Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 2 باب النكاح بغير ولي عصبة ) · حديث 4189

3957 - حدثنا علي بن شيبة قال ثنا يزيد بن هارون قال أخبرنا حماد بن سلمة ح

یزید بن ہارون نے حماد بن سلمہ سے روایت کی ہے ۔

حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← علي بن شيبة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4189

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 2 باب النكاح بغير ولي عصبة ) · حديث 4190

وحدثنا بن أبي داود قال ثنا أبو سلمة موسى بن إسماعيل قال ثنا حماد بن سلمة ح

موسیٰ بن اسماعیل نے حماد بن سلمہ سے روایت نقل کی ہے ۔

حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو سَلَمَةَ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← وحدثنا بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4190

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 2 باب النكاح بغير ولي عصبة ) · حديث 4191

وحدثنا بن أبي داود أيضا قال ثنا آدم بن أبي إياس قال ثنا سليمان بن المغيرة قالا ثنا ثابت عن عمر بن أبي سلمة عن أم سلمة قالت دخل علي رسول الله صلى الله عليه و سلم وعلى آله وسلم بعد وفاة أبي سلمة فخطبني إلى نفسي [ ص 12 ] فقلت يا رسول الله إنه ليس أحد من أوليائي شاهدا فقال إنه ليس منهم شاهد ولا غائب يكره ذلك قالت قم يا عمر فزوج النبي صلى الله عليه و سلم فتزوجها فكان في هذا الحديث أن رسول الله صلى الله عليه و سلم وعلى آله وسلم خطبها إلى نفسها ففي ذلك دليل أن الأمر في التزويج إليها دون أوليائها فإنما قالت له إنه ليس أحد من أوليائي شاهدا قال إنه ليس منهم شاهد ولا غائب يكره ذلك فقالت قم يا عمر فزوج النبي عليه السلام وعمر هذا ابنها وهو يومئذ طفل صغير غير بالغ لأنها قد قالت للنبي صلى الله عليه و سلم وعلى آله وسلم في هذا الحديث إني امرأة ذات أيتام يعني عمر ابنها وزينب بنتها والطفل لا ولاية له فولته هي أن يعقد النكاح عليها ففعل فرآه النبي صلى الله عليه و سلم وعلى آله وسلم جائزا وكان عمر بتلك الوكالة قام مقام من وكله فصارت أم سلمة رضي الله عنها كأنها عقدت النكاح على نفسها للنبي صلى الله عليه و سلم ولما لم ينتظر النبي صلى الله عليه و سلم حضور أوليائها دل ذلك أن بضعها إليها دونهم ولو كان لهم في ذلك حق أو أمر لما أقدم النبي صلى الله عليه و سلم على حق هو لهم قبل إباحتهم ذلك له فإن قال قائل إن النبي صلى الله عليه و سلم وعلى آله وسلم كان أولى بكل مؤمن من نفسه قيل له صدقت هو أولى به من نفسه يطيعه في أكثر مما يطيع فيه نفسه فأما أن يكون هو أولى به من نفسه في أن يعقد عليه عقدا بغير أمره من بيع أو نكاح أو غير ذلك فلا وإنما كان سبيله في ذلك صلى الله عليه و سلم وعلى آله وسلم كسبيل الحكام من بعده ولو كان ذلك كذلك لكانت وكالة عمر إنما تكون من قبل النبي صلى الله عليه و سلم وعلى آله وسلم لا من قبل أم سلمة لأنه هو وليها فلما لم يكن ذلك كذلك وكانت الوكالة إنما كانت من قبل أم سلمة فعقد بها النكاح فقبله رسول الله صلى الله عليه و سلم وعلى آله وسلم دل ذلك أن النبي صلى الله عليه و سلم وعلى آله وسلم إنما كان ملك ذلك البضع بتمليك أم سلمة إياه لا بحق ولاية كانت له في بضعها أو لا ترى أنها قد قالت إنه ليس أحد من أوليائي شاهدا فقال لها النبي صلى الله عليه و سلم وعلى آله وسلم إنه ليس أحد منهم شاهد ولا غائب يكره ذلك ولو كان هو أولى بها منهم لم يقل لها ذلك ولقال لها أنا وليك دونهم ولكنه لم ينكر ما قالت وقال لها إنهم لا يكرهون ذلك فهذا وجه هذا الباب من طريق تصحيح معاني الآثار ولما ثبت أن عقد أم سلمة رضي الله عنها النكاح على بضعها كان جائزا دون أوليائها وجب أن يحمل معاني الآثار التي قدمنا ذكرها في هذا الباب على هذا المعنى أيضا حتى لا يتضاد شيء منها ولا يتنافى ولا يختلف وأما النظر في ذلك فإنا قد رأينا المرأة قبل بلوغها يجوز أمر والدها عليها في بضعها ومالها فيكون العقد في ذلك كله إليه لا إليها وحكمه في ذلك كله حكم واحد غير مختلف فإذا بلغت فكل قد أجمع أن ولايته على مالها قد ارتفعت وأن ما كان إليه من العقد عليها في مالها في صغرها قد عاد إليها فالنظر على ذلك أن يكون كذلك العقد على بضعها يخرج ذلك من يد أبيها ببلوغها فيكون ما كان إليه من ذلك قبل بلوغها قد عاد إليها ويستوي حكمها في مالها وفي بضعها بعد بلوغها فيكون ذلك إليها دون أبيها ويكون حكمها مستويا بعد بلوغها كما كان مستويا قبل بلوغها فهذا حكم النظر في هذا الباب وهذا قول أبي حنيفة رحمه الله أيضا إلا أنه كان يقول إن زوجت المرأة نفسها من غير كفء فلوليها فسخ ذلك عليها وكذلك إن قصرت في مهرها فتزوجت بدون مهر مثلها فلوليها أن يخاصم في ذلك حتى يلحق بمهر مثل نسائها وقد كان أبو يوسف رحمة الله عليه كان يقول إن بضع المرأة إليها الولاء في عقد النكاح عليه لنفسها دون وليها يقول إنه ليس للولي أن يعترض عليها في نقصان ما تزوجت عليه عن مهر مثلها ثم رجع عن قوله هذا كله إلى قول من قال لا نكاح إلا بولي وقوله الثاني هذا قول محمد بن الحسن رحمة الله تعالى عليه والله أعلم بالصواب

ثابت نے عمر بن ابی سلمہ سے اور انہوں نے ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب نبی اکرم ﷺ ابوسلمہ کی وفات کے بعد میرے ہاں تشریف لائے اور آپ ﷺ نے مجھے اپنے ساتھ نکاح کا پیغام دیا میں نے عرض کی : یارسول اللہ ﷺ میرے اولیاء میں سے کوئی یہاں موجود نہیں۔ آپ نے فرمایا ان میں سے حاضر و غائب کوئی بھی اس کو نا پسند نہ کرے گا تو اس پر حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ ا نے اپنے بیٹے عمر کو فرمایا اے عمر اٹھو اور جناب نبی اکرم ﷺ سے میرا نکاح کر دو چنا نچہ عمر نے ان کا نکاح آپ ﷺ سے کر دیا۔ اس روایت سے معلوم ہورہا ہے کہ آپ ﷺ نے ذاتی طور پر ان کو پیغام نکاح دیا یہ اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ نکاح کے معاملہ کا اختیار عورت کو حاصل ہے اس کے اولیاء کونہیں۔ چنانچہ جب ام سلمہ رضی اللہ عنہ نے یہ گزارش کی کہ میرے اولیاء میں سے کوئی بھی یہاں موجو نہیں تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ان میں سے کوئی حا ضر و غائب اس بات کو نا پسند نہ کرے گا اس کے بعدام سلمہ رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے عمرکوفرمایا اے عمر اٹھو اور حضور علیہ السلام کے ساتھ میرا نکاح کر دو اور یہ عمر رضی اللہ عنہ ام سلمہ کے بیٹے تھے اور وہ ان دنوں ابھی بالغ بھی نہ تھے کیونکہ اس روایت میں یہ بات بھی موجود ہے کہ ام سلمہ نے جناب نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ میں ایسی عورت ہوں جس کے یتیم بچے ہیں یعنی عمر اور زینب اور بچوں کو ولایت حاصل نہیں ہوتی لیکن اس کے باوجود انہوں نے عمر بن سلمہ کو نکاح کرنے کا اختیار دیا۔ چنانچہ انہوں نے نکاح کر دیا اور جناب رسول اللہ ﷺ نے اس کو جائز قرار دیا۔ پس عمر بن سلمہ اس نکاح میں وکیل کے قائم مقام قرار پائے تو گویا حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ نے جناب نبی اکرم ﷺ سے اپنا نکاح خودکیا آپ ﷺ کا اس کے کسی ولی کا انتظار نہ کرنا۔ اس بات کی دلیل ہے۔ کہ ام سلمہ ا پنی بضع کی خود ما لک تھیں ان کے ولی ما لک نہ تھے اور اگر اس سلسلے میں ان ولیا ءکا کوئی حق يا اختیار ہوتا تو جناب رسول اللہ ﷺ ان اولیاء کی اجازت سے پہلے ان کے حق پر اقدام نہ فرماتے۔ کیا اس بات پر تم نے غور نہیں کیا کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ میرا کوئی ولی یہاں موجود نہیں تو آپ نے ان سے فرمایا کہ ان میں سے کوئی بھی حاضر و غائب اس نکاح کو نا پسند نہ کرے گا۔ تو اگر جناب نبی اکرم ﷺ ان اولیاء سے زیادہ ولایت رکھتے تو یہ بات نہ فرماتے بلکہ اس طرح فرماتے کہ تمہارا ولی میں ہوں۔ وہ نہیں ہیں۔ لیکن آپ نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ کی بات کا انکار نہیں فرمایا اور ان کے جواب میں فرمایا کہ تمہارے اولیاء اس کو نا پسند نہ کریں گے۔ آثار کے معانی کی تصحیح کے لحاظ سے تو یہ وضاحت ہے پس جب یہ بات ثابت ہوچکی کہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ کا نکاح اولیاء کے بغیر اجازت جائز تھا تو ضروری ہے کہ جن روایات کو فریق اول نے) شروع میں ذکر کیا ہے ان کے معانی کو بھی اس پرمحمول کیا جائے تا کہ ان روایات میں تضادو اختلاف اور منافات نہ رہے۔ اس مسئلہ پر غوروفکر کا تقاضا یہ ہے کہ ہم نے عورت کے بارے میں دیکھا کہ بلوغت سے پہلے اس کے بضع اور مال میں اس کے والد کو ولایت حاصل ہوتی ہے اور اس وقت عقد کا اختیار مکمل طور پر باپ کو حاصل ہوتا ہے نا بالغہ کے ہاتھ میں نہیں ہوتا۔ اس سلسلے میں تمام معاملات کا حکم ایک ہی ہوتا ہے اس میں اختلاف نہیں ہوتا جب وہ بالغ ہوجاتی ہے تو اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ اس کے مال سے باپ کی ولایت اٹھ جاتی ہے اور اس کے مالک عقد جو بچپن کی وجہ سے باپ کے اختیار میں تھا اب اس کی طرف لوٹ آتا ہے تو قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ عقد بضع بھی اسی طرح ہو کہ بالغ ہونے کی وجہ سے باپ کے ہاتھ سے نکل جائے اور بلوغت سے پہلے جراختیار والد کو حاصل تھا اب اس لڑکی کی طرف لوٹ آئے اور بلوغت کے بعد اس کے مال اور بضع کے سلسلہ میں اس کا حکم برابر ہو پس یہ اختیار خود اسے حاصل ہو گا والد کونہیں اور جس طرح بلوغت سے پہلے اس کا حکم ( مال وبضع) میں یکساں تھا بلوغت کے بعد بھی برابر ہونظر کے اعتبار سے اس باب کا یہی حکم ہے اور امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا یہی مسلک ہے البتہ وہ اتنی بات مزید فرماتے ہیں کہ اگر عورت غیر کفو میں خود اپنا نکاح کرے تو ولی کو فسخ کا حق حاصل ہے اسی طرح اگر مہر کم رکھا جائے اور مہر مثل سے کم پر نکاح کرے تو ولی اس سلسلے میں مخاصمت کر سکتا ہے اس وقت تک وہ جھگڑا کرسکتا ہے یہاں تک کہ اس کا مہراس کی ہم مثل لڑکیوں کے برابر ہو جائے۔ امام ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ کہا کرتے تھے کہ عورت کو اپنے بضع کی ولایت اپنا نکاح کرنے کے سلسلہ میں حاصل ہے پھر گروه مہر مثل سے کم پر نکاح کر لیتی ہےتو ولی کو اعتراض کا حق حاصل نہیں ہے پھر انہوں نے اپنے اس قول سے رجوع کر کے ان لوگوں کے قول کو اختیار کرلیاجوالا نکاح إلا بولی کہ ولی کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں ہوتا کے قائل ہیں۔ امام محمد رحمتہ اللہ علیہ کا قول بھی انہی کے موافق ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔

أُمِّ سَلَمَةَ ← عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ← ثَابِتٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ← بن أبي داود أيضا

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4191

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter