Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 9 باب الإقرار بالسرقة التي توجب القطع ) · حديث 4873

4603 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا إبراهيم بن الحجاج ومحمد بن عون الزبيري قالا ثنا حماد بن سلمة قال أخبرني إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة عن أبي المنذر مولى أبي ذر عن أبي أمية المخزومي أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أتى بلص اعترف اعترافا ولم يوجد معه المتاع [ ص 169 ] فقال له رسول الله ما أخالك سرقت قال بلى يا رسول الله فأعادها عليه رسول الله صلى الله عليه و سلم مرتين أو ثلاثا قال بلى يا رسول الله فأمر به فقطع ثم جئ به فقال له النبي صلى الله عليه و سلم قل أستغفر الله وأتوب إليه قال أستغفر الله وأتوب إليه ثم قال اللهم تب عليه ففي هذا الحديث أن رسول الله صلى الله عليه و سلم لم يقطعه بإقراره مرة واحدة حتى أقر ثانية فهذا أولى من الحديث الأول لأن فيه زيادة على ما في الأول وقد يجوز أن يكون أحدهما قد نسخ الآخر فلما إحتمل ذلك رجعنا إلى النظر فوجدنا السنة قد قامت عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في المقر بالزنا أنه رده أربعا وأنه لم يرجمه بإقراره مرة واحدة وأخرج ذلك من حكم الإقرار بحقوق الآدميين التي يقبل فيها الإقرار مرة واحدة ورد حكم الإقرار بذلك إلى حكم الشهادة عليه فكما كانت الشهادة عليه غير مقبولة إلا من أربعة فكذلك جعل الإقرار به لا يوجب الجلد إلا بإقراره أربع مرات فثبت بذلك أن حكم الإقرار بالسرقة أيضا لذلك يرد إلى حكم الشهادة عليها فكما كانت الشهادة عليه لا يجوز إلا من اثنين فكذلك الإقرار بها لا يقبل إلا مرتين وقد رأيناهم جميعا لما رووا عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في المقر بالزنا لما هرب فقال النبي صلى الله عليه و سلم لولا خليتم سبيله فكان ذلك عندهم على أن رجوعه مقبول واستعملوا ذلك في سائر حدود الله عز و جل فجعلوا من أقر بها ثم رجع قبل رجوعه ولم يخصوا الزنا بذلك دون سائر حدود الله فكذلك لما جعل الإقرار في الزنا لا يقبل إلا بعدد ما يقبل عليه من البينة ثبت أنه لا يقبل الإقرار بسائر حدود الله إلا بعدد ما يقبل عليها من البينة فأدخل محمد بن الحسن رحمه الله في هذا على أبي يوسف رحمه الله فقال لو كان لا يقطع في السرقة حتى يقر بها سارقها مرتين لكان إذا أقر أول مرة صار ما أقر به عليه دينا ولم يجب عليه القطع بعد ذلك إذا كان السارق لا يقطع فيما قد وجب عليه بأخذه إياه دينا فكان من حجتنا لأبي يوسف رحمة الله عليه في ذلك أنه لو لزم ذلك أبا يوسف في السرقة للزم محمدا مثله في الزنا أيضا إذ كان الزاني في قولهم لا يحد فيما وجب عليه فيه مهرا كما لا يقطع السارق فيما قد وجب عليه دينا فلو كانت هذه العلة التي احتج بها محمد بن الحسن رحمه الله على أبي يوسف يجب بها فساد قول أبي يوسف رحمه الله في الإقرار بالسرقة للزم محمدا مثل ذلك في الإقرار بالزنا وذلك أنه لما أقر بالزنا مرة لم يجب عليه حد وقد أقر بوطء لا يحد فيه بذلك الإقرار فوجب عليه مهر فلا ينبغي أن يحد في وطء قد وجب عليه فيه مهر فإذا كان محمد رحمه الله لم يجب عليه بذلك حجة في الإقرار بالزنا فكذلك أبو يوسف رحمه الله لا يجب عليه بذلك حجة في الإقرار بالسرقة وقد رد علي بن أبي طالب رضي الله عنه الذي أقر عنده بالسرقة مرتين

