Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 7 باب من سكر أربع مرات ما حده ) · حديث 4837

4568 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب قال أخبرني عمرو بن الحارث أن محمد بن المنكدر حدثه أنه بلغه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال في شارب الخمر إن شرب الخمر فاجلدوه ثلاثا ثم قال في الرابعة فاقتلوه فأتي ثلاث مرات برجل قد شرب الخمر فجلده ثم أتي به الرابعة فجلده ووضع القتل عن الناس

محمد بن منکدر نے بیان کیا کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے شراب پینے والے کے متعلق فرمایا۔ اگر وہ شراب نوشی کرے تو اس کو کوڑے مارو۔ یہ تین مرتبہ کہا پھر چوتھی مرتبہ میں فرمایا ۔ کہ اس کو قتل کر دو۔ پھر ایک آدمی کو تین مرتبہ شراب نوشی کی حالت میں لایا گیا۔ تو انہوں نے اسے کوڑے لگائے پھر اسے چوتھی مرتبہ لایا گیا تو اس کو کوڑے لگائے اور قتل کو ہٹا لیا۔

أنه بلغه ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4837

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 7 باب من سكر أربع مرات ما حده ) · حديث 4838

4569 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال أخبرني يونس عن بن شهاب عن قبيصة بن ذؤيب الكعبي أنه حدثه أنه بلغه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم فذكر مثله سواء فثبت بما ذكرنا أن القتل بشرب الخمر في الرابعة منسوخ فهذا وجه هذا الباب من طريق الآثار ثم عدنا إلى النظر في ذلك لنعلم ما هو فرأينا العقوبات التي تجب بانتهاك الحرمات مختلفة فمنها حد الزنا وهو الجلد في غير الإحصان فكان من زنى وهو غير محصن فحد ثم زنى ثانية كان حده كذلك أيضا ثم كذلك حده في الرابعة لا يتغير عن حده في أول مرة وكان من سرق ما يجب فيه القطع فحده قطع اليد ثم إن سرق ثانية فحده قطع الرجل ثم إن سرق ثالثة ففي حكمه اختلاف بين الناس فمنهم من يقول تقطع يده ومنهم من يقول لا تقطع فهذه حقوق الله التي تجب فيما دون الأنفس وأما حدود الله التي تجب في الأنفس وهي القتل في الردة والرجم في الزنا إذا كان الزاني محصنا فكان من زنى ممن قد أحصن رجم ولم ينتظر به أن يزني أربع مرات وكان من إرتد عن الإسلام قتل ولم ينتظر به أن يرتد أربع مرات وأما حقوق الآدميين فمنها أيضا ما يجب فيما دون النفس فمن ذلك حد القذف فكان من قذف مرات فحكمه فيما يجب عليه بكل مرة منها فهو حكم واحد لا يتغير ولا يختلف ما يجب في قذفه إياه في المرة الرابعة وما يجب عليه بقذفه إياه في المرة الأولى فكانت الحدود لا تتغير في انتهاك الحرم وحكمها كلها حكم واحد فما كان منها جلد في أول مرة فحكمه كذلك أبدا وما كان منها قتل قتل الذي وجب عليه ذلك الفعل أول مرة ولم ينتظر به أن يتكرر فعله أربع مرات فلما كان ما وصفنا كذلك وكان من شرب الخمر مرة فحده الجلد لا القتل كان في النظر أيضا عقوبته في شربه إياها بعد ذلك أبدا كلما شربها الجلد لا القتل ولا تزيد عقوبته بتكرر أفعاله كما لم تزد عقوبة من وصفنا بتكرر أفعاله فهذا الذي وصفنا هو النظر وهو قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمة الله عليهم أجمعين

