Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 6 باب حد الخمر ) · حديث 4813

4549 - أن عبد الله بن محمد بن حشيش حدثنا قال ثنا مسلم بن إبراهيم قال ثنا هشام عن قتادة عن أنس أن النبي صلى الله عليه و سلم جلد في الخمر بالجريد والنعال وجلد أبو بكر أربعين فلما ولي عمر دعا الناس فقال ما ترون في حد الخمر فقال له عبد الرحمن بن عوف أرى أن تجعله كأخذ الحدود وتجعل فيه ثمانين فلو كان عمر رضي الله عنه قد علم أن ما في حديث أبي سعيد الذي ذكرناه توقيفا من رسول الله صلى الله عليه و سلم الناس على حد الخمر أنه ثمانون إذا لما إحتاج في ذلك إلى شورى ولكنه إنما شاور ليستنبطوا وقتا معلوما في ذلك لا يجاوزه إلى ما هو أكثر منه ولا ينقصه إلى أقل منه وقد

قتادہ نے انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے شراب پینے والے کو کھجور کی چھڑی اور جوتے اور مارا اور ابو بکر رضی اللہ عنہ نے چالیس کوڑے لگوائے ۔ جب عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو انہوں نے لوگوں کو بلایا اور سوال کیا کہ تم شرابی کی حد کتنی خیال کرتے ہو؟ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا میری رائے میں اس کو بھی ہم حدود کی طرح کر دیں اور اسی کوڑے اس میں مقرر کر دیں ۔ اگر عمر رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوتا جو کہ روایت ابو سعید رضی اللہ عنہ میں ہم نے ذکر کیا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو شراب کی حد کے سلسلہ میں واقفیت کرائی ہے کہ وہ اسی کوڑے ہے تو عمر رضی اللہ عنہ کو شوریٰ سے مشورہ کی ضرورت نہ تھی ۔ لیکن آپ نے مشورہ کیا تاکہ لوگ اس سے ایک معلوم مقدار جان لیں اس سے زیادہ اور کم کی طرف تجاوز نہ کر سکیں۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← هِشَامٍ ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← أن عبد الله بن محمد بن حشيش

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4813

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 6 باب حد الخمر ) · حديث 4814

4550 - حدثنا سليمان بن شعيب قال ثنا عبد الرحمن بن زياد قال ثنا شعبة ح

ان راویوں سے بھی یہ حدیث بیان کی گئی ہے ۔

شُعْبَةُ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4814

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 6 باب حد الخمر ) · حديث 4815

وحدثنا فهد قال ثنا موسى بن داود قال ثنا همام قالا جميعا عن قتادة عن أنس بن مالك أن النبي صلى الله عليه و سلم أتي برجل شرب الخمر فأمر به فضرب بجريدتين نحوا من أربعين ثم صنع أبو بكر مثل ذلك فلما كان عمر إستشار الناس فقال عبد الرحمن بن عوف يا أمير المؤمنين أخف الحدود ثمانون ففعل ذلك فثبت بما ذكرنا أن التوقيف في حد الخمر على جلد معلوم إنما كان في زمن عمر رضي الله عنه وأن ما وقفوا عليه من ذلك كان ثمانين ولم يخالفهم في ذلك أحد منهم فلا ينبغي لأحد أن يدع ذلك ويقول بخلافه لأن إجماع أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم حجة إذا كان بريئا من الوهم والزلل وهو كنقلهم الحديث البرئ من الوهم والزلل فكما كان نقلهم الذي نقلوه جميعا حجة لا يجوز لأحد خلافه فكذلك رأيهم الذي رأوه جميعا حجة لا يجوز لأحد خلافه وقد

قتادہ نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے کہ ایک آدمی کو جناب نبی اکرم ﷺ کے پاس لایا گیا آپ ﷺ نے حکم فرمایا تو اس کو کھجور کی دو شاخوں سے قریباً چالیس ضربات ماری گئیں پھر ابو بکر رضی اللہ عنہ نے بھی ایسا ہی کیا۔ پھر جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا تو انہوں نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے مشورہ کیا تو حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا امیر المومنین ! سب سے کم درجہ کی حد اسی کوڑے ہیں چنانچہ آپ نے اسی طرح کر دیا۔ اس سارے کلام سے یہ بات ثابت ہوئی کہ شراب کی حد میں ایک مقررہ مقدار حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے شروع ہوئی اور جس پر وہ آ کر رکے وہ اسی کوڑے تھے اور اس سلسلہ میں ان میں سے کسی ایک نے بھی اختلاف نہیں کیا ۔ پس اب کسی کو مناسب نہیں کہ وہ اس کو چھوڑ کر اس کے خلاف کہے کیونکہ اصحاب رسول اللہ ﷺ کا اجماع حجت ہے اس لئے کہ وہ وہم اور لغزش سے بچے ہوئے تھے ۔ وہ اسی طرح ہیں جیسے وہ وہم و لغزش سے بری روایت نقل کریں پس جس طرح ان میں سے ہر ایک کی نقل کر دہ روایت حجت ہے ۔ کسی کو اس کی مخالفت جائز نہیں تو اسی طرح ان تمام کا اجتہاد جو انہوں نے بالا تفاق کیا وہ حجت ہے کسی کو اس کی مخالفت جائز نہیں ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← جَمِيعًا ← هَمَّامٌ، ← مُوسَى بْنُ دَاوُدَ، ← وحدثنا فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4815

