Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 8 باب المقدار الذي يقطع فيه السارق ) · حديث 4849

4580 - حدثنا يونس قال أخبرنا سفيان بن عيينة عن الزهري عن عمرة عن عائشة قالت كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يقطع في ربع دينار فصاعدا قيل لهم ليس هذا حجة أيضا على من ذهب إلى أنه لا يقطع إلا في عشرة دراهم لأن عائشة رضي الله عنها إنما أخبرت عما قطع فيه رسول الله صلى الله عليه و سلم فيحتمل أن يكون ذلك لأنها قومت ما قطع فيه فكانت قيمته عندها ربع دينار فجعلت ذلك مقدار ما كان النبي صلى الله عليه و سلم يقطع فيه وإحتجوا في ذلك أيضا بما

زہری نے عمرہ سے انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ ربع دینار یا اس سے زائد میں ہاتھ کاٹتے تھے ۔ تو ان سے کہا جائے گا یہ بھی دلیل نہیں بن سکتی جو اس طرف گئے ہیں کہ دس درہم میں ہاتھ کاٹا جائے گا کیونکہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ نے بتلایا جس میں جناب رسول اللہ ﷺ نے ہاتھ کاٹا پس اس میں یہ احتمال ہے کہ انہوں نے ڈھال یا چیز کی قیمت چوتھائی دینار لگائی ان کے ہاں اس کی قیمت یہی تھی ۔ اس لئے انہوں نے اسی کو ہاتھ کاٹنے کی مقدار قرار دیا۔

عَائِشَةَ ← عَمْرَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4849

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 8 باب المقدار الذي يقطع فيه السارق ) · حديث 4850

4581 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب قال أخبرني يونس بن يزيد عن بن شهاب عن عروة وعمرة عن عائشة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال يقطع يد السارق في ربع دينار فصاعدا فقالوا هذا إخبار من عائشة رضي الله عنها عن قول النبي صلى الله عليه و سلم فدل ذلك أن ما ذكرنا عنها في الحديث الأول من قطع النبي صلى الله عليه و سلم في ربع دينار فصاعدا إنما أخذت ذلك عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مما وقفها عليه على ما في هذا الحديث لا من جهة تقويمها لما كان قطع فيه قيل لهم هذا كما ذكرتم لو لم يختلف في ذلك عنها فقد روى بن عيينة عن الزهري عن عمرة عن عائشة ما قد ذكرناه في الفصل الذي قبل هذا الفصل فكان ذلك إخبارا منها عن فعل النبي صلى الله عليه و سلم لا عن قوله ويونس بن يزيد عندكم لا يقارب بن عيينة فكيف تحتجون بما روى وتدعون ما روى بن عيينة قالوا فقد روى هذا الحديث أيضا من غير هذا الوجه عن عمرة عن عائشة كما رواه يونس بن يزيد فذكروا ما

عروہ اور عمرہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ چور کا ہاتھ چوتھائی دینار یا اس سے زائد میں کاٹا جائے گا۔ یہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے جناب رسول اللہ ﷺ کے ارشادات ہیں پس اس سے یہ ثابت ہوا کہ پہلی روایات میں ربع دینار یا اس سے زائد قیمت میں ہاتھ کا کاٹنا یہ بذات خود جناب رسول اللہ ﷺ سے لیا گیا جو آپ نے ان کو بتلایا اس طرح نہیں جیسے سمجھا گیا کہ جس ڈھال کے بدلے میں ہاتھ کاٹا گیا اس کی قیمت لگائی گئی ۔ ( جب آپ ﷺ سے منقول ہوا تو پھر اس میں اجتہاد کی ضرورت نہیں ) ۔ یہ بات جو آپ نے نقل کی ہے بالکل اسی طرح ہو گی اگر اس روایت میں اختلاف نہ ہو۔ ذرا ملاحظہ فرمائیں ۔ زہری نے عمرہ عن عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی جو اس سے پہلی فصل میں ہم نے نقل کی ہے اس میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ نے جناب رسول اللہ کے فعل کی خبر دی ہے نہ کہ قول کی ۔ اس روایت کی سند میں یونس بن یزید ہے اور آپ کے ہاں بھی ابن عیینہ کے ہم پلہ تو کیا ہوتے ان کے قریب بھی نہیں پھر اس کی روایت کو تم بطور دلیل اختیار کرتے ہو اور ابن عیینہ کی روایت کو چھوڑتے ہو۔ یہ روایت دیگر طریق سے بھی مروی ہے اور وہ بھی یونس کی طرح دیگر روات سے عمرہ عن عائشہ رضی اللہ عنہ روایت کی ہے ۔ ملاحظہ ہو ۔ مخرمہ بن بکیر عن ابیہ ۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ، وَعَمْرَةَ، ← بن شِهَابٍ ← يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4850

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 8 باب المقدار الذي يقطع فيه السارق ) · حديث 4851

4582 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال أخبرني مخرمة بن بكير عن أبيه عن سليمان بن يسار عن عمرة عن عائشة أنها قالت سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول لا يقطع يد السارق إلا في ربع دينار فصاعدا قيل لهم كيف تحتجون بهذا وأنتم تزعمون أن مخرمة لم يسمع من أبيه حرفا وأن ما روي عنه مرسل وأنتم لا تحتجون بالمرسل فمما يذكرون مما ينفون به سماع مخرمة عن أبيه

مخرمہ بن بکیر عن ابیہ عن سلیمان بن یسار نے عمرہ عن عائشہ رضی اللہ عنہ روایت کی ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ میں نے جناب رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ۔ چور کا ہاتھ چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ میں کاٹا جائے ۔ اس روایت کو آپ کس طرح دلیل بناتے ہیں جبکہ مخرمہ رحمتہ اللہ علیہ کے متعلق آپ کا خیال یہ ہے کہ انہوں نے اپنے والد سے کوئی ایک حرف بھی نہیں سنا اور انہوں نے جو روایات نقل کی ہیں وہ مرسل ہیں اور مرسل روایت تو آپ کے ہاں قابل حجت نہیں ۔ مخرمہ کے اپنے والد سے نہ سننے کے متعلق یہ روایت ہے ۔

عَائِشَةَ ← عَمْرَةَ ← سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← أَبِيهِ ← مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ، ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4851

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 8 باب المقدار الذي يقطع فيه السارق ) · حديث 4852

ما حدثنا بن أبي داود قال ثنا بن أبي مريم عن خاله موسى بن سلمة قال سألت مخرمة بن بكير هل سمعت من أبيك شيئا فقال لا قالوا فإنه قد روى هذا الحديث عن عمرة كما رواه يونس بن يزيد عن الزهري عنها يحيى بن سعيد أيضا وذكروا في ذلك ما

ابن ابی مریم نے اپنے ماموں موسیٰ بن سلمہ سے نقل کیا کہ میں نے مخرمہ بن بکیر سے پوچھا کہ کیا تم نے اپنے والد سے کچھ سنا ؟ انہوں نے کہا نہیں۔ یہ روایت یونس بن یزید کی طرح یحییٰ بن سعید نے بھی روایت کی ہے ملاحظہ فرمائیں ۔

الزهري عنها يحيى بن سعيد أيضا وذكروا في ذلك ما ← عمرة كما رواه يونس بن يزيد ← فإنه قد روى هذا الحديث ← من أبيك شيئا فقال لا ← سألت مخرمة بن بكير هل ← خاله موسى بن سلمة ← بن اَبِیْ مَرْیَمَ ← بن أبي داود ← مَا

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4852

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 8 باب المقدار الذي يقطع فيه السارق ) · حديث 4853

4583 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا مسلم بن إبراهيم قال ثنا أبان بن يزيد قال ثنا يحيى بن سعيد عن عمرة عن عائشة أن النبي صلى الله عليه و سلم قال يقطع يد السارق في ربع دينار فصاعدا قيل لهم قد روى هذا الحديث عن يحيى من هو أثبت من أبان فأوقفه على عائشة ولم يرفعه إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم

عن یحییٰ بن سعید نے عمرہ سے انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہ سے کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے فرمایا چور کا ہاتھ چوتھائی دینار اور اس سے زائد میں کاٹا جائے گا۔ اس روایت کو ابان بن یزید سے زیادہ پختہ روات نے یحییٰ بن سعید سے بیان کیا مگر انہوں نے اس کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ پر موقوف بیان کیا جناب رسول اللہ ﷺ سے مرفوع بیان نہیں کیا ملاحظہ فرمائیں۔

عَائِشَةَ ← عَمْرَةَ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4853

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 8 باب المقدار الذي يقطع فيه السارق ) · حديث 4854

4584 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب أن مالكا حدثه عن يحيى بن سعيد عن عمرة بنت عبد الرحمن أن عائشة زوج النبي صلى الله عليه و سلم قالت ما طال علي أي ما طال الزمان علي ولا نسيت القطع في ربع دينار فصاعدا

مالک نے یحییٰ بن سعید سے انہوں نے عمرہ بنت عبدالرحمن سے روایت کی کہ حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں ۔ نہ مجھے اتنا عرصہ گزرا اور نہ مجھے بھول ہوئی کہ ہاتھ کاٹنا چوتھائی دینار اور اس سے زائد میں ہے ۔

يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4854

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 8 باب المقدار الذي يقطع فيه السارق ) · حديث 4855

4585 - حدثنا محمد بن إدريس المكي قال ثنا الحميدي عن سفيان قال ثنا أربعة عن عمرة عن عائشة لم يرفعه عبد الله بن أبي بكر وزريق بن حكيم الإيلي ويحيى وعبد ربه ابنا سعيد والزهري أحفظهم كلهم إلا أن في حديث يحيى ما قد دل على الرفع ما نسيت ولا طال علي القطع في ربع دينار فصاعدا

حمیدی نے سفیان سے نقل کیا کہ عمرہ عن عائشہ رضی اللہ عنہ والی ہمیں چار نے بیان کی مگر کسی نے مرفوع نقل نہیں کی وہ چار یہ ہیں۔ ایک عبداللہ بن ابی بکر، دوم زریق بن حکیم ایلی، سوم یحییٰ اور عبدربہ ( جو دونوں سعید کے بیٹے ہیں ) چہارم زہری اور زہری ان میں سب سے زیادہ حافظہ والے ہیں مگر یحییٰ بن سعید کی روایت میں ایک لفظ ایسا ہے جو اس روایت کے رفع پر دلالت کرتا ہے ۔ وہ یہ ہے کہ نہ تو میں بھولی اور نہ ہی زیادہ عرصہ گزرا کہ چور کا ہاتھ ربع دینار اور اس سے زائد میں کاٹا جائے گا۔

عَمْرَةَ ← أَرْبَعَةٌ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← محمد بن إدريس المكي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4855

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 8 باب المقدار الذي يقطع فيه السارق ) · حديث 4856

4586 - حدثنا يونس قال أخبرنا أنس بن عياض عن يحيى بن سعيد قال حدثتني عمرة أنها سمعت عائشة تقول القطع في ربع دينار فصاعدا فكان أصل حديث يحيى عن عمرة هو ما ذكرنا مما رواه عنه أهل الحفظ والإتقان مالك وابن عيينة لا كما رواه أبان بن يزيد فقد عاد حديث يحيى بن سعيد عن عمرة عن عائشة رضي الله عنها إلى نفسها إما لتقويمها ما قد خولف في توقيته ولم يثبت فيه عنها عن النبي صلى الله عليه و سلم شيء وأما ما إستدل به بن عيينة على أن حديث عائشة رضي الله عنها مما رواه يحيى بن سعيد عن عمرة عنها مرفوع بقولها ما طال علي ولا نسيت فإن ذلك عندنا لا دلالة فيه على ما ذكر وقد يجوز أن يكون معناها في ذلك ما طال علي ولا نسيت ما قطع فيه رسول الله صلى الله عليه و سلم مما كانت قيمته عندها ربع دينار وقيمته عند غيرها أكثر من ذلك فيعود معنى حديثها هذا إلى معنى ما قد روينا عنها قبل هذا من ذكرها ما كان النبي صلى الله عليه و سلم يقطع فيه ومن تقويمها إياه بربع دينار فإن قالوا فقد رواه أبو بكر بن عمرو بن حزم عن عمرة عن عائشة رضي الله عنها مثل ما رواه أبان بن يزيد عن عمرة عن عائشة رضي الله عنها وذكروا في ذلك ما

یحییٰ بن سعید نے عمرہ سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا کہ ربع دینار اور اس سے زائد میں ہاتھ کاٹا جائے گا۔ یحییٰ نے عمرہ سے اصل روایت اس طرح نقل کی جس قدر ہے وہ وہی ہے جس کو حفاظ حدیث نے بیان کیا وہ حفاظ امام مالک ابن عیینہ رحمتہ اللہ علیہ جیسے ثقہ لوگ ہیں نہ اس طرح جیسا کہ ابان بن یزید نے روایت کی ہے۔ اب روایت یحییٰ بن سعيد عن عمره عن عائشہ رضی اللہ عنہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ پر موقوف ہے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی طرف لوٹ آئی یا تواس چیز کی قیمت لگانے میں جس کی قیمت میں اختلاف کیا گیا (یعنی ڈھال ) یا پھر اس مقدار کے مقرر کرنے جس کے مقرر کرنے میں اختلاف کیا گیا تو اس سلسلہ میں اس روایت میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے کوئی بات مرفوع جناب رسول اللہ ﷺ سے ثابت نہیں ہوتی۔ البتہ ابن عیینہ کا یہ کہنا کہ: اطال على ولانسیت کے لفظوں سے مرفوع ہونا معلوم ہوتا ہے۔ تو ہمارے ہاں ! اس میں اس قسم کی کوئی دلالت نہیں پائی جاتی کیونکہ عین ممکن ہے کہ اس کا مطلب یہ ہو کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے چوتھائی دینار قیمت کی چیز چوری کرنے پر ہاتھ کا نا اس واقعہ کو پیش آئے طویل عرصہ نہیں ہوا اور نہ ہی مجھے یہ واقعہ بھولا اور اس ڈھال کی قیمت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے ہاں چوتھائی حصہ دینار ہو اور اس کی قیمت دوسروں کے ہاں اس سے زیادہ ہو۔ اب اس روایت کا مطلب بھی اس روایت کی طرف لوٹ گیا جو ہم نے ان سے روایت کی ہے اور اس میں انہوں نے ذکر کیا کہ جناب رسول اللہ ﷺ کس چیز کی چوری پر ہاتھ کاٹتے تھے اور اس کی قیمت ربع دینار سے لگائی۔ اس کی ایک سند ایسی جو اعتراض سے بری ہے۔ ملاحظہ ہو۔ اس روایت کو ابوبکر بن عمرو بن حزم نے عمرہ عن عائشہ رضی اللہ عنہ ذکر کیا اور وہ بالکل ابان بن یزید عن عمرہ عن عائشہ رضی اللہ عنہ کی روایت کی طرح ہے۔ روایت یہ ہے۔

حدثتني عمرة ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← أَنَسَ بْنَ عِيَاضٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4856

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 8 باب المقدار الذي يقطع فيه السارق ) · حديث 4857

4587 - حدثنا محمد بن إدريس المكي قال ثنا الحميدي قال ثنا عبد العزيز بن أبي حازم قال حدثني بن الهاد عن أبي بكر بن محمد بن عمرو بن حزم عن عمرة بنت عبد الرحمن عن عائشة عن النبي صلى الله عليه و سلم قال لا يقطع يد السارق إلا في ربع دينار فصاعدا

ابو بکر بن محمد بن عمرو بن حزم عن عمرہ بنت عبدالرحمن عن عائشہ رضی اللہ عنہ انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے کہ چور کا ہاتھ کاٹا نہ جائے گا مگر یہ کہ ربع دینار اور اس سے زائد ( قیمت والی چیز ) میں ۔

لا يقطع يد السارق إلا في ربع دينار فصاعدا ← النبي صلى الله عليه و سلم ← عَائِشَةَ ← عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ← بْنِ الْهَادِ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ← الْحُمَيْدِيُّ، ← محمد بن إدريس المكي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4857

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 8 باب المقدار الذي يقطع فيه السارق ) · حديث 4858

4588 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا أبو عامر قال ثنا عبد الله بن جعفر عن يزيد بن الهاد فذكر بإسناده مثله

عبداللہ بن جعفر نے یزید بن ھاد سے پھر انہوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔

يزيد بن الهاد فذكر بإسناده مثله ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو عَامِرٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4858

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 8 باب المقدار الذي يقطع فيه السارق ) · حديث 4859

4589 - حدثنا محمد بن خزيمة وفهد قالا ثنا عبد الله بن صالح قال حدثني الليث قال حدثني بن الهاد فذكر بإسناده مثله

عبداللہ بن صالح نے لیث سے انہوں نے ابن الہاد سے پھر انہوں نے اپنی سند سے روایت نقل کی ہے ۔

بن الهاد فذكر بإسناده مثله ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← محمد بن خزيمة وفهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4859

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 8 باب المقدار الذي يقطع فيه السارق ) · حديث 4860

4590 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا عمرو بن عون قال أخبرنا هشيم عن محمد بن إسحاق عن أبي بكر بن محمد بن عمرو بن حزم عن عمرة عن عائشة عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله قيل لهم قد روى هذا كما ذكرتم ولكنه لا يجب على أصولكم أن تعارضوا بهذا الحديث ما روى الزهري ولا ما روى يحيى وعبد ربه ابنا سعيد لأن أبا بكر بن محمد بن عمرو بن حزم ليس له من الإتقان ولا من الحفظ ما لواحد من هؤلاء ولا لمن روى هذا الحديث أيضا عن أبي بكر بن محمد وهو بن الهاد ومحمد بن إسحاق عندكم من الإتقان للرواية والحفظ ما لمن روى حديث الزهري ويحيى وعبد ربه ابني سعيد عنهم وقد خالف أيضا أبا بكر بن محمد فيما روى عن عمرة من هذا ابنه عبد الله بن أبي بكر

ابو بکر بن محمد بن عن عمرو بن حزم عن عمرہ عن عائشہ رضی اللہ عنہ انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔ اس روایت کو اسی طرح روایت کیا گیا جیسا کہ تم نے ذکر کیا مگر تمہارے اصول کے مطابق1 ۔ روایت سند کے لحاظ سے روایت زہری اور یحییٰ و عبدر بہ بن سعید کی روایات کا مقابلہ نہیں کر سکتی ۔ کیونکہ ابو بکر بن عمر و بن حزم کا حفظ و اتقان ان میں سے کسی کے برابر نہیں ہے ۔ 2۔ اور نہ ابو بکر سے روایت کرنے والے مثلاً ابن الہاد، محمد بن اسحاق وغیرہ و حفظ و اتقان میں زہری اور ابنائے سعید سے روایت کرنے والوں کے ہم پلہ ہیں ۔ 3۔ ابو بکر بن محمد نے جو روایت عن عمرہ نقل کی ہے ان کے بیٹے عبداللہ بن ابی بکر نے اس کے خلاف روایت کی ہے ۔ ملاحظہ ہو۔

عَائِشَةَ ← عَمْرَةَ ← أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← هُشَيْمٌ ← عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4860

chevron_left Previous
1…101112…17
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter