شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 5 باب من تزوج امرأة أبيه أو ذات محرم منه فدخل بها ) · حديث 4789
4526 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا وهب بن جرير قال ثنا هشام بن أبي عبيد الله عن قتادة عن سعيد بن المسيب أن رجلا تزوج أمرأة في عدتها فرفع إلى عمر فضربها دون الحد وجعل لها الصداق وفرق بينهما وقال لا يجتمعان أبدا قال وقال علي رضي الله عنه إن تابا وأصلحا جعلتهما مع الخطاب أفلا ترى أن عمر رضي الله عنه قد ضرب المرأة والزوج المتزوج في العدة بالمخفقة فاستحال أن يضربهما وهما جاهلان بتحريم ما فعلا لأنه كان أعرف بالله عز و جل من أن يعاقب من لم تقم عليه الحجة فلما ضربهما دل ذلك أن الحجة قد كانت قامت عليهما بالتحريم قبل أن يفعلا ثم هو رضي الله عنه لم يقم عليهما الحد وقد حضره أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم فتابعوه على ذلك ولم يخالفوه فيه فهذا دليل صحيح أن عقد النكاح إذا كان وإن كان لا يثبت وجب له حكم النكاح في وجوب المهر بالدخول الذي يكون بعده وفي العدة منه وفي ثبوت النسب وما كان يوجب ما ذكرنا من ذلك فيستحيل أن يجب فيه حد لأن الذي يوجب الحد هو الزنا والزنا لا يوجب ثبوت نسب ولا مهر ولا عدة فإن قال قائل إن هذا الذي ذكرت من وطئ ذات المحرم منه على النكاح الذي وصفته وإن لم يكن زنا فهو أغلظ من الزنا فأحرى أن يجب فيه ما يجب في الزنا قيل له قد أخرجته بقولك هذا من أن يكون زنا وزعمت أنه أغلظ من الزنا وليس ما كان مثل الزنا أو ما كان أعظم من الزنا من الأشياء المحرمة يجب في إنتهاكها من العقوبات ما يجب في الزنا لأن العقوبات إنما تؤخذ من جهة التوقيف لا من جهة القياس ألا ترى أن الله عز و جل قد حرم الميتة والدم ولحم الخنزير كما حرم الخمر وقد جعل على شارب الخمر حدا لم يجعل مثله على أكل لحم الخنزير ولا على أكل لحم الميتة وإن كان تحريم ما أتى به كتحريم ما أتى ذلك وكذلك قذف المحصنة جعل الله فيه جلد ثمانين وسقوط شهادة القاذف وإلزام أسم الفسق ولم يجعل ذلك فيمن رمى رجلا بالكفر والكفر في نفسه أعظم وأغلظ من القذف فكانت العقوبات قد جعلت في أشياء خاصة ولم يجعل في أمثالها ولا في أشياء هي أعظم منها وأغلظ فكذلك ما جعل الله تعالى من الحد في الزنا لا يجب به أن يكون واجبا فيما هو أغلظ من الزنا فهذا الذي ذكرنا في هذا الباب هو النظر وهو قول أبي حنيفة وسفيان رحمهما الله تعالى
قتادہ نے سعید بن المسیب سے روایت کی ہے کہ ایک آدمی نے ایک عورت سے اس کی عدت کے دوران نکاح کیا اس کا قضیہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں لایا گیا آپ نے اس عورت کو حد سے کم درے لگائے اور اس کا مہر ادا کرایا اور ان کے درمیان تفریق کر دی اور فرمایا۔ یہ دونوں ہر گز جمع نہیں ہو سکتے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر وہ دونوں توبہ کر کے درستی کرلیں تو میں ان دونوں کو پیغام نکاح دینے والوں میں سے شمار کروں گا۔ (یعنں ان کا نکاح درست ہوگا ) کیا تم غور نہیں کرتے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس عورت کو اور اس شخص کو جس نے دوران عدت نکاح کیا تھا۔ ہلکے درے لگائے اور یہ بات ناممکن ہے کہ آپ ان کو اس صورت میں درے لگائیں جبکہ وہ اس فعل کے حرام ہونے سے لاعلم ہوں۔ اس لئے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ الله تعالی سے بہت ڈرنے والے اورتقوی والے تھے وہ دلیل کے قیام کے بغیر ی کسی کوسزادینے والے نہ تھے تو جب آپ نے ان کو سزادی تو معلوم ہوا کہ اس سے پہلے ان دونوں کے متعلق حرمت کی دلیل قائم ہو چکی تھی تبھی آپ نے ان پر حد قائم فرمائی اور جب حد قائم کی تو اس وقت صحابہ کرام بھی موجود تھے انہوں نے بھی آپ کی مخالفت نہیں کی بلکہ اتباع کی ۔ تو یہ اس بات کی صحیح دلیل ہے کہ جب عقد نکاح ہواگر چہ وہ ثابت نہ ہو مگر اس کا حکم نکاح کا ہی ہوگا یعنی اس میں جماع سے مہر لازم ہوجائے گا اور اس کی عدت بھی گزارنی پڑے گی اور اگر حمل ٹھہر گیا تو اس سے نسب بھی ثابت ہوجائے گا تو جس عمل سے یہ مذکورہ چیزیں ثابت ہورہی ہوں اس میں حدکا واجب ہونا محال ہے کیونکہ حد تو زنا سے واجب ہوتی ہے اور اس سے نسب مہراور عدت میں سے کوئی چیز بھی ثابت نہیں ہوتی۔ محرم سے وطی والی بات جس کا آپ نے تذکرہ کیا اگرچہ زنا نہ بھی شمار ہولیکن بی تو زنا سے بھی بدتر ہے تو کیا مناسب نہیں کہ جو زنا کی صورت میں سزا واجب ہوتی ہے وہی اس پربھی واجب ہو ۔ تو اس کے جواب میں کہے کہ آپ نے اپنے بقول اس کو زنا سے خارج کر دیا اب رہا یہ خیال کہ یہ زنا سے بدتر ہے تو اس کی سزازنا جیسی تو ہونی چاہے تو وہ حرام امور جن کی خلاف ورزی پر سزادی جاتی ہے خواہ وہ عمل زنا کی طرح ہوں یا اس سے بڑے ہوں تو ان کی سزاوہ نہیں ہوتی جو سزا زنا کی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سزائیں تو توقیفی ہیں وہ قیاس سے ثابت نہیں ہوتیں۔ ذراغور کرو! کہ الله تعالی نے مردار ، خون ، خنزیر کے گوشت کو اسی طرح حرام قرار دیا جس طرح شراب کو حرام قرار دیاگر شراب نوشی کرنے والے پروہ سزا مقررفرمائی جو خنزیر کا گوشت اور مردار کھانے والے پرمقرر نہیں فرمائی ۔ اگر اس کی حرمت بھی اس کی حرمت کی طرح ہے۔ اسی طرح پاک دامن عورت پرزناک الزام لگانے کی سزا الله تعالی نے اسی درے مقررفرمائی ہے اور اس کی گواہی کو غیرمقبول قرار دیا اور اس کا نام فاسق رکھا جبکہ کوئی آدمی کسی کو کافر کہے تو اس کی یہ سزا نہیں ہے۔ حالانکہ ذات کے لحاظ سے کفر قذف سے بڑا گناہ ہے اور زیادہ برا ہے۔ پس اس سے معلوم ہوا کہ بعض معاملات میں خاص سزائیں مقررکی گئیں جو ان جیسے دوسرے معاملات میں نہیں رکھی گئیں اور نہ ہی ان سے بڑے اور زیادہ برے گناہوں میں رکھی گئیں ہیں اسی طرح الله تعالی نے زنا کے سلسلہ میں جو حد مقررفرمائی وہ زنا سے زیادہ برے عمل میں واجب نہ ہوگی۔ یہ جو کچھ ہم نے ذکر کیا قیاس کا یہی تقاضا ہے اور امام ابوحنیفہ اور سفیان ثوری رحمتہ اللہ علیہ کا مسلک یہی ہے۔
سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← قَتَادَةَ ← هشام بن أبي عبيد الله ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4789
