Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 1 باب حد البكر في الزنا ) · حديث 4741

4478 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا شعيب بن الليث قال ثنا الليث عن يزيد بن أبي حبيب عن عمارة بن أبي فروة ان محمد بن مسلم حدثه أن عروة حدثه أن عمرة بنت عبد الرحمن حدثته أن عائشة حدثتها أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال ثم ذكر مثله

عمرہ بنت عبدالرحمن نے عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا پھر اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔

أَنَّ عَمْرَةَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَتْهُ أَنَّ عَائِشَةَ، حَدَّثَتْهَا ← أَنَّ عُرْوَةَ ← عُمَارَةَ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ مُسْلِمٍ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← اللَّيْثُ ← شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، ← ربيع المؤذن

Hadith 4741

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 1 باب حد البكر في الزنا ) · حديث 4742

4479 - حدثنا روح بن الفرج قال ثنا يوسف بن عدي قال ثنا أبو الأحوص عبد الأعلى التغلبي عن أبي حميد عن علي قال أخبر النبي صلى الله عليه و سلم بأمة لهم فجرت فأرسلني إليها فقال اذهب فأقم عليها الحد فانطلقت فوجدتها لم تجف من دمها فرجعت إليه فقال لي فرغت فقلت وجدتها لم تجف من دمها فقال إذا هي جفت من دمها فاجلدها قال علي قال رسول الله صلى الله عليه و سلم أقيموا الحدود على ما ملكت أيمانكم قالوا فلما أمر رسول الله صلى الله عليه و سلم في الأمة إذا زنت أن تجلد ولم يأمر مع الجلد بنفي وقد قال الله عز و جل فعليهن نصف ما على المحصنات من العذاب فعلمنا بذلك أن ما يجب على الإماء إذا زنين هو نصف ما يجب على الحرائر إذا زنين ثم ثبت ان لا نفي على الأمة إذا زنت كان كذلك أيضا أن لا نفي على الحرة إذا زنت وقد روينا عن رسول الله صلى الله عليه و سلم فيما تقدم من كتابنا هذا أنه نهى أن تسافر امرأة ثلاثة أيام إلا مع محرم فذلك دليل أيضا أن لا تسافر المرأة ثلاثة أيام في حد الزنا بغير محرم وفي ذلك إبطال النفي عن النساء في الزنا فإذا انتفى أن يكون يجب على النساء اللاتي غير المحصنات نفي في الزنا انتفى ذلك أيضا عن الرجال وكان درء النبي صلى الله عليه و سلم إياه عن الإماء فيما ذكرنا كان درءا عن الحرائر وفي درئه إياه عن الحرائر دليل على درئه إياه عن الأحرار وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمة الله عليهم أجمعين فإن قال قائل فإن نفي الأمة إذا زنت ستة أشهر مثل ما تنفى الحرة وقال لم ينف النبي صلى الله عليه و سلم النفي فيما ذكرتموه عنه من جلد الأمة إذا زنت ولا بقوله ثم بيعوها في المرة الرابعة فكان هذا القائل يخالف كل من تقدمه من أهل العلم وخرج من أقاويلهم فيقال له بل فيما روينا عن النبي صلى الله عليه و سلم من قوله إذا زنت أمة أحدكم فليجلدها ثم قال في الرابعة فليبعها دليل على أن لا نفي عليها لأنه إنما علمهم في ذلك ما يفعلون بإمائهم إذا زنين فمحال أن يكون يقصر في ذلك عن جميع ما يجب عليهن ومحال أن يأمر ببيع من لا يقدر مبتاعه على قبضه من بائعه ولا تصل إلى ذلك إلا بعد مضي ستة أشهر ويقال له أيضا قد زعمت أنت أن قول النبي صلى الله عليه و سلم لأنيس رضي الله عنه أغد على امرأة هذا فإن اعترفت فارجمها دليل على أن لا جلد عليها مع ذلك وإن كان إبطال الجلد لم يذكر في هذا الحديث وجعلت ذلك معارضا لما قد روي عن رسول الله صلى الله عليه و سلم من قوله الثيب بالثيب جلد مائة والرجم فإذا كان هذا عندك دليلا على ما ذكرنا فما تنكر على خصمك أن يكون قول النبي صلى الله عليه و سلم إذا زنت أمة أحدكم فليجلدها عنده دليلا على إبطال النفي على الأمة فإذا كان ما ذكرنا في السكوت عن نفي الأمة ليس يرفع النفي عنها فيما ذكرت أنت أيضا في السكوت عن الجلد مع الرجم لا يرفع الجلد عن الثيب الزاني مع الرجم وما يلزم خصمك في قول النبي صلى الله عليه و سلم إذا زنت أمة أحدكم فليجلدها شيء إلا لزمك مثله في قول النبي صلى الله عليه و سلم لأنيس رضي الله عنه فإن اعترفت فارجمها ويقال له قد روي عن النبي صلى الله عليه و سلم في النفي في غير الزنا ما قد