ابو ذر کے مولی ابومنذر نے ابو امیہ مخزوی رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک چورلایا گیا اس نے اعتراف تو اچھی طرح کیا مگر اس کے پاس سامان نہ پایا گیا تو جناب رسول اللہ ﷺ نے اس کو فرمایا میرے خیال میں تم نے چوری نہیں کی۔ اس نے کہا کیوں نہیں یارسول اللہ ﷺ جناب رسول اللہ ﷺ نے اس بات کو اس کے سامنے دوتین مربہ دہرایا اس نے کہا کیوں نہیں یا رسول اللہ ﷺ اس روایت سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ نے اس کا ہاتھ ایک مرتبہ اقرار سے نہیں کاٹا جب تک کہ اس نے دوسری مرتبہ اقر انہیں کیا۔ یہ روایت پہلی روایت سے اس لئے اولیٰ ہے کہ اس میں پہلی سے اضافہ پایا جاتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ دوسری روایت سے پہلی کو منسوخ کر دیا ہو۔ اب جبکہ روایت میں احتمال ہے تو نظر کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔ تا کہ کسی نتیجہ پر پہنچ سکیں ۔ جب روایات میں احتمال ہے ۔ تو نظر کی طرف رجوع کریں گے۔ آپ ﷺ کا یہ طریقہ مبارک پایا کہ آپ تے زنا کا اقرار کرنے والے کو چار مرتبہ واپس کیا اور ایک مرتبہ اقرار کرنے پر اس کو رجم نہیں کیا اور اسے ان انسانی حقوق سے جن میں ایک بار کا اقرار قابل قبول ہوتا ہے ان سے نکال دیا اور اس اقرار کا وہی حکم قرار دیا جو گواہی ہوتا ہے تو جس طرح اس کے خلاف چار گواہوں سے کم گواہوں کی گواہی قابل قبول نہیں زنا کے اقرار کو بھی اسی طرح قرار دیا گیا تو جس مجرم کا چارمرتبہ اقرار نہ ہوحد واجب نہ ہوگی ۔ اس سے ثابت ہوگیا کہ چوری کے اقرار کو اس کی گواہی کی طرف لوٹایا جائے گا تو جس طرح اس کے خلاف دوسے کم کی گواہی مقبول نہیں اس طرح اقراری دوبار ہوگا تب قبول کیا جائے گا اور ہم نے غور کیا کہ ان تمام روات نے جناب رسول اللہ ﷺ سے زنا کا اقرار کرنے والے کے بارے میں روایت کی ہے کہ جب اس نے اقرار کیا تو آپ نے اس کو چار مرتبہ واپس کیا اور ایک بار کے اقرار پراس کو رجم نہیں فرمایا۔ اب اس کو ان انسانی حقوق سے کہ جن میں ایک با رکا اقرار قبول ہوتا ہے خارج کر دیا اور اس اقرار کے حکم کو گواہی کے حکم کی طرف لوٹا دیا۔ تو جس طرح اس کے خلاف چار سے کم گواہوں کی گواہی مقبول نہیں زنا کے اقرار کوبھی اسی طرح قرار دیا گیا کہ جب تک وہ چار مرتبہ اقرار نہ کرے حد واجب نہ ہو گی۔ تو اس سے یہ ثابت ہوا کہ چوری کے اقرار کو بھی اس کی گواہی کی طرف لوٹایا جائے گا تو جس طرح اس کے خلاف دو آدمیوں سے کم کی گواہی قابل قبول نہیں اسی طرح اقرار بھی دو بار ہوگا تو تب قبول کیا جائے گا۔ ہم سب اس بات کو مانتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ سے زنا کے اقراری مجرم کے متعلق روایت یہ ہے کہ جب وہ بھاگ گیا تو آپ نے فرمایا تم نے اس کا راستہ کیوں نہ چھوڑ دیا تو فقہاء کے ہاں اس کا مطلب یہی ہے کہ اس کا رجوع ان کے ہاں مقبول ہے اور انہوں نے تمام حدود میں اس پر عمل کیا۔ چنانچہ انہوں نے یہ مقرر کیا ہے کہ جو شخص اقرار کے بعد رجوع کرے اس کا رجوع قابل قبول ہے۔ فقہاء نے اس بات کو باقی حدود کو چھوڑ کر صرف زنا سے متعلق نہیں کیا ۔ تو اس طرح زنا کے اقرار میں وہی تعداد معتبر ہے جو گواہی کے لئے قبول کی جاتی ہے۔ تو تمام حدود میں اسی طرح اتنی بارکا اقرار مقبول ہوگا جتنی گواہی دی جاتی ہے۔ امام ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ پراعتراض یہ ہے کہ امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اگر چورکا ہاتھ اس وقت تک نہ کاٹا جائے جب تک کہ وہ دوسری مرتبہ اقرار نہ کرے تو جب اس نے پہلی مرتبہ اقرار کیا تو یہ مال اس پرقرض ہوگیا اور جب وہ قرض ہو گیا تو اس پر ہاتھ کا کاٹنا جائز نہ ہوگا کیونکہ جو چیز اس کے لینے سے اس پرقرض ہو گئی ہو اس پر ہاتھ نہیں کاٹا جاتا۔ پس دوبارہ اقرار کو لازم کرنا درست نہ ہوا۔ ان کو جواب میں کہے کہ امام ابو یوسف کی طرف سے اس کا ایک الزامی جواب دیا جارہا ہے کہ اگر چوری کے سلسلہ میں یہ بات امام ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ پر لازم کرتے ہیں تو آپ کو زنا کے سلسلہ میں اس قسم کی بات خوداپنے حق میں تسلیم کرنا پڑے گی (حالانکہ آپ اس کو تسلیم نہیں کرتے) کہ جب زانہ پر مہر لازم ہوگا تو بالاتفاق اس پر حد واجب نہ ہوگی جس طرح کہ چور پر مال کے قرض ہوجانے کی صورت میں اس کا ہاتھ کا ٹانہیں جاتا۔ پس جس علت کی وجہ سے امام محمد رحمتہ اللہ علیہ نے امام ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ پر اعتراض کیا ہے۔اسی علت کی وجہ سے خودان پر اعتراض لازم آتا ہے تو جس طرح اقرارزنا کے سلسلہ میں امام ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ جب اس پر نہ لزوم مہر کے قائل ہیں اور نہ سقوط حد کے قائل ہیں۔ کیونکہ جس وطی میں وجوب مہر ہو اس وطی پر حد واجب نہیں ہوتی ۔ حاصل کلام یہ ہوا کہ جب زنا کے اقرار کی صورت میں ایک بار کے اقرار سے امام محمد رحمتہ اللہ علیہ حد کو ساقط نہیں مانتے تو یہ بات چوری کے سلسلہ میں بھی امام ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ کے خلاف سقوط حد سرقہ کے تسلیم نہیں کی جاسکتی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس شخص کو جس نے آپ کے ہاں چوری کا قرار دو بار کیا آپ نے اس کو لوٹا دیا۔

أَبِي أُمَيَّةَ الْمَخْزُومِيِّ ← أَبِي الْمُنْذِرِ مَوْلَی أَبِي ذَرٍّ ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← إبراهيم بن الحجاج ومحمد بن عون الزبيري ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4873

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 9 باب الإقرار بالسرقة التي توجب القطع ) · حديث 4874

4604 - حدثنا أبو بشر الرقي قال ثنا أبو معاوية عن الأعمش عن القاسم بن عبد الرحمن عن أبيه عن علي بن أبي طالب أن رجلا أقر عنده بسرقة مرتين فقال قد شهدت على نفسك شهادتين قال فأمر به فقطع وعلقها في عنقه أفلا ترى أن عليا رضي الله عنه رد حكم الإقرار بالسرقة إلى حكم الشهادة عليها في عدد الشهود فكذلك الإقرار بحدود الله كلها لا يقبل في ذلك إلا بعدد ما يقبل من الشهود عليها

قاسم بن عبدالرحمن نے اپنے والد سے انہوں نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے متعلق بیان کیا کہ ان کے ہاں ایک آمی نے چوری کا دو مرتبہ اقرارکیا تو آپ نے فرمایا تو انے اپنے نفس کے خلاف دو مرتبہ گوہلی دی پھر آپ نے اس کے ہاتھ کاٹنے کا حکم فرمایا اور وہ ہاتھ اس کی گردن میں لٹکا دیا ۔ اس روایت میں غور فرمائیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے چوری کے اقرار کو اس کے سلسلہ میں گواہوں کی تعداد کی طرف لوٹایا ہے تمام حدود اللہ میں اقرار کا حکم گواہی کی طرح ہو گا ان کے متعلق جتنی گوہی مطلوب ہوتی ہے ۔ اقرار بھی اسی مقدار سے معتبر مانا جائے گا۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک عورت زیورات عاریت کے طور پر لیتی اور ان کو واپس نہ کرتی ۔ پس اس کو جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لایا گیا تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا ۔

قد شهدت على نفسك شهادتين ← علي بن أبي طالب أن رجلا أقر عنده بسرقة مرتين ← أَبِيهِ ← الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أبو بشر الرقي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4874

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 10 باب الرجل يستعير الحلي فلا يرده هل عليه في ذلك قطع أم لا ) · حديث 4875

4606 - حدثنا عبيد بن رحال قال ثنا أحمد بن صالح قال ثنا عبد الرزاق قال ثنا معمر عن الزهري عن عروة عن عائشة قالت كانت امرأة مخزومية تستعير المتاع وتجحده فأمر النبي صلى الله عليه و سلم بقطع يدها فأتى أهلها أسامة بن زيد فكلموه فكلم أسامة النبي صلى الله عليه و سلم فيها فقال النبي صلى الله عليه و سلم يا أسامة لا أراك تكلمني في حد من حدود الله عز و جل ثم قام النبي صلى الله عليه و سلم خطيبا فقال إنما أهلك من كان قبلكم أنه إذا سرق فيهم الشريف تركوه وإذأ سرق فيهم الضعيف قطعوه والذي نفسي بيده لو كانت فاطمة بنت محمد لقطعت يدها فقطع يد المخزومية قال أبو جعفر فذهب قوم إلى أن من استعار شيئا فجحده وجب أن يقطع فيه وكان عندهم بذلك في معنى السارق واحتجوا في ذلك بهذا الحديث وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا لا يقطع ويضمن وكان من الحجة لهم أن هذا الحديث قد رواه معمر كما ذكروا وقد رواه غيره فزاد فيه أن تلك المرأة التي كانت تستعير الحلي فلا ترده سرقت فقطعها فيه رسول الله صلى الله عليه و سلم لسرقتها فمما روي في ذلك ما قد

عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک مخزوی عورت لوگوں سے عاریت کے طور پر سامان لے کر پھر انکار کر دیتی ۔ پس آپ ﷺ نے اس کا ہاتھ کاٹ دینے کا حکم فرمایا۔ اس کے عزیز واقارب اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ان سے بات کی اور اسامہ رضی اللہ عنہ نے ان کے کہنے پر جناب نبی اکرم ﷺ سے بات کی تو جناب نبی اکرم ﷺ نے اسامہ رضی اللہ عنہ کو فرمایا تم مجھ سے الله تعالی کی حدودمیں سے ایک حد کے متعلق بات کرتے ہو۔ پھر جناب نبی اکرم ﷺ نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا۔ اے لوگو تم سے پہلے لوگ اس لئے ہلاکت کا شکار ہوتے کہ ان میں جب کوئی معزز آدی چوری کرتا تو وہ اس کو چھوڑ دیتے اور جب کمزوروکم درجہ چوری کرتا تو اس کا ہاتھ کاٹ ڈالتے۔ مجھے اس ذات کی قسم ہے کہ جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔ اگر فاطمہ بنت محمد ﷺ چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ بھی کاٹ دیتا۔ چنانچہ مخزومیہ کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ علماء کی ایک جماعت کہتی ہے کہ جس نے کوئی چیز عاریت کے طور پر لی اور پھر اس کا انکار کر دیا۔ تو اس کا ہاتھ کاٹ ڈالنا لازم ہے ایسی عاریت ان کے ہاں سرقہ کے مفہوم میں شامل ہے انہوں نے اس روایت کو دلیل بنایا۔ دوسروں نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ عاریت کے طور پر سامان لے کر انکار کرنے والے قطع ید نہیں ہے البتہ ضمان لیا جائے گا۔ اس روایت کو معمر نے اسی طرح روایت کیا جیسا آپ نے ذکر کیا ہے مگر ان کے علاوہ دیگر روات نے اس روایت میں اضافہ نقل کیا ہے: ان تلك المرة التي كانت تسعير الحلى فلا ترده، سرقت فقطعها فيه رسول الله من لسرقتها کہ اس عورت کا ہا تھ سرقہ کی وجہ سے کاٹا گیا۔ روایت ملاحظہ ہو۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ← عبيد بن رحال

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4875

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 10 باب الرجل يستعير الحلي فلا يرده هل عليه في ذلك قطع أم لا ) · حديث 4876

4607 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب قال أخبرني يونس عن بن شهاب أن عروة بن الزبير أخبره عن عائشة أن أمرأة سرقت في عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم زمن الفتح فأمر بها رسول الله صلى الله عليه و سلم أن تقطع فكلمه فيها أسامة بن زيد فتلون أي تغير من الغضب وجه رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال أتشفع في حد من حدود الله عز و جل فقال له أسامة استغفر لي يا رسول الله فلما كان العشي قام رسول الله صلى الله عليه و سلم فأثنى على الله بما هو أهله ثم قال أما بعد فإنما أهلك الناس من قبلكم أنهم كانوا إذا سرق فيهم الشريف تركوه وإذا سرق فيهم الضعيف أقاموا عليه الحد والذي نفسي بيده لو أن فاطمة بنت محمد سرقت لقطعت يدها ثم أمر بتلك المرأة التي سرقت فقطعت يدها

عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک عورت نے جناب رسول اللہ ﷺکے زمانہ میں فتح مکہ کے دنوں چوری کی تو جناب رسول اللہ ﷺ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم فرمایا حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے اس کے متعلق جناب رسول اللہ ﷺ سے بات کی تو غصہ سے جناب رسول اللہ ﷺ کاچہرہ مبارک بدل گیا تو آپ نے فرمایاکیا تم اللہ تعالیٰ کی حدود میں سے ایک حد کے متعلق سفارش کرتے ہو؟ حضرت اسامہ نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ آپ مجھے معاف فرما دیں ۔ جب پچھلا پہر ہوا تو جناب رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی خوب تعریف کی جس کا وہ حقدار ہے پھر فرمایا اما بعد ! تم سے پہلے لوگ اس وجہ سے ہلاکت کا شکار ہوئے کہ ان میں جب کوئی بڑا آدمی چوری کرتا اس کو چھوڑ دیتے اور جب کوئی کمزور آدمی چوری کر لیتا تو اس پر حد قائم کرتے مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر بالفرض فاطمہ بنت محمد ﷺ چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ بھی کاٹ دیتا ۔ پھر آپ نے اس عورت کے متعلق حکم دیا جس نے چوری کی تھی پس اس کا ہاتھ کاٹ ڈالا گیا۔

بن شِهَابٍ ← يُونُسَ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4876

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 10 باب الرجل يستعير الحلي فلا يرده هل عليه في ذلك قطع أم لا ) · حديث 4877

4608 - حدثنا يونس قال حدثنا شعيب بن الليث عن أبيه عن بن شهاب عن عروة عن عائشة أن قريشا أهمهم شأن المرأة المخزومية التي سرقت فقالوا من يجترئ يكلم فيها رسول الله صلى الله عليه و سلم فقالوا ومن يجترئ عليه إلا أسامة ثم ذكر مثل معناه فثبت بهذا الحديث أن القطع كان بخلاف المستعار المجحود وقد روي عن رسول الله صلى الله عليه و سلم ما يدفع القطع في الخيانة ما قد

عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ قریش نے مخزومی عورت کے معاملے کو بڑی اہمیت دی جس نے چوری کی تھی آپس میں کہنے لگے جناب رسول اللہ ﷺ سے اس موقعہ پر گفتگو میں کون جرات کرے گا پھر کہنے لگے اسامہ کے علاوہ اور کوئی جرات نہیں کر سکتا پھر اس کی ہم معنی روایت نقل کی ہے ۔ ان روایات سے ثابت ہوا کہ مستعار زیورات جن کا وہ انکار کر دیتی تھی یہ چوری اس سے زائد تھی مستعار زیورات کو دبانہ یہ خیانت ہے اس کے متعلق جناب رسول اللہ ﷺ سے ہاتھ کاٹنے کی نفی منقول ہے ۔ ملاحظہ ہو۔

عَائِشَةَ أَنَّ قُرَيْشًا أَهَمَّهُمْ شَأْنُ الْمَرْأَةِ الْمَخْزُومِيَّةِ الَّتِي سَرَقَتْ ← عُرْوَةَ ← بن شِهَابٍ ← أَبِيهِ ← شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4877

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 10 باب الرجل يستعير الحلي فلا يرده هل عليه في ذلك قطع أم لا ) · حديث 4878

4609 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب قال سمعت بن جريج يحدث عن أبي الزبير عن جابر أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال ليس على الخائن ولا على المختلس ولا على المنتهب قطع

ابو الزبیر نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا خائن ، اچکے ، لٹیرے پر قطع ید نہیں ہے ۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← بن جُرَيْجٍ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4878

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 10 باب الرجل يستعير الحلي فلا يرده هل عليه في ذلك قطع أم لا ) · حديث 4879

4610 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا مكي بن إبراهيم البلخي قال ثنا بن جريج فذكر بإسناده مثله

مکی بن ابراہیم بلخی نے ابن جریج سے پھر انہوں نے اپنی سند سے اسی طرح روایت کی ہے ۔

بن جريج فذكر بإسناده مثله ← مكي بن إبراهيم البلخي ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4879

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 10 باب الرجل يستعير الحلي فلا يرده هل عليه في ذلك قطع أم لا ) · حديث 4880

4611 - حدثنا عبيد بن رحال حدثنا إسماعيل بن سالم حدثنا شبابة بن سوار قال ثنا المغيرة بن مسلم عن أبي الزبير عن جابر عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله فلما كان الخائن لا قطع عليه وفرق رسول الله صلى الله عليه و سلم بينه وبين السارق وأحكمت السنة أمر السارق الذي يجب عليه القطع أنه الذي يسرق مقدارا من المال معلوما من حرز وكان المستعير أخذ المال المستعار من غير حرز ثبت أنه لا قطع عليه في ذلك لعدم الحرز وهذا الذي ذكرنا مما صححنا عليه معاني هذه الآثار قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمة الله عليهم أجمعين

ابو الزبیر نے جابر رضی اللہ عنہ سے انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔ جبکہ خائن پر قطع ہی نہیں اور جناب رسول اللہ ﷺ نے خائن اور چور میں فرق فرمایا ہے اور چور کے معاملے میں پختہ طریقہ ثابت ہے کہ جب وہ مال کی ایک مخصوص مقدار ( دس درہم ) کسی محفوظ مقام سے لے تو تب اس پر قطع آئے گا اور عاریت کے طور پر لینے والے نے تو محفوظ مقام سے بلا اجازت نہیں لیا بلکہ اس کے ہاتھ لے لیا ہے مال کے محفوظ مقام پر نہ ہونے کی وجہ سے اس پر ہاتھ کاٹنے کی سزا نہ ہوگی ۔ یہ جواد پر مذکور ہوا جس سے ہم نے آثار کے معانی کا باہمی درست ہونا ثابت کیا ہے یہ امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ ، ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ محمد رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے ۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← المغيرة بن مسلم ← شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ← إسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ ← عبيد بن رحال

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4880

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 11 باب سرقة الثمر ) · حديث 4881

4612 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب أن مالكا حدثه عن يحيى بن سعيد عن محمد بن يحيى بن حبان أن عبدا سرق وديا من حائط رجل فغرسه في حائط سيده فخرج صاحب الودي يلتمس وديه فوجده فاستعدى على العبد عند مروان بن الحكم فسجن العبد وأراد قطع يده فأنطلق سيد العبد إلى رافع بن خديج فأخبره أنه سمع رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول لا قطع في ثمر ولا كثر فقال الرجل فإن مروان بن الحكم أخذ غلامي وهو يريد قطع يده وأنا أحب أن تمشي معي إليه فتخبره بالذي سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم فمشى معه رافع حتى أتى مروان فقال أخذت عبدا لهذا فقال نعم قال ما أنت صانع به قال أردت قطع يده فقال له رافع إني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول لا قطع في ثمر ولا كثر فأمر مروان بالعبد فأرسل

یحییٰ بن سعید نے محمد بن یحییٰ بن حبان سے روایت کی ہے کہ ایک غلام نے ایک آدمی کی حویلی سے کھجور کی پنیری چوری کی اور اسے اپنے آقا کی حویلی میں لگا دیا ۔ پنیری کا مالک اپنی پنیری کے پودے کے تلاش کرنے نکلا اور اس غلام کو پا لیا اور اس کو مروان بن حکم حاکم مدینہ کے پاس لے گیا ۔ مروان نے غلام کو قید خانہ میں ڈال دیا اور اس کا ہاتھ کاٹنے کا ارادہ کیا ۔ غلام کا مالک رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی خدمت میں گیا اور ان کو اس بات کی اطلاع دی تو انہوں نے بتلایا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ پھلوں اور پنیری کے پودوں کی چوری پر ہاتھ نہیں کاٹا جاتا ۔ اس شخص نے کہا کہ مروان نے میرے غلام کو قید کر رکھا ہے اور وہ اس کا ہاٹھ کاٹنا چاہتا ہے میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ میرے ساتھ ان کے ہاں چلیں اور جو کچھ آپ نے جناب رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے اس کو بتلائیں ۔ چنانچہ حضرت رافع رضی اللہ عنہ اس کے ساتھ تشریف لے گئے مروان کے ہاں پہنچے اور فرمایا تم نے اس کا غلام پکڑا ہوا ہے اس نے کہا جی ہاں ! آپ نے فرمایا اس کے ساتھ کیا سلوک کرو گے ؟ اس نے کہا میں اس کا ہاتھ کاٹنا چاہتا ہوں حضرت رافع رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے جناب رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ آپ نے فرمایا پھلوں اور پنیری کے پودوں پر ہاتھ نہ کاٹا جائے ۔ چنانچہ مروان نے ( یہ سن کر ) حکم دیا پس غلام کو چھوڑ دیا گیا۔

