما وصلت إليك من المشركين إلا بغنية لي أو بقينة أعزل عنها أريد بها السوق فقال جاءها ما قدر قال أبو جعفر ففي هذه الآثار أيضا ما يدل على أن العزل غير مكروه لأن رسول الله صلى الله عليه و سلم لما أخبروه أنهم يفعلونه لم ينكر ذلك عليهم ولم ينههم عنه وقال لا عليكم ألا تفعلوه فإنما هو القدر أي فإن الله إذا كان قد قدر أنه يكون ذلك كان ذلك الولد ولم يمنعه عزل ولا غيره لأنه قد يكون مع العزل إفضاء بقليل الماء الذي قد قدر الله عز و جل أن يكون منه ولد فيكون منه ولد ويكون ما بقي من الماء الذي قد يمتنعون من الإفضاء به بالعزل فضلا وقد يكون الله عز و جل قد قدر أن لا يكون من ماء ولد فيكون الإفضاء بذلك الماء والعزل سواء في أن لا يكون منه ولد فكان الإفضاء بالماء لا يكون منه ولد إلا بأن يكون في تقدير الله عز و جل أن لا يكون من ذلك الماء ولد فيكون كما قدر وكان العزل إذا كان قد تقدم في تقدير الله عز و جل أن يكون من ذلك الماء الذي يعزل ولدا وصل الله إلى الرحم منه شيئا وإن قل فيكون منه الولد فأعلمهم رسول الله صلى الله عليه و سلم الإفضاء لا يكون به ولد إلا أن يكون قد سبق ذلك في تقدير الله عز و جل وأن العزل لا يمنع أن يكون ولد إذا كان قد سبق في علم الله أنه كائن ولم ينههم في جملة ذلك عزل ثم قد روي عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في إباحته أيضا ما قد

عبداللہ بن ابی ہذیل نے جریر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ جناب نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں ایک آدمی آ کر کہنے لگا میں آپ کے ساتھ مشرکین سے کٹ کر اس لئے ملا ہوں تا کہ غنیمت حاصل کروں یا لونڈی حاصل کروں جس سے میں عزل کروں اور جب چاہوں اس کو فروخت کر دوں آپ ﷺ نے فرمایا اس سے وہ پیدا ہوگا جو تقدیر میں لکھا ہے۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ان آثار سے بھی یہ دلالت ملتی ہے کہ عزل مکروہ نہیں کیونکہ جناب رسول اللہ ﷺ کو جب یہ اطلاع ملی کہ وہ عزل کرتے ہیں تو آپ نے ان کے اس فعل کا انکارنہیں فرمایا اور نہ ہی ان کو روکا بلکہ فرمایا اگر تم ایسا نہ بھی کروتو اولاد تو تقدیر سے ہوگی یعنی الله تعالی نے اگر تقدیر میں لکھا ہوگا تو وہ لڑکا پیدا ہوگا اور عزل سے ان کونہیں روکا اور حکم دیا کیونکہ بسا اوقات عزل کے باوجود نطفہ رحم میں معمولی پانی سے استقرار اختیارکر لیتا ہے جس کے متعلق اولاد ہونا تقدیر میں لکھا جا چکا ہوتا ہے اور باقی پانی جسے وہ غزل کے ذریعہ مقام تک پہنچنے سے روکتے ہیں وہ زائد بچ جاتا ہے اور بعض اوقات الله تعالی تقدیر میں لکھ دیتے ہیں کہ اس پانی سے بچہ پیدا نہ ہوگا پس اس وقت پانی کا اندر جانا اور غزل دونوں برابر ہیں کیونکہ کچھ تو پیدا نہیں ہونا پس پانی کے اندر جانے سے بچہ اسی صورت میں پیدا ہوگا جب الله تعالی کی طرف سے تقدیر میں طے ہو گا اور اگر الله تعالی کی تقدیر میں ہو کہ جس پانی کا عزل کیا گیا ہے اس سے بچہ پیدا ہوتو الله تعالی اس میں سے کچھ رحم میں پہنچادیتے ہیں اگر چہ معمولی ہی ہو پس اس سے بچہ پیدا ہو جائے گا۔ تو جناب رسول اللہ ﷺ نے ان کو بتلایا کہ محض انزال سے بچہ پیدا نہیں ہوتا جب تک پہلے سے تقدیر میں نہ لکھا ہو اور عزل سے بچے کی پیدائش کو روکا نہیں جا سکتا جبکہ علم الہی میں بچے کا پیدا ہونا لکھا ہو۔ حاصل کلام یہ ہے کہ آپ ﷺ نے غزل سے منع نہیں فرمایا۔ جناب رسول اللہ ﷺ سے اس کی اباحت میں بہت سی روایات وارد ہیں۔

جَرِيرٌ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْهُذَيْلِ، ← جَعْفَرِ بْنِ أَبِي الْمُغِيرَةِ ← أبو غسان، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4276

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter