شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 6 باب نكاح المتعة ) · حديث 4230
3993 - حدثنا أبو بكرة قال حدثنا مؤمل بن إسماعيل قال ثنا عكرمة بن عمار عن سعيد بن أبي سعيد المقبري عن أبي هريرة قال خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم في غزوة تبوك فنزل ثنية الوداع فرأى مصابيح ونساء يبكين فقال ما هذا فقيل نساء تمتع بهن أزواجهن وفارقوهن فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم إن الله حرم أو هدر المتعة بالطلاق والنكاح والعدة والميراث ففي هذه الآثار تحريم رسول الله صلى الله عليه و سلم المتعة بعد إذنه فيها وإباحته إياها فثبت بما ذكرنا نسخ ما في الآثار الأول التي ذكرناها في أول هذا الباب ثم قد روي عن أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم ورضي عنهم النهي عنها أيضا
سعید بن ابی سعید بن مقبری نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ ہم جناب رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ تبوک کے لئے روانہ ہوئے آپ ﷺ نے ثتیتہ الوداع میں قیام فرمایا آپ نے وہاں کچھ چراغ دیکھے اور کچھ عورتوں کو دیکھا جو رو رہی تھیں آپ نے دریافت فرمایا یہ کیا ۔ تو بتلایا گیا کہ ان عورتوں سے ان کے خاوندوں نے متعہ کیا اور پھر ان کو چھوڑ دیا جناب نبی اکرم ﷺ نے فرمایا بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے متعہ کو طلاق ، نکاح ، عدت اور وراثت کے ساتھ حرام یا باطل قرار دیا ہے ۔ پس ان روایات و آثار سے ثابت ہو رہا ہے کہ متعہ کی اجازت دینے اور اسے جائز قرار دینے کے بعد اس کو حرام قرار دیا گیا تو باب کے شروع میں مذکورہ روایات کا نسخ ثابت ہو گیا پھر صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے بھی اس سلسلہ میں ممانعت کی روایت موجود ہیں جو اس نسخ کی توثیق کرتی ہیں ۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِیْدِ بْنِ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْمَقْبُرِیِّ ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← أَبُو بَکْرَةَ
Hadith 4230