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 6 باب حد الخمر ) · حديث 4816

4551 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو عامر العقدي قال ثنا سليمان بن بلال عن ربيعة عن السائب بن يزيد أن عمر صلى على جنازة فلما انصرف أخذ بيد بن له ثم أقبل على الناس فقال أيها الناس إني وجدت من هذا ريح الشراب وإني سائل عنه فإن كان سكر جلدناه قال السائب فرأيت عمر جلد ابنه بعد ذلك الحد ثمانين

سائب بن یزید سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے نماز جنازہ پڑھائی جب نماز سے لوٹے تو ایک بیٹھ کا ہاتھ پکڑا اور لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا مجھے اس سے شراب کی بو آتی ہے اور میں اس کے متعلق تم سے پوچھتا ہوں ۔ اگر اس نے نشہ کیا ہے تو ہم اس کو کوڑے لگائیں گے ۔ حضرت سائب کہتے ہیں کہ پھر میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ آپ نے اس کو اسی کوڑے حد لگائی ۔

رَبِیعَۃَ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4816

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 6 باب حد الخمر ) · حديث 4817

4552 - حدثنا فهد قال ثنا أبو اليمان قال أخبرنا شعيب عن الزهري قال ثنا السائب فذكر مثله وهذا بحضرة أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم فلم ينكر عليه منهم منكر فدل ذلك على متابعتهم له وقد روي عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أيضا في التوقيف على حد الخمر أنه ثمانون حديث إن كان ثابتا وهو ما قد

زہری نے سائب سے روایت کی پھر انہوں نے اسی طرح سے روایت نقل کی ہے ۔ یہ اصحاب رسول اللہ ﷺ کی موجودگی میں ہوا ان میں سے کسی نے انکار نہیں کیا۔ پس یہ بات دلالت کرتی ہے کہ تمام نے آپ کی پیروی کی اور جناب نبی اکرم ﷺ سے بھی شراب کی حد میں اسی پر اکتفاء کی روایت ہے بشرطیکہ وہ روایت سنداً ثابت ہو جائے وہ روایت یہ ہے ۔

السَّائِبَ ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبٌ، ← أَبُو الْيَمَانِ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4817

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 6 باب حد الخمر ) · حديث 4818

4553 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا إسحاق بن أبي إسرائيل قال ثنا هشام بن يوسف عن عبد الرحمن بن صخر الأفريقي عن جميل بن كريب عن عبد الله بن يزيد عن عبد الله بن عمرو أن النبي صلى الله عليه و سلم قال من شرب بسقة خمر فاجلدوه ثمانين فهذا الذي وجدنا فيه التوقيف من رسول الله صلى الله عليه و سلم في حد الخمر وهو ثمانون فإن كان ذلك ثابتا فقد ثبت به الثمانون وإن لم يكن ثابتا فقد ثبت عن أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم ما قد تقدم ذكرنا له في هذا الباب من إجماعهم على الثمانين ومن إستنباطهم إياها من أخف الحدود فذلك من إجماعهم بعد ما كان خلافه كإجماعهم على المنع من بيع أمهات الأولاد وتكبيرات الجنائز وقد كان خلافه فكما لا ينبغي خلافهم في ترك بيع أمهات الأولاد فكذلك لا ينبغي خلافهم في توقيتهم الثمانين في حد الخمر وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد بن الحسن رحمهم الله

عبداللہ بن یزید نے عبداللہ بن عمرو سے روایت کی ہے کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے فرمایا جس نے شراب کا ایک گھونٹ پیا توم اس کو اسی کوڑے مارو۔ یہ وہ روایت ہے جس سے شراب کی حد کے اسی کوڑے ہونے پر اطلاع ملی ہے اگر یہ روایت ثابت ہو جائے تو اس سے اسی کوڑے خود جناب نبی اکرم ﷺ سے ثابت ہو جائیں گے اور اگر یہ ثابت نہ ہو سکے تو پھر اصحاب رسول اللہ ﷺ سے اسی کوڑوں کی سزا ثابت ہے جیسا کہ ہم پہلے ذکر کر آئے ہیں کہ ان کا اتفاق ہے انہوں نے کم از کم حد کو سامنے رکھ کر اجتہاد کیا ہے تو یہ ان کا اجماع ہے جبکہ پہلے اس کے خلاف حکم تھا جیسا کہ انہوں نے ام ولد لونڈیوں کی فروخت اور نماز جنازہ کی تکبیرات پر اجماع کیا ہے جبکہ پہلے اس کے خلاف تھا تو جس طرح ام ولد لونڈیوں کی خرید و فروخت ترک کرنے میں ان کی مخالفت جائز نہیں اسی طرح شراب کی حد کے سلسلے میں اسی کوڑے مقرر کرنے میں ان کی مخالفت جائز نہیں ۔ یہی امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف ، محمد رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے ۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، ← جميل بن كريب ← عبد الرحمن بن صخر الأفريقي ← هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، ← إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4818

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 7 باب من سكر أربع مرات ما حده ) · حديث 4819

4554 - حدثنا علي بن معبد قال ثنا عبد الوهاب بن عطاء قال أخبرنا سعيد بن أبي عروبة عن عاصم عن ذكوان عن أبي صالح عن معاوية بن أبي سفيان عن النبي صلى الله عليه و سلم قال إن شربوا خمرا فاجلدوهم ثم إن شربوا فاجلدوهم ثم إن شربوا عند الرابعة فاقتلوهم

ابو صالح نے معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا اگر وہ شراب پئیں تو ان کو کوڑے مارو۔ پھر اگر وہ پئیں تو ان کو کوڑے مارو۔ پھر اگر وہ چوتھی دفعہ پئیں تو ان کو قتل کر دو۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ ← اَبِیْ صَالِحٍ ← ذَكْوَانَ، ← عَاصِمٍ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← عَبْدُ الْوَھَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4819

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 7 باب من سكر أربع مرات ما حده ) · حديث 4820

4555 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا سهل بن بكار قال ثنا أبو عوانة عن مغيرة عن معبد القاص عن عبد الرحمن بن عبد الله الجدلي عن معاوية عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

عبدالرحمن بن عبداللہ الجدلی نے معاویہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح روایت کی ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← مُعَاوِيَةَ، ← عبد الرحمن بن عبد الله الجدلي ← معبد القاص ← مُغِيرَةَ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4820

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 7 باب من سكر أربع مرات ما حده ) · حديث 4821

4556 - حدثنا علي بن معبد قال ثنا عبد الوهاب قال أخبرنا قرة بن خالد عن الحسن عن عبد الله بن عمرو بن العاص عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله قال فقال عبد الله بن عمرو إيتوني برجل أقم عليه الحد ثلاث مرات فإن لم أقتله فأنا كذاب

حسن نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح روایت کی ہے ۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ فرمانے لگے میرے پاس ایسا آدمی لاؤ جس پر تین مرتبہ حد قائم ہو چکی ہو۔ اگر میں اس کو قتل نہ کروں تو میں جھوٹا ہوں۔

عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← الْحَسَنِ، ← قُرَّۃُ بْنُ خَالِدٍ ← عَبْدُ الْوَهَّابِ، ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4821

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 7 باب من سكر أربع مرات ما حده ) · حديث 4822

4557 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا هدبة بفتح أوله وسكون الدال وبعدها موحدة قال ثنا همام عن قتادة عن شهر بن حوشب عن عبد الله بن عمرو عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله ولم يذكر قول عبد الله بن عمرو

شہر بن حوشب نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح روایت کی ہے البتہ عبداللہ بن عمرو کا قول ذکر نہیں کیا۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← هدبة بفتح أوله وسكون الدال وبعدها موحدة ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4822

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 7 باب من سكر أربع مرات ما حده ) · حديث 4823

4558 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا بشر بن عمرو الزهراني ح

ابراہیم بن مرزوق نے بشر بن عمرو الز ہرانی سے اسی طرح روایت کی ہے ۔

بشر بن عمرو الزهراني ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4823

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 7 باب من سكر أربع مرات ما حده ) · حديث 4824

وحدثنا ربيع المؤذن قال ثنا خالد بن عبد الرحمن قالا ثنا بن أبي ذئب عن الحارث بن عبد الرحمن عن أبي سلمة عن أبي هريرة عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله

ابو سلمہ نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح روایت کی ہے ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← بن أَبِي ذِئْبٍ ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← وحدثنا ربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4824

chevron_left Previous
1…789…17
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter