Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 8 باب المقدار الذي يقطع فيه السارق ) · حديث 4861

4591 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب أن مالكا حدثه عن عبد الله بن أبي بكر عن عمرة قالت قالت عائشة القطع في ربع دينار فصاعدا وقد خالفه في ذلك أيضا رزيق بن حكيم فرواه عن عمرة مثل ما رواه عبد الله بن أبي بكر ويحيى وعبد ربه عنها قال فإن كان هذا الأمر يؤخذ من جهة كثرة الرواة فإن من روى حديث عمرة عنها بخلاف ما رواه عنها أبو بكر بن محمد أكثر عددا وإن كان يؤخذ من جهة الإتقان في الرواة والحفظ فإن لمن روى حديث عمرة عنها من يحيى وعبد ربه من الإتقان في الرواية والضبط لها ما ليس لأبي بكر بن محمد فإن قالوا فقد رواه أبو سلمة بن عبد الرحمن وغيره عن عمرة مثل ما رواه عنها أبو بكر بن محمد فذكروا في ذلك ما

عبداللہ بن ابی بکر عن عمرہ وہ کہتی ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہاتھ کاٹنا ربع دینار اور اس سے زائد میں ہے ۔ زریق بن حکیم نے عمرہ سے ابو بکر کے خلاف اور عبداللہ بن ابی بکر ، یحییٰ ، عبدربہ کی روایت کے موافق روایت کی ہے ۔ پس اگر کثرت روات کے اعتبار سے دیکھیں تو عمرہ سے ابو بکر بن محمد کے خلاف روایت کرنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے اور اگر رواۃ میں اتقان و حفظ کا لحاظ کرتے ہو تو تب بھی یحییٰ و عبدربہ جیسا حافظہ و پختگی ابو بکر بن محمد وغیرہ میں نہیں پائی جاتی ۔

بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4861

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 8 باب المقدار الذي يقطع فيه السارق ) · حديث 4862

4592 - حدثنا علي بن شيبة قال ثنا عبيد الله بن صالح قال حدثني يحيى بن أيوب عن جعفر بن ربيعة عن العلاء بن الأسود بن حارثة وأبي سلمة بن عبد الرحمن وكثير بن حنيش أنهم تنازعوا في القطع فدخلوا على عمرة يسألونها فقالت قالت عائشة قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لا قطع إلا في ربع دينار قيل لهم أما أبو سلمة فلا نعلم لجعفر بن ربيعة منه سماعا ولا نعلمه لقيه أصلا فكيف يجوز لكم أن تحتجوا بمثل هذا على مخالفكم وتعارضوا به ما قد رواه عن عمرة من قد ذكرنا وإن إحتجوا في ذلك أيضا بحديث الزهري فإنه

ابو سلمہ بن عبدالرحمن اور کثیر بن حنیش دونوں نے قطع ید کے متعلق تنازعہ کیا۔ چنانچہ ددنوں عمرہ کی خدمت میں دریافت کے لئے گئے تو انہوں نے بیان کیا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے ۔ ربع دینار سے کم میں ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا ۔ جعفر بن ربیعہ کا ابو سلمہ سے سماع و ملاقات ہی ثابت نہیں پھر منقطع روایت کو اپنے مخالف پر بطور حجت کیسے پیش کرتے ہو اور پھر ایسے رواۃ سے معارضہ کرتے ہو جن کی اسناد متصل ہیں ۔ روایت زہری سے آخری استدلال روایت یہ ہے ۔

عَائِشَةَ ← كثير بن حنيش أنهم تنازعوا في القطع فدخلوا على عمرة يسألونها ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← العلاء بن الأسود بن حارثة ← جَعْفَرِ بْنِ رَبِیعَۃَ، ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← عبيد الله بن صالح ← علي بن شيبة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4862

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 8 باب المقدار الذي يقطع فيه السارق ) · حديث 4863

4593 - حدثنا محمد بن إدريس قال ثنا الحميدي قال ثنا سفيان قال ثنا الزهري قال أخبرتني عمرة بنت عبد الرحمن أنها سمعت عائشة تقول إن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال يقطع السارق في ربع دينار فصاعدا

زہری نے عمرہ بنت عبدالرحمن سے روایت کی ہے اس نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ چور کا ہاتھ ربع دینار پس اس سے زائد میں کاٹا جائے گا۔

عَائِشَةَ تَقُولُ: ← أَخْبَرَتْنِي عَمْرَةُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهَا ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ:

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4863

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 8 باب المقدار الذي يقطع فيه السارق ) · حديث 4864

4594 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا حجاج بن المنهال قال ثنا سفيان عن الزهري عن عمرة عن عائشة قالت قال رسول الله صلى الله عليه و سلم السارق إذا سرق ربع دينار قطع

زہری نے عمرہ عن عائشہ رضی اللہ عنہ وہ کہتی ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا چور جب ربع دینار ( کی مقدار چیز ) چرائے تو اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔

عَائِشَةَ ← عَمْرَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4864

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 8 باب المقدار الذي يقطع فيه السارق ) · حديث 4865

4595 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا أسد قال ثنا إبراهيم بن سعد عن الزهري عن عمرة عن عائشة قالت قال رسول الله صلى الله عليه و سلم يقطع اليد في ربع دينار فصاعدا قيل لهم قد روينا هذا الحديث عن الزهري في هذا الباب من حديث بن عيينة على غير هذا اللفظ مما معناه خلاف هذا المعنى وهو كان رسول الله صلى الله عليه و سلم تقطع في ربع الدينار فصاعدا فلما إضطرب حديث الزهري على ما ذكرنا واختلف عن غيره عن عمرة على ما وصفنا إرتفع ذلك كله فلم تجب الحجة بشيء منه إذا كان بعضه ينفي بعضا ورجعنا إلى أن الله عز و جل قال في كتابه والسارق والسارقة فاقطعوا أيديهما جزاء بما كسبا نكالا من الله فأجمعوا أن الله عز و جل لم يعن بذلك كل سارق وأنه إنما عني به خاصا من السراق لمقدار من المال معلوم فلا يدخل فيما قد أجمعوا عليه أن الله تعالى عني به خاصا إلا ما قد أجمعوا أن الله تعالى عناه وقد أجمعوا أن الله تعالى قد عني سارق العشرة الدراهم وأختلفوا في سارق ما هو دونها فقال قوم هو ممن عنى الله تعالى وقال قوم ليس هو منهم فلم يجز لنا لما أختلفوا في ذلك أن نشهد على الله تعالى أنه عني ما لم يجمعوا أنه عناه وجاز لنا أن نشهد فيما أجمعوا أن الله عناه على الله عز و جل أنه عناه فجعلنا سارق العشرة الدراهم فما فوقها داخلا في الآية فقطعناه بها وجعلنا سارق ما دون العشرة خارجا من الآية فلم نقطعه وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمة الله عليهم أجمعين وقد روى ذلك عن بن مسعود وعطاء وعمرو بن شعيب

زہری نے عمرہ سے انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہ سے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہاتھ ربع دینار اور اس سے زائد میں کاٹا جائے گا۔ ان سے کہا جائے گا کہ ہم اس باب میں یہ روایت ابن عیینہ کی سند سے زہری سے ان کے علاوہ دیگر الفاظ سے نقل کر آئے ہیں جس کا مطلب اس روایت کے خلاف ہے اور وہ یہ ہے۔ کان رسول الله يقطع في ربع الدينار فصاعدا کہ جناب رسول اللہ ﷺ دینار کی چوتھائی اور اس سے زائد میں ہاتھ کاٹتے تھے۔ پس جب زہری کی روایت بھی الفاظ کے اعتبار سے مضطرب اور دوسرے روات کے ساتھ عمرہ سے نقل کرنے میں مختلف ہے تو تمام استدلال کے لحاظ سے مرتفع ہو گئیں اس لئے کہ وہ ایک دوسرے کی نفی کرتی ہیں۔ اب جب روایات تعیین میں شدید طور پر مختلف ہیں بلکہ ایک دوسری کے منافی ہیں تو اب قرآن مجید کے ارشاد کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ اللہ تعالی نے فرمایا السارق والسارقة فاقطعوا ايديهما جزاء بماکسبا نكالا من الله (المائدہ ۳۸) چوری کرنے والے مرد اور چور عورت کا ہاتھ کاٹو ان کے عمل کے سبب اللہ تعالی کی طرف سے بطور سزا نمبر1:اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ اس سے الله تعالی نے ہر قسم کا چور مراد نہیں لیا۔ بلکہ ایک خاص معلوم مقدار کی چوری کرنے والے اشخاص مراد ہیں پس اس اجماع میں وہ لوگ ہی داخل ہوں گے جن پر سب کا اتفاق ہے۔ نمبر2: اس بات پر بھی سب کا اتفاق ہے کہ الله تعالی نے دس درہم کی چوری کرنے والا شخص مرادلیا ہے۔ اس سے کم چوری کرنے والے سے متعلق اختلاف ہے بعض علماء کہتے ہیں کہ وہ بھی ان میں شامل ہے جن کو اللہ تعالی نے یہاں مراد لیا ہے۔ جبکہ دوسروں نے کہا کہ وہ ان میں شامل ہی نہیں ( کہ اس پر چور کا اطلاق ہو )پس ہمارے لئے جائز نہیں (جبکہ علماء کا اس میں اختلاف ہے ) کہ ہم الله تعالی کے متعلق غیر اجماعی چیز کے مراد الہی ہونے کی گواہی دیں۔ البتہ یہ جائز ہے کہ متفق علیہ چیز کو مراد الہی ہیں۔ ( کیونکہ زبان نبوت سے امت کا اجماع ضلالت پر نامکن ہے) پس دس درہم یا اس سے زائد چرانے والے کو آیت کے تحت داخل مان کر اس میں ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا جائے گا اور دس درہم سے کم کی چوری کرنے والے کو آیت کے قطع سے خارج مانیں گے ۔ پس اس کا ہاتھ نکا ٹیں گے۔ (البتہ تعزیر ہوگی) فریق ثانی کا موقف مبرہن و ثابت ہو گیا۔ یہ امام ابوحنیفہ ، ابو یوسف محمد رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے۔

عَائِشَةَ ← عَمْرَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← أسد ← ربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4865

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 8 باب المقدار الذي يقطع فيه السارق ) · حديث 4866

4596 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا عثمان بن عمر عن المسعودي عن القاسم بن عبد الرحمن أن عبد الله بن مسعود قال لا تقطع اليد إلا في الدينار أو عشرة دراهم

قاسم بن عبدالرحمن نے روایت کی کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہاتھ دینار یا دس درہم کے بدلے کاٹا جائے گا۔

لا تقطع اليد إلا في الدينار أو عشرة دراهم ← القاسم بن عبد الرحمن أن عبد الله بن مسعود ← الْمَسْعُودِيِّ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4866

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 8 باب المقدار الذي يقطع فيه السارق ) · حديث 4867

4597 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا أبو عاصم عن بن جريج قال كان قول عطاء على قول عمرو بن شعيب لا تقطع اليد في أقل من عشرة دراهم والحمد لله رب العالمين

ابن جریج بیان کرتے تھے کہ عطاء کا قول عمرو بن شعیب کے قول کے موافق تھا کہ دس درہم سے کم ( چوری کرنے ) میں ہاتھ نہ کاٹا جائے گا۔

بن جُرَيْجٍ ← أَبُو عَاصِمٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4867

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 9 باب الإقرار بالسرقة التي توجب القطع ) · حديث 4868

4598 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا سعيد بن عون مولى بني هاشم قال ثنا الدراوردي عن يزيد بن خصيفة عن محمد بن عبد الرحمن بن ثوبان عن أبي هريرة قال أتي بسارق إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقالوا يا رسول الله إن هذا سرق فقال ما إخاله سرق فقال السارق بلى يا رسول الله قال إذهبوا به فاقطعوه ثم أحسموه ثم إيتوني به قال فذهب به فقطع ثم حسم ثم أتى به فقال تب إلى الله عز و جل فقال تبت إلى الله فقال تاب الله عليك

محمد بن عبدالرحمن بن ثوبان نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک چور خدمت نبوی ﷺ میں لایا گیا تو انہوں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ اس نے چوری کی ہے آپ نے فرمایا میرے خیال میں تو اس نے چوری نہیں کی ۔ چور کہنے لگا۔ کیوں نہیں یا رسول اللہ ﷺ آپ نے فرمایا اس کو لے جا کر اس کا ہاتھ کاٹ دو ۔ پھر اس کو ابلتے تیل میں ڈال دو ( تاکہ خون بہنے سے وہ ہلاک نہ ہو جائے ) پھر اس کو میرے پاس لاؤ۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں اس کو لے جا کر اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا پھر داغا گیا پھر اس کو آپ کی خدمت میں لایا گیا تو آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرو ۔ تو اس نے کہا میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں ۔ آپ نے دعا فرمائی اللہ تعالیٰ تمہاری توبہ کو قبول فرمائے ۔

أتي بسارق إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقالوا ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ← يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ1 ← الدَّرَاوَرْدِيُّ ← سعيد بن عون مولى بني هاشم ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4868

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 9 باب الإقرار بالسرقة التي توجب القطع ) · حديث 4869

4599 - حدثنا أبو بشر الرقي قال ثنا أبو معاوية عن محمد بن إسحاق عن يزيد بن خصيفة عن محمد بن عبد الرحمن بن ثوبان عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

یزید بن خصیفہ نے محمد بن عبدالرحمن بن ثوبان سے انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ← يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ1 ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أبو بشر الرقي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4869

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 9 باب الإقرار بالسرقة التي توجب القطع ) · حديث 4870

4600 - حدثنا حسين بن نصر قال ثنا أبو نعيم قال ثنا سفيان عن يزيد بن خصيفة فذكر بإسناده مثله

سفیان نے یزید بن خصیفہ سے پھر انہوں نے اپنی اسناد سے اس کی مثل روایت کی ہے ۔

يزيد بن خصيفة فذكر بإسناده مثله ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← حسين بن نصر

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4870

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 9 باب الإقرار بالسرقة التي توجب القطع ) · حديث 4871

4601 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب قال سمعت بن جريج يحدث أن يزيد بن خصيفة أخبره أنه سمع محمد بن عبد الرحمن بن ثوبان يحدث عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

یزید بن خصیفہ نے بتلایا کہ میں نے محمد بن عبدالرحمن بن ثوبان کو سنا کہ وہ جناب نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح کی روایت بیان کرتے تھے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ← أَنَّهُ ← أن يزيد بن خصيفة ← بن جُرَيْجٍ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4871

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 9 باب الإقرار بالسرقة التي توجب القطع ) · حديث 4872

4602 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا أسد بن موسى قال ثنا بن لهيعة قال ثنا يزيد بن حبيب عن عبد الرحمن بن ثعلبة الأنصاري عن أبيه أن عمرو بن سمرة بن حبيب بن عبد نحس أتي النبي صلى الله عليه و سلم فقال يا رسول الله إني سرقت جملا لبني فلان فأرسل إليهم رسول الله صلى الله عليه و سلم فقالوا إنا فقدنا جملا لنا فأمر به رسول الله صلى الله عليه و سلم فقطعت يده قال ثعلبة أنا أنظر إليه حين قطعت يده وهو يقول الحمد لله الذي طهرني مما أراد أن يدخل جسدي النار قال أبو جعفر فذهب قوم إلى أن الرجل إذا أقر بالسرقة مرة واحدة قطع وإحتجوا في ذلك بهذا الحديث وممن ذهب إلى ذلك أبو حنيفة ومحمد بن الحسن رحمهما الله وخالفهم في ذلك آخرون ومنهم أبو يوسف رحمه الله فقالوا لا تقطع حتى يقر مرتين وإحتجوا في ذلك بما

عبدالرحمن بن ثعلبہ انصاری نے اپنے والد سے بیان کیا کہ عمرو بن سمرہ بن حبیب بن عبدشمس کو جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لایا گیا اس نے کہا یا رسول اللہ ﷺ میں نے بنی فلاں کا ایک اونٹ چرایا ہے تو جناب رسول اللہ ﷺ نے ان کی طرف پیغام بھیجا تو انہوں نے کہا ہمارا ایک اونٹ گم ہوا ہے ۔ پس جناب رسول اللہ ﷺ سنے حکم فرمایا تو میں نے اس کا ہاتھ کاٹ دیا۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ فقہاء کی ایک جماعت کا کہنایہ ہے کہ جب کوئی آدمی ایک مرتبہ سرقہ کا اعتراف کرے تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا اور اس کی دلیل مندرجہ بالا روایات ہیں اس قول کو امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ محمد بن الحسن رحمتہ اللہ علیہ نے اختیار کیا ہے ۔ دوسروں نے کہا امام ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ کا موقف یہ ہے کہ دو مرتبہ اقراء کے بغیر اس کا ہاتھ نہ کاٹا جائے گا ۔ ان کی دلیل مندرجہ ذیل روایات سے ہے ۔

عبد الرحمن بن ثعلبة الأنصاري ← يَزِيدُ بْنُ حَبِيبٍ ← بن لهيعة ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← ربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4872

chevron_left Previous
1…111213…17
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter