Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 9 كتاب الأيمان والنذور ) ‹ ( 4 باب الرجل يوجب على نفسه المشي إلى بيت الله ) · حديث 4717

4454 - حدثنا قال ثنا يزيد بن هارون قال أخبرنا همام بن يحيى عن قتادة عن عكرمة عن بن عباس رضي الله عنهما أن عقبة بن عامر أتى النبي صلى الله عليه و سلم فأخبره أن أخته نذرت أن تمشي إلى الكعبة حافية ناشرة شعرها فقال له النبي صلى الله عليه و سلم مرها فلتركب ولتختمر ولتهد هديا

عکرمہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ جناب نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں آئے اور بتلایا کہ ان کی بہن نے قسم اٹھائی ہے کہ کعبہ کی طرف ننگے پاؤں پیدل ، بال بکھیرے کر بیت اللہ کی طرف جائے گی تو جناب نبی اکرم ﷺ نے اس کو حکم فرمایا کہ وہ سر پر دوپٹہ لے اور ایک ہدی بھی دے ۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← عِكْرِمَةَ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Hadith 4717

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 9 كتاب الأيمان والنذور ) ‹ ( 4 باب الرجل يوجب على نفسه المشي إلى بيت الله ) · حديث 4718

4455 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا عيسى بن إبراهيم قال ثنا عبد العزيز بن مسلم قال ثنا مطر الوراق عن عكرمة عن عقبة بن عامر الجهني قال نذرت أختي أن تمشي إلى الكعبة فأتى عليها رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال ما لهذه قالوا نذرت أن تمشي إلى الكعبة فقال إن الله لغني عن مشيها مرها فلتركب ولتهد بدنة ففي هذا الحديث أن النبي صلى الله عليه و سلم أمرها بالهدى لمكان ركوبها فتصحيح هذه الآثار كلها يوجب أن يكون حكم من نذر أن يحج ماشيا أن يركب إن أحب ذلك ويهدى هديا لتركه المشي ويكفر عن يمينه لحنثه فيها وبهذا كان أبو حنيفة وأبو يوسف ومحمد يقولون وأما وجه النظر في ذلك فإن قوما قالوا ليس المشي فيما يوجبه نذر لأن فيه تعبا للأبدان وليس الماشي في حال مشيه في حرمة إحرام فلم يوجبوا عليه المشي ولا بدلا من المشي فنظرنا في ذلك فرأينا الحج فيه الطواف بالبيت والوقوف بعرفة وبجمع وكان الطواف منه ما يفعله الرجل في حال إحرامه وهو طواف الزيارة ومنه ما يفعله بعد أن يحل من إحرامه وهو طواف الصدر وكان ذلك كله من أسباب الحج قد أريد أن يفعله الرجل ماشيا وكان من فعله راكبا مقصرا وجعل عليه الدم هذا إذا كان فعله لا من علة وإن كان فعله من علة فإن الناس مختلفون في ذلك فقال بعضهم لا شيء عليه وممن قال بذلك أبو حنيفة وأبو يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى وقال بعضهم عليه دم وهذا هو النظر عندنا لأن العلل إنما تسقط الآثام في انتهاك الحرمات ولا تسقط الكفارات ألا ترى أن الله سبحانه وتعالى قال ولا تحلقوا رؤسكم حتى يبلغ الهدي محله وكان [ ص 132 ] حلق الرأس حراما على المحرم في إحرامه إلا من عذر فإن حلقه فعليه الإثم والكفارة وإن اضطر إلى حلقه فعليه الكفارة ولا إثم عليه فكان العذر يسقط به الآثام ولا يسقط به الكفارات فكان يجب في النظر أن يكون كذلك حكم الطواف بالبيت إذا كان من طافه راكبا للزيارة لا من عذر فعليه دم إلا أن يكون من طافه من عذر راكبا كذلك أيضا فهذا حكم النظر في هذا الباب وهو قياس قول زفر ولكن أبا حنيفة وأبا يوسف ومحمد لم يجعلوا على من طاف بالبيت طواف الزيارة راكبا من عذر شيئا فلما ثبت بالنظر ما ذكرنا كان كذلك المشي لما رأيناه قد يجب بعد فراغ الإحرام إذ كان من أسبابه كما يجب في الإحرام كان كذلك المشي الذي قبل الإحرام من أسباب الإحرام حكمه حكم المشي الواجب في الإحرام فكما كان على تارك المشي الواجب في الإحرام دم كان على تارك هذا المشي الواجب في الإحرام دم كان على تارك هذا المشي الواجب قبل الإحرام دم أيضا وذلك واجب عليه في حال قوته على المشي وفي حال عجزه عنه في قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد أيضا وذلك دليل لنا صحيح على ما بيناه من حكم الطواف بالحمل في حال القوة عليه وفي حال العجز عنه فإن قال قائل فإذا وجب عليه المشي بإيجابه على نفسه أن يحج ماشيا وكان ينبغي إذا ركب أن يكون في معنى ما لم يأت بما أوجب على نفسه فيكون عليه أن يحج بعد ذلك ماشيا فيكون كمن قال لله علي أن أصلي ركعتين قائما فصلاهما قاعدا فمن الحجة عندنا على قائل هذا القول أنا رأينا الصلوات المفروضات التي علينا أن نصليها قياما لو صليناها قعودا لا نعذر وجب علينا إعادتها وكنا في حكم من لم يصلها وكان من حج منا حجة الإسلام التي يجب علينا المشي في الطواف لها فطاف ذلك الطواف راكبا ثم رجع إلى أهله لم يجعل في حكم من لم يطف ويؤمر بالعود بل قد جعل في حكم من طاف وأجزأه طوافه ذلك إلا أنه جعل عليه دم لتقصيره فكذلك الصلاة الواجبة بالنذر والحج بالنذر هما مقيسان على الصلاة والحج الواجبين بإيجاب الله عز و جل فما كان من ذلك مما يجب بإيجاب الله يكون المقصر فيه في حكم تاركه كان كذلك ما يوجب عليه من ذلك الجنس بإيجابه إياه على نفسه فقصر فيه يكون بتقصيره فيه في حكم تاركه فعليه إعادته وما كان من ذلك مما يجب بإيجاب الله عليه مقصر فيه فلم يجب عليه إعادته ولم يكن بذلك التقصير في حكم تاركه كان كذلك ما وجب عليه من ذلك الجنس بإيجابه إياه على نفسه فقصر فيه فلا يكون بذلك التقصير في حكم تاركه فيجب عليه إعادته ولكنه في حكم فاعله وعليه لتقصيره ما يجب عليه من التقصير في أشكاله من الدماء وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى

عکرمہ نے عقبہ بن عامری جہنی رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ میری بہن نے بیت الله کی طرف چلنے کی نذر مانی ہے جناب رسول اللہ ﷺ اس کے ہاں تشریف لائے اور فرمایا اس کو کیا ہے؟ انہوں نے بتلایا کہ اس نے بیت الله کی طرف پیدل جانے کی نذر مانی ہے تو آپ نے اس کو فرمایا الله تعالی اس کے چلنے سے بے پروا ہیں اس کو سواری کا حکم دو اور اونٹ بطور ہدی دے۔ روایت ثابت کر رہی ہے کہ آپ نے اسے ہدی کا حکم دیا ہے یہ اس کے سواری کرنے کی وجہ سے ہے۔ پس ان تمام آثار کی تصیحح کا تقاضا یہ ہے کہ جس نے پیدل حج کی نذر مانی ہواگر پسند کرے تو وہ سوار ہو جائے اور پیدل چلنے کو چھوڑ دینے کی وجہ سے ہدی دے اور قسم توڑنے کی وجہ سے قسم کا کفارہ ہوگا۔ امام ابوحنیفہ، امام ابویوسف اور محمد رحمتہ اللہ علیہ کا قول یہی ہے۔ اس سلسلہ میں تقاضا نظریہ ہے کہ ایک جماعت کا قول یہ ہے کہ پیدل چلنے کو لازم کر لینا یہ نذر میں شامل نہیں ہے کیونکہ اس میں بدن کی تھکاوٹ ہے اور پیدل چلنے والا چلتے ہوئے حرمت احرام میں بھی نہیں ہے اسی وجہ سے انہوں نے پیدل چلنے والے پر نہ تو پیدل چلنے کولازم کیا اور نہ چلنے کے بدلے کسی چیز کو لازم کیا۔ ہم نے اس میں جب غور کیا تو دیکھا کہ حج میں طواف بیت الله وقوف عرفات اور وقوف مزدلفہ ہے اور طواف کی دو حالتیں ہیں ایک وہ ہے جس کو وہ حالت احرام میں کرتا ہے اور وہ طواف زیارت ہے اور دوسری قسم وہ ہے جو احرام سے حلال ہونے کے بعد کرتا ہے اور وہ طواف صدر ہے اور تمام ارکان حج سے ہیں کبھی آدمی ان کو پیدل چل کر کرنے کا ارادہ کرتا ہے اور اس وقت وہ سواری کی حالت میں کرنے سے کوتاہی کرنے والا شمار ہوگا اور اس پر دم لازم آئے گا اور یہ اس وقت ہے جبکہ سوار ہونا بغیر کسی بیماری وغیرہ کے ہو اور اگر اس کا یہ فعل کسی بیماری کی وجہ سے ہو تو پھر اس میں اختلاف ہے۔ بعض کہتے ہیں اس پر کچھ بھی لازم نہ آئے گا یہ امام ابوحنیفہ ، ابو یوسف ، محمد رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے۔ اس پر دم لازم ہوگا اور نظر وقیاس کا تقاضا یہی ہے۔ (ہمارے ہاں ) اس کی دلیل یہ ہے کہ حرمات کی توہین کے سلسلہ میں ثابت ہونے والے گناہ کو اسباب ساقط کرتے ہیں مگر اس پر لازم ہونے والے کفارات کو ساقط نہیں کرتے۔ ذرا غور فرمائیں کہ اللہ تعالی نے فرمایا : ولا تحلقوا رؤسكم حتى يبلغ الهدی محله۔ (البقرہ:196) احرام کی حالت میں محرم کو سر منڈوانا حرام تھا البتہ عذر کی صورت میں جائز تھا پس اگر اس نے حلق کردیا تو اس پر گناہ اور کفارہ دونوں لازم ہوں گے اور اس کوحلق کے لئے مجبوری پیش آگئی تو اس پر کفارہ تو ہوگا مگر اس پر گناہ لازم نہ ہوگا۔ پس عذرنے گناہوں کو ساقط کر دیا مگر عذر کفارات کو ساقط نہیں کر سکتے۔ پس نظر کا لازمی تقاضایہ ہے کہ طواف بیت الله کا بھی یہی حکم ہو جبکہ کسی نے بلاعذ رطواف زیارت سوار ہونے کی حالت میں کیا۔ پس اس پر ایک دم لازم ہوگا البتہ جس نے عذر کی وجہ سے سوار ہوکر طواف کیا ہوتو اس کا بھی یہی حکم ہو گا۔ اس باب میں امام زفر رضی اللہ عنہ کے قیاس کا تقاضا یہی ہے۔ لیکن امام ابوحنیفہ ، ابو یوسف ، محمد رحمتہ اللہ علیہ اس شخص پر کوئی چیز لازم نہیں کرتے بیت اللہ کا طواف زیارة عذر کی وجہ سے سوار ہو کر کر لے۔ پس جب یہ اسی طرح ثابت ہوگیا جیسا کہ ہم نے ذکر کیا تو پیدل چلنے کا بھی یہی حکم ہے۔ کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ بعض اوقات احرام سے فراغت کے بعد لازم ہوتا ہے اس لئے کہ یہ اس کے اسباب و شرائط سے ہے۔ جیسا کہ یہ احرام میں لازم ہوتا ہے۔ اسی طرح وہ پیدل چلنا جواحرام سے پہلے اسباب احرام سے تھا۔ تو اس کا حکم بھی وہی ہوگا جو احرام میں لازم چلنے کا ہوتا ہے۔ پس نتیجاً جس طرح احرام میں لازم چلنے کو چھوڑنے کی وجہ سے دم آتا ہے اسی طرح اس واجب مشی کو جو احرام سے پہلے ہے چھوڑنے کی وجہ سے بھی دم لازم آئے گا اور پیدل چلنے پر طاقت ہونے کی حالت میں جب یہ اس پر لازم ہے اورمشی سے عجز کی حالت میں بھی لازم ہوگی کہ امام ابوحنیفہ ، ابویوسف ، محمد رحمتہ اللہ علیہ کا بھی قول ہے اور یہ ہمارے لئے اس بات کی دلیل ہے جیسا کہ ہم بیان کر آئے کہ قوت کی حالت میں سواری یاعجز کی حالت میں سواری دونوں حالتوں میں اس کاحکم برابر ہے۔ اگر کسی نے پیدل حج کی نذر مانی تو اس پر پیدل حج لازم ہے سوار ہونے کی صورت میں وہ اس بات پر عمل کرنے والا شمار نہ ہوگا جس بات کو اس نے اپنے اوپر لازم کیا ہے اور اس کا لازمی تقاضا ہے کہ وہ بعد میں پیدل حج کرے پس اس وقت وہ اس آدی کی طرح ہوجائے گا جو یہ کہتا ہے کہ مجھ پر الله تعالی کے لئے دورکعت کھڑے ہوکر پڑھنالازم ہے (پر وہ بیٹھ کر پڑھے تو اس پر اعاده لازم ہے) ہم گزارش کریں گے کہ ہم نے غور کیاتو نمازوں کو دو قسم پر پایا کچھ نمازیں ایسی ہیں جو کھڑے ہو کر پڑھنا ضروری ہیں اگر ان کو ہم کسی عذر کے بغیر بیٹھ کر ادا کریں تو ہم پران کا لوٹانا واجب ہوگا اور ہم اس شخص کے حکم میں ہوں جس نے اس نماز کو ادا ہی نہیں کیا (جیسے فرائض) اور ہم میں جوآدمی فرض ادا کرے جس میں پیدل طواف لازم ہے اور وہ سوار ہو کر طواف کرتا ہے پھر وہ اپنے گھر واپس لوٹ آتا ہے تو اس کو طواف نہ کرنے والے کے حکم میں شمار نہ کیا جائے گا اور نہ یہ کہا جائے گا کہ وہ واپس لوٹ جائے بلکہ اس کو اس آدی کی طرح قرار دیں گے جس نے طواف کیا اور اس کا یہ طواف اس کے لئے کافی ہو گیا۔ البتہ اس (طواف ) میں کوتاہی کی وجہ سے اس پر قربانی لازم ہوجائے گی بالکل اسی طرح جو نماز اور حج نذر کی وجہ سے لازم ہوا اسے اس نماز اور حج پر قیاس کیا جائے گا ج الله تعالی کے فرض و لازم کرنے کی وجہ سے لازم ہوا ہے۔ پس جو شخص عبادت میں جو اللہ تعالی نے لازم کی ہے کوتاہی کرنے والا ہوگا وہ چھوڑنے والے کے حکم میں ہے۔ اسی طرح جو اس عبادت کی جنس و قسم سے جو اس نے خود اپنے اوپر لازم کی ہیں اور پھر ان میں کوتاہی کا مرتکب ہو تو اس کو چھوڑنے والے کے حکم میں ہوگا اور اس پر اس (عبادت) کولوٹانا لازم ہوگا۔

نَذَرَتْ أُخْتِي ← عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ، ← عِكْرِمَةَ، ← مَطَرٌ الْوَرَّاقُ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ← عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← بن أبي داود

Hadith 4718

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 9 كتاب الأيمان والنذور ) ‹ ( 5 باب الرجل ينذر وهو مشرك نذرا ثم يسلم ) · حديث 4719

4456 - حدثنا يزيد بن سنان قال ثنا يحيى بن سعيد القطان قال ثنا عبيد الله بن عمر عن نافع عن بن عمر أن رجلا سأل رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال يا رسول الله إني نذرت في الجاهلية أن أعتكف في المسجد الحرام فقال ف بنذرك

نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک آدمی نے جناب رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا یا رسول اللہ ﷺ میں زمانہ جاہلیت میں نذر مانی تھی کہ مسجد حرام میں اعتکاف کروں گا تو آپ ﷺ نے فرمایا تو اپنی نذر کو پورا کر۔

نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ← يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ،

Hadith 4719

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 9 كتاب الأيمان والنذور ) ‹ ( 5 باب الرجل ينذر وهو مشرك نذرا ثم يسلم ) · حديث 4720

4457 - حدثنا علي بن شيبة قال ثنا إسحاق بن إبراهيم الحنظلي قال ثنا حفص بن غياث عن عبيد الله بن عمر عن نافع عن بن عمر أراه عن عمر رضي الله عنه قال قلت يا رسول الله إني نذرت في الجاهلية نذرا وقد جاء الله بالإسلام فقال ف بنذرك

نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی میرا خیال ہے کہ یہ عمر رضی اللہ عنہ کی طرف سے ہے کہتے کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میں نے زمانہ جاہلیت میں نذر مانی تھی پھر اسلام آ گیا تو آپ نے فرمایا تو اپنی نذر کو پورا کرو۔

قُلْتُ ← عُمَرَ، ← بن عمر أراه ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، ← علي بن شيبة

Hadith 4720

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 9 كتاب الأيمان والنذور ) ‹ ( 5 باب الرجل ينذر وهو مشرك نذرا ثم يسلم ) · حديث 4721

4458 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب قال أخبرني جرير بن حازم أن أيوب حدثه أن نافعا حدثه أن عبد الله بن عمر حدثه أن عمر بن الخطاب رضي الله عنه سأل رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو بالجعرانة فقال يا رسول الله إني نذرت في الجاهلية أن أعتكف يوما في المسجد الحرام فقال النبي صلى الله عليه و سلم اذهب فاعتكف يوما قال أبو جعفر رحمه الله فذهب قوم إلى أن الرجل إذا أوجب على نفسه في حال شركه من اعتكاف أو صدقة أو شيء مما يوجبه المسلمون لله ثم أسلم أن ذلك واجب عليه واحتجوا في ذلك بهذه الآثار وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا لا يجب عليه من ذلك شيء واحتجوا في ذلك بما روي عن رسول الله صلى الله عليه و سلم

نافع کہتے ہیں کہ عبداللہ نے بیان کیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جناب رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا جبکہ آپ جعرانہ میں تھے یا رسول اللہ ﷺ میں نے جاہلیت میں نذر مانی تھی کہ ایک دن مسجد حرام میں اعتکاف کروں گا جناب نبی اکرم ﷺ نے فرمایا جا کر ایک دن کا اعتکاف کرو۔

أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ← أَنَّ نَافِعًا ← جرير بن حازم أن أيوب ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Hadith 4721

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 9 كتاب الأيمان والنذور ) ‹ ( 5 باب الرجل ينذر وهو مشرك نذرا ثم يسلم ) · حديث 4722

4459 - حدثنا سليمان بن شعيب قال ثنا يحيى بن حسان قال ثنا مالك بن أنس عن طلحة بن عبد الملك الإيلي عن القاسم بن محمد عن عائشة رضي الله عنها قالت قال رسول الله صلى الله عليه و سلم من نذر أن يطيع الله فليطعه ومن نذر أن يعصي الله فلا يعصه

قاسم بن محمد نے عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو کسی اطاعت کی نذر مانے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اختیار کرے گا تو اسے اطاعت کرنی چاہیے اور جس نے معصیت کی نذر مانی تو وہ اسے مت اختیار کرے ۔

عَائِشَةَ ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ الْأَيْلِيِّ، ← مالک بن أنس ← يَحْيَی بْنُ حَسَّانَ ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ

Hadith 4722

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 9 كتاب الأيمان والنذور ) ‹ ( 5 باب الرجل ينذر وهو مشرك نذرا ثم يسلم ) · حديث 4723

4460 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا عثمان بن عمر قال ثنا مالك فذكر بإسناده مثله

عثمان بن عمر کہتے ہیں کہ ہمیں مالک نے اپنی اسناد سے اسی طرح ذکر کیا ہے ۔

مالك فذكر بإسناده مثله ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← بن مرزوق

Hadith 4723

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 9 كتاب الأيمان والنذور ) ‹ ( 5 باب الرجل ينذر وهو مشرك نذرا ثم يسلم ) · حديث 4724

4461 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا يوسف بن عدي قال ثنا عبد الله بن إدريس عن عبيد الله بن عمر عن طلحة بن عبد الملك فذكر بإسناده مثله

عبید اللہ بن عمر نے طلحہ بن عبدالملک نے پھر انہوں نے اپنی اسناد سے روایت نقل کی ہے ۔

طلحة بن عبد الملك فذكر بإسناده مثله ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Hadith 4724

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 9 كتاب الأيمان والنذور ) ‹ ( 5 باب الرجل ينذر وهو مشرك نذرا ثم يسلم ) · حديث 4725

4462 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال أخبرني مالك عن طلحة فذكر بإسناده مثله

مالک نے طلحہ سے پھر انہوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔

طلحة فذكر بإسناده مثله ← مَالِكٍ، ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Hadith 4725

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 9 كتاب الأيمان والنذور ) ‹ ( 5 باب الرجل ينذر وهو مشرك نذرا ثم يسلم ) · حديث 4726

4463 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا أبو سلمة المنقري قال ثنا أبان قال ثنا يحيى بن أبي كثير عن محمد بن أبان عن القاسم عن عائشة رضي الله عنها أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يقول من نذر أن يعصي الله فلا يعصه

محمد بن ابان نے قاسم سے انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے جس نے اللہ تعالیٰ کی معصیت کی نذر مانی ہو وہ اس کی نافرمانی نہ کرے ۔

عَائِشَةَ ← الْقَاسِمِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← أَبَانُ، ← أَبُو سَلَمَةَ الْمِنْقَرِيُّ، ← بن أبي داود

Hadith 4726

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 9 كتاب الأيمان والنذور ) ‹ ( 5 باب الرجل ينذر وهو مشرك نذرا ثم يسلم ) · حديث 4727

4464 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو داود قال ثنا حرب بن شداد قال ثنا يحيى فذكر بإسناده مثله

حرب بن شداد نے یحییٰ سے پھر انہوں نے اپنی اسناد سے اسی کی مثل روایت نقل کی ہے ۔

يحيى فذكر بإسناده مثله ← حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Hadith 4727

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 9 كتاب الأيمان والنذور ) ‹ ( 5 باب الرجل ينذر وهو مشرك نذرا ثم يسلم ) · حديث 4728

4465 - حدثنا ربيع الجيزي قال ثنا يعقوب بن كعب الحلبي قال ثنا حاتم بن إسماعيل عن بن حرملة عن عمرو بن شيب عن أبيه عن جده قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم إنما النذر ما ابتغى به وجه الله قالوا فلما كانت النذور إنما تجب إذا كانت مما يتقرب به إلى الله تعالى ولا تجب إذا كانت معاصي الله وكان الكافر إذا قال لله علي صيام أو قال لله علي اعتكاف فهو لو فعل ذلك لم يكن به متقربا إلى الله وهو في الوقت ما أوجبه إنما قصد به إلى ربه الذي يعبده من دون الله وذلك معصية فدخل ذلك في قول رسول الله صلى الله عليه و سلم لا نذر في معصية وقد يجوز أيضا أن يكون قول رسول الله صلى الله عليه و سلم لعمر ف بنذرك ليس من طريق أن ذلك كان واجبا عليه ولكن أنه قد كان سمح في حال ما نذره أن يفعله فهو في معصية الله عز و جل فأمره النبي صلى الله عليه و سلم أن يفعله الآن على أنه طاعة لله عز و جل فكان ما أمر به خلاف ما إذا كان أوجبه هو على نفسه وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى

عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بے شک نذر اس چیز کی جائز ہے جس سے اللہ تعالیٰ کی رضا طلب کی جائے ۔ انہوں نے فرمایا جب نذر ان چیزوں کی درست ہے جن سے اللہ تعالیٰ کا قرب تلاش کیا جاتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی معصیت کے کاموں سے ہو تو نذر لازم نہیں ہوتی اور کافر نے جب یہ کہا : للہ علی صیام یا للہ علی اعتکاف ، پھر وہ اس کو کرے بھی تو اس کو اس سے تقرب الی اللہ مقصود نہیں اس نے جس وقت اس کو اپنے ذمہ واجب کیا تو اس وقت اس کا اس سے ان کو خوش کرنا مقصود ہے جن کی وہ اللہ تعالیٰ کے سوا پوجا کرتا ہے اور غیر اللہ کی پوجا معصیت ہے ۔ پس یہ جناب رسول اللہ ﷺ کے ارشاد لا نذر فی معصبۃ میں داخل ہو کر ممنوع ٹھہرے گا۔ ان کو کہا جائے گا کہ آ پ نے جس روایت سے استدلال کیا ہے کہ اے عمر رضی اللہ عنہ تم اپنی نذر پوری کرو اس کا مفہوم یہ ہے کہ یہ بطور و جوب نہ تھا لیکن انہوں نے جب یہ نذر مانی تھی تو اس وقت کرنے سے گریز کیا اس وقت وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں تھے تو جناب نبی اکرم ﷺ نے ان کو اب کرنے کا حکم دیا اس طور پر کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے ۔ پس آپ نے جس کو پورا کرنے کا حکم دیا یہ اس کے خلاف تھا جبکہ انہوں نےاس کو اپنے نفس پر واجب کیا تھا۔ یہی امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف ، محمد رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے ۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عمرو بن شيب ← بن حرملة ← حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← يَعْقُوبُ بْنُ كَعْبٍ الْحَلَبِيُّ، ← ربيع الجيزي

Hadith 4728

chevron_left Previous
1…5678
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter