شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 9 باب الإقرار بالسرقة التي توجب القطع ) · حديث 4873
4603 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا إبراهيم بن الحجاج ومحمد بن عون الزبيري قالا ثنا حماد بن سلمة قال أخبرني إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة عن أبي المنذر مولى أبي ذر عن أبي أمية المخزومي أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أتى بلص اعترف اعترافا ولم يوجد معه المتاع [ ص 169 ] فقال له رسول الله ما أخالك سرقت قال بلى يا رسول الله فأعادها عليه رسول الله صلى الله عليه و سلم مرتين أو ثلاثا قال بلى يا رسول الله فأمر به فقطع ثم جئ به فقال له النبي صلى الله عليه و سلم قل أستغفر الله وأتوب إليه قال أستغفر الله وأتوب إليه ثم قال اللهم تب عليه ففي هذا الحديث أن رسول الله صلى الله عليه و سلم لم يقطعه بإقراره مرة واحدة حتى أقر ثانية فهذا أولى من الحديث الأول لأن فيه زيادة على ما في الأول وقد يجوز أن يكون أحدهما قد نسخ الآخر فلما إحتمل ذلك رجعنا إلى النظر فوجدنا السنة قد قامت عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في المقر بالزنا أنه رده أربعا وأنه لم يرجمه بإقراره مرة واحدة وأخرج ذلك من حكم الإقرار بحقوق الآدميين التي يقبل فيها الإقرار مرة واحدة ورد حكم الإقرار بذلك إلى حكم الشهادة عليه فكما كانت الشهادة عليه غير مقبولة إلا من أربعة فكذلك جعل الإقرار به لا يوجب الجلد إلا بإقراره أربع مرات فثبت بذلك أن حكم الإقرار بالسرقة أيضا لذلك يرد إلى حكم الشهادة عليها فكما كانت الشهادة عليه لا يجوز إلا من اثنين فكذلك الإقرار بها لا يقبل إلا مرتين وقد رأيناهم جميعا لما رووا عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في المقر بالزنا لما هرب فقال النبي صلى الله عليه و سلم لولا خليتم سبيله فكان ذلك عندهم على أن رجوعه مقبول واستعملوا ذلك في سائر حدود الله عز و جل فجعلوا من أقر بها ثم رجع قبل رجوعه ولم يخصوا الزنا بذلك دون سائر حدود الله فكذلك لما جعل الإقرار في الزنا لا يقبل إلا بعدد ما يقبل عليه من البينة ثبت أنه لا يقبل الإقرار بسائر حدود الله إلا بعدد ما يقبل عليها من البينة فأدخل محمد بن الحسن رحمه الله في هذا على أبي يوسف رحمه الله فقال لو كان لا يقطع في السرقة حتى يقر بها سارقها مرتين لكان إذا أقر أول مرة صار ما أقر به عليه دينا ولم يجب عليه القطع بعد ذلك إذا كان السارق لا يقطع فيما قد وجب عليه بأخذه إياه دينا فكان من حجتنا لأبي يوسف رحمة الله عليه في ذلك أنه لو لزم ذلك أبا يوسف في السرقة للزم محمدا مثله في الزنا أيضا إذ كان الزاني في قولهم لا يحد فيما وجب عليه فيه مهرا كما لا يقطع السارق فيما قد وجب عليه دينا فلو كانت هذه العلة التي احتج بها محمد بن الحسن رحمه الله على أبي يوسف يجب بها فساد قول أبي يوسف رحمه الله في الإقرار بالسرقة للزم محمدا مثل ذلك في الإقرار بالزنا وذلك أنه لما أقر بالزنا مرة لم يجب عليه حد وقد أقر بوطء لا يحد فيه بذلك الإقرار فوجب عليه مهر فلا ينبغي أن يحد في وطء قد وجب عليه فيه مهر فإذا كان محمد رحمه الله لم يجب عليه بذلك حجة في الإقرار بالزنا فكذلك أبو يوسف رحمه الله لا يجب عليه بذلك حجة في الإقرار بالسرقة وقد رد علي بن أبي طالب رضي الله عنه الذي أقر عنده بالسرقة مرتين
ابو ذر کے مولی ابومنذر نے ابو امیہ مخزوی رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک چورلایا گیا اس نے اعتراف تو اچھی طرح کیا مگر اس کے پاس سامان نہ پایا گیا تو جناب رسول اللہ ﷺ نے اس کو فرمایا میرے خیال میں تم نے چوری نہیں کی۔ اس نے کہا کیوں نہیں یارسول اللہ ﷺ جناب رسول اللہ ﷺ نے اس بات کو اس کے سامنے دوتین مربہ دہرایا اس نے کہا کیوں نہیں یا رسول اللہ ﷺ اس روایت سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ نے اس کا ہاتھ ایک مرتبہ اقرار سے نہیں کاٹا جب تک کہ اس نے دوسری مرتبہ اقر انہیں کیا۔ یہ روایت پہلی روایت سے اس لئے اولیٰ ہے کہ اس میں پہلی سے اضافہ پایا جاتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ دوسری روایت سے پہلی کو منسوخ کر دیا ہو۔ اب جبکہ روایت میں احتمال ہے تو نظر کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔ تا کہ کسی نتیجہ پر پہنچ سکیں ۔ جب روایات میں احتمال ہے ۔ تو نظر کی طرف رجوع کریں گے۔ آپ ﷺ کا یہ طریقہ مبارک پایا کہ آپ تے زنا کا اقرار کرنے والے کو چار مرتبہ واپس کیا اور ایک مرتبہ اقرار کرنے پر اس کو رجم نہیں کیا اور اسے ان انسانی حقوق سے جن میں ایک بار کا اقرار قابل قبول ہوتا ہے ان سے نکال دیا اور اس اقرار کا وہی حکم قرار دیا جو گواہی ہوتا ہے تو جس طرح اس کے خلاف چار گواہوں سے کم گواہوں کی گواہی قابل قبول نہیں زنا کے اقرار کو بھی اسی طرح قرار دیا گیا تو جس مجرم کا چارمرتبہ اقرار نہ ہوحد واجب نہ ہوگی ۔ اس سے ثابت ہوگیا کہ چوری کے اقرار کو اس کی گواہی کی طرف لوٹایا جائے گا تو جس طرح اس کے خلاف دوسے کم کی گواہی مقبول نہیں اس طرح اقراری دوبار ہوگا تب قبول کیا جائے گا اور ہم نے غور کیا کہ ان تمام روات نے جناب رسول اللہ ﷺ سے زنا کا اقرار کرنے والے کے بارے میں روایت کی ہے کہ جب اس نے اقرار کیا تو آپ نے اس کو چار مرتبہ واپس کیا اور ایک بار کے اقرار پراس کو رجم نہیں فرمایا۔ اب اس کو ان انسانی حقوق سے کہ جن میں ایک با رکا اقرار قبول ہوتا ہے خارج کر دیا اور اس اقرار کے حکم کو گواہی کے حکم کی طرف لوٹا دیا۔ تو جس طرح اس کے خلاف چار سے کم گواہوں کی گواہی مقبول نہیں زنا کے اقرار کوبھی اسی طرح قرار دیا گیا کہ جب تک وہ چار مرتبہ اقرار نہ کرے حد واجب نہ ہو گی۔ تو اس سے یہ ثابت ہوا کہ چوری کے اقرار کو بھی اس کی گواہی کی طرف لوٹایا جائے گا تو جس طرح اس کے خلاف دو آدمیوں سے کم کی گواہی قابل قبول نہیں اسی طرح اقرار بھی دو بار ہوگا تو تب قبول کیا جائے گا۔ ہم سب اس بات کو مانتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ سے زنا کے اقراری مجرم کے متعلق روایت یہ ہے کہ جب وہ بھاگ گیا تو آپ نے فرمایا تم نے اس کا راستہ کیوں نہ چھوڑ دیا تو فقہاء کے ہاں اس کا مطلب یہی ہے کہ اس کا رجوع ان کے ہاں مقبول ہے اور انہوں نے تمام حدود میں اس پر عمل کیا۔ چنانچہ انہوں نے یہ مقرر کیا ہے کہ جو شخص اقرار کے بعد رجوع کرے اس کا رجوع قابل قبول ہے۔ فقہاء نے اس بات کو باقی حدود کو چھوڑ کر صرف زنا سے متعلق نہیں کیا ۔ تو اس طرح زنا کے اقرار میں وہی تعداد معتبر ہے جو گواہی کے لئے قبول کی جاتی ہے۔ تو تمام حدود میں اسی طرح اتنی بارکا اقرار مقبول ہوگا جتنی گواہی دی جاتی ہے۔ امام ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ پراعتراض یہ ہے کہ امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اگر چورکا ہاتھ اس وقت تک نہ کاٹا جائے جب تک کہ وہ دوسری مرتبہ اقرار نہ کرے تو جب اس نے پہلی مرتبہ اقرار کیا تو یہ مال اس پرقرض ہوگیا اور جب وہ قرض ہو گیا تو اس پر ہاتھ کا کاٹنا جائز نہ ہوگا کیونکہ جو چیز اس کے لینے سے اس پرقرض ہو گئی ہو اس پر ہاتھ نہیں کاٹا جاتا۔ پس دوبارہ اقرار کو لازم کرنا درست نہ ہوا۔ ان کو جواب میں کہے کہ امام ابو یوسف کی طرف سے اس کا ایک الزامی جواب دیا جارہا ہے کہ اگر چوری کے سلسلہ میں یہ بات امام ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ پر لازم کرتے ہیں تو آپ کو زنا کے سلسلہ میں اس قسم کی بات خوداپنے حق میں تسلیم کرنا پڑے گی (حالانکہ آپ اس کو تسلیم نہیں کرتے) کہ جب زانہ پر مہر لازم ہوگا تو بالاتفاق اس پر حد واجب نہ ہوگی جس طرح کہ چور پر مال کے قرض ہوجانے کی صورت میں اس کا ہاتھ کا ٹانہیں جاتا۔ پس جس علت کی وجہ سے امام محمد رحمتہ اللہ علیہ نے امام ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ پر اعتراض کیا ہے۔اسی علت کی وجہ سے خودان پر اعتراض لازم آتا ہے تو جس طرح اقرارزنا کے سلسلہ میں امام ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ جب اس پر نہ لزوم مہر کے قائل ہیں اور نہ سقوط حد کے قائل ہیں۔ کیونکہ جس وطی میں وجوب مہر ہو اس وطی پر حد واجب نہیں ہوتی ۔ حاصل کلام یہ ہوا کہ جب زنا کے اقرار کی صورت میں ایک بار کے اقرار سے امام محمد رحمتہ اللہ علیہ حد کو ساقط نہیں مانتے تو یہ بات چوری کے سلسلہ میں بھی امام ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ کے خلاف سقوط حد سرقہ کے تسلیم نہیں کی جاسکتی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس شخص کو جس نے آپ کے ہاں چوری کا قرار دو بار کیا آپ نے اس کو لوٹا دیا۔
أَبِي أُمَيَّةَ الْمَخْزُومِيِّ ← أَبِي الْمُنْذِرِ مَوْلَی أَبِي ذَرٍّ ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← إبراهيم بن الحجاج ومحمد بن عون الزبيري ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4873
