شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 13 باب الرجل يقتل رجلا كيف يقتل ) · حديث 4897
4627 - حدثنا فهد بن سليمان قال ثنا أبو غسان قال ثنا زهير بن معاوية قال ثنا سماك بن حرب عن معاوية بن قرة عن أنس بن مالك قال أتى رسول الله صلى الله عليه و سلم نفر من حي من أحياء العرب فأسلموا وبايعوه قال فوقع النوم وهو البرسام فقالوا يا رسول الله هذا الوجع قد وقع فلو أذنت لنا فخرجنا إلى الإبل فكنا فيها يعني قال نعم أخرجوا فكونوا فيها قال فخرجوا فقتلوا أحد الراعيين وذهبوا بالإبل قال وجاء الآخر وقد خرج فقال قد قتلوا صاحبي وذهبوا بالإبل قال وعنده شبان من الأنصار قريب من عشرين قال فأرسل إليهم الشبان النبي صلى الله عليه و سلم وبعث معهم قائفا فقص آثارهم فأتي بهم فقطع أيديهم وأرجلهم وسمر أعينهم ففعل رسول الله صلى الله عليه و سلم بالعرنيين ما فعل بهم من هذا فلما حل له من سفك دمائهم فكان له أن يقتلهم كيف أحب وإن كان ذلك تمثيلا بهم لأن المثلة كانت حينئذ مباحة ثم نسخت بعد ذلك ونهى عنها رسول الله صلى الله عليه و سلم فلم يكن لأحد أن يفعلها فيحتمل أن يكون فعل باليهودي ما فعل من أجل ذلك ثم نسخ ذلك بعد نسخ المثلة ويحتمل أيضا أن يكون النبي صلى الله عليه و سلم لم ير ما وجب على اليهودي من ذلك لله تعالى ولكنه رآه واجبا لأولياء الجارية فقتله لهم فاحتمل أن يكون قتله كما فعل لأن ذلك هو الذي كان وجب عليه واحتمل أن يكون الذي كان وجب عليه هو سفك الدم بأي شيء مما شاء الولي بسفكه به فاختاروا الرضخ ففعل ذلك لهم رسول الله صلى الله عليه و سلم هذه وجوه يحتملها هذا الحديث ولا دلالة معنا يدلنا أن النبي صلى الله عليه و سلم أراد بعضها دون بعض وقد روي عنه صلى الله عليه و سلم أنه قتل ذلك اليهودي بخلاف ما كان قتل به الجارية
معاویہ بن قرہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں عرب قبائل میں سے ایک قبیلہ سے ایک گروہ آیا پھر انہوں نے اسلام قبول کیا اور بیعت کی۔ ان کو برسام کی بیماری لاحق ہوئی تو انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ ہمیں یہ در پیش آ گئی۔ اگر آپ ہمیں اجازت دیں تو ہم اونٹوں کی طرف نکل جائیں اور وہاں ر ہیں آپ ﷺ نے فرمایاجی ہاں ! جا کر وہاں رہو۔ راوی کہتے ہیں وه (مدینہ سے ) نکل کر وہاں چلے گئے اور انہوں نے ایک چرواہے کوقتل کیا اور اونٹوں کو ہانک لے گئے ۔ دوسرا چروہا آیا اور وہ نکل چکے تھے تو انہوں نے کہا ان لوگوں نے میرےساتھی کوقتل کردیا ہے اور وہ اونٹوں کو ہانک کر لے گئے ہیں۔ راوی کہتے ہیں کہ آپ کے پاس انصار کے قریبا بیس نوجوان موجود تھے جناب نبی اکرم ﷺ نے ان کی طرف نوجوانوں کی جماعت کو خوجی سمیت بھیجا۔ اس جماعت نے ان کے نشانہائے قدم کا پیچھا کر کے ان کو پکڑلیا اور وہ ان کو جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لائے۔ ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیئے گئے اور ان کی آنکھوں میں گرم سلائیاں لگائی گئیں۔عرنیین کے ساتھ وہی سلوک کیا گیا جو انہوں نے چرواہوں کے ساتھ کیا تھا جب آپ کو ان کا خون بہانا درست تھا تو ان کی مرضی کے مطابق قتل کرنا درست تھا بے شک ان کا مثلہ کے ساتھ تھا کیونکہ مثلہ اس وقت تک مباح تھا۔ پھر اس کے بعد منسوخ ہوا اور جناب رسول اللہ ﷺ نے اس کی ممانعت کر دی اب کسی کوکرنا جائز نہیں ہے۔ نمبر 1 :ممکن ہے کہ یہودی کے ساتھ جو کچھ کیا گیا وہ اسی کی وجہ سے کیا پھر یہ بھی مثلہ کے منسوخ ہونے کے بعد منسوخ ہو گیا ہو۔ نمبر 2:یہ بھی احتمال ہے کہ آپ کے خیال میں یہودی پر یہ قتل الله تعالی کے حق کی وجہ سے واجب نہ ہوا ہو بلکہ آپ کے علم میں یہ لونڈی کے ورثاء کے لئے واجب ہوا تھا اس لئے ان کے حق کے طور پرآپ نے اسے قتل کیا نمبر3:اور اس بات کا بھی احتمال ہے کہ آپ نے اس کواسی طرح قتل کیا جیسے اس نے قتل کیا تھا کیونکہ اس پر یہی واجب تھا۔ نمبر4 :اور یہ بھی ممکن ہے کہ محض اس کا خون بہانا لازم ہو اور ولی کو اس میں اختیار ہو جس کے ساتھ چاہے خون بہا لے تو اولیاء نے کچلنا پسند کیا چنانچہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ان کی پسند پر ایسا کیا۔ اس روایت میں ان تمام وجوہ کا احتمال ہے اور ہمارے پاس اس بات کی کوئی دلیل نہیں ہے جو اس بات پر دلالت کرے کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے ایک طریقے کی بجائے دوسرا طریقہ کیوں اختیار فرمایا۔ بلکہ آپ سے تو یہ بھی مروی ہے کہ آپ ﷺ نے اس یہودی کو اس طریقے کے خلاف قتل کیا جس سے اس نے بچی کو قتل کیا تھا۔ جیسا اس روایت میں آیاہے۔
اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ← أبو غسان، ← فَهْدُ بْنُ سُلَيْمَانَ،
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4897