ابن شہاب نے قبیصہ بن ذویب کعبی سے بیان کیا کہ ان کو جناب رسول اللہ ﷺ سے یہ بات پہنچی ہے پھر برابر اسی طرح ذکر کیا ہے۔ مندرجہ بالا روایات سے ثابت ہواکہ قتل کا حکم چوتھی مرتبہ شراب نوشی کرنے والے سے منسوخ ہے۔ آثارکو سامنے رکھ کر تو اس باب کا یہی حکم ہے۔ اب ہم نظر کی طرف رجوع کرتے ہیں تا کہ ہم حقیقت جان لیں۔ حرمات کی توہین کرنے کی سزائیں مختلف ہیں۔ ان میں ایک حد زنا ہے وہ غیرشادی شدہ کے لئے کوڑے۔ پس جو زنا کرے اور وہ غیر شادی شدہ ہو تو اس کو حد لگائی جائے گی۔ پھر دوسری مرتبہ زنا کرنے سے بھی اسی طرح حد لگائی جائے گی پھر اسی طرح چوتھی بار بھی اس کی حد یہی ہوگی۔ پہلی مرتبہ والی حد تبدیل نہ ہو گی۔ اسی طرح جو شخص اتنی چوری کرے جس سے ہاتھ کا ٹنالا زم ہوتو اس کی حد ہاتھ کاٹنا ہے پھر اگر اس نے دوسری مرتبہ چوری کی تو اس کی حد پاؤں کاٹنا ہے۔ پھر اگر اس نے تیسری مرتبہ چوری کی تو اس کے متعلق اختلاف ہے بعض علماء کہتے ہیں کہ اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا اور دوسروں نے کہا کہ اس کا ہاتھ کاٹا جائے ہے یہ وہ حقوق ہیں جو نفس سے کم میں لازم ہوتے ہیں۔ البتہ وہ حقوق جو نفس کے سلسلے میں ازم و واجب ہیں وہ قتل ہے جو ارتداد کی صورت میں رجم زنا کی صورت میں جبکہ وہ شادی شدہ ہو لازم ہوتا ہے۔ پس جب زانی شادی شدہ ہو تو اس کو سنگسارکیا جائے گا اور اس بات کا انتظار نہ کیا جائے گا کہ وہ چار مرتبہ زنا کرے اور (پھر اس کو قتل کیا جائے ) اسی طرح جواسلام سے پھر جائے تو اسے کیا جائے گا اور اس بات کا انتظار نہ کیا جائے گا کہ وہ چار بار ارتداد اختیارکرے ۔ جہاں تک انسانی حقوق ہیں تو ان میں بھی بعض تو نفس سے کم میں واجب ہوتے ہیں ان میں ایک حد قذف ہے۔ تو جو شخص بے گناہ پر بار بار الزام بازی کرے تو ہر بار ایک ہی حکم ہو گا اس میں تبدیلی نہ ہوگی قذف سے چوتھی بار لازم ہونے والی سزا اور پہلی مرتبہ لازم ہونے والی سزا ایک دوسرے سے مختلف نہ ہوگی۔ پس اس سے یہ ثابت ہوا کہ شرعی احکام کی مخالفت پر جوسزائیں مقرر ہیں ان میں تبدیلی نہیں ہوتی۔ ان کا حکم ایک ہی رہتا ہے۔ جو کے پہلی مرتبہ کسی جرم کی سزا میں کوڑے لگائے جائیں گیتو اسے اس جرم کے اعادہ کی صورت میں دوبارہ بھی کوڑے ہی لگائے جائیں گے اور جس کی سزا قتل ہے تو اسے اس جرم کی سزا میں پہلی بار قتل کیا جائے گا اس کے چار مرتبہ اس فعل کے کرنے کا انتظار نہ کیا جائے گا جب حدود کے سلسلہ میں یہ اسی طرح ہے جس طرح ہم نے بیان کی۔ تو جو شخص ایک مرتبہ شراب نوشی کرے اس کی سزا کوڑے ہیں قتل نہیں تو تقاضا قیاس یہی ہے کہ اس کی سزا ہمیشہ یہی ہے کہ جب بھی وہ شراب نوشی کرے اس کو کوڑے مارے جائیں قتل نہ کیا جائے اور تکرار فعل کی وجہ سے سزامیں اضافہ نہ ہو۔ جیسا کہ ان لوگوں کی سزا میں تکرار فعل سے اضافہ نہیں ہوتا جن کا ہم نے تذکرہ کیا ہے قیاس کا تقاضا اسی طرح ہے اور یہی امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف ، محمد رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے ۔

قَبِيصَةُ بْنُ ذُؤَيْبٍ الْكَعْبِيُّ ← بن شِهَابٍ ← يُونُسَ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4838

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 8 باب المقدار الذي يقطع فيه السارق ) · حديث 4839

4570 - حدثنا محمد بن عمرو بن يونس قال ثنا عبد الله بن نمير قال ثنا عبد الله العمري عن نافع عن بن عمر قال قطع رسول الله صلى الله عليه و سلم في مجن قيمته ثلاثة دراهم

نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ایک ڈھال کے بدلے جس کی قیمت تین درہم تھی ہاتھ کاٹا۔

بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عبد الله العمري ← عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ ← محمد بن عمرو بن يونس

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4839

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 8 باب المقدار الذي يقطع فيه السارق ) · حديث 4840

4571 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا سعيد بن عامر قال ثنا سعيد بن أبي عروبة عن أيوب عن نافع عن بن عمر عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← أَيُّوبَ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4840

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 8 باب المقدار الذي يقطع فيه السارق ) · حديث 4841

4572 - حدثنا صالح بن عبد الرحمن قال ثنا القعنبي قال ثنا مالك بن أنس عن نافع عن بن عمر عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مالک بن أنس ← الْقَعْنَبِيُّ ← صالح بن عبد الرحمن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4841

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 8 باب المقدار الذي يقطع فيه السارق ) · حديث 4842

4573 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب أن مالكا حدثه فذكر بإسناده مثله

ابن وہب نے مالک سے پھر انہوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔

فذكر بإسناده مثله ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4842

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 8 باب المقدار الذي يقطع فيه السارق ) · حديث 4843

4574 - حدثنا علي بن معبد قال ثنا بن هارون قال أخبرنا محمد بن إسحاق عن نافع عن بن عمر قال أتي النبي صلى الله عليه و سلم برجل قد سرق جحفة ثمنها ثلاثة دراهم فقطعه قال أبو جعفر فكان الذي في هذه الآثار أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قطع في جحفة قيمتها ثلاثة دراهم وليس فيها أنه لا يقطع فيما هو أقل من ذلك فنظرنا في ذلك فإذا أحمد بن داود قد

نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک آدمی لایا گیا جس نے چمڑے کی ایک ڈھال چوری کی تھی جس کی قیمت تین درہم تھی ۔ آپ نے اس کے ہاتھ کو کاٹ دیا ۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ان آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ ایک جحفہ چمڑے کی ڈھال جس کی قیمت تین درہم تھی ہاتھ کاٹ دیا۔ اس روایت میں یہ مذکور نہیں کہ اس سے کم مقدار چرانے میں ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا ۔ اس سے کم پر غور کے لئے یہ روایت ملاحظہ ہو۔

بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← بن هارون ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4843

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 8 باب المقدار الذي يقطع فيه السارق ) · حديث 4844

4575 - حدثنا قال ثنا سليمان بن حرب قال ثنا وهيب بن خالد قال ثنا صالح أبو واقد عن عامر بن سعد عن أبيه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لا يقطع السارق إلا في ثمن المجن فعلمنا بهذا أن رسول الله صلى الله عليه و سلم وقفهم عند قطعه في المجن على أنه لا يقطع فيما قيمته أقل من قيمة المجن فذهب قوم إلى أن السارق يقطع في هذا المقدار الذي قدره بن عمر رضي الله عنهما في ثمن المجن وهو ثلاثة دراهم ولا يقطع فيما هو أقل من ذلك وإحتجوا في ذلك بما رووه من هذا عن بن عمر رضي الله عنهما وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا لا يقطع السارق إلا فيما يساوي عشرة دراهم فصاعدا واحتجوا في ذلك بما

عامر بن سعد نے اپنے والد سے انہوں نے جناب رسول اللہ ﷺ نے روایت کی ہے کہ چور کا ہاتھ نہ کاٹا جائے مگر جبکہ اس کی قیمت ڈھال کی قیمت کے برابر ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ جناب رسول اللہ ﷺ ڈھال کی قیمت پر ہاتھ کاٹنے کو موقوف کیا ہے اور اس سے کم میں ہاتھ کو کاٹا نہیں جا سکتا۔ چنانچہ علما ء کی ایک جماعت کا مذہب یہ ہے کہ چور کا ہاتھ اسی مقدار میں کاٹا جائے گا جس کا اندازہ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے ڈھال کی قیمت سے بتلایا ہے اور وہ مقدار تین درہم ہے اور اس سے کم میں ہاتھ نہیں کاٹ سکتے ۔ انہوں نے مندرجہ بالا روایات سے استدلال کیا ہے کہ دس درہم سے کم قیمت کی چیز میں ہاتھ کو کاٹا نہیں جا سکتا۔ یا پھر اس سے زیادہ انہوں نے مندرجہ ذیل روایات سے استدلال کیا ہے ۔

أَبِيهِ ← عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ← صالح أبو واقد ← وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4844

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 8 باب المقدار الذي يقطع فيه السارق ) · حديث 4845

4576 - حدثنا بن أبي داود وعبد الرحمن بن عمرو الدمشقي قالا ثنا أحمد بن خالد الوهبي قال ثنا محمد بن إسحاق عن أيوب بن موسى عن عطاء عن بن عباس قال كان قيمة المجن الذي قطع فيه رسول الله صلى الله عليه و سلم عشرة دراهم

عطاء نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ اس ڈھال کی قیمت جس میں آپ نے ہاتھ کاٹا اس کی قیمت دس درہم تھی۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← عَطَاءٍ، ← أَيُّوبَ بْنِ مُوسَی ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، ← بن أبي داود وعبد الرحمن بن عمرو الدمشقي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4845

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 8 باب المقدار الذي يقطع فيه السارق ) · حديث 4846

4577 - حدثنا بن أبي داود وعبد الرحمن بن عمرو الدمشقي قالا ثنا الوهبي قال ثنا بن إسحاق عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده مثله

عمرو بن شعیب نے اپنے والد انہوں نے اپنے دادا سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔

جَدِّهِ مِثْلَهُ ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← بن إِسْحَاقَ، ← الوهبي ← بن أبي داود وعبد الرحمن بن عمرو الدمشقي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4846

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 8 باب المقدار الذي يقطع فيه السارق ) · حديث 4847

4578 - حدثنا فهد قال ثنا محمد بن سعيد الأصبهاني قال أخبرني معاوية بن هشام عن سفيان عن منصور عن مجاهد وعطاء عن أيمن الحبشي قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم أدنى ما يقطع فيه السارق ثمن المجن قال وكان يقوم يومئذ دينارا

مجاہد و عطاء نے ایمن حبشی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سب سے کم درجہ جس میں چور کا ہاتھ کاٹا جا سکتا ہے وہ ڈھال کی قیمت ہے اور اس وقت اس کا اندازہ ایک دینار سے لگایا جاتا تھا۔

أَيْمَنَ الْحَبَشِيِّ ← مُجَاهِدٍ وَعَطَاءٍ ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَصْبَهَانِيُّ ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4847

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 8 باب المقدار الذي يقطع فيه السارق ) · حديث 4848

4579 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا يحيى بن عبد الحميد الحماني قال ثنا شريك عن منصور عن عطاء عن أيمن بن أم أيمن عن أم أيمن قالت قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لا يقطع يد السارق إلا في جحفة وقومت يومئذ على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم دينارا أو عشرة دراهم فلما اختلف في قيمة المجن الذي قطع فيه رسول الله صلى الله عليه و سلم احتيط في ذلك فلم يقطع إلا فيما قد أجمع أن فيه وفاء بقيمة المجن التي جعلها رسول الله صلى الله عليه و سلم مقدارا لا يقطع فيما هو أقل منها وهي عشرة دراهم وقد ذهب آخرون إلى أنه لا يقطع إلا في ربع دينار فصاعدا وإحتجوا في ذلك بما

عطاء نے ایمن بن ام ایمن سے انہوں نے ام ایمن رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ چور کا ہاتھ چمڑے کی ڈھال کے بدلے کاٹا جائے اس کی قیمت جناب رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ایک دینار یا دس درہم لگائی گئی ۔ اب جب کہ اس ڈھال کی قیمت میں اختلاف ہوا جس کے بدلے میں جناب رسول اللہ ﷺ نے ہاتھ کاٹا تو احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ جس پر سب کا اتفاق ہے اور جس کو جناب رسول اللہ ﷺ سے کم قطع کی مقدار بتلایا اسی کو اختیار کریں گے اور وہ مقدار دس درہم ہے ۔ اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ ربع دینار یا اس سے زائد میں ہاتھ کاٹا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے اس دلیل سے استدلال کیا ہے ۔

أُمِّ أَيْمَنَ ← أيمن بن أم أيمن ← عَطَاءٍ، ← مَنْصُورٌ، ← شَرِيکٍ ← يحيى بن عبد الحميد الحماني ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4848

chevron_left Previous
1…91011…17
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter