Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 8 كتاب العتاق ) ‹ ( 2 باب الرجل يملك ذا رحم محرم منه هل يعتق عليه أم لا ) · حديث 4601

وحدثنا نصر بن مرزوق قال ثنا أسد قال ثنا حماد بن سلمة فذكر بإسناده

اسد نے حماد بن سلمہ سے روایت کی پھر انہوں نے اپنی اسناد سے روایت نقل کی ہے ۔

حماد بن سلمة فذكر بإسناده ← أسد ← وَحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Hadith 4601

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 8 كتاب العتاق ) ‹ ( 2 باب الرجل يملك ذا رحم محرم منه هل يعتق عليه أم لا ) · حديث 4602

4343 - حدثنا محمد بن عبد الله بن مخلد الأصبهاني قال ثنا أبو بكر بن أبي شيبة قال ثنا يزيد بن هارون عن حماد بن سلمة عن قتادة عن الحسن عن سمرة قال قال النبي صلى الله عليه و سلم من ملك ذا رحم محرم فهو حر فتصحيح حديثي سمرة هذين يوجب أن ذا الرحم المذكور فيهما هو ذو الرحم المحرم وأن ذا الرحم المذكور فيهما هو ذو المحرم من الرحم فيكون معناهما لما جمع ما فيهما هو مثل ما في حديث بن عمر رضي الله عنهما من ملك ذا رحم محرم فهو حر وقد بلغني أن محمد بن بكر البرساني كان يحدث عن حماد بن سلمة عن عاصم الأحول عن الحسن عن سمرة قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم من ملك ذا رحم من ذي محرم فهو حر فدل ذلك على ما ذكرناه وقد روي عمن بعد رسول الله صلى الله عليه و سلم من أصحابه وتابعيهم رضي الله عنهم ما يوافق هذا أيضا

قتادہ نے حسن سے انہوں نے سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے فرمایا جو ذی رحم رشتہ کا مالک بن گیا وہ آزاد ہے ۔ پس حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ کی ان دونوں روایات کی تصحیح سے یہ لازم آتا ہے کہ ان روایات میں جس ذو رحم کا تذکرہ ہے اس نے ذو رحم محرم مراد ہے ( جس سے نکاح حرام ہو ) تو جب دونوں روایتوں کے الفاظ کو جمع کیا جائے تو پھر یہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت کی طرح بن جائے گی " من ملک ذو رحم محرم فھو حر " جو شخص ذی رحم محرم کا مالک بن جائے تو وہ مملوک آزاد ہو جائے گا اور مجھے محمد بن ہکر برسانی محدث رحمتہ اللہ علیہ کی یہ بات پہنچی کہ وہ اس روایت کو عاصم احول عن حسن عن سمرہ رضی اللہ عنہ اس طرح بیان کرتے تھے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ۔ من ملک ذا رحم محرم فھو حر " تو اب سند سے روایت سمرہ رضی اللہ عنہ بھی بعینہ روایت ابن عمر رضی اللہ عنہ کی طرح ہو گئی ۔

سَمُرَةَ ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← محمد بن عبد الله بن مخلد الأصبهاني

Hadith 4602

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 8 كتاب العتاق ) ‹ ( 2 باب الرجل يملك ذا رحم محرم منه هل يعتق عليه أم لا ) · حديث 4603

4345 - حدثنا يزيد بن سنان قال ثنا أبو عاصم عن أبي عوانة عن الحكم عن إبراهيم عن الأسود عن عمر رضي الله عنه قال من ملك ذا رحم محرم فهو حر

ابراہیم نے اسود سے انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے وہ فرماتے " من ملک ذر رحم محرم فھو حر " جوذی رحم رشتہ دار کا مالک بنا وہ اس پر آزاد ہو جائے گا۔

مَنْ مَلَکَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ فَهُوَ حُرٌّ ← عُمَرَ، ← الْأَسْوَدِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْحَكَمِ ← أَبِي عَوَانَةَ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ،

Hadith 4603

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 8 كتاب العتاق ) ‹ ( 2 باب الرجل يملك ذا رحم محرم منه هل يعتق عليه أم لا ) · حديث 4604

4346 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا روح بن عبادة قال ثنا شعبة قال ثنا سفيان الثوري عن سلمة بن كهيل عن المستورد أن رجلا زوج بن أخيه مملوكته فولدت أولادا فأراد أن يسترق أولادها فأتى بن أخيه عبد الله بن مسعود فقال إن عمي زوجني وليدته وإنها ولدت لي أولاد فأراد أن يسترق ولدي فقال عبد الله كذب ليس له ذلك

سلمہ بن کھیل نے مستورد سے نقل کیا کہ ایک آدمی نے اپنے بھتیجے کا نکاح اپنی لونڈی سے کر دیا اس سے اولاد ہوئی تو اس آدمی سے چاہا کہ اس کی اولاد کو غلام بنائے تو اس کا بھتیجا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آیا اور اس نے کہا میرے چچا نے اپنی لونڈی سے میرا نکاح کر دیا اب اس سے میری اولاد ہے ۔ میرے چچا ان کو غلام بنانا چاہتے ہیں تو ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس نے جھوٹ بولا ہے اس کو غلام بنانے کا حق حاصل نہیں ہے ۔

سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← شُعْبَةُ، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← أَبُو بَکْرَةَ

Hadith 4604

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 8 كتاب العتاق ) ‹ ( 2 باب الرجل يملك ذا رحم محرم منه هل يعتق عليه أم لا ) · حديث 4605

4347 - حدثنا أحمد بن الحسن قال ثنا أسباط بن محمد قال ثنا سفيان الثوري عن إسماعيل بن أمية عن عطاء بن أبي رباح قال إذا ملك الرجل عمته أو خالته أو أخاه أو أخته فقد عتقوا وإن لم يعتقهم

اسماعیل بن امیہ نے عطاء بن ابی رباح سے روایت کی ہے کہ جب کوئی آدمی اپنی پھوپھی کا مالک بن جائے یا خالہ کا مالک بن جائے یا بھائی کا یا بہن کا تو وہ آزاد ہو جائیں گے خواہ وہ ان کو آزاد نہ کرے ۔

عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ الحَسَنِ

Hadith 4605

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 8 كتاب العتاق ) ‹ ( 2 باب الرجل يملك ذا رحم محرم منه هل يعتق عليه أم لا ) · حديث 4606

4348 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا حجاج قال ثنا حماد قال أبو جعفر أظنه عن حجاج عن عطاء والشعبي مثله قال وقال إبراهيم لا يعتق إلا الوالد والولد فلما روينا عن رسول الله صلى الله عليه و سلم ما ذكرنا ووافق ذلك ما روينا عمن ذكرنا من أصحابه وتابعيهم رضي الله عنهم ولم نعلم في ذلك خلافا عن مثلهم وجب القول بما روي عنهم من ذلك وترك خلافهم وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمة الله عليهم أجمعين

حجاج نے عطاء اور شعبی رحمتہ اللہ علیہ سے اسی طرح کی روایت کی ہے اور ابراہیم کا قول یہ ہے کہ صرف والد اور ولد ( باپ ، بیٹا ) آزاد ہوں گے ۔ پس جب ہم نے جناب رسول اللہ ﷺ سے مذکورہ بالا روایات نقل کر دیں اور صحابہ اور تابعین کے اقوال بھی ذکر کر دئیے ۔ ہماری معلومات میں تو ان جیسے لوگوں میں سے کسی کا اختلاف بھی نہیں آیا۔ تو لازم ہے کہ ان سے مروی بات کو اختیار کیا جائے اور اس کے خلاف کو ترک کر دیا جائے ۔ یہی امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف ، محمد رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے ۔

حَمَّادٌ، ← حجاج، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Hadith 4606

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 8 كتاب العتاق ) ‹ ( 3 باب المكاتب متى يعتق ) · حديث 4607

4349 - حدثنا علي بن شيبة قال ثنا يزيد بن هارون قال ثنا حماد بن سلمة عن أيوب عن عكرمة عن بن عباس عن النبي صلى الله عليه و سلم قال يؤدي المكاتب بحصة ما أدى دية حر وما بقي دية عبد

عکرمہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے ۔ مکاتب اگر مقتول ہو جائے تو اس کے مالک کو اس کی دیت اس طرح دی جائے کہ جتنا حصہ آزاد ہو چکا اتنی آزاد کی دیت اور جتنا ابھی غلامی میں باقی ہے اس کی دیت کے مطابق ۔

"يؤدي المكاتب بحصة ما أدى دية حر، وما بقي دية عبد" ← النبي صلى الله عليه و سلم ← بْنِ عَبَّاسٍ ← عِكْرِمَةَ، ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← علي بن شيبة

Hadith 4607

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 8 كتاب العتاق ) ‹ ( 3 باب المكاتب متى يعتق ) · حديث 4608

4350 - حدثنا روح بن الفرج قال ثنا يحيى بن عبد الله بن بكير قال ثنا حماد بن زيد عن أيوب عن عكرمة عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله ولم يذكر بن عباس

ایوب نے حضرت عکرمہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح روایت کی ہے البتہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کا واسطہ درمیان میں ذکر نہیں کیا۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ولم يذكر بن عباس ← عِكْرِمَةَ، ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُكَيْرٍ، ← رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ

Hadith 4608

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 8 كتاب العتاق ) ‹ ( 3 باب المكاتب متى يعتق ) · حديث 4609

4351 - حدثنا علي بن شيبة قال ثنا يحيى بن يحيى بن أبي كثير بن حسان النيسابوري قال ثنا وكيع عن علي بن المبارك عن يحيى بن أبي كثير عن عكرمة عن بن عباس قال قضى رسول الله صلى الله عليه و سلم في مكاتب قتل بدية الحر بقدر ما عتق منه قال بن عباس ويقام على المكاتب حد المملوك

عکرمہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے مقتول مکاتب کے متعلق جتنا حصہ آزاد ہو چکا تھا آزاد کی دیت کا فیصلہ فرمایا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مکاتب پر غلام کی حد قائم کی جائے گی ۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← عِكْرِمَةَ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ← وَكِيعٌ، ← يحيى بن يحيى بن أبي كثير بن حسان النيسابوري ← علي بن شيبة

Hadith 4609

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 8 كتاب العتاق ) ‹ ( 3 باب المكاتب متى يعتق ) · حديث 4610

4352 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا محمد بن عبد الله الأنصاري قال حدثني الحجاج الصواف عن يحيى بن أبي كثير عن عكرمة عن بن عباس رضي الله عنهما قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم يودي المكاتب بقدر ما أدى دية الحر وبقدر ما رق منه دية العبد قال أبو جعفر فذهب قوم إلى أن المكاتب يعتق منه بقدر ما أدى ويكون حكمه فيه حكم الحر ويكون حكم فيما لم يؤد حكم العبد واحتجوا في ذلك بهذا الحديث وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا لا يعتق المكاتب إلا بأداء جميع الكتابة واحتجوا في ذلك بما

عکرمہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مکاتب مقتول کی دیت اس طرح ہو گی جس قدر آزد ہوا اتنی آزاد کی دیت اور جس قدر غلام ہے اسی قدر غلام کی دیت دی جائے گی ۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں : علماء کی ایک جماعت کا قول یہ ہے کہ مکاتب جس قدر بدل کتابت ادا کرے اس کا اتنا حصہ آزاد ہو جائے گا اور اس حصہ میں اس کا حکم آزاد کی طرح ہو گا اور جس قدر بدل کتابت ادا نہیں کیا گیا اس میں اس کا حکم غلام جیسا ہے ۔ انہوں نے مندرجہ بالا روایت کو مستدل بنایا ہے ۔ دوسرے علماء نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ مکاتب جب تک بدل کتابت ادا نہ کرے وہ غلام ہے وہ اس وقت آزاد ہو گا جب تمام بدل کتابت اد ا کر دے گا اس کی دلیل مندرجہ ذیل روایت ہے ۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← عِكْرِمَةَ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْحَجَّاجُ الصَّوَّافُ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Hadith 4610

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 8 كتاب العتاق ) ‹ ( 3 باب المكاتب متى يعتق ) · حديث 4611

4353 - حدثنا بن أبي داود قال حدثنا الخطاب بن عثمان قال ثنا إسماعيل بن عياش عن سليمان بن سليم عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال المكاتب عبد ما بقي عليه من كتابته درهم فكانت هذه الآثار قد أختلف فيها عن رسول الله صلى الله عليه و سلم فنظرنا فيما روي عن أصحابه رضي الله عنهم من ذلك فإذا علي بن شيبة قد

عمرو بن شعیب نے اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ ے فرمایا مکاتب پر جب تک بدل کتابت کا ایک درہم بھی باقی ہے وہ غلام ہی ہے ۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ سُلَيْمٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← الْخَطَّابُ بْنُ عُثْمَانَ ← بن أبي داود

Hadith 4611

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 8 كتاب العتاق ) ‹ ( 3 باب المكاتب متى يعتق ) · حديث 4612

4354 - حدثنا قال ثنا يزيد بن هارون قال أنا سعيد بن أبي عروبة عن قتادة عن معبد الجهني عن عمر بن الخطاب قال المكاتب عبد ما بقي عليه درهم

معبد جہنی نے عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ مکاتب اس وقت تک غلام شمار ہو گا جب تک اس پر ایک درہم بھی باقی ہے ۔

الْمُكَاتَبُ عَبْدٌ مَا بَقِيَ عَلَيْهِ دِرْهَمٌ. ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← مَعْبَدٍ الْجُهَنِيِّ ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Hadith 4612

chevron_left Previous
12345
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter