شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 12 باب ما يجب في قتل العمد وجراح العمد ) · حديث 4885
وحدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو داود قال ثنا حرب بن شداد عن يحيى بن أبي كثير قال ثنا أبو سلمة قال حدثني أبو هريرة قال لما فتح الله على رسوله مكة قتلت هذيل رجلا من بني ليث بقتيل كان لهم في الجاهلية فقام النبي صلى الله عليه و سلم فخطب فقال في خطبته من قتل له قتيل فهو بخير النظرين إما أن يقتل وإما أن يودي واللفظ لمحمد بن عبد الله وقال أبو بكرة في حديثه قتلت خزاعة رجلا من بني ليث قال أبو جعفر ففي هذا الحديث ذكر ما يجب في النفس خاصة وقد روي عن أبي شريح الخزاعي عن النبي صلى الله عليه و سلم مثل ذلك
یحییٰ بن ابی کثیر نے ابو سلمہ سے انہوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اللہ ﷺ پر مکہ کو فتح کر دیا تو ہذیل قبیلہ کے لوگوں نے بنو لیث کے ایک آدمی کو قتل کر دیا اور یہ قتل ایک مقتول کے بدلے میں تھا جو زمانہ جاہلیت میں پیش آیا تھا ۔ پس جناب رسول اللہ ﷺ نے خطبہ ارشاد فرمایا اور اپنے خطبہ میں فرمایا جس کا کوئی آدمی مقتول ہو گیا تو دو باتوں میں ایک کو اختیار کر سکتے ہیں یا تو قاتل کو قتل کریں یا اولیاء مقتول کو دیت دی جائے گی یہ الفاظ محمد بن عبداللہ کے ہیں ۔ ابو بکرہ نے اپنی روایت میں اس طرح ذکر کیا : "قتلت خزاعۃ رجلا من بنی لیث " خزاعہ نے بنو لیث کا ایک آدمی مار دیا ۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس روایت میں صرف وہ بات مذکور ہے جو صرف قتل نفس کی صورت میں لازم آتی ہے حضرت ابو شریح خزاعی رضی اللہ عنہ نے جناب نبی اکرم ﷺ سے اسی جیسی روایت کی ہے ۔
أَبُو هُرَيْرَةَ ← أَبُو سَلَمَةَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَکْرَةَ
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4885