ابوحمید نے علی رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب نبی اکرم ﷺ کو خبر دی گئی کہ ان کی ایک لونڈی نے زنا کیا ہے پس آپ نے مجھے اس کی طرف بھیج کر فرمایا کہ تم جاؤ اور اس پر حدقائم کرو۔ میں گیا تو اسے اس حالت میں پایا کہ اس کا خون خشک نہیں ہوا۔ پس میں آپ کی خدمت میں لوٹا تو آپ نے مجھے فرمایا کیا تم فارغ ہو گئے ہوتو میں نے عرض کیا ابھی اس کا خون خشک نہیں ہوا۔ پھر آپ نے فرمایا جب وہ اپنے خون سے فارغ ہو جائے تو اس کو کوڑے لگا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ جو کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اپنے غلاموں ، لونڈیوں پر حدود قائم کیاکرو۔ انہوں نے کہا جب آپ ﷺ نے زانیہ کے متعلق کوڑوں کا حکم دیا ہے مگر کوڑے کے ساتھ جلاوطنی کا علم نہیں فرمایا اور ارشاد الہی ہے فعلیہن نصف اعلی المحصنات من العذاب (النساء۲۵) اس سے ہمیں معلوم ہو گیا کہ جب لونڈیاں زنا کریں تو آزاد کی ہنسبت ان پرنصف سزا ہے جبکہ وہ زنا کریں پھر روایت سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ لونڈی پر زنا کی صورت میں حد کے علاوہ جلا وطنی نہیں ہے۔ آزاد عورت پر جب وہ ارتکاب زنا کرے اسی طرح جلا وطنی لازم ہیں۔ ہم جناب رسول اللہ ﷺ ے پہلے اسی کتاب میں ذکر کر آئے کہ آپ نے عورت کواکیلے تین دن کے سفر سے منع فرمایا مگر اس صورت میں جبکہ ذی رحم محرم اس کے ساتھ ہو۔ پس اس سے یہ بات ثابت ہوگیا کہ عورت تین دن کا سفر حد زنا میں بغیر محرم کے نہیں کرسکتی۔ اس سے ثابت ہوگیا کہ زانیہ کے سلسلہ میں جلاوطنی نہیں ہے پس جب غیر محصنہ عورت پر جلا وطنی زنا میں واجب نہیں تو مردوں میں بھی جلا وطنی نہ ہوگی ۔ دوسری بات یہ ہے کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے لونڈی سے حد کو دفع کرنا چاہاتو آزاد سے بھی اسی طرح دفع کریں گے اور آزاد عورتوں سے اس کا دور کرنا آزاد مردوں سے دور کرنے کی دلیل ہے۔ یہی امام ابوحنیفہ ، ابو يوسف ، محمد رحمتہ اللہ علیہ کا مذہب ہے۔ اگر کوئی معترض یہ کہے لونڈی کی جلاوطنی زنا کی صورت میں چھ ماہ ہے جیسا کہ آزاد عورت کی جلا وطنی کانصف ہو اور جناب نبی اکرم ﷺ نے مذکورہ روایات میں لونڈی کو کوڑے مارنے کا جہاں ذکر فرمایا تو جلا وطنی کی نفی نہیں فرمائی اور بار بار زنا کے باوجود چوتھی مرتبہ اس کو بیچنے کاحکم فرمایامگر اس میں بھی جلا وطنی کی نفی نہیں ہے۔ تو ایسا کہنے والا اپنے سے پہلے تمام اہل علم کی مخالفت کرنے والا اور ان کے اقوال سے نکلنے والا بن جائے گا۔ اس کے جواب میں یہ کہا جائے گا کہ ہم نے جناب نبی اکرم ﷺ سے جو کچھ روایت کیا ہے۔”اذ ازت امتہ احدكم فليجدها‘‘ پھر چوتھی مرتبہ فرمایا فلیبھا یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس پر جلا وطنی لازم نہیں کیونکہ آپ ﷺ نے ان کو وہ بات سکھائی جس کو وہ لونڈیوں کے زنا کرنے کی صورت میں اختیار کریں پس یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ اس سلسلے میں جولازم تھا اس میں کمی کر دی اور بی بھی ناممکن ہے کہ آپ ایسی عورت کی فروخت کا حکم دیں کہ جس کو خریدنے والا اپنے قبضے میں لینے کی قدرت نہ رکھتا ہو اور وہ اس کو چھ ماہ بعد ملے اور ہم جواباً یہ بھی کہیں گے کہ پھر تمہارے خیال میں تو جناب نبی اکرم ﷺ نے حضرت انیس کو فرمایا کہ تم اس آدمی کی عورت کے پاس جاؤ اگروہ اعتراف کرے تو اس کو رجم کردو بقول آپ کے اس بات کی دلیل ہے کہ اس کے ساتھ اس پرکوڑے نہیں ہوں گے اگر چہ کوڑوں کی نفی اس حدیث میں مذکور نہیں ہے اور اس طرح تو تم نے اس کو جناب رسول اللہ ﷺ کے ارشادگرامی شادی شدہ جوڑاجب زنا کرے تو اسے کوڑے لگائے جائیں اور سنگسار کیا جائے کے مخالف ومعارض کر دیا پس اگر تمہارے نزدیک اس بات کی دلیل ہے۔ جیسے ہم نے ذکر کیا تو آپ کو اپنے مخالف اس پر اعتراض کا حق حاصل نہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ جب تم میں سے کسی کی لونڈی زنا کرے تو وہ اسے کوڑے لگائے ۔ یہ اس کے نزدیک لونڈی سے جلاوطنی کی نفی کی دلیل ہے۔ تو جو کچھ ہم نے ذکر کیا کہ لونڈی سے جلا وطنی کی نفی سے خاموشی اختیار کی گئی ہے ( یہ خاموشی اس سے جلا وطنی کونہیں اٹھاتی جیسا کہ تم نے بیان کیا کہ رجم کے ساتھ کوڑوں کے تذکرہ سے خاموشی شادی شدہ زانی سے رجم کی سزا کے ساتھ کوڑے مارنے کی نفی نہیں کرتا تو جو کچھ جناب نبی اکرم صلى الله عليه وسلم کے ارشاد سے کہ جب تم میں سے کسی کی لونڈی زنا کرے تو اسے کوڑے مارنے کے سلسلے میں تمہارے مخالف پر لازم ہو گا جو اس طرح آپ ﷺ کے ارشاد سے جو انیس رضی اللہ عنہ کی روایت میں فرمایا گیا تم پر لازم ہوگا کہ جب وہ زنا کا اعتراف کرے توتم اس کورجم کردو ۔ محترم جناب نبی اکرم ﷺ سے تو جلاوطنی کا تذکرہ زنا کے علاوہ بھی مذکور ہے۔

عَلِيٍّ، ← إذا هي جفت من دمها فاجلدها ← لي فرغت فقلت وجدتها لم تجف من دمها ← اذهب فأقم عليها الحد فانطلقت فوجدتها لم تجف من دمها فرجعت إليه ← أخبر النبي صلى الله عليه و سلم بأمة لهم فجرت فأرسلني إليها ← عَلِيٍّ، ← أَبِي حُمَيْدٍ ← أبو الأحوص عبد الأعلى التغلبي ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ

Hadith 4742

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 1 باب حد البكر في الزنا ) · حديث 4743

4480 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا محمد بن عبد العزيز الواسطي قال ثنا إسماعيل بن عياش قال ثنا الأوزاعي عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده أن رجلا قتل عبده متعمدا فجلده النبي صلى الله عليه و سلم مائة ونفاه سنة ومحا أراه سهمه من المسلمين وأمره أن يعتق رقبة فلم يكن ما فعله رسول الله صلى الله عليه و سلم في هذا من نفيه القاتل سنة دليلا عندنا ولا عندك على أن ذلك حد واجب لا ينبغي تركه وإنما كان على أنه للدعارة لا لأنه حد فما تنكر أيضا أن يكون ما روي عن النبي صلى الله عليه و سلم مما أمر به من نفي الزاني على أنه للدعارة لا لأنه حد واجب كوجوب الجلد والرجم

عمرو بن شعیب نے اپنے والد اور انہوں نے اپنے دادا سے نقل کیا ہے کہ ایک شخص نے اپنے غلام کو جان بوجھ کر قتل کر دیا تو جناب نبی اکرم ﷺ نے اس کو ایک سو کوڑے مارے اور جلا وطن کر دیا ور میرے خیال میں مسلمانوں سے اس کا حصہ مٹا دیا اور اس کو ایک گردن آزاد کرنے کا حکم دیا۔ اب اس روایت میں مذکور فعل رسول اللہ ﷺ جلا وطنی جو کہ ایک سال کے لئے تھے وہ ہمارے اور تمہارے کسی کے نزدیک بھی حد واجب میں شامل نہیں ہے کہ اس کا ترک نہ ہو سکتا ہو۔ ( بلکہ قاضی کی صوابدید پر موقوف چیزوں سے ہے ) اور اس روایت میں اس کی جلا وطنی فسق کی وجہ سے تھی ۔ حد کی بناء پر نہ تھی۔ پھر اپ کو اس روایت کے سلسلہ میں کیونکر انکار ہے جس میں جناب رسول اللہ ﷺ سے زانی کی جلا وطنی فسق کے سلسلہ میں مروی ہے ۔ نہ کہ حد واجب کے طور پر جیسا کہ کوڑے اور سنگساری حد واجب ہے ۔

أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← الْاَوْزَاعِیُّ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْد الْعَزِيزِ الْوَاسِطِيُّ، ← بن أبي داود

Hadith 4743

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 2 باب حد الزاني المحصن ما هو ) · حديث 4744

4481 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال سمعت بن جريج يحدث عن أبي الزبير عن جابر أن رجلا زنى فأمر به النبي صلى الله عليه و سلم فجلد ثم أخبر أنه قد كان أحصن فأمر به فرجم قال أبو جعفر فذهب إلى هذا قوم فقالوا هكذا حد المحصن إذا زنى الجلد والرجم جميعا وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا بل حده الرجم دون الجلد وقالوا قد يجوز أن يكون النبي صلى الله عليه و سلم إنما رجمه لما أخبر أنه محصن لأن الجلد الذي كان جلده إياه ليس من حده في شيء لأن حده كان الرجم دون الجلد ويجوز أن يكون رجمه لأن ذلك الرجم هو حده مع الجلد وإحتج أهل المقالة الأولى أيضا لقولهم بما

ابو الزبیر نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک شخص نے زنا کیا تو جناب نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ اس کو کوڑے لگائے جائیں پھر اپ کو اطلاع ملی کہ یہ شادی شدہ ہے تو آپ نے رجم کا حکم دیا ہے ۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں بعض علماء کا خیال یہ ہے کہ شادی شدہ زانی کو کوڑے اور سنگساری دونوں سزائیں دی جائیں گی۔ ان کی دلیل مذکور بالا روایت ہے ۔ ثانی کا مؤقف یہ ہے کہ فقط رجم ہو گا کوڑے نہ مارے جائیں گے ۔ دوسروں ن ے ان سے اختلاف کرتے ہوئے یہ بات کہی ہے کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے اولین اطلاع کے مطابق اس کو کوڑے مارے مگر جب اس کا شادی شدہ ہونا ثابت ہو گیا تو رجم کا حکم فرمایا۔ کیونکہ اس کی اصل حد یہی تھی اور اس روایت کا یہ بھی مفہوم ہوا کہ عین ممکن ہے کہ اس کا وہی مطلب ہو جو تم لے رہے ہو کہ رجم بمعہ کوڑے حد ہو ۔ پہلے قول والوں نے یہ دلائل بھی ذکر کیے ۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← بن جُرَيْجٍ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Hadith 4744

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 2 باب حد الزاني المحصن ما هو ) · حديث 4745

4482 - حدثنا يونس قال ثنا أسد بن موسى قال ثنا شعبة عن قتادة عن الحسن عن حطان بن عبد الله الرقاشي عن عبادة بن الصامت ان رسول الله صلى الله عليه و سلم قال خذوا عني فقد جعل الله لهن سبيلا البكر بالبكر يجلد وينفى والثيب بالثيب يجلد ويرجم

حطان بن عبداللہ رقاشی نے عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے فرمایا مجھ سے حاصل کر لو۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے راہ نکال دی اور وہ کنوارے جوڑے کو کوڑے مارے جائیں گے اور جلا وطن بھی کیا جائے گا اور شادی شدہ کو رجم کیا جائے گا اور کوڑے بھی مارے جائیں گے۔

عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ، ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← يُونُسَ

Hadith 4745

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 2 باب حد الزاني المحصن ما هو ) · حديث 4746

4483 - حدثنا صالح بن عبد الرحمن قال ثنا سعيد بن منصور قال ثنا هشيم قال أخبرنا منصور بن زاذان عن الحسن قال ثنا حطان بن عبد الله الرقاشي عن عبادة بن الصامت قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم خذوا عني فقد جعل الله لهن سبيلا البكر بالبكر جلد مائة وتغريب عام والثيب بالثيب جلد مائة والرجم قالوا فبهذا نقول نرى أن يجلد المحصن ثم يرجم بعد ذلك كما قال رسول الله صلى الله عليه و سلم وكان من الحجة للآخرين عليهم في ذلك ما قد رويناه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في أمره أنيسا الأسلمي برجم المرأة التي أمره أن يغدو عليها فيرجمها إن اعترفت ولم يأمره أن يجلدها وقد ذكرت ذلك بإسناده في الباب الأول وفي ذلك الحديث أيضا أن الذي قام إلى النبي صلى الله عليه و سلم قال له إني سألت رجالا من أهل العلم فأخبروني أن على امرأة هذا الرجم ولم يذكر معه الجلد فلم ينكر ذلك عليه رسول الله صلى الله عليه و سلم فدل هذا أن جميع ما كان عليها من الجلد في الزنا الذي كان منها هو الرجم دون الجلد وقد شد ذلك أيضا ما قد روي عن رسول الله صلى الله عليه و سلم فيما فعل ب ماعز رضي الله عنه

حطان بن عبداللہ رقاشی نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ۔ مجھ سے دین کی باتیں اچھی طرح حاصل کر لو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے راستہ پیدا فرما دیا کہ کنوارے جوڑے کو سو کوڑے اور ایک سال جلا وطنی اور شادی شدہ جوڑے کو سو کوڑے اسر سنگساری کی سزا دی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس قول کو اختیار کرتے ہیں ۔ ہمارے ہاں محصن کو کوڑے مارے جائیں پھر سنگسار کیا جائے جیسا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دوسرے ان کے خلاف حضرت انیس رضی اللہ عنہ والی روایت کو پیش کرتے ہیں جس میں آپ نے اس عورت کو صبح جا کر اعتراف کی صورت میں سنگسار کرنے کا حکم فرمایا ان کو کوڑے مارنے کا حکم نہیں فرمایا۔ یہ روایت مکمل اسناد کے ساتھ باب اول میں مذکور ہو چکی اور اس روایت میں مزید یہ بات بھی مذکور ہے کہ جو شخص آپ ﷺ کی بارگاہ میں کھڑا ہوا اس نے کہا میں نے کئی اہل علم سے دریافت کیا ہے تو انہوں نے مجھے بتلایا کہ اس عورت پر سنگساری کی سزا ہے اور اس آدمی نے اس کے ساتھ کوڑوں کا تذکرہ نہیں کیا اور جناب رسول اللہ ﷺ نے اس کا انکار بھی نہیں فرمایا۔ پس اس سے حاصل یہی ہوا کہ اس سے سرزد ہونے والے زنا کی سزا سنگساری تھی نہ کہ کوڑے اور اس کی تائید ماعزا سلمی رضی اللہ عنہ والی روایت سے بھی ہوتی ہے ۔

عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ، ← الْحَسَنِ، ← مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ، ← هُشَيْمٌ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← صالح بن عبد الرحمن

Hadith 4746

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 2 باب حد الزاني المحصن ما هو ) · حديث 4747

4484 - حدثنا علي بن معبد قال ثنا الأسود عن عامر قال أخبرنا حماد بن سلمة عن سماك عن جابر بن سمرة أن النبي صلى الله عليه و سلم رجم ماعزا ولم يذكر جلدا ففيما ذكرنا من ذلك ما يدل أن حد المحصن هو الرجم دون الجلد فإن قال قائل ولم لا كان ما فيه الرجم والجلد أولى مما فيه الرجم خاصة قيل له لدلالة دلت على نسخ الجلد مع الرجم وهي أنا رأينا أصل ما كان على الزاني قبل أن نفرق بين حكمه إذا كان محصنا وبين حكمه إذا كان غير محصن ما وصف الله عز و جل في كتابه بقوله واللاتي يأتين الفاحشة من نسائكم فاستشهدوا عليهن أربعة منكم فإن شهدوا فأمسكوهن في البيوت حتى يتوفهن الموت أو يجعل الله لهن سبيلا فكان هذا هو حد الزانية أن تمسك في البيوت حتى تموت أو يجعل الله لهن سبيلا ثم نسخ بقوله خذوا عني فقد جعل الله لهن سبيلا فذكر ما قد ذكرناه في حديث عبادة بن الصامت فكان ذلك هو السبيل الذي قال الله تعالى أو يجعل الله لهن سبيلا فجعل الله ذلك السبيل على ما قد بينه على لسان نبيه صلى الله عليه و سلم وفرض في ذلك الجلد والرجم على الثيب والجلد والنفي على غير الثيب فعلمنا أن ذلك القول قد كان من النبي صلى الله عليه و سلم بعد نزول هذه الآية وأنه لم يتقدم نزول الآية وجوب الرجم على الزاني لأن حده كان على ما وصف الله عز و جل في كتابه من الحبس في البيوت ولم يكن بين قوله أو يجعل الله لهن سبيلا وبين حديث عبادة حكم آخر فعلمنا أن حديث عبادة كان بعد نزول هذه الآية وأن حديث ماعز الذي سأله رسول الله صلى الله عليه و سلم فيه عن إحصانه لتفرقته بين حد المحصن وغير المحصن وحديث أبي هريرة وزيد بن خالد الجهني أنه فرق رسول الله صلى الله عليه و سلم فيه بين حكم البكر والثيب فجعل على البكر جلد مائة وتغريب عام وعلى الثيب الرجم متأخر عنه فكان ذلك ناسخا له لأن ما تأخر من حكم رسول الله صلى الله عليه و سلم ينسخ ما تقدم منه فلهذا كان ما ذكرنا من حديث أبي هريرة وزيد بن خالد وحديث ماعز رضي الله عنهم أولى من حديث عبادة مع ما قد شد من النظر الصحيح وذلك أنا رأينا العقوبات المتفق عليها في انتهاك الحرمات كلها إنما هي شيء واحد من ذلك أنا رأينا أن السارق عليه القطع لا غير والقاذف عليه الجلد لا غير فكان النظر على ذلك أيضا أن يكون كذلك الزاني المحصن عليه شيء واحد لا غير فيكون عليه الرجم الذي قد اتفق انه عليه وينتفي عنه الجلد الذي لم يتفق أنه عليه وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمة الله عليهم أجمعين فإن قال قائل وكيف يجوز أن يكون ذلك منسوخا وقد عمل به علي رضي الله عنه بعد رسول الله صلى الله عليه و سلم فذكر ما قد

سماک نے جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے ماعز کو سنگسار کیا اور کوڑوں کا تذکرہ جابر نے نہیں کیا۔ اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ شادی شدہ کی حد رجم ہے کوڑے نہیں۔ جن روایات میں رجم اور کوڑے دونوں کا تذکرہ ہے وہ فقط رجم والی روایت سے اولیٰ ہیں (اور اضاف ثقہ کا معتبر ہے ) تو اس کا جواب یہ ہے کہ رجم کے ساتھ کوڑوں کی سزا منسوخ ہونے پر دلالت پائی جاتی ہے یہاں ایک ضابط زانی کے سلسلہ میں پایا جاتا ہے شادی شدہ اور کنوارے میں تفریق سے پہلے اس آیت مبارکہ کو دیکھیں : (والتی یاتین الفاحشۃ من نسائکم فاستشھدوا علیھن اربعۃ منکم ، فان شھدوا فامسکوھن فی البیوت حتی یتوفھن الموت او یجعل اللہ لھن سبیلا ۔ النساء 15) تو شروع میں زانی عورت کی یہی سزا تھی کہ اس کو گھر میں روک دیا جائے یہاں تک کہ وہ مر جائے یا الله تعالی اس کے لئے کوئی راستہ نکال دے۔ پھر جناب رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد سے جس کا تذکرہ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ والی روایت میں موجود ہے یہ حکم منسوخ ہو گیا کہ آپ ﷺ نے فرمایا الله تعالی نے وہ راستہ مقرر کر دیا تو گویا جس سبیل کا اس آیت شریفہ میں وعدہ تھا اللہ تعالی نے وہ اپنے پیغمبر ﷺ کی زبان سے بیان کر دیا اور اس سلسلے میں شادی شدہ پرکوڑے اور رجم اور کنوارے پر کوڑے اور جلاوطنی مقرر فرمائی ۔ تواب اس سے معلوم ہوگیا کہ آپ ﷺ کا یہ ارشاد اس آیت کے نزول کے بعد کا ہے اور نزول آیت سے پہلے کا نہیں۔ کیونکہ آیت میں مذکور سزا حبس دوام فی البیوت تھا اور ارشاد میں زانی پر رجم کو لازم کیا گیا ہے اور آیت:او يجعل الله هلن سبیلا اور حدیث عبادہ کے درمیان اور کوئی حکم موجو نہیں پس اس سے ہمیں معلوم ہوگیا کہ حدیث عباده آیت کے نزول کے بعد ہے اور ماعز رضی اللہ عنہ والی روایت جس میں جناب رسول اللہ ﷺ نے ان کے متعلق دریافت کیا کہ شادی شدہ ہیں یا غیر شادی شدہ ۔ کیونکہ دونوں کے درمیان حکم میں فرق ہے اور روایت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ میں جناب رسول اللہ ﷺ نے کنوارے اور شادی شدہ میں فرق کیا ہے پس کنوارے جوڑے پر سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی مقرر کی گئی اور شادی شدہ پرسنگساری ۔ یہ روایات اس سے متاخر ہیں پس یہ اس کے لئے ناسخ قرار پائیں گی کیونکہ آپ ﷺ کا جو کم مقدم ہے بعد والا حکم اس کو منسوخ کرنے والا ہے۔ پس ہم نے جو روایات ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ، زید بن خالد اور حدیث ما عز رضی اللہ عنہ پیش کی ہیں۔ یہ عبادہ رضی اللہ عنہ سے اولیٰ ہیں اور لفظ و فکری صحیح بھی ان روایات کی مؤید ہے۔ وہ سزائیں جوعزتوں کو برباد کرنے کی صورت میں مقررکی گئی ہیں وہ ایک چیز ہے مثلا ان میں ایک سزا چور کی ہے۔ چور کی سزا میں صرف قطع ید ہے اور کچھ نہیں۔ بہتان تراش پر صرف کوڑے ہیں (اسی کوڑے ) پس نظر کا تقاضا یہ ہے کہ زانی محصن کی سزا میں صرف ایک چیز ہو۔ نہ کچھ اور پس اس پر متفق علیہ سزا رجم ہو گی اور کوڑوں پراتفاق نہ ہونے کی وجہ سے اس کی نفی کی جائے گی۔ یہی قول امام ابوحنیفہ، ابو یوسف ، محمد رحمتہ اللہ علیہ کا ہے۔ اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ اس حکم کے منسوخ ہونے کا دعویٰ درست نہیں جبکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس پر آپ ﷺ کے بعد کیا۔ روایات ملاحظہ ہوں۔ اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ شادی شدہ کی حد رجم ہے کوڑے نہیں ۔

جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← سِمَاكٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَامِرٍ، ← الْأَسْوَدِ، ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ،

Hadith 4747

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 2 باب حد الزاني المحصن ما هو ) · حديث 4748

4485 - حدثنا علي بن شيبة قال ثنا يحيى بن يحيى قال ثنا أبو الأحوص عن سماك عن عبد الرحمن بن أبي ليلى قال جاءت امرأة من همدان يقال لها شراحة إلى علي رضي الله عنه فقالت إني زنيت فردها حتى شهدت على نفسها أربع شهادات فأمر بها فجلدت ثم أمر بها فرجمت

سماک نے عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے روایت کی ہے کہ ایک عورت ہمدان سے آئی اس کا نام شراحہ تھا ۔ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگی کہ میں نے زنا کیا ہے ۔ آپ نے اس کو رد کر دیا یہاں تک کہ اس نے اپنے متعلق چار مرتبہ گواہی دی پھر آپ نے اس کو کوڑے لگانے کا حکم دیا پھر اس کو سنگساری کا حکم فرمایا۔ پس اسے سنگسار کر دیا گیا۔

جاءت امرأة من همدان يقال لها شراحة إلى علي ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← سِمَاكٍ، ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← علي بن شيبة

Hadith 4748

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 2 باب حد الزاني المحصن ما هو ) · حديث 4749

4486 - حدثنا روح بن الفرج قال ثنا يوسف بن عدي قال ثنا أبو الأحوص فذكر بإسناده مثله

یوسف بن عدی نے ابو الاحوص سے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔

أبو الأحوص فذكر بإسناده مثله ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ

Hadith 4749

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 2 باب حد الزاني المحصن ما هو ) · حديث 4750

4487 - حدثنا عبد الرحمن بن عمرو الدمشقي قال ثنا محمد بن بكار بن بلال قال ثنا سعيد بن بشر عن قتادة عن الرضراض بن أسعد قال شهدت عليا رضي الله عنه جلد شراحة ثم رجمها

قتادہ نے رضراض بن اسعد سے روایت کی ہے کہ میں اس وقت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں موجود تھا جب شراحہ نامی عورت کو کوڑے لگائے گئے پھر اس کو انہوں نے سنگسار کیا۔

شهدت عليا جلد شراحة ثم رجمها ← الرضراض بن أسعد ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ بِشْرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَکَّارِ بْنِ بِلَالٍ ← عبد الرحمن بن عمرو الدمشقي

Hadith 4750

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 2 باب حد الزاني المحصن ما هو ) · حديث 4751

4488 - حدثنا محمد بن حميد قال ثنا علي بن معبد قال ثنا موسى بن أعين عن مسلم الأعور عن حبة العوفي عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه قال أتته شراحة فأقرت عنده أنها زنت فقال لها علي فلعلك غضبت نفسك قالت أتيت طائعة غير مكرهة قال فأخرها حتى ولدت وفطمت ولدها ثم جلدها الحد بإقرارها ثم دفنها في الرحبة أي الفضاء الواسع إلى منكبها ثم رماها هو أول الناس ثم قال إرموا ثم قال جلدتها بكتاب الله تعالى ورجمتها بسنة محمد صلى الله عليه و سلم

حبہ عوفی نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ شراحہ نامی عورت آ پ کی خدمت میں آئی اور اس نے آپ کے سامنے اقرار کیا کہ اس نے زنا کیا ہے ۔ تو اس کو علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ۔ شاید تو غصہ سے آئی ہو۔ وہ کہنے لگی میں خود اپنی مرضی سے آئی ہوں ۔ مجھے کسی نے مجبور نہیں کیا ۔ پس آ پنے اس کی سزا کو موخر فرمایا یہاں تک کہ اس نے بچہ جنا اور اس کا دودھ چھڑیا پھر اس کے اقرار پر اس کو کوڑے لگائے پھر وسیع جگہ میں کندھوں تک گڑھا کھود کر دبا دیا پھر لوگوں میں سب سے پہلے آپ نے اس کو پتھر مارا پھر فرمایا اس کو سنگسار کرو۔ پھر فرمایا میں نے اس کو کتاب اللہ کے حکم سے کوڑے لگائے اور جناب رسول اللہ ﷺ کے ارشاد سے رجم کیا ہے ۔

أتته شراحة فأقرت عنده ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← حبة العوفي ← مُسْلِمٍ الْأَعْوَرِ، ← مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ

Hadith 4751

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 2 باب حد الزاني المحصن ما هو ) · حديث 4752

4489 - حدثنا يزيد بن سنان قال ثنا أبو عامر العقدي قال ثنا شعبة عن سلمة عن الشعبي قال جلد علي رضي الله عنه شراحة يوم الخميس ورجمها يوم الجمعة وقال جلدتها بكتاب الله تعالى ورجمتها بسنة رسول الله صلى الله عليه و سلم قيل له إن هذا وإن كان قد روي عن علي رضي الله عنه كما ذكرنا فإن غير علي رضي الله عنه من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم قد روي عنه في ذلك خلاف ما قد روي عن علي رضي الله عنه فمن ذلك ما

شعبی کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے شراحہ کو جمعرات کو کوڑے لگائے اور جمعہ کے دن سنگسار کیا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے قرآن مجید کے حکم سے کوڑے لگائے اور سنت رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ سنگسار کیا۔ اس کے جواب میں یہ کہا جائے گا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کوڑے اور سنگسار دونوں کا ثبوت اس بات کی کافی دلیل ہے کہ یہی حکم جیسا کہ ہم نے ذکر کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے علاوہ دیگر اصحاب رسول اللہ ﷺ سے اس کے خلاف حکم مذکور ہے ۔

الشَّعْبِيِّ، ← سَلَمَةَ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ← يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ،

Hadith 4752

chevron_left Previous
1234…17
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter