شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 4 باب الرجل يزني بجارية امرأته ) · حديث 4777
4514 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا وهب عن شعبة عن منصور عن إبراهيم عن علقمة أنه سئل عن رجل أتى جارية امرأته فقال ما أبالي إياها أتيت أو جارية امرأة عوسجة فهذا علقمة رحمه الله وهو أجل أصحاب عبد الله رضي الله عنه وأعلمهم قد ترك قول عبد الله في ذلك مع جلالة عبد الله رضي الله عنه عنده وصار إلى غيره وذلك عندنا لثبوت نسخ ما كان ذهب إليه عبد الله في ذلك عنده فكذلك نقول من زنى بجارية امرأته حد إلا أن يدعى شبهة مثل أن يقول ظننت أنها تحل لي أو تكون المرأة أحلتها له فيدرأ عنه الحد ويعزر ويجب عليه العقر وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمة الله عليهم أجمعين
علقمہ رضی اللہ عنہ کی روایت کہ ان سے بیوی کی لونڈی سے زنا کرنے والے کا حکم پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا مجھے کوئی پرواہ نہیں کہ بیوی کی لونڈی سے تم نے زنا کیا یا عوسجہ کی بیوی کی لونڈی سے زنا کیا برابر ہیں۔ یہ علقمہ رحمتہ اللہ علیہ ہیں یہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے افاضل شاگردوں سے ہیں انہوں نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول چھوڑ دیا حالانکہ عظمت میں وہ عبداللہ رضی اللہ عنہ کو بلند مانتے ہیں ۔ انہوں نے دوسروں کا قول اختیار کر لیا۔ ہمارے نزدیک اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے جو بات اختیار کی تھی علقمہ رحمتہ اللہ علیہ کے ہاں اس کا نسخ ثابت تھا۔ پس ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ جو شخص اپنی بیوی کی لونڈی سے جماع کرے اس کو حد لگائی جائے گی البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ اگر وہ شبہ کا دعویٰ کرے مثلاً کہے کہ طننت اھا تحل لی وہ میرے گمان میں میرے لئے حلال تھی یا کہے کہ بیوی نے اسے میرے لئے حلال کر دیا تو اس سے حد ساقط ہو جائے گی اور اس کو صرف تعزیر کی جائے گی ۔ نیز مہر لازم ہو گا۔ یہ امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف ، محمد رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے ۔
عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← شُعْبَةُ، ← وَھْبٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4777