له رافع إني ← أردت قطع يده ← ما أنت صانع به ← نَعَمْ ← أخذت عبدا لهذا ← أحب أن تمشي معي إليه فتخبره بالذي ← الرجل فإن مروان بن الحكم أخذ غلامي وهو يريد قطع يده ← «لا قَطْعَ فِي ثَمَرٍ وَلا كَثَرٍ» ← أَنَّهُ ← أراد قطع يده فأنطلق سيد العبد إلى رافع بن خديج ← ديه فوجده فاستعدى على العبد عند مروان بن الحكم فسجن العبد ← ديا من حائط رجل فغرسه في حائط سيده فخرج صاحب الودي يلتمس ← محمد بن يحيى بن حبان أن عبدا سرق ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4881

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 11 باب سرقة الثمر ) · حديث 4882

4613 - حدثنا إسماعيل بن يحيى المزني قال ثنا محمد بن إدريس الشافعي عن سفيان بن عيينة عن يحيى بن سعيد عن محمد بن يحيى بن حبان عن عمه واسع بن حبان أن عبدا سرق وديا من حائط رجل فجاء به فغرسه في مكان آخر فأتي به مروان فأراد أن يقطعه فشهد رافع بن خديج أن النبي صلى الله عليه و سلم قال لا قطع في ثمر ولا كثر قال أبو جعفر فذهب قوم إلى أنه لا يقطع في شيء من الثمر ولا من الكثر وسواء عندهم أخذ من حائط صاحبه أو منزله بعد ما قطعه وأحرزه فيه وقالوا لا قطع أيضا في جريد النخل ولا في خشبة لأن رافعا لم يسأل عن قيمة ما كان في الودية المسروقة من الجريد ولا عن قيمة جذعها ودرأ القطع عن السارق في ذلك لقول النبي صلى الله عليه و سلم لا قطع في كثر وهو الجمار فثبت بذلك أنه لا قطع في الجمار ولا فيما يكون عنده من الجريد والخشب والثمر وممن قال ذلك أبو حنيفة رحمة الله عليه وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا هذا الذي حكاه رافع عن رسول الله صلى الله عليه و سلم من قول لا قطع في ثمر ولا كثر وهو على الثمر والكثر المأخوذين من الحائط التي ليست بحرز لما فيها فأما ما كان من ذلك مما قد أحرز فحكمه حكم سائر الأموال ويجب القطع على من سرق من ذلك المقدار الذي يجب القطع فيه وإحتجوا في ذلك بما قد رويناه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في هذا الكتاب في غير هذا الباب لما سئل عن الثمر المعلق فقال لا قطع فيه إلا ما أواه الجرين وبلغ ثمن المجن ففيه القطع وما لم يبلغ ثمن المجن ففيه غرامة مثله وجلدات نكال وقد

یحییٰ بن سعید نے محمد بن یحییٰ بن حبان سے انہوں نے اپنے چچا واسع بن حبان سے روایت کی ہے کہ ایک غلام نے کسی آدمی کے احاطہ سے پنیری کا ایک پودا چوری کیا اور لے جا کر دوسری جگہ بود یا۔ اس غلام کو مروان کے پاس لایا گیا تو اس نے اس کے ہاتھ کاٹنے کا ارادہ کیا اس پر حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے گواہی دی کہ جناب نبی اکرم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ پھلوں اور پیری کے پودے میں ہاتھ کاٹنا نہیں ہے۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک جماعت علماء کا قول یہ ہے کہ پھلوں کی کسی چیز میں ہاتھ نہ کاٹے جائیں گے اور اسی طرح پودوں کی پنیری میں بھی خواہ اس نے احاطہ سے اکھاڑا یا مکان سے لیا جہاں انہوں نے اس کو محفوظ کرد یا یا کاٹ کر رکھا ہو۔ اسی طرح کھجور کی شاخوں اور اس کی لکڑی میں بھی ہاتھ نہ کاٹا جائے گا کیونکہ اس موقعہ پر حضرت رافع پنیری کے پودے کی قیمت کا سوال نہیں کیا اور اس کے تنے کی قیمت دریافت کی اور اس طرح سے چور ہاتھ کٹنے سے بچ گیا۔ کیونکہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قطع فی کثر پنیری کے پودے میں قطعی ید نہیں ہے۔ پس اس سے ثابت ہوگیا کہ پنیری کے پودے میں ہاتھ نہ کاٹا جائے گا اور نہ ہی کھجور کی شاخوں ، لکڑی اور پھل میں۔ یہ امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے۔ دوسروں نے کہا مال محفوظ کیا قسم میں سے جو چیز بھی دس درہم کی قیمت کو پہنچ جائے اس پرقطع ید ہے اس کی دلیل مطلقا قطع ید والی روایات ہیں ۔ علماء کی دوسری جماعت نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس روایت کا مفہوم مخصوص ہے اس سے مراد ایسے پھل اور پنیری کے پودے مراد ہیں جو کسی محفوظ مقام میں نہ ہوں باتی جو محفوظ مقام میں ہوں گے اس کا حکم دیگر اموال کی طرح ہے اور ان اموال میں سے دس درہم کی مقدار چرالینے پر ہاتھ کاٹنا ہازم ہے۔ انہوں نے ان روایات سے استدلال کیا جو سرقہ کے سلسلہ میں کتاب میں دوسرے مقام پر منقول ہیں جناب رسول اللہ ﷺ سے پھلوں کے متعلق سوال کیا گیا تو فرمایا۔ لٹکے پھل ہاتھ نہ کاٹے جائیں گے مگر اس صورت میں کہ جن کو سٹور میں محفوظ کر دیا گیا ہو اور اس کی قیمت ڈھال کی قیمت تک نہ پہنچ جائے جس کی قیمت ڈھال تک نہ پہنچے اس میں اسی مقدار میں تاوان اور عبرت کے لئے کوڑے ہیں۔ روایت یہ ہے۔

مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِدْرِيسَ الشَّافِعِيِّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَحْيَى الْمُزَنِيُّ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4882

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 11 باب سرقة الثمر ) · حديث 4883

4614 - حدثنا إبراهيم بن أبي داود قال ثنا الوهبي قال ثنا بن إسحاق عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده عن رسول الله صلى الله عليه و سلم بذلك أيضا ففرق رسول الله صلى الله عليه و سلم في الثمار المسروقة بين ما أواه الجرين منها وبين ما لم يأوه وكان في شجره فجعل فيما أواه الجرين منها القطع وفيما لم يأوه الجرين الغرم والنكال فتصحيح هذا الحديث وما رواه رافع عن رسول الله صلى الله عليه و سلم من قوله لا قطع في ثمر ولا كثر أن يجعل ما روى رافع هو على ما كان في الحوائط التي لم يحرز ما فيها على ما في حديث عبد الله بن عمرو مما زاد على ما في حديث رافع فهو خلاف ما في حديث رافع ففي ذلك القطع ولا قطع فيما سوى ذلك يستوي هذان الأثران ولا يتضادان وهذا قول أبي يوسف رحمه الله كتاب الجنايات

عمرو بن شعیب نے اپنے والد ، انہوں نے اپنے دادا سے انہوں نے جناب رسول اللہ ﷺ سے اس کو روایت کیا ہے ۔ جناب رسول اللہ ﷺ چرائے ہوئے پھلوں اور سٹور میں محفوظ پھلوں اور کو درخت پر ہوں اور محفوظ نہ کئے گئے ہوں ان میں سے سٹور میں محفوظ پر ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا اور جو محفوظ نہ ہوں ان میں چٹی اور سزا کا حکم فرمایا۔ تطبیق کی ایک صورت یہ ہے کہ حضرت رافع رضی اللہ عنہ والی روایت لاقطع طی ثط ولا کثر اس کو ایسے احاطوں والا قرار دیں جن کو دروازے و چوکیدار سے محفوظ نہ کیا گیا ہو جیسا کہ حدیث عبداللہ بن عمرو میں ہے جو حدیث رافع کے علاوہ میں ہے حدیث رافع کے خلاف ہے اس میں ہاتھ کاٹے جائیں گے اس کے علاوہ میں قطع نہیں ہے اب یہ دونوں آثار برابر ہو گئے متضاد نہ رہے امام ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے ۔

هذا قول أبي يوسف كتاب الجنايات ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← بن إِسْحَاقَ، ← الوهبي ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4883

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 12 باب ما يجب في قتل العمد وجراح العمد ) · حديث 4884

4615 - حدثنا محمد بن عبد الله بن ميمون البغدادي قال ثنا الوليد بن مسلم عن الأوزاعي قال حدثني يحيى بن أبي كثير ح

اوزاعی نے یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت کی ہے ۔

يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← محمد بن عبد الله بن ميمون البغدادي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4884

chevron_left Previous
1…121314…17
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter