شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 8 باب المقدار الذي يقطع فيه السارق ) · حديث 4849
4580 - حدثنا يونس قال أخبرنا سفيان بن عيينة عن الزهري عن عمرة عن عائشة قالت كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يقطع في ربع دينار فصاعدا قيل لهم ليس هذا حجة أيضا على من ذهب إلى أنه لا يقطع إلا في عشرة دراهم لأن عائشة رضي الله عنها إنما أخبرت عما قطع فيه رسول الله صلى الله عليه و سلم فيحتمل أن يكون ذلك لأنها قومت ما قطع فيه فكانت قيمته عندها ربع دينار فجعلت ذلك مقدار ما كان النبي صلى الله عليه و سلم يقطع فيه وإحتجوا في ذلك أيضا بما
زہری نے عمرہ سے انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ ربع دینار یا اس سے زائد میں ہاتھ کاٹتے تھے ۔ تو ان سے کہا جائے گا یہ بھی دلیل نہیں بن سکتی جو اس طرف گئے ہیں کہ دس درہم میں ہاتھ کاٹا جائے گا کیونکہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ نے بتلایا جس میں جناب رسول اللہ ﷺ نے ہاتھ کاٹا پس اس میں یہ احتمال ہے کہ انہوں نے ڈھال یا چیز کی قیمت چوتھائی دینار لگائی ان کے ہاں اس کی قیمت یہی تھی ۔ اس لئے انہوں نے اسی کو ہاتھ کاٹنے کی مقدار قرار دیا۔
عَائِشَةَ ← عَمْرَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← يُونُسَ
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4849
